حدیث نمبر: 14097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَمَا يَبْسُطُ الْكَلْبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
حدیث نمبر: 14098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : " ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : وَيْحَكَ ، أَوْ : وَيْلَكَ ، ارْكَبْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2754، م: 1323
حدیث نمبر: 14099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ، فَلَا يَتْفُلَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ، أو : تَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
حدیث نمبر: 14100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَتْ بِالْمَدِينَةِ فَزْعَةٌ ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ ، يُقَالُ لَهُ : مَنْدُوبٌ ، فَرَكِبَهُ ، وَقَالَ : مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
حدیث نمبر: 14101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا ، " وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا ، وَنَضَحُوهُ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری کم تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بار بار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہیں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چنانچہ اس نے ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 670
حدیث نمبر: 14102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَاءَهُ أَصْحَابُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَخَرَجَ ، فَصَلَّى بِهِمْ ، فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، فَأَطَالَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ، فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، فَأَطَالَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ ، فَجَعَلْتَ تُطِيلُ إِذَا دَخَلْتَ ، وَتُخَفِّفُ إِذَا خَرَجْتَ ، قَالَ : " مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ مَا فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1104
حدیث نمبر: 14103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
حدیث نمبر: 14104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365
حدیث نمبر: 14105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ، قَالَ قَتَادَةُ : فَسَأَلْنَا أَنَسًا عَنِ الْأَكْلِ ، قَالَ : الْأَكْلُ أَشَدُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م 2024
حدیث نمبر: 14106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ غُلَامًا جَوَادًا ، فَصِدْتُ أَرْنَبًا ، فَشَوَيْنَاهَا ، فَأَرْسَلَ مَعِي أَبُو طَلْحَةَ بِعَجُزِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک طاقتور لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش شکار کیا، پھر ہم نے اسے بھونا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا ، أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، قَالَ : يُقَالُ لَهُ : قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کے برابر سونا موجود ہو تو کیا وہ سب اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6538، م: 2805
حدیث نمبر: 14108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ " أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار یمنی چادر والا لباس سب سے زیادہ پسند تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5813، م: 2079
حدیث نمبر: 14109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : هَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ان میں اتنی طاقت تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم آپس میں باتیں کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس آدمیوں کے برابر طاقت دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 268
حدیث نمبر: 14110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَجَدَ تَمْرَةً ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً ، لَأَكَلْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جگہ راستے میں ایک کھجور پڑی ہوئی ملی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو صدقہ کی نہ ہوتی تو میں تجھے کھا لیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2055، م: 1071
حدیث نمبر: 14111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 200