حدیث نمبر: 14504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يقول : " مَنْ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ ، أَوْ إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ ، وَلَا يَمْشِي فِي خُفٍّ وَاحِدٍ ، وَلَا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَلَا يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، شُدِّدَ عَلَيْهِ ، فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " فُتِّحَتْ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " ثُمَّ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ " ، وَقَالَ مَرَّةً : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُدْفَنُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد کے متعلق فرمایا کہ یہ نیک آدمی تھا جس کی موت سے عرش الٰہی بھی ہلنے لگا اور اس کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دیئے گئے پہلے ان کے اوپر سختی کی گئی تھی اللہ نے بعد میں اس کے لئے کشادگی فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه انقطاع، فإن معاذ بن رفاعة لم يسمعه من جابر، وانظر: 14873 و 14153
حدیث نمبر: 14506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَآخُذُ بِيَدِي قَبْضَةً مِنْ حَصًى ، فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ ، ثُمَّ أَسْجُدَ عَلَيْهَا مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ . قَالَ عَبْد اللَّهِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَضَرَبَ أَبِي عَلَيْهِ ، لِأَنَّهُ خَطَأٌ ، وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْطَأَ ابْنُ بِشْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکر یاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہو جاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کر لیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکر یاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہو جاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کر لیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ ، أَنْ يُفْطِرَ ، فَقَالَ : " أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَصُومَ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو اپنی کمر اور پیٹ پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا : تو لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا : کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ ہو کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14193
حدیث نمبر: 14509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدِيدَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا خشک کیا ہوا گوشت کھایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه ، وانظر: 15168
حدیث نمبر: 14510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ابْتَعْتُمْ طَعَامًا فَلَا تَبِيعُوهُ حَتَّى تَقْبِضُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم غلہ خریدو تو اس وقت تک کسی دوسرے کو نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 14511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْعَشْرَ عَشْرُ الْأَضْحَى ، وَالْوَتْرَ يَوْمُ عَرَفَةَ ، وَالشَّفْعَ يَوْمُ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورت فجر میں دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں وتر سے مراد یوم عرفہ ہے اور شفع سے مراد دس ذی الحجہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا إسناد لابأس برجاله، وأبو الزبیر لم یصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْ الدّجَّالِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا جسے ہر بندہ مومن پڑھ لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي من أجل الحسين بن واقد
حدیث نمبر: 14513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُوتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ ، عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ایک چتکبرے گھوڑے پر جس پر ریشمی کپڑا تھا رکھ کر دنیا کی کنجیاں لائی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعنه
حدیث نمبر: 14514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنِ أَبِي بُكَيْرٍ ، أخبرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصَى ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ ، فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ ، فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی آدمی کنکر یوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن میں سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وانظر: 14204
حدیث نمبر: 14515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِبَابِهِ جُلُوسٌ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، ثُمَّ أُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، فَدَخَلَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَحَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَأُكَلِّمَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ يَضْحَكُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ زَيْدٍ امْرَأَةَ عُمَرَ فَسَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ آنِفًا ، فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : " هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى ، يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ " فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ لِيَضْرِبَهَا ، وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ ، كِلَاهُمَا يَقُولَانِ : تَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ، فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَ نِسَاؤُهُ : وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا الْمَجْلِسِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ، قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخِيَارَ ، فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا ، مَا أُحِبُّ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " ، قَالَتْ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : فَتَلَا عَلَيْهَا يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ سورة الأحزاب آية 28 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : أَفِيكَ أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ ! بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ مَا اخْتَرْتُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّفًا ، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا ، لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَمَّا اخْتَرْتِ ، إِلَّا أَخْبَرْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لئے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر نے بھی اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اندر جانے کی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہو گئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اردگرد ازواج مطہرات تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے ہوئے تھے سیدنا عمر نے سوچا کہ میں کوئی بات کر وں شاید آپ کو ہنسی آ جائے چنانچہ وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ بنت زید اپنی بیوی کو ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گردن دبا دوں گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں یہ سن کر سیدنا صدیق اکبر اٹھ کر سیدنا عائشہ کو مارنے کے لئے بڑھے اور سیدنا عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کر تی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ واللہ آج کے بعد ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کر یں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہو ۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخبیر نازل فرمائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہ آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا کہ تم اس میں جلد بازی سے کام لو بلکہ اپنے پہلے والدین سے مشورہ کر لو پھر مجھے جواب دینا انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آیت تخبیر پڑھ کر سنائی جسے سن کر سیدنا عائشہ کہنے لگیں کہ کیا آپ کے متعلق میں اپنے والدین سے مشورہ کر وں گی میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر تی ہوں البتہ آپ سے درخواست ہے کہ میرا یہ جواب کسی دوسری زوجہ محترمہ سے ذکر نہ کیجیے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے مجھے درشتی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے معلوم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اس لئے ازواج میں سے جس نے بھی مجھ سے تمہارے جواب کے متعلق پوچھا : میں اسے ضرور بتاؤں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1478، وقد جاء تصريح أبى الزبير بسماعه من جابر أصل القصة ، وهى نفسها قصة هجران النبى صلى الله عليه وسلم لنسائه شهرا، برقم: 14527 و 14692 وانظر ما بعدہ
حدیث نمبر: 14516
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمٌ ، وَقَالَ : " لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا أَوْ مُفَتِّنًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1478، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 14517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا ، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَبْهُ لِي " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ : لَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی کا میرے باغ میں ایک پھل دار درخت ہے اس نے مجھے اتنی تکلیف پہنچائی ہے کہ اب اس کے ایک درخت کی وجہ سے میں بہت مشقت میں مبتلا ہو گیا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ فلاں آدمی کے باغ میں جو تمہارا درخت ہے وہ میرے ہاتھ فروخت کر دو اس نے انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہبہ کر دو اس نے پھر انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر جنت میں ایک درخت کے عوض ہی بیچ ڈالو اس نے پھر انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے بڑا بخیل کوئی نہیں دیکھا سوائے اس شخص کے جو سلام میں بخل کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: « ما رأيت الذى هو أبخل منك ...» ، فقد تفرد به عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وھو ضعیف یعتبر به
حدیث نمبر: 14518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ ، وَرِدَاؤُهُ قَرِيبٌ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، سَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَفْعَلُ هَذَا لِيَرَانِي الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ ، فَيُفْشُوا عَلَى جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَجِئْتُهُ لَيْلَةً وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ ، مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ ؟ إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا ، فَالْتَحِفْ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا ، فَاتَّزِرْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے اتنے قریب پڑی ہوئی تھی کہ اگر وہ ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنا چاہتے تو ان کا ہاتھ باآسانی پہنچ جاتا جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں اور جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے وہ رخصت لوگوں میں پھیلا دیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے رکھی ہے پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا میں رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے میرے جسم پر بھی ایک ہی کپڑا تھا اس لئے میں بھی اسے جسم پر لپیٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ یہ کیسالپٹنا ہے ؟ جب تم نماز پڑھنے لگو اور تمہارے اوپر ایک ہی کپڑا ہوا اور وہ کشادہ ہو تو اسے خوب اچھی طرح لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس کا تہنبد بنا لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 361، 3008 و 3010، وهذا إسناد حسن من أجل فلیح الخزاعي
حدیث نمبر: 14519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ ، فَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ ، وَإِلَّا كَرَعْنَا " ، قَالَ : وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ ، فَسَكَبَ مَاءً ، فِي قَدَحٍ ، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصار کے گھر تشریف لے گئے اور جا کر سلام کیا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے پی لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه، خ: 5613
حدیث نمبر: 14520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ البُرْسَانِيِّ ، عَنْ أَبِي سُمَيَّةَ ، قَالَ : اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّا اخْتَلَفْنَا ها هنا فِي الْوُرُودِ ، فَقَالَ : يَرِدُونها جميعًا ، وقَالَ سليمانُ مرةً : يَدْخُلونَها جميعًا ، فقلت له : إنَّا اختَلَفْنا في ذلك الوُرودِ ، فقال : بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ، فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، وَقَالَ : صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْوُرُودُ الدُّخُولُ ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ : لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسمیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے درمیان جہنم میں ورد جس کے بارے میں قرآن میں آتا ہے کہ ہر شخص جہنم میں وارد ہو گا کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا کچھ لوگ کہنے لگے کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ داخل تو سب ہوں گے البتہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو جہنم سے نجات عطا فرمائے گا میں اس سلسلے میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور ان سے عرض کیا : کہ ہمارے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کہنا ہے کہ سب ہی داخل ہوں گے اس پر انہوں نے اپنی انگلی سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ کان بہرے ہو جائیں گے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو کہ ورد سے مراد دخول ہے اور کوئی نیک و بد ایسا نہیں رہے گا جو جہنم میں داخل نہ ہوالبتہ مومن پر وہ اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جائے گی جیسے سیدنا ابراہیم کے لئے ہو گئی تھی حتی کہ مومنین کی ٹھنڈک سے جہنم چیخنے لگی گے پھر اللہ متقیوں کو اس سے نجات عطا فرمادے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پر چھوڑ دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف لجهالة أبي سمية
حدیث نمبر: 14521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَفَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، قَالَ جَابِرٌ : ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، عبد اللہ بن محمد بن عقیل یعتبر به في المتابعات والشواھد، فیحسن حديثه، وھذا منھا
حدیث نمبر: 14522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا ، إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ ، وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا ، فَقُلْتُ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا ، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس پینے کے لئے پانی ہے اور نہ ہی وضو کے لئے سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ان انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہو جاتا لیکن اس وقت ہم صرف پندرہ سو تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
حدیث نمبر: 14523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً ، قَالَ جَابِرٌ لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلَا أُحُدًا ، مَنَعَنِي أَبِي ، قَالَ : فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ ، لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس غزوات میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے البتہ میں غزوہ بدر میں اور احد میں والد صاحب کے منع کرنے کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکا تھا لیکن غزوہ احد میں اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد کسی غزوے میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1813
حدیث نمبر: 14524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ إِنْ اسْتَطَاعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے کفنائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 943
حدیث نمبر: 14525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى جَاوَزَتْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک یہو دی کا جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ گزر گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 960
حدیث نمبر: 14526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه ، ِيَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ ، فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم چاند دیکھ لو تب روزہ رکھا کر و اور جب چاند دیکھ لو تب عید الفطر منایا کر و اور اگر کسی دن بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس دن کی گنتی پوری کیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا ، فَكَانَ يَكُونُ فِي الْعُلْوِ ، وَيَكُنَّ فِي السُّفْلِ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِنَّ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ مَكَثْتَ تَسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّهْرَ هَكَذَا وَهَكَذَا " بِأَصَابِعِ يَدِهِ مَرَّتَيْنِ ، وَقَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ إِبْهَامَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کر لیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں رہتے تھے اور ازواج مطہرات نچلی منزل میں رہتی تھیں ٢٩ راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ تو ٢٩ راتیں رکے (جبکہ آپ نے ایک ماہ کا ارادہ کیا تھا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کبھی مہینہ اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے دو مرتبہ آپ نے ہاتھ کی ساری انگلیوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1084
حدیث نمبر: 14528
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَعُفَ ضَعْفًا شَدِيدًا ، وَكَادَ الْعَطَشُ أَنْ يَقْتُلَهُ ، وَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تَدْخُلُ تَحْتَ الْعِضَاهِ ، فَأُخْبِرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ائْتُونِي بِهِ " فَأُتِيَ بِهِ ، فَقَالَ : " أَلَسْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " أَفْطِرْ " فَأَفْطَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوہ میں تھے رمضان کا مہینہ تھا ایک صحابی نے روزہ رکھ لیا جس پر وہ انتہائی کمزور ہو گئے تھے اور قریب تھا کہ پیاس ان کی جان لے لیتی اور ان کی اونٹنی جھاڑیوں میں گھسنے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا تو فرمایا : اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو چنانچہ انہوں نے روزہ توڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح، وانظر: 14508
حدیث نمبر: 14530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صَامَ رَجُلٌ مِنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَرَفَعَهُ عَلَى يَدَيْهِ ، فَشَرِبَ لِيَرَى النَّاسُ ، أَنَّهُ لَيْسَ بِصَائِمٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح، وهذا إسناد قوي، أبو الزبير قد صرح بسماعه من جابر في الحدیث السالف
حدیث نمبر: 14531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے افضل صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری رکھ کر ہواور صدقات میں آغاز ان لوگوں سے کیا کر و جو تمہاری ذمے داری میں ہوں اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ : " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، و ھذا إسناده قوي، م: 2877
حدیث نمبر: 14533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ ، نَزَلَ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 400
حدیث نمبر: 14534
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ وَهُوَ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ تَكْذِيبًا بِالشَّفَاعَةِ ، حَتَّى لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ كُلَّ آيَةٍ ذَكَرَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خُلُودُ أَهْلِ النَّارِ ، فَقَالَ : يَا طَلْقُ ، أَتُرَاكَ أَقْرَأَ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي ، وَأَعْلَمَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَاتُّضِعْتُ لَهُ ، فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، بَلْ أَنْتَ أَقْرَأُ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي ، وَأَعْلَمُ بِسُنَّتِهِ مِنِّي ، قَالَ : فَإِنَّ الَّذِي قَرَأْتَ أَهْلُهَا هُمْ الْمُشْرِكُونَ ، وَلَكِنْ قَوْمٌ أَصَابُوا ذُنُوبًا فَعُذِّبُوا بِهَا ، ثُمَّ أُخْرِجُوا ، صُمَّتَا وَأَهْوَى بِيَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ " وَنَحْنُ نَقْرَأُ مَا تَقْرَأُ .
مولانا ظفر اقبال
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ میں پہلے شفاعت کی تکذیب کرنے والے لوگوں میں سب سے زیادہ شدت پسند تھا حتی کہ ایک دن میری ملاقات سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہو گئی میں نے ان کے سامنے وہ تمام آیات پڑھ دیں جن میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا جہنم میں ہمیشہ رہنا ذکر کیا ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اے طلق تمہارا کیا خیال ہے کہ تم مجھ سے زیادہ قرآن پڑھتے ہو ؟ مجھ سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ہیں اور آپ ہی مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو جانتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تم نے جتنی بھی آیات پڑھی ہیں ان سب کا تعلق مشرکین سے ہے البتہ وہ لوگ جن سے گناہ سرزد ہوئے ہوں انہیں سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں گے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سناہو کہ انہیں جہنم سے نکال لیا جائے گا حالانکہ جو آیات تم پڑھتے ہو ہم بھی وہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف، سعید بن المھلب في عداد المجھولین
حدیث نمبر: 14535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ : " أَيَّ حِينٍ تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ ، قَالَ : " فَأَنْتَ يَا عُمَرُ " ، قَالَ : آخِرَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ ، فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا : کہ نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر سے پوچھا : تو انہوں نے عرض کیا : کہ رات کے آخری پہر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وانظر: 14323
حدیث نمبر: 14536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ ، وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا نُصَلِّي عَلَيْهِ ، فَخَطَا خُطًى ، ثُمَّ قَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قُلْنَا : دِينَارَانِ ، فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الدِّينَارَانِ عَلَيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحِقَّ الْغَرِيمُ ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ : " مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ ؟ " فَقَالَ : إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ ، قَالَ : فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ ، فَقَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ " ، وقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو فِي هَذَا الْحَدِيثِ : فَغَسَّلْنَاهُ ، وَقَالَ : فَقُلْنَا : تُصَلِّي عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا حنوط لگائی کفن پہنایا اور نماز جنازہ کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے چندقدم چل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے لوگوں نے بتایا کہ دو دینار قرض ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے سیدنا ابوقتادہ نے ان کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا ابوقتادہ نے عرض کیا : کہ یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقروض کا حق تم پر آگیا اور مرنے والا اس سے بری ہو گیا انہوں نے عرض کیا : جی ہاں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر ایک دن گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ان دو دیناروں کا کیا بنا انہوں نے عرض کیا : کہ وہ کل ہی تو مرا ہے بہر حال اگلے دن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا : کہ میں نے اس کا قرض ادا کر دیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب اس کا جسم ٹھنڈا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل
حدیث نمبر: 14537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً وأَعْجَبَتْهُ ، فَأَتَى زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً ، فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ ، فَإِنَّ ذَلكَ يَرُدُّ مِمَّا فِي نَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو دیکھا جو آپ کو اچھی لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت اپنی زوجہ محترمہ سیدنا زینب کے پاس آئے وہ اس وقت ایک کھال کو رنگ دے رہی تھیں اور ان سے اپنے جسمانی تقاضے پورے کئے اور فرمایا : عورت شیطان کی صورت میں آجاتی ہے جو شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس طرح جو اس کے دل میں خیالات ہو نگے وہ دور ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1403 وأبو الزبیر قد صرح بالتحدیث فیما سيأتي برقم: 14744، لکن فی إسناد هناك ابن لهيعه ، وھو سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 14538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الْأَنْصَارِيُّ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعَصْرَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ، أَوْ قَالَ : صَارَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعِشَاءَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الْفَجْرَ ، فَقَالَ : " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ : حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ جَاءَهُ في الْغَدِ لِلظُّهْرِ ، فَقَالَ " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ ، فَقَالَ : " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ الْمَغْرِبَ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَ لِلْعِشَاءِ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ : ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْفَجْرِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا ، فَقَالَ : " قُمْ فَصَلِّهْ " فَصَلَّى الْفَجْرَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل آئے اور عرض کیا : کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے زوال کے بعد نماز ظہرا دا کی پھر دوبارہ عصر کے وقت آئے اور عرض کیا : کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے نماز عصر ادا کی پھر وہ نماز مغرب کے وقت آئے اور عرض کیا : کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے غروب شفق کے بعد نماز عشاء ادا فرمائی پھر دوبارہ نماز فجر کے وقت آئے اور عرض کیا : کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے طلوع فجر کے وقت نماز فجر ادا کی پھر اگلے دن دوبارہ ظہر کی نماز کے وقت آئے اوعرض کیا : کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر یں چنانچہ آپ نے ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو نے پر نماز ظہرادا فرمائی پھر وہ نماز عصر کے وقت آئے اور عرض کیا : کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر یں چنانچہ آپ نے ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو نے پر نماز عصر ادا فرمائی پھر وہ نماز مغرب کے وقت آئے اس کا وہی وقت تھا وہ اس سے ہٹے نہیں پھر نماز عشاء کے لئے اس وقت آئے جب نصف یا تہائی رات بیت چکی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز عشاء ادا فرمائی پھر نماز فجر کے لئے اس وقت آئے جب روشنی خوب پھیل چکی تھی اور عرض کیا : کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد سیدنا جبرائیل کہنے لگے کہ نمازوں کا وقت دراصل ان دو کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَخُو أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا ، قَالَ حَسَنٌ : قُلْتُ لِجَعْفَرٍ : وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ : زَوَالَ الشَّمْسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ آتے تھے اور اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:858
حدیث نمبر: 14540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَجْمَرْتُمْ الْمَيِّتَ فَأَجْمِرُوهُ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میت کو دھونی دو تو طاق عدد میں دیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : مَديني حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ فَنَقِيلُ وَهُوَ عَلَى مِيلَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ جاتے تھے اور قیلولہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عقبة بن عبدالرحمن بن جابر ، وله شاهد من حديث سهل بن سعد عند مسلم: 859
حدیث نمبر: 14542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ ، فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر بنو سلمہ میں واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دکھائی دے رہی ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جس حال میں فوت ہو گا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2878