حدیث نمبر: 12180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، عَنْ غَالِبٍ ، هَكَذَا قَالَ وَكِيعٌ : غَالِبٍ ، وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو غَالِبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّهُ أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةِ امْرَأَةٍ فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ حِذَاءَ السَّرِيرِ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ ، نَحْوًا مِمَّا رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ ، فَقَالَ : احْفَظُوا " .
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرد کا جنازہ لایا گیا وہ اس کی چارپائی کے سرہانے کھڑے ہوئے اور عورت کا جنازہ لایا گیا تو چارپائی کے سامنے اس سے نیچے ہٹ کر کھڑے ہوئے، نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد رحمہ اللہ کہنے لگے کہ اے ابوحمزہ ! جس طرح کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مرد و عورت کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! تو علاء نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اسے محفوظ کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ : " مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الْيَوْمَ جَنَازَةً ؟ ، قَالَ عُمَرُ أَنَا ، قَالَ : مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا ؟ ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : مَنْ تَصَدَّقَ ؟ ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا ، قَالَ : وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم میں سے کسی نے کسی مریض کی عیادت کی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے کی ہے، پھر فرمایا کسی نے صدقہ دیا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر اپنے آپ کو پیش کیا، پھر پوچھا کہ کسی نے روزہ رکھا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان، والصحيح رواية مسلم فى صحيحه: 1028 من حديث أبى هريرة، أن القائل فيه : "أنا ......أنا" هو أبو بكر، وليس عمر
حدیث نمبر: 12182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، قَالَ : فَسَعَى عَلَيْهَا الْغِلْمَانُ حَتَّى لَغَبُوا ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُهَا ، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ ، فَذَبَحَهَا ، ثُمَّ بَعَثَ مَعِي بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرالظہران نامی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آگیا، بچے اس کی طرف دوڑے، لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2572 ، م: 1953
حدیث نمبر: 12183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5558 ، م: 1966
حدیث نمبر: 12184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ ، وُكِلَ إِلَيْهِ ، وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ ، نَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ فَيُسَدِّدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص عہدہ قضاء کو طلب کرتا ہے، اسے اس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور جسے زبردستی عہدہ قضاء دیا جائے، اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالأعلي بن عامر الثعلبي وبلال أبى موسيٰ: وهو ابن مرداس
حدیث نمبر: 12185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پانی پیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2024
حدیث نمبر: 12186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا ، وَيَقُولُ : " هَذَا أَهْنَأُ ، وَأَمْرَأُ ، وَأَبْرَأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن، م: 2028
حدیث نمبر: 12187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ : أَسَمِعْتَ أَنَسًا ، يَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " ؟ ، قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت لقمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6761 ، م: 1059
حدیث نمبر: 12188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ ابْنَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ ، " فَشَرِبَ مِنْ فِيهَا وَهُوَ قَائِمٌ " ، قَالَ : فَقَطَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَ الْقِرْبَةِ ، فَهُوَ عِنْدَنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا : ام سلیم رضی اللہ عنہ نے مشکیزے کا منہ کاٹ کر (تبرک کے طور پر) اپنے پاس رکھ لیا اور وہ آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن بنت أنس، واسمه البرأ بن زيد، والصحيح أن هذه القصة وقعت لكبشة بنت ثابت الأنصارية كما سيأتي برقم: 27448
حدیث نمبر: 12189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا ؟ ، فَقَالَ : أَهْرِقْهَا ، قَالَ : أَفَلَا نَجْعَلُهَا خَلًّا ؟ ، قَالَ : لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کو وراثت میں شراب ملے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا اسے بہا دو ، انہوں نے عرض کیا کہ کیا ہم اسے سرکہ نہیں بناسکتے ؟ فرمایا نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 1983
حدیث نمبر: 12190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَكُونِي مِنَ الصَّدَقَةِ ، لَأَكَلْتُكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جگہ راستے میں ایک کھجور پڑی ہوئی ملی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو صدقہ کی نہ ہوتی تو میں تجھے کھا لیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2055 ، م: 1071
حدیث نمبر: 12191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اخد عین اور کامل نامی کندھوں کے درمیان مخصوص جگہوں پر سینگی لگوائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ أَبِي ؟ ، قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : " إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں، پھر جب اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ میرا اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناد صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 203
حدیث نمبر: 12193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5631 ، م: 2028، وانظر: 12132
حدیث نمبر: 12194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ يُوسُفَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ ، وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2196
حدیث نمبر: 12195
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ ، فَيُكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا ، وَإِذَا رَفَعُوا " ، قَالَ يَحْيَى : " أَوْ خَفَضُوا ، قَالَ : كَبَّرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ ؟ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْمُزَفَّتَةِ ، وَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
مختار بن نوفل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " مزفت " سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5587 ، م: 1952
حدیث نمبر: 12197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ امْرَأَةً لَقِيَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ؟ ، قَالَ : " يَا أُمَّ فُلَانٍ ، اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ ، أَجْلِسْ إِلَيْكِ " ، قَالَ : فَقَعَدَتْ ، فَقَعَدَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2326
حدیث نمبر: 12198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : " كَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5045
حدیث نمبر: 12199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا ، حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " ، طَائِرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ، قَالَ : وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا ، قَالَ : فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَصَفَّنَا خَلْفَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ چڑیا، جو مرگئی تھی اور ہمارے لئے ایک چادر بچھائی گئی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6129
حدیث نمبر: 12200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف زيد العمي
حدیث نمبر: 12201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَيُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ ، فَيُكَلِّمُهُ ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات کرلیتے تھے، پھر بڑھ کر مصلیٰ پر چلے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ ، وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6421 ، م: 1047
حدیث نمبر: 12203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، فَقَالَ : فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں حسب طاقت کی قید لگا دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 12204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ " ، قَالَ : فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ لِأَنَسٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ ، قَالَ : وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر : 12111
حدیث نمبر: 12205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ ، الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ) " اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو خزيمة: ان كان هو العبدي نصر بن مرداس، فالإسناد حسن، وإن كان يوسف بن ميمون الصباغ، فالإسناد ضعيف، وعلي كلا الحالين، فالحديث صحيح بطرقه
حدیث نمبر: 12206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2280 ، م: 1577
حدیث نمبر: 12207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ ، قَالَ : " تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَشْرًا ، وَتَحْمَدِينَهُ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرِينَهُ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلِي حَاجَتَكِ ، فَإِنَّهُ يَقُولُ : قَدْ فَعَلْتُ ، قَدْ فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئے جن کے ذریعے میں دعاء کرلیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر اپنی ضرورت کا اللہ سے سوال کرو، اللہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارا کام کردیا، میں نے تمہارا کام کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الْمَاجِشُونَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ الْنُمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ افْتَرَقَتْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَأَنْتُمْ تَفْتَرِقُونَ عَلَى مِثْلِهَا ، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور تم بھی اتنے ہی فرقوں میں تقسیم ہوجاؤ گے اور سوائے ایک فرقے کے سب جہنم میں جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهد، وهذا اسناد ضعيف لضعف زياد بن عبدالله النميري
حدیث نمبر: 12209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد بڑھ نہ جائے، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 81 ، م: 2671
حدیث نمبر: 12210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى ، فَرَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م: 2375
حدیث نمبر: 12211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ ، قَالُوا : خُطَبَاءُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ ، وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، لكن قد توبع
حدیث نمبر: 12212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ ، وَأُخِفْتُ مِنَ اللَّهِ ، وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَمَا لِي وَلِعِيَالِي طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ ، إِلَّا مَا يُوَارِي إِبِطَ بِلَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ستایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ستایا گیا اور اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ تین دن اور تین راتیں گزر گئیں اور میرے پاس اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر رکھنے والا جاندار کھا سکے، سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں ہوتا تھا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وفي الحديث التالي: "أتت على ثلاثون من بين يوم وليلة"
حدیث نمبر: 12213
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں تیس دن رات کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَ يُخْتَمُ لَهُ ، فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ ، أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ ، بِعَمَلٍ صَالِحٍ ، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا سَيِّئًا ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرٍ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ ، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ ؟ ، قَالَ : " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو، جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے ؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہو جائے تو جنت میں داخل ہو جائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مر جائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے اس کی موت سے پہلے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔ پھر اس کی روح قبض کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ كَانَ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِينَا يَعْنِي عَظُمَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يُمْلِي عَلَيْهِ غَفُورًا رَحِيمًا ، فَيَكْتُبُ عَلِيمًا حَكِيمًا ، فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ : " اكْتُبْ كَذَا وَكَذَا ، اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ " ، وَيُمْلِي عَلَيْهِ عَلِيمًا حَكِيمًا ، فَيَقُولُ : أَكْتُبُ سَمِيعًا بَصِيرًا ؟ ، فَيَقُولُ : " اكْتُبْ اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ " ، فَارْتَدَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ ، وَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ ، إِنْ كُنْتُ لَأَكْتُبُ مَا شِئْتُ ، فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْأَرْضَ لَمْ تَقْبَلْهُ " ، وقَالَ أَنَسٌ : فَحَدَّثَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهُ أَتَى الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَوَجَدَهُ مَنْبُوذًا ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : مَا شَأْنُ هَذَا الرَّجُلِ ؟ ، قَالُوا : قَدْ دَفَنَّاهُ مِرَارًا ، فَلَمْ تَقْبَلْهُ الْأَرْضُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، وہ آدمی جب بھی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کرتا تو ہم میں بہت آگے بڑھ جاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے «غفوراً الرحيما» لکھواتے اور وہ اس کی جگہ "" علیما حکیما "" لکھ دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اس اس طرح لکھو، لیکن وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے «عليما حكيما» لکھواتے تو وہ اس کی جگہ «سميعا بصيرا» لکھ دیتا اور کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، کچھ عرصے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا اور کہنے لگا کہ میں تم سب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا عالم ہوں، میں ان کے پاس جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا، جب وہ آدمی مرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اس جگہ پر گئے تھے جہاں وہ آدمی مرا تھا، انہوں نے اسے باہر پڑا ہوا پایا، لوگوں سے پوچھا کہ اس شخص کا ماجرا کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے کئی مرتبہ دفن کیا لیکن زمین اسے قبول نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781، وعامة الروايات فى هذا الحديث جاءت مطلقة غير مقيدة، وليس فيها أنه كان يكتب الوحي، وقد ذهب الطحاوي إلى أنه كان يكتب الرسائل يبعث بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فى دعائه إلى الإسلام، انظر شرح مشكل الآثار : 240,241/8
حدیث نمبر: 12216
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ يُعَدُّ فِينَا عَظِيمًا ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ يُنَادِي : إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ " ، قَالَ : فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے، چنانچہ ہانڈیاں الٹا دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940
حدیث نمبر: 12218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ ، فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلًا يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا عَنَيْتُ فُلَانًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ " تَسَمَّوْا بِاسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے ابو القاسم کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131
حدیث نمبر: 12219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ فَأَمَرَ بِلَالًا ، فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ فَصَلَّى ، ثُمَّ دَعَا الرَّجُلَ ، فَقَالَ : " مَا بَيْنَ هَذَا وَهَذَا وَقْتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح