حدیث نمبر: 12220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : " اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْبَدَ بَعْدَ الْيَوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ غزوہ حنین کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، و سيأتي من طريق ثابت 12538 أنه قال ذلك يوم أحد، وقد سلف فى مسند عمر 208 أنه قال يوم بدر: «اللهم إن تهلك هذه العصابة ......» قلنا : و لا يبعد أن يكون تكرر هذا الدعاء منه صلى الله عليه وسلم فى هذه المواضع الثلاثة وفي غيرها، والله تعالى أعلم
حدیث نمبر: 12221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، فَأَتَاهُ آتٍ ، فَأَخَذَهُ فَشَقَّ صَدْرَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَرَمَى بِهَا ، وَقَالَ : هَذِهِ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لَأَمَهُ ، فَأَقْبَلَ الصِّبْيَانُ إِلَى ظِئْرِهِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ ، قُتِلَ مُحَمَّدٌ ، فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ انْتَقَعَ لَوْنُهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمَخِيطِ فِي صَدْرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیئے، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 162
حدیث نمبر: 12222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، الْمَعْنَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَأَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ ، فَأَنْزَلَتْ ، فَلْتَغْتَسِلْ " ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : أَوَ يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " نَعَمْ ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ ، أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے " اور اسے انزال ہوجائے تو اسے غسل کرنا چاہئے، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 310
حدیث نمبر: 12223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ، وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ ، قُلْتُ : وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : إِنَّكَ بِسَعْدٍ أَشْبَهُ ، ثُمَّ بَكَى وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ ، فَقَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ ، وَأَطْوَلِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِيها الذَّهَبُ ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، أَوْ جَلَسَ ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا ؟ " ، قَالُوا : مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ ! ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
واقد بن عمرو بن سعد رحمہ اللہ (جو بڑے خوبصورت اور ڈیل ڈول والے آدمی تھے) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ میں نے بتایا کہ میرا نام واقد ہے اور میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پوتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم سعد کے بہت ہی مشابہہ ہو، پھر ان پر گریہ طاری ہوگیا اور وہ کافی دیر تک روتے رہے، پھر کہنے لگے کہ سعد پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ لوگوں میں بڑے عظیم اور طویل القامت تھے۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکید رومہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا : اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس پر سونے کا کام کیا ہوا تھا " بھجوایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر منبر پر تشریف لے گئے، کھڑے رہے یا بیٹھ گئے، لیکن کوئی بات نہیں کہی، تھوڑی دیر بعد نیچے اترے تو لوگ اس جبے کو ہاتھ لگاتے اور دیکھتے جاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہم نے قبل ازیں اس سے بہتر لباس نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو دیکھ رہے ہو جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن، خ: 2616، م: 2469
حدیث نمبر: 12224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَّةً مِنْ مَنٍّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ ، مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً ، فَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ، ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى ، فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً ، قَالَ : " هَذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں " من " کا ایک مٹکا بھجوایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر ایک جماعت پر سے گذرتے ہوئے ان میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دینا شروع کردیا، ان میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک حصہ دے دیا، پھر ان کے پاس کچھ دیر بعد واپس آکر ایک اور حصہ دیا، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ تو آپ مجھے دے چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عبداللہ کی بچیوں (تمہاری بہنوں) کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 12225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ ثَمَانٍ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَغَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد جيد، وانظر: 12113
حدیث نمبر: 12226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا سورة الفتح آية 1 - 2 ، قَالَ الْمُسْلِمُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَنِيئًا لَكَ مَا أَعْطَاكَ اللَّهُ ، فَمَا لَنَا ؟ فَنَزَلَتْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراطا مستقیما " مسلمانوں نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ویکفر عنھم سیئاتھم وکان ذلک عند اللہ فوزا عظیما "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 4172 ، م: 1786
حدیث نمبر: 12227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ ، " هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ ، مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ ، فَأُخِذُوا ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24 ، قَالَ : يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اسی اہل مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بددعاء فرمائی اور انہیں پکڑ لیا گیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھو الذی کف ایدیھم عنکم " اور اس میں بطن مکہ سے مراد جبل تنعیم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 1808
حدیث نمبر: 12228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فَلَا أَدْرِي ، أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ ؟ وَهُوَ يَقُولُ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ ، لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآن کی آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، عن انس عن أبى قال: كنا نري هذا من القرآن حتي نزلت: ألهاكم التكاثر
حدیث نمبر: 12229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَتْ نِعَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَهُمَا قِبَالَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5857
حدیث نمبر: 12230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ ، " فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ " ، فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی، چنانچہ میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2920 ، م: 2076
حدیث نمبر: 12231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ ، فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، م: 258 وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة ابن موسي الدقيقي، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12233
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ : " إِنْ تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي مَاشِيًا ، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوتا جاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7536
حدیث نمبر: 12234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ وَأَبُو بَكْرٍ رَدِيفُهُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْرَفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ إِلَى الشَّامِ ، وَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ ، فَيَقُولُونَ : مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ ، فَيَقُولُ : هَادٍ يَهْدِينِي ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ ، بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنَ الْأَنْصَارِ ، إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ ، فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا ، فَقَالُوا : ادْخُلَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ ، فَدَخَلَا ، قَالَ أَنَسٌ : فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ ، وَلَا أَحْسَنَ مِنْ يَوْمِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدِينَةَ ، وَشَهِدْتُ وَفَاتَهُ ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ ، وَلَا أَقْبَحَ مِنَ الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر ! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر رہے ہیں، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن وامان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوجائیے، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چنانچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3911
حدیث نمبر: 12235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ ؟ " فَأَخَذَهُ قَوْمٌ فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ ؟ " فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكٌ : أَنَا آخُذُ بِحَقِّهِ ، فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ هَامَ الْمُشْرِكِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تلوار پکڑی اور فرمایا یہ تلوار کون لے گا ؟ کچھ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے اسے کون لے گا ؟ یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے، حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ " جن کا نام سماک تھا " کہنے لگے کہ میں اس کا حق ادا کرنے کے لئے لیتا ہوں، چنانچہ انہوں نے اسے تھام لیا اور مشرکین کی کھوپڑیاں اڑانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2470
حدیث نمبر: 12236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : " مَنْ قَتَلَ رَجُلًا فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يومئذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا ، فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا ساز و سامان حاصل کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَبَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، الْمَعْنَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُعْطَى عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا ، وَيُثَابُ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطِيهِ حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا ، حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2808
حدیث نمبر: 12238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى الْأَرْضِ ، فَقَالَ : " هَذَا ابْنُ آدَمَ ، ثُمَّ رَفَعَهَا فَوَضَعَهَا خَلْفَ ذَلِكَ قَلِيلًا ، وَقَالَ : هَذَا أَجَلُهُ ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ أَمَامَهُ ، قَالَ : وَثَمَّ أَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا کہ یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے فرمایا کہ اس کی امیدیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وفي البخاري : 6418 بلفظ: خط النبى صلى الله عليه وسلم خطوطا، فقال: «هذا الأمل، وهذا أجله، فبينما هو كذلك اذا جاءه الخط الأقرب»
حدیث نمبر: 12239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا دَعَا جَعَلَ ظَاهِرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ ، وَبَاطِنَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعاء کرتے تو ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ چہرہ کی جانب کرلیتے اور نچلا حصہ زمین کی طرف۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ، فَجَعَلَهَا عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ حَتَّى تَهَيَّأَ وَتَعْتَدَّ فِيمَا يَعْلَمُ حَمَّادٌ ، فَقَالَ النَّاسُ : وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ تَسَرَّاهَا ؟ فَلَمَّا حَمَلَهَا سَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ ، فَعَرَفَ النَّاسُ أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ المدينة أَوْضَعَ النَّاسُ ، وَأَوْضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ ، فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ ، فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَّتْ مَعَهُ ، وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرْنَ ، فَقُلْنَ : أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ ، وَفَعَلَ بِهَا ، وَفَعَلَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے ؟ لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گرگئے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی گرگئیں، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں وہ کہنے لگی کہ اللہ اس یہودیہ کو دور کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 1428
حدیث نمبر: 12241
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي قَسْمِهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 1365
حدیث نمبر: 12242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَحَرْثٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَامِنُونِي " ، فَقَالُوا : لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ ، وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ ، وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ " ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ " يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ " ، وحَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ در اصل بنو نجار کی تھی، ایک درخت، کھیت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر درختوں کو کاٹ دیا گیا، کھیت اجاڑ دیا گیا اور قبروں کو اکھاڑ دیا گیا اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 234 ، م: 524
حدیث نمبر: 12243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ ، فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَهُ يَدْعُوهُ ، فَقَالَ : " وَهَذِهِ ؟ لِعَائِشَةَ " ، فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " ، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذِهِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذِهِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ ، فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2037
حدیث نمبر: 12244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " المدينة يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا ، فَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ ، وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہو سکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7134
حدیث نمبر: 12245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6504 ، م: 2951
حدیث نمبر: 12246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ ، وَأَنْفُسِكُمْ ، وَأَلْسِنَتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَقَالَ مَرَّةً : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ ، فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ ، تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ ، قَالَ : إِنَّهُ لَمُنَافِقٌ ، أَيَعْجَلُ عَنِ الصَّلَاةِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلِهِ ! ، قَالَ : فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا طَوَّلَ ، تَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ ، فَقَالَ : " أَفَتَّانٌ أَنْتَ ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟ ! لَا تُطَوِّلْ بِهِمْ ، اقْرَأْ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ، وَنَحْوِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ " جو اپنے باغ کو پانی لگانے جا رہے تھے " نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے چلے گئے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے منہ سے نکل گیا کہ وہ منافق ہے اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لئے نماز سے جلدی کرتا ہے۔ اتفاق سے حضرت حرام رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو وہاں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، حضرت حرام رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی ! میں اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے جا رہا تھا، باجماعت نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوا، جب انہوں نے نماز لمبی کردی تو میں مختصر نماز پڑھ کر اپنے باغ کو پانی لگانے چلا گیا، اب ان کا خیال یہ ہے کہ میں منافق ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کردو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگوں کو امتحان ڈالتے ہو ؟ انہیں لمبی نماز نہ پڑھایا کرو، سورت اعلیٰ اور سورت شمس وغیرہ سورتیں پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الشَّهْرِ ، وَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ ، لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ، إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا : کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7241 ، م: 1104
حدیث نمبر: 12249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا ، أَوْ سَافَرَ ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ ، قَالَ : " يَا أَرْضُ ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ ، وَشَرِّ مَا فِيكِ ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ ، وَمِنْ شَرِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ ، وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی سفر یا غزوہ میں ہوتے اور رات کا وقت آجاتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے زمین ! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شر سے، تجھ میں موجود شر، تیرے اندر پیدا کی گئی چیزوں کے شر اور تجھ پر چلنے والوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ہر شیر اور کالی چیز سے، سانپ اور بچھو سے، اہلیان شہر کے شر سے اور والد اور اولاد کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الزبير بن الوليد، وهذا الحديث من مسند ابن عمر، وقد سلف عنه من هذا الطريق برقم: 6161
حدیث نمبر: 12250
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أنَّ أَنَسٍ بن مالك " عَمَّرَ مِائَةَ سَنَةٍ غَيْرَ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر ایک کم سو سال تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا ابْنِي ، وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ ، قَالَ : " فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
حدیث نمبر: 12252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَارِثَةَ خَرَجَ نَظَّارًا ، فَأَتَاهُ سَهْمٌ ، فَقَتَلَهُ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنِّي ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ ، وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ ، قَالَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ ، وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا ، أَوْ قَالَ : فِي أَعَلَى الْفِرْدَوْسِ " ، شَكَّ يَزِيدُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6567
حدیث نمبر: 12253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ ، فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا ، فَاسْتَقَرَّتْ ، فَتَعَجَّبَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ خَلْقِ الْجِبَالِ ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْجِبَالِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، الْحَدِيدُ ، قَالَتْ : يَا رَبِّ ، فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، النَّارُ ، قَالَتْ : يَا رَبِّ ، فهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، الْمَاءُ ، قَالَتْ : يَا رَبِّ ، فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، الرِّيحُ ، قَالَتْ : يَا رَبِّ ، فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ابْنُ آدَمَ ، يَتَصَدَّقُ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ڈانواں ڈول ہونے لگی، اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر رکھ دیا تو وہ اپنی جگہ ٹھہر گئی، ملائکہ کو پہاڑوں کی تخلیق پر تعجب ہوا اور وہ کہنے لگے کہ پروردگار ! کیا آپ نے پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز پیدا کی ہے ؟ اللہ نے فرمایا ہاں ! لوہا، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار ! کیا لوہے سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز آپ نے پیدا کی ہے ؟ فرمایا ہاں ! آگ، فرشتوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے آگ سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے ؟ فرمایا ہاں ! ہوا، فرشتوں نے پوچھا کہ پروردگار ! کیا آپ نے ہوا سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ابن آدم، جو دائیں ہاتھ سے خرچ کرتا ہے تو بائیں ہاتھ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة سليمان بن أبى سليمان، وهو مولي ابن عباس
حدیث نمبر: 12254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ ، مُتَسَلِّحِينَ ، يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا ، فَاسْتَحْيَاهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اسی اہل مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھنے لگے، وہ دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں بڑی آسانی سے پکڑ لیا گیا تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھوالذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 1808
حدیث نمبر: 12255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ ، فَيَقُولُ : " تَرَاصُّوا وَاعْتَدِلُوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 12256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ بَيْنَ يَدَيَّ خَشَفَةً ، فَقُلْتُ مَا هَذَا ؟ ، قَالُوا : الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ ، أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : " اطَّلَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ خَلَلٍ ، فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِشْقَصًا حَتَّى أَخََّرَ رَأْسَهُ " ، قَالَ يَحْيَى : قُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ؟ يَعْنِي حُمَيْدًا ، قَالَ : أَنَسٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری ( تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6889 ، م: 2157
حدیث نمبر: 12258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، الْمَعْنَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَدْخُلُ النَّارَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي ، حَتَّى إِذَا كَانُوا حُمَمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ ، فَيُقَالُ : هُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7450
حدیث نمبر: 12259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ ، يُكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا ، وَإِذَا رَفَعُوا " ، قَالَ يَحْيَى : " أَوْ خَفَضُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح