حدیث نمبر: 12260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ سورة الأعراف آية 143 ، قَالَ : قَالَ : " هَكَذَا ، يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ " ، قَالَ أَبِي : أَرَانَاه مُعَاذٌ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ : مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ؟ قَالَ : فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً ، وَقَالَ : مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ ، وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ ؟ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَقُولُ : أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ربانی " جب اس کے رب نے اپنی تجلی ظاہر فرمائی " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چھنگلیا کے ایک کنارے کے برابر تجلی ظاہر ہوئی۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں معاذ نے انگلی کی کیفیت دکھائی، تو حمید الطویل، ان سے کہنے لگے کہ اے ابو محمد ! اس سے آپ کا کیا مقصد ہے ؟ انہوں نے ان کے سینے پر زور سے ایک ہاتھ مارا اور کہنے لگے کہ حمید ! تم کون ہو اور کیا ہو ؟ مجھ سے یہ بات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ اس سے آپ کا مقصد کیا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلُوهُ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا يُعَلِّمُهُمْ ، فَبَعَثَ مَعَهُمْ أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَقَالَ " هُوَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2419
حدیث نمبر: 12262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانَةُ " ، يُعْلِمُهُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَظُنُّ بِكَ ؟ ! ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكَ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا تاکہ وہ آدمی سمجھ لے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات سے اندیشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دماغ میں نہ گھس جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2174
حدیث نمبر: 12263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا ، كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1800 ، م: 1928
حدیث نمبر: 12264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً ، يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا ، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ ، فَيُعْطَى بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا ، فَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2808
حدیث نمبر: 12265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5903 ، م: 2338
حدیث نمبر: 12266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ ، ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ ، حَسَنَ الْوَجْهِ " ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں اور ہتھیلیاں بھرئی ہوئی اور چہرہ حسین و جمیل تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5907
حدیث نمبر: 12267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَتَهُ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ، ثم َيَقْبِضُ الْقَبْضَةَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ، ثُمَّ جَلَسَ ، فَأَكَلَ بَقِيَّتَهُ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلَمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنی زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر ایک مٹھی بھر کر دوسری زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر جو باقی بچ گئیں وہ بیٹھ کر اس طرح تناول فرمالیں جیسے وہ آدمی کھاتا ہے جسے کھانے کی خواہش ہو اور وہ اس کے کھانے سے معلوم ہو رہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُرَجَّي بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ ، يَأْكُلُهُنَّ إِفْرَادًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک ایک ایک کر کے چند کھجوریں نہ کھالیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 953، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَفْطَرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ ختم کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول : " إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، قَالُوا : هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا) اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 745، والحديث هنا مختصر، وسيأتي بأطول مما هنا برقم: 12361
حدیث نمبر: 12271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَيُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ، فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَيُقَالُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ ، فَقَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ قَتَادَةُ : فَذَكَرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ ، فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ ، فَيُقَالُ لَهُ : لَا دَرَيْتَ ، وَلَا تَلَيْتَ ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً فَيَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَضِيقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو دفن کر کے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں، تو ایک فرشتہ " جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے " آکر اسے بٹھا دیتا ہے اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ اگر وہ مؤمن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، یہ سن کر فرشتہ کہتا ہے کہ تم نے سچ کہا، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور سے ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی قبر اتنی تنگ کردی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيحان، خ: 1338, م: 2870
حدیث نمبر: 12272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ ، جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6983 ، م: 2264
حدیث نمبر: 12273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، إِلَّا الشَّهِيدُ ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2817 ، م: 1877
حدیث نمبر: 12274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ بن مالك ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا ، وَلَا لَعَّانًا ، وَلَا فَحَّاشًا ، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بےہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6031
حدیث نمبر: 12275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ ، فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ ؟ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : نَعَمْ ، أَنَا ، قَالَ : فَانْزِلْ ، قَالَ : فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کو جھلملاتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو رات کو اپنی بیوی کے قریب نہ گیا ہو ؟ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں ! میں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبر میں تم اترو، چنانچہ وہ قبر میں اترے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه، خ: 1285، وقوله : شهدنا ابنة لرسول الله صلى الله عليه وسلم، قال الحافظ فى الفتح 158/3 هي أم كلثوم زوج عثمان ...... وقوله : «لم يقارف» ، قال سريج- كما برقم: 13383. يعني ذنبا ، والمعنى الصحيح. لم يجامع، كما فى رواية ثابت عن أنس 13398 مرفوعا: «لا يدخل القبر رجل قارف أهله»
حدیث نمبر: 12276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " ، قَالُوا : مَا رَأَيْتَ ؟ ، قَالَ : " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " ، وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِذَا كَانَ إِمَامَهُمْ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَأَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ ، وَقَالَ لَهُمْ : " إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي ، وَمِنْ خَلْفِي " ، وَسَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ الْمَرِيضِ ؟ ، فَقَالَ : يَرْكَعُ ، وَيَسْجُدُ قَاعِدًا فِي الْمَكْتُوبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں آگے بڑھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں، اگر وہ تم نے دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی ترغیب دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 419 ، م: 426
حدیث نمبر: 12277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ مَاهَانَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي عَلَى نَاقَتِهِ تَطَوُّعًا فِي السَّفَرِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر دوران سفر قبلہ کی تعیین کے بغیر بھی نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة بكار بن ماهان
حدیث نمبر: 12278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ شُمَيْطٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الْحَنَفِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ ، أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر وفاقہ جو خاک نشین کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي
حدیث نمبر: 12279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ " ، فَقِيلَ : مَنْ أَهْلُ اللَّهِ مِنْهُمْ ؟ ، قَالَ : " أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہوتے ہیں ؟ فرمایا قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اس وقت ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر پاس ہی پڑی ہوئی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 12281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَعِدَ أَكَمَةً ، أَوْ نَشَزًا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الشَّرَفُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ ، وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَمْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے تو یوں کہتے کہ اے اللہ ! ہر بلندی پر تیری بلندی ہے اور ہر تعریف پر تیری تعریف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمارة بن زاذان و زياد بن عبدالله النميري، قلنا : و المحفوظ التكبير كلما صعد شرفا، والتسبيح عند النزول، انظر حديث جابر فى البخاري : 2993
حدیث نمبر: 12282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ ، وَالْحُمَةِ ، وَالنَّمْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2196
حدیث نمبر: 12283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدًّا ، يَمُدُّ بِهَا مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5045
حدیث نمبر: 12284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكَلَّمُ فِي الْحَاجَةِ بَعْدَمَا يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا اسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 12286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، أَوْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، وجابر بن يزيد الجعفي، وأبي نصر خيثمة البصري، و كنية أنس أبو حمزة، قال الأزهري: البقلة التى جناها أنس كان فى طعمها لذع فسميت حمزة بفعلها ، يقال : رمانة حامزة، أى فيها حموضة
حدیث نمبر: 12287
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ : " إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي ، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7536
حدیث نمبر: 12288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ ، أَوْ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2920 ، م: 2076
حدیث نمبر: 12289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ ، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ ؟ ، قَالَ : فَيَقُولُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَيَقُولُ : قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا ، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا تو وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں آدمی کی پشت پر تجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ مانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3334 ، م: 2805
حدیث نمبر: 12290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ ، فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ ، فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ ، فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهُمَا فِي الدُّنْيَا ، ثُمَّ أُعْطِيتَهُمَا فِي الْآخِرَةِ ، فَقَدْ أَفْلَحْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تین مرتبہ آیا اور تین مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی دعاء سب سے افضل ہے ؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ اپنے رب سے دنیا میں درگذر اور عافیت کا سوال کیا کرو اور آخری مرتبہ فرمایا کہ اگر تمہیں دنیا و آخرت میں یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو تم کامیاب ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سلمة بن وردان المدني
حدیث نمبر: 12292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ " ، قَالَ : قِيلَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " أَهْلُ الْقُرْآنِ ، هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہوتے ہیں ؟ فرمایا قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ ، وَالطِّيبُ ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَارِئُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ ، وَالطِّيبُ ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ أو َثَلَاثًا " ، وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی تین سانس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر : 12133
حدیث نمبر: 12296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَنَسًا وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ ، قَالَ : فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ : " كُلُوا ، فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا بِعَيْنِهِ ، وَلَا أَكَلَ شَاةً سَمِيطًا قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5385
حدیث نمبر: 12297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، مُتَلَحِّفًا بِهِ ، وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْنَا لَهُ : أَتُصَلِّي وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ ؟ ! ، قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اس وقت ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر پاس ہی پڑی ہوئی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 12298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً لِيَسْتَطِيبَ بِهَا ، فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، قَالَ : " زِنْهَا " ، فَوَزَنَهَا فَإِذَا مِائَتَا دِرْهَمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا رِكَازٌ ، وَفِيهِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے، ہمارا ایک ساتھی وہاں ایک ویرانے میں قضاء حاجت کے لئے گیا، اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو وہاں سے چاندی کا ایک ٹکڑا گرا، اس نے وہ اٹھالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تو لو، اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کے برابر بنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رکاز ہے اور اس میں پانچواں حصہ واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد ، وهو ابن أسلم
حدیث نمبر: 12299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ سَجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز زوال کے وقت ہی پڑھ لیا کرتے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے تو ظہر کی دو رکعتیں ایک درخت کے نیچے پڑھ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن ، وانظر 12079