حدیث نمبر: 14464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماع من جابر
حدیث نمبر: 14465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا ، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسے جوتیاں نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1179، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أن الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 14466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى أَوْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1536، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكنه توبع
حدیث نمبر: 14467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، قَالَ : اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ! وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ! فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ! " ، فَقَالُوا : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَقَالَ : " لَا بَأْسَ ، لِيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ ، فَإِنَّهُ لَهُ نُصْرَةٌ ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا، مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کر بلانا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا : یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے بتایا : بخدا! ایسی کوئی بات نہیں ہے، البتہ دونوں غلاموں نے ایک دوسرے کو دھتکار دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے، انسان کو چاہئیے کہ اپنے بھائی کی مدد کرے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکے یہی اس کی مدد ہے اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کر ے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3518، م: 2584
حدیث نمبر: 14468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ ، فَاسْتَوَى عَلَيْهِ ، اضْطَرَبَتْ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ ، حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، فَنَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَزَمَهَا ، فَسَكَنَتْ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَرَوْحٌ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ ، وَقَالَ رَوْحٌ فَاعْتَنَقَهَا ، فَسَكَنَتْ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَسَكَتَتْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے اور مسجد میں موجود تمام لوگوں نے اس کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 918
حدیث نمبر: 14469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، فَلْيَتَعَطَّفْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے، اسے وہ اپنے اوپر اچھی طرح لپیٹ لینا چاہیے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14120
حدیث نمبر: 14470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنےسامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وأبو الزبير ثم يصرح بسماعه من جابر، أما ابن جريج فصرح بسماعه من أبى الزبير عند ابن حبان
حدیث نمبر: 14471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ ، فَتَقَدَّمَ رَجُلَانِ ، فَنَحَرُوا ، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذی الحجہ کو نماز پڑھائی، کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی، اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے، وہ دوبارہ قربانی کر ے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کر یں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1964، م: 14130
حدیث نمبر: 14472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ بِمَكَّةَ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَامَ الْفَتْحِ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ " ، فَقِيلَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟ قَالَ : " لَا ، هُوَ حَرَامٌ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهَا الشُّحُومَ ، جَمَّلُوهَا ، ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فرمایا : اللہ اور اس کے رسول شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیتے ہیں۔ کسی شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں میں تیل ڈالا جاتا ہے، جسم کی کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں، یہ بھی حرام ہے، پھر فرمایا کہ یہو دیوں پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام کر دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2236، م: 1581
حدیث نمبر: 14473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَحَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ ، إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ہدی کے جانور کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پر اچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو، تا آنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1324
حدیث نمبر: 14474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَدَّثَ فِي مَجْلِسٍ بِحَدِيثٍ ، فَالْتَفَتَ ، فَهِيَ أَمَانَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
حدیث نمبر: 14475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ ، وَفِرَاشٌ لِلْمَرْأَةِ ، وَفِرَاشٌ لِلضَّيْفِ ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک بستر مرد کا ہوتا ہے اور ایک بستر عورت کا ہوتا ہے اور ایک بستر مہمان کا ہوتا ہے اور چوتھا بستر شیطان کا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2084
حدیث نمبر: 14476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مِنْ حِفْظِهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ أَبُو زُرْعَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسلمان فقراء مالداروں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، ولہ شاھد من حدیث عبداللہ بن عمرو عند مسلم، برقم: 2979
حدیث نمبر: 14477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وهو مكرر: 14302
حدیث نمبر: 14478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ ، وَالصَّابِرُ فِيهِ كَالصَّابِرِ فِي الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طاعون سے بھاگنے ولا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہے اور اس میں ڈٹ جانے والا شخص میدان جنگ میں ڈٹ جانے والے شخص کی طرح ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مُتْعَتَانِ كَانَتَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، فَانْتَهَيْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا اور ہم رک گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1249
حدیث نمبر: 14480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ ابْتَاعَ بَعِيرًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِكَمْ أَخَذْتَهُ ؟ " قَالَ : بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِيهِ بِمَا أَخَذْتَهُ ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے تیرہ دینار میں ایک اونٹ خریدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کتنے کا لیا؟ انہوں نے بتایا تیرہ دینار کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنے کا تم نے لیا ہے یہ مجھے اتنے ہی کا بیچ دو اور مدینہ منورہ تک تم اس پر سواری کر سکتے ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد التيمي، لكنه توبع عند المصنف برقم: 15004، وانظر: 14195
حدیث نمبر: 14481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، يَقُولُ : " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِرَبِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آ جائے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2877
حدیث نمبر: 14482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ " ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ ؟ قَالَ : " إِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! حج مبرور کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل محمد بن ثابت، وسواء كان هو البناني أو العبدي، فكلاهما ضعيفان، وفي أحاديثهما ما ينكر، وانظر: 14582
حدیث نمبر: 14483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ الْآنَ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ ، فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، فَزَمَّلُونِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ ، ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد ایک دن میں جارہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، "تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا"، یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، اور میں نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھا دو، چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا، اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ٭ قُمْ فَأَنذِرْ ٭» الی آخرہ۔ اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3238، م: 161
حدیث نمبر: 14484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : جَاءَ عَبْدٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَحَدِ بَنِي أَسَدٍ يَشْتَكِي سَيِّدَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبْتَ ، لَا يَدْخُلُهَا ، إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک غلام اپنے آقا کی شکایت لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! حاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو وہ جہنم میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ غزوہ بدر و حدیبیہ میں شریک تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2495
حدیث نمبر: 14485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا ، وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ الشَّجَرَةِ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي باِلْحُدَيْبِيَةِ وأَخْبَرَنَا ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا دَعَا النبي صلى الله عليه وسلم عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟ انہوں نے فرمایا : نہیں۔ وہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف نماز پڑھی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے حدیبیہ کے درخت کے کسی اور درخت کے نیچے بھی بیعت نہ لی تھی، خود سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے کنویں پر دعاء کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1856
حدیث نمبر: 14486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتًى شَابٌّ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ أَرْنَبًا فَحَذَفْتُهَا ، وَلَمْ تَكُنْ مَعِي حَدِيدَةٌ أُذَكِّيهَا بِهَا ، وَإِنِّي ذَكَّيْتُهَا بِمَرْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنوسلمہ کا ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک خرگوش دیکھا، اسے پتھر اور کنکریاں ماریں، میرے پاس اس وقت لوہے کی دھاری دار کوئی چیز نہیں تھی جس سے میں اسے ذبح کرتا اس لئے میں نے اسے تیز دھاری دار پتھر سے ذبح کر لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کھا سکتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
حدیث نمبر: 14487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا ، حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سےکسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہو نے کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تواس پر اچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو ، تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1324
حدیث نمبر: 14488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو , وہ جنت میں داخل ہو گا جو اس حال میں مرے میں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو, وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو حديث متواتر، م: 93
حدیث نمبر: 14489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کر چلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي ، فَقُتِلْتُ : صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : " نَعْم ، إِنْ لَمْ تَمُتْ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ ، لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں! اس نے دو تین مرتبہ یہ بات دہرائی، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں، جبکہ تم اس حال میں مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وھو متابع، و عبد اللہ بن محمد بن عقیل حسن الحدیث في المتابعات والشواھد
حدیث نمبر: 14491
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ ، فَدَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، قَامَتْ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا فَيَقُولُ : انْطَلِقُوا ، أَوْ اذْهَبُوا ، فَمَنْ عَرَفْتُمْ فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا ، فَيُلْقُونَهُمْ فِي نَهَرٍ ، أَوْ عَلَى نَهَرٍ ، يُقَالُ لَهُ الْحَيَاةُ ، قَالَ : فَتَسْقُطُ مَحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ النَّهَرِ ، وَيَخْرُجُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ ثُمَّ يَشْفَعُونَ ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُمْ ، قَالَ : فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا ، ثُمَّ يَشْفَعُونَ ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا الْآنَ أُخْرِجُ بِعِلْمِي وَرَحْمَتِي ، قَالَ : فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُ ، فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل جنت اور اہل جہنم میں امتیاز ہو جائے گا اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو پیغمبران گرامی کھڑے ہو کر سفارش کر یں گے ان سے کہا جائے گا جاؤ اور جس جس کو پہنچانتے ہواسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ انہیں نکال لائیں گے اس وقت ان لوگوں کے چہرے جھلس چکے ہوں گے پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو ان کی ساری کی ساری سیاہی نہر کے کنارے ہی گر جائے گی اور وہ ککڑیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرام دوبارہ سفارش کر یں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں قیراط کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے پھر سفارش کر یں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہواسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے اس کے بعد اللہ فرمائے گا اب میں اپنے علم و فضل سے لوگوں کو جہنم سے نکالتا ہوں چنانچہ پہلے سے دگنی تگنی تعداد میں لوگوں کو جہنم سے نکال لایا جائے گا اور ان کی گردن پر لکھ دیا جائے گا کہ یہ اللہ کے آزاد کر دہ غلام ہیں پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں جہنمی کہہ کر پکارا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 15048 و 14312
حدیث نمبر: 14492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالتِ : امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ ، وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي ، وَقَالَتْ : وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَهُ إِخْوَةٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا ، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے کہا کہ اپنا غلام میرے بیٹے کو ہبہ کر دو اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو بشیر وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : فلاں کی بیٹی (میری بیوی) نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں اپنا غلام اس کے بیٹے کو ہبہ کر دوں اور اس پر آپ کو گواہ بناؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس لڑکے کے کچھ اور بھائی ہیں انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ان سب کو بھی وہی کچھ دو گے جو اسے دے رہے ہو۔انہوں نے کہا ”نہیں ۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تو یہ مناسب نہیں ہے اور میں کسی ناحق پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1624، وهذا إسناد لم يصرح فيه أبو الزبير بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ السَّاعَةِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ ، فَقَالَ : " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ نَفْسًا مَنْفُوسَةً يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک ماہ قبل کسی شخص نے قیامت کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھ رہے ہو، اس کا حقیقی علم اللہ کے پاس ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تو آج یہ بھی نہیں جانتا جو شخص آج سانس لے رہا ہے، اس پر سو سال بھی گز رسکیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2538، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، فإن الحسن البصري لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ : إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ ، وَلِي كَلْبٌ فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا ، ثُمَّ أَمَرَ ، بِقَتْلِ كَلْبِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدینہ منورہ میں جتنے کتے ہیں، سب مار دیئے جائیں، اس پر سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم آئے اور کہنے لگے کہ میرا گھر دور ہے اور میرے پاس ایک کتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چند دن تک کے لئے رخصت دی اور پھر انہیں بھی اپنا کتا مار دینے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية
حدیث نمبر: 14495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وأَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عَطَاءً كَتْب يَذْكُرُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَنَازِيرِ ، وَبَيْعَ الْمَيْتَةِ ، وَبَيْعَ الْخَمْرِ ، وَبَيْعَ الْأَصْنَامِ " ، وَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَى فِي شُحُومِ الْمَيْتَةِ ، فَإِنَّهَا يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَالْجُلُودُ ، وَيُسْتَصْبَحُ بِهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا ، أَخَذُوهُ فَجَمَّلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال یہ فرماتے ہوئے سن کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیتے ہیں، کسی شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں میں تیل ڈالا جاتا ہے، اور جسم کی کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( نہیں یہ بھی حرام ہے، پھر فرمایا کہ) یہودیوں پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام کر دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2236، م: 1581
حدیث نمبر: 14496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ ، فَنَهَانِي ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثم جَاءَ صَاحِبٌ لِي ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز مغرب پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا : اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر ایک اور صاحب آگئے اور ہم دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنالی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی اور اس کے دونوں کنارے جانب مخالف سے بدل لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل، وهو ابن سعد، وأنظر صحيح مسلم: 3010 ضمن حديث طويل
حدیث نمبر: 14497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ ، فَقَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ " ، قَالَ : قُلْنَا : وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیلو چن رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے سیاہ دانے اکٹھے کرو کہ وہ بہت عمدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے عرض کی کہ کیا آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں اور ہر نبی نے بکریاں چرائیں ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5453، م: 2050
حدیث نمبر: 14498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ ، فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ : " لَا حَرَجَ ، لَا حَرَجَ " حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، قَالَ : " لَا حَرَجَ " ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " لَا حَرَجَ " ، ثم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ، وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں قربانی کی اور بال منڈوا کر لوگوں کے لئے بیٹھ گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، حتٰی کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈوا لئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی حرج نہیں پھر دوسرا آیا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ ! میں نے رمی کرنے سے پہلے حلق کروا لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، اور یہ بھی فرمایا کہ پورا میدان عرفات وقوف کی جگہ ہے، پورا میدان مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے پورا میدان منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ مکرمہ کا ہر کشادہ راستہ قربان گاہ اور راستہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
حدیث نمبر: 14499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ ، فَإِذَا لَمْ يُوجَدْ سِقَاءٌ ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَهُ : وَأَنَا أَسْمَعُ مِنْ بِرَامٍ ؟ قَالَ أَوْ مِنْ بَرَامٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1999
حدیث نمبر: 14500
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَبُو عَقِيلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ، فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ ، وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا ، فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ ، فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان بن موسى الأموي، وقد توبع فى الحديث الآتي برقم: 15053
حدیث نمبر: 14502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ حَسَنٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً ، إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہی جانور ذبح کیا کر و جو سال بھر کا ہو چکا ہوالبتہ اگر مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بھی ذبح کر سکتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1963
حدیث نمبر: 14503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمُطِرْنَا فَقَالَ : " لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے راستے میں بارش ہو نے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وانظر:14347