حدیث نمبر: 14112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، قَال : أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ ، فَقَالَ : " نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ ، لَا يَدْخُلُهَا ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ ، رَجَفَتْ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ ، وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ ، وَذَلِكَ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد ، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ ، عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى ، فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ ، وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدّجَّالِ ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي " ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ مقام حرہ کے کسی شگاف سے طلوع ہوئے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خروج دجال کے وقت مدینہ منورہ بہترین زمین ہو گی اس کے ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو گا جس کی وجہ سے دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ جب ایسا ہو گا تو مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور کوئی منافق (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) ایسے نہیں رہیں گے جو نکل کر دجال کے پاس چلا جائے اور ان میں بھی اکثریت خواتین کی ہو گی اسے یوم التخصیص کہا جائے گا کیونکہ یہ وہی دن ہو گا جس دن مدینہ منورہ اپنے میل کچیل کو اس طرح سے نکال دے گا جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ دجال کے ساتھ ستر ہزار یہو دی ہوں گے جن میں سے ہر ایک نے سبز رنگ کی ریشمی چادر تاج اور زیورات سے مزین تلوار پہن رکھی ہو گی وہ اس جگہ پر اپنا خیمہ لگائے گا جہاں اب بارش کا پانی اکٹھا ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ اب سے پہلے اور قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ ہوا ہے اور نہ ہو گا اور ہر نبی نے اس سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور میں تمہیں اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے مجھ سے پہلے اپنی امت کو نہیں بتائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، زيد - وهو ابن أسلم العدوي- لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ : سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى ، عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَة ؟ فَقَالَ : تَبُلُّ الشَّعْرَ ، وَتَغْسِلُ الْبَشَرَةَ ، قَالَ : فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ ، قَالَ : " كَانَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، قَالَ : إِنَّ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ ، قَالَ : كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَطْيَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کو دھو لو ، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے، وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " بَايَعْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1856، سليمان بن قيس اليشكري سمع من جابر وكتبه عنه صحيفة ، جعفر بن أبى وحشية لم يسمع منه وإنما حدث عن صحيفة التى عن جابر وعن سلمة بن الأكوع 16509، وقد سئل: "علام بايعتم؟ قال: على الموت" وانظر الفتح: 6/ 117
حدیث نمبر: 14115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ ؟ " فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَتَرَكَ الْقَدَحَ ، فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ تَمْسَحُوا وَتَمْسَحُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى رِسْلِكُم " ، حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِسْمِ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ " فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي ، لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ ، عُيُونَ الْمَاءِ ، يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فما رَفَعها حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اس وقت ہم لوگ دو سو سے کچھ زائد تھے، نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ”کسی کے پاس پانی ہے؟“ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ وہیں چھوڑ آئے، لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا : ”رک جاؤ“ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا : ”خوب اچھی طرح کامل وضو کرو“ اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے، میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 3013
حدیث نمبر: 14116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ " ، قُلْنَا : أَيُّ الْحِلّ ؟ قَالَ : " الْحِلُّ كُلُّهُ " ، قَالَ : فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ ، وَمَسِسْنَا الطِّيبَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ، وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ ، فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ ، لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ ؟ فَقَالَ : " لا ، بَلْ للأَبَدِ " ، قال : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، أَوْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ : فَسَمِعْتُ مَنْ سَمِعَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ ، قَالَ : " اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " ، قَالَ حَسَنٌ ، قَالَ زُهَيْرٌ : ثم لم أَفَهَمْ كلامًا تكَلَّمَ به أَبُو الزُّبير ، فَسَأَلْتُ يَاسِينَ ، فقلتُ : كيف قال أبو الزُّبيرِ في هذا الموضعِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا ، صفا مروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے“ ہم نے پوچھا : اس صورت میں کیا چیزیں حلال ہو جائیں گی؟ فرمایا : ”سب چیزیں (جو احرام کی وجہ سے ممنوع ہو گئیں تھیں) حلال ہو جائیں گی“ چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے، سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی، آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اس مرتبہ پہلے ہم نے طواف کیا اور سعی کافی ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ایک اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو جائیں اسی دوران سیدنا سراقہ بن مالک بھی آ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں، کیا عمرہ کا صرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے ہے، پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں آج کا عمل کس مقصد کے لئے ہے، کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا؟ یا پھر ہم اپنی تقدیر خود بناتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے“ انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1213 و 2648
حدیث نمبر: 14117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا غُولَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیماری متعدی ہونے، بدشگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2222
حدیث نمبر: 14118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِر ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ ، وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدَةٍ ، وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ ، وَلَا يَحْتَبيِ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسرے کو ٹھیک نہ کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099، وقد صرح أبو الزبير بسماعه من جابر عند المصنف برقم: 14187، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 14119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِب ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى خَشَبَةٍ ، فَلَمَّا جُعِلَ مِنْبَرٌ ، حَنَّتْ حَنِينَ النَّاقَةِ إِلَى وَلَدِهَا ، فَأَتَاهَا ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا ، فَسَكَنَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 918
حدیث نمبر: 14120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 353، م: 518، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف
حدیث نمبر: 14121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ ، أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، أَوْ يَحْتَبيِ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ ، أَوْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14122
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ عِنْدَ أَبِي الزُّبَيْرِ قَائِمًا ، وَهُوَ يَقُولُ : كَيْفَ قَالَ ؟ وَإِيشِ قَالَ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
زہیر کہتے ہیں کہ میں نے اشعث بن سوار کو ابوالزبیر کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے کیا فرمایا ؟ کیسے فرمایا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والإمام أحمد يورد هذه الحكاية مشيرا إلى أن الزبير المكي كان يجلس فى مجلسه المشاهير والقضاة مثل أشعث بن سوار، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 14123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ ، وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ ، فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ ، لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہوتی ہے، جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہوتی ہے“ ، پھر فرمایا : ”اے گروہ خواتین ! جب مرد سجدے میں جایا کریں تو اپنی نگاہ پست رکھیں اور تہبندوں کے سوراخوں میں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ بَرَكَ بِهِ بَعِيرٌ قَدْ أَزْحَفَ بِهِ ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : " مَا لَكَ يَا جَابِر ؟ " فَأَخْبَرَهُ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَعِيرِ ، ثُمَّ قَالَ : " ارْكَبْ يَا جَابِرُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَا يَقُومُ ، فَقَالَ لَهُ : " ارْكَبْ " فَرَكِبَ جَابِرٌ الْبَعِيرَ ، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ بِرِجْلِهِ ، فَوَثَبَ الْبَعِيرُ وَثْبَةً لَوْلَا أَنَّ جَابِرًا تَعَلَّقَ بِالْبَعِيرِ ، لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِهِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَابِرٍ : " تَقَدَّمْ يَا جَابِرُ ، الْآنَ عَلَى أَهْلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، تَجِدْهُمْ قَدْ يَسَّرُوا لَكَ كَذَا وَكَذَا " حَتَّى ذَكَرَ الْفُرُشَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور اس نے انہیں تھکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو پوچھا: جابر ! تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے سارا ماجرا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اونٹ کے پاس آئے اور فرمایا : جابر ! اس پر سوار ہو جاؤ ، وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! یہ تو کھڑا ہی نہیں ہو سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ ، چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس پر سوار ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور اونٹ اس طرح اچھل کر کھڑا ہو گیا کہ اگر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چمٹ نہ گئے ہوتے تو گر جاتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر ! اب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، تم دیکھو گے کہ انہوں نے تمہارے لئے فلاں فلاں چیز تیار کی ہے حتیٰ کہ بستر کا تذکر ہ فرمایا اور فرمایا کہ ایک بستر مرد کا ہوتا ہے اور ایک عورت کا ہوتا ہے، ایک بستر مہمان کا ہوتا ہے اور چوتھا بستر شیطان کا ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2084
حدیث نمبر: 14125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ ، يَقُولُ : " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے، وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2877
حدیث نمبر: 14126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ َلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا ، فَهُوَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1318
حدیث نمبر: 14128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْج ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد میں پتھر استعمال کرنا چاہیے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 239
حدیث نمبر: 14129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَيْ جَابِرٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا ، قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابِهِ ، شَقَّ قَمِيصَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ ، فَقِيلَ لَهُ ! فَقَالَ : " وَاعَدْتُهُمْ يُقَلِّدُونَ هَدْيي الْيَوْمَ ، فَنَسِيتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص چاک کر دی اور اسے اتار دیا کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ میں نے لوگوں سے یہ وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ آج ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھیں گے، میں وہ بھول گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن عطاء- وهو ابن أبى لبيبة- ليس بذاك القوي، ثم قد اختلف عليه فى إسناده، وانظر: 15298 و 23613، وهذا الحديث يخالف حديث عائشة عند البخاري: 1696، و مسلم: 1321 "فتلت قلائد بدن النبى صلى الله عليه وسلم بيدي ثم قلدها واشعرها واهداها، وما حرم عليه شيي كان احل له" وحديث عائشة ارجع سنداً فيجب تقديمه وترك حديث جابر، والله تعالٰي اعلم
حدیث نمبر: 14130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا ، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ قَدْ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ ، وَلَا وَلِيَنْحَرْ حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذی الحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کریں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1964، والجمهور على جواز الذبح بعد الصلاة وإن كان قبل الإمام، وهو ظاهر غالب الأحاديث الواردة فى هذا الباب، ومن الحجة للجمهور فى قولهم: إن حديث جابر قد روي على غير هذا اللفظ كما سيأتي برقم: 14927
حدیث نمبر: 14131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقُولَ : هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ : هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عمریٰ کو جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہو گئی اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لئے آپ کی ہو گئی تو وہ چیز مالک کے پاس واپس لوٹ جائے گی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه ، قَالَ : قَالَ لي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَزَوَّجْتَ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " ، فَقُلْتُ : لَا بَلْ ثَيِّبًا ، لِي أَخَوَاتٌ وَعَمَّاتٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ ، قَالَ : " أَفَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا ؟ " قَالَ : " لَكُمْ أَنْمَاطٌ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَنَّى ؟ فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ " ، قال : فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ ، فَتَقُولُ : نَعَمْ ! أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ ؟ ! فَأَتْرُكُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں، پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے ؟ میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے ۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں، میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ نکاح کیا، تم اس سے کھیلتے ؟ پھر فرمایا کہ عنقریب تمہیں اونی کپڑے ملیں گے، میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کہاں سے ؟ فرمایا : عنقریب تمہیں اونی کپڑے ضرور ملیں گے، اب آج وہ مجھے مل گئے ہیں تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اونی کپڑے اپنے پاس ہی رکھو، تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ تمہیں اونی کپڑے ملیں گے، یہ سن کر میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2406 و 3631، م: 715 و 2083
حدیث نمبر: 14133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، عَلَى دُبُرٍ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي ؟ " ، فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَا أَبْتَاعُهُ ، فَابْتَاعَه ، فَقَالَ عَمْرٌو ، قَالَ جَابِرٌ : غُلَامٌ قِبْطِيٌّ ، وَمَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ ، زَادَ فِيهَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، يُقَالُ لَهُ : يَعْقُوبُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کر دیا (جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا) کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس حالت کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ کہنے لگے کہ میں اسے خریدتا ہوں چنانچہ انہوں نے اسے خرید لیا، وہ غلام قبطی تھا اور پہلے ہی سال مر گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6716، م: 997
حدیث نمبر: 14134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ ، وَقَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِه : وَقَالَ لِي عَطَاءٌ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ نَبِيذًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ ، سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّشْرَةِ ، فَقَالَ : " مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منتر کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شیطانی عمل ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14135
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، قَالَ أَبِي : عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ هُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ بْنُ عَقِيلٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَقِيلٍ وَكانَ عَسِرًا لَا يُوصَلُ إِلَيْهِ فَأَقَمْتُ عَلَى بَابِهِ بِالْيَمَنِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ وَكَانَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ وَهْبٍ ، عَنْ جَابِرٍ فَلَمْ أَقْدِرْ أَنْ أَسْمَعَهَا مِنْ عُسْرِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ لِأَنَّهُ كَانَ حَيًّا أَفَلَمْ أَسْمَعْهَا مِنْ أَحَدٍ آخَرَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14135
حدیث نمبر: 14136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَرَأَيْتُ أَنَا جَابِرًا يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ : وَرَأَيْتُ جَابِرًا يُصَلِّي ، وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا الزُّبَيْرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 14137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا خَمَّرْتَهُ ! وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید انصاری رضی اللہ عنہ صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جنت البقیع میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اسے ڈھک کر کیوں نہ لائے ؟ اگرچہ لکڑی ہی سے ڈھک لیتے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
حدیث نمبر: 14138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ ، جَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ میں جاتے تو اپنے پہلوؤں کو اپنے پیٹ سے اتنا جدا رکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور اس دوران نمازیں قصر کر کے پڑھتے رہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ ، ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً ، فَقَالَ عَبَّاسٌ : اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ ، فَفَعَلَ ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ : " إِزَارِي إِزَارِي " فَشُدَّ عَلَيْهِ إِزَارُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش کر گر پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں، پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند ، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340
حدیث نمبر: 14141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُول : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى ، يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ، عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ «لا اله الا الله» نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں گے تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، سوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 21
حدیث نمبر: 14142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ ، يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ مِنْبَرُهُ اسْتَوَى عَلَيْهِ ، اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ ، حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا ، فَاعْتَنَقَهَا ، فَسَكَتَتْ " ، وَقَالَ رَوْحٌ : فَسَكَنَتْ ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : فَاضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ ، وَقَالَ رَوْحٌ : اضْطَرَبَتْ كَحَنِينِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے کے سہارے خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے، تو لکڑی کا وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے اور مسجد میں موجود تمام لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 918
حدیث نمبر: 14143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا جَابِرٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2178، وهذا إسناد منقطع، فإن سليمان بن موسى الأموي الدمشقي روايته عن جابر مرسلة، لأنه لم يدرك أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وتصريحه بالسماع من جابر وهم، لا ندري ممن هو، وقد توبع
حدیث نمبر: 14144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا ، فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ ، فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ ، وَقُبِرَ لَيْلًا ، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ ، إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کا ذکر کیا جو فوت ہو گئے تھے اور انہیں غیر ضروری کفن میں کفنا کر رات کے وقت دفنایا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت تدفین سے سختی کے ساتھ منع فرمایا تاآنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے، الاّ یہ کہ انسان بہت زیادہ مجبور ہو جائے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 943
حدیث نمبر: 14146
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَال : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : سُئِلَ جَابِرٌ عَنِ الْكَفَنِ ، فَأَخْبَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا ، فَذَكَرَ رَجُلًا قُبِضَ ، فََكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن موسي الأموي الدمشقي لم يسمع من جابر، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 960
حدیث نمبر: 14148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقَبْرِ ، وَأَنْ يُقَصَّصَ ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے، اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 970، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ ، وَأَنْ يُجَصَّصَ ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے، اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن موسى الأموي الدمشقي لم يسمع من جابر، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 14150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ أَصْحَمةُ هَلُمَّ فَصُفُّوا " ، قَالَ : فَصَفَفْنَا ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہو گیا ہے، آؤ صفیں باندھو، چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1320، م: 952