حدیث نمبر: 14057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : غَلَا السِّعْرُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَلَا السِّعْرُ ، سَعِّرْ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہوں کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 14058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ يَتَتَرَّسُ بِهِ ، وَكَانَ رَامِيًا ، وَكَانَ إِذَا رَمَى ، رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَخْصَهُ يَنْظُرُ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ ، وَيَرْفَعُ أَبُو طَلْحَةَ صَدْرَهُ ، وَيَقُولُ : هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَسُوقُ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ : إِنِّي جَلْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَوَجِّهْنِي فِي حَوَائِجِكَ ، وَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے تیر اندازی کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے انہیں ڈھال بنائے ہوئے تھے، وہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر پھینکتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ وہ تیر کہاں جا کر گرا ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنا سینہ بلند کر کے عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے سے پہلے ہے اور وہ اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھتے تھے اور کہتے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا جسم سخت ہے، آپ مجھے اپنے کام کے لئے بھیجئے اور مجھے جو چاہے حکم دیجئے۔
حدیث نمبر: 14059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ بِمِنًى ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شِقَّ رَأْسِهِ ، فَحَلَقَ الْحَجَّامُ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَا ، وَكَانَ يَجِيءُ فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى نِطْعٍ ، وَكَانَ مِعْرَاقًا ، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ وَتَجْعَلُهُ فِي قَارُورَةٍ لَهَا ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَجْعَلِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَرَقُكَ أُرِيدُ أَنْ أَدُوفَ بِهِ طِيبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں جا کر چمڑے کے ایک بستر پر آرام فرماتے تھے، اس پر پسینہ بہت آتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ایک شیشی میں جمع کرنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے اور فرمایا اے ام سلیم ! کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! آپ کے پسینے کو اپنی خوشبو میں شامل کروں گی۔
حدیث نمبر: 14060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 ، قَالَ : قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ ، فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ : " يَا أَبَا عَمْرٍو ، مَا شَأْنُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ لَا يُرَى ؟ ! اشْتَكَى ؟ " فَقَالَ : مَا عَلِمْتُ لَهُ بِمَرَضٍ ، وَإِنَّهُ لَجَارِي ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ ، فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي كُنْتُ مِنْ أَشَدِّكُمْ رَفْعَ صَوْتٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ، وَقَدْ هَلَكْتُ ، أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے ایمان والو ! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ " جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی " کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔
حدیث نمبر: 14061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَحُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا ، فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ ، وَقَالَ : " اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ ، وَارْتَدُّوا عَنِ الإسلام ، فَأُتِيَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ " ، قَالَ أَنَسٌ : قَدْ كُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكُدُّ الْأَرْضَ بِفِيهِ ، حَتَّى مَاتُوا ، وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ ، حَتَّى مَاتُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حدیث نمبر: 14062
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَهَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ .
حدیث نمبر: 14063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَخْتَلِفُ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يُعْرَفُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُعْرَفُ ، فَكَانُوا يَقُولُونَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا هَذَا الْغُلَامُ بَيْنَ يَدَيْكَ ؟ قَالَ : هَذَا يَهْدِينِي السَّبِيلَ ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ ، نَزَلَا الْحَرَّةَ ، وَبَعَثَا إِلَى الْأَنْصَارِ ، فَجَاءُوا ، فَقَالُوا : قُومَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ ، قَالَ : فَشَهِدْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ ، وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَاتَ ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا كَانَ أَقْبَحَ وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر ! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر رہے ہیں، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن وامان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوجائیے، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چنانچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 14064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى جَيَّفُوا ، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ، قَالَ : فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُنَادِيهِمْ بَعْدَ ثَلَاثٍ ؟ وَهَلْ يَسْمَعُونَ ؟ يَقُولُ اللَّهُ عز وجل : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتولین بدر کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا ؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔
حدیث نمبر: 14065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ مَاتَ لَهُ ابْنٌ ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : لَا تُخْبِرُوا أَبَا طَلْحَةَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُخْبِرُهُ ، فَسَجَّتْ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ ، وَضَعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامًا ، فَأَكَلَ ، ثُمَّ تَطَيَّبَتْ لَهُ فَأَصَابَ مِنْهَا ، فَعَلِقَتْ بِغُلَامٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، إِنَّ آلَ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا مِنْ آلِ فُلَانٍ عَارِيَّةً ، فَبَعَثُوا إِلَيْهِمْ : ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِعَارِيَّتِنَا ، فَأَبَوْا أَنْ يَرُدُّوهَا ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : لَيْسَ لَهُمْ ذَلِكَ ، إِنَّ الْعَارِيَّةَ مُؤَدَّاةٌ إِلَى أَهْلِهَا ، قَالَتْ : فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَّةً مِنَ اللَّهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ قَبَضَهُ ، فَاسْتَرْجَعَ ، قَالَ أَنَسٌ : فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَهُمَا فِي لَيْلَتِهِمَا " ، قَالَ : فَعَلِقَتْ بِغُلَامٍ فَوَلَدَتْ ، فَأَرْسَلَتْ بِهِ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَمَلْتُ تَمْرًا ، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَخَذَ التَّمَرَاتِ ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ ، فَلَاكَهُنَّ ، ثُمَّ جَمَعَ لُعَابَهُ ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ ، فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبُّ الْأَنْصَارَ التَّمْرَ ، فَحَنَّكَهُ ، وَسَمَّاهُ : عَبْدَ اللَّهِ ، فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ شَابٌّ أَفْضَلَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہوچکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کرسکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس ! تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں، ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، انصار میں اس سے افضل کوئی جوان نہ تھا۔
حدیث نمبر: 14066
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ سَلَّامُ ، وَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ ، فَقَالَ لَهُ : " هَلْ سَأَلْتَ اللَّهَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ ، هَلَّا قُلْتَ : " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ چوزے کی طرح ہوچکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم کوئی دعا مانگتے تھے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں یہ دعاء مانگتا تھا کہ اے اللہ ! تو نے مجھے آخرت میں جو سزا دینی ہے وہ دنیا ہی میں دے دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! تمہارے اندر اس کی ہمت ہے اور نہ طاقت، تم نے یہ دعاء کیوں نہ کی کہ اے اللہ ! مجھے دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
حدیث نمبر: 14068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الإسلام مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، فَأَكَلُوا مِنْهَا ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسی کو تناول فرما لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔
حدیث نمبر: 14069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لَأَمَهُ وَأَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرِهِ ، فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ ، قَالَ لِي أَنَسٌ : فَكُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ " ، وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ آتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیئے، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ ، وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَالرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَالرَّجُلُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان یہودیت یا عیسائیت سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 14071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا ، وَكَانَ لِي أَخٌ صَغِيرٌ ، وَكَانَ لَهُ نُغْرٌ يَلْعَبُ بِهِ ، فَمَاتَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَرَآهُ حَزِينًا ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا ؟ فَقَالُوا : مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابوعمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر غمگین دکھائی دے رہا ہے ؟ گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مرگئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حدیث نمبر: 14072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَسْلِتُ الدِّمَاءَ عَنْ وَجْهِهِ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کر دے اور ان کے دانت توڑ دے، جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے، یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں "۔
حدیث نمبر: 14073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ قَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : ومَا أَعْدَدْتَ لَهَا ، فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ ؟ قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ ، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ : فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الإسلام ، مَا فَرِحُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَكَانَ أَنَسٌ ، يَقُولُ : فَنَحْنُ نُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ کیونکہ ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ خَالَهُ حَرَامًا أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ إِلَى بَنِي عَامِرٍ ، فَلَمَّا قَدِمُوا ، قَالَ لَهُمْ خَالِي : أَتَقَدَّمُكُمْ ، فَإِنْ أَمَّنُونِي حَتَّى أُبَلِّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ، وَإِلَّا كُنْتُمْ مِنِّي قَرِيبًا ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ ، فَأَمَّنُوهُ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ ، فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَة ، ثُمَّ مَالُوا عَلَى بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ ، فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا رَجُلًا أَعْرَجَ مِنْهُمْ كَانَ قَدْ صَعِدَ الْجَبَلَ ، قَالَ هَمَّامٌ : فَأُرَاهُ قَدْ ذَكَرَ مَعَ الْأَعْرَجِ آخَرَ مَعَهُ عَلَى الْجَبَلِ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ : أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ ، قَالَ أَنَسٌ : كَانُوا يَقْرَءُونَ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ، قَالَ : ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَبَنِي لِحْيَانَ ، وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، أَوْ عَصَوْا الرَّحْمَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو " حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے " ان ستر صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا جو بیئر معونہ کے موقع پر شہید کردیئے گئے تھے، میرے ماموں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم میرے قریب ہی رہنا تاآنکہ میں واپس آجاؤں، اگر تم مجھے حالت امن میں پاؤ تو بہت بہتر، ورنہ اگر وہ مجھے قتل کردیں تو تم میرے قریب تو ہوگے، باقی ساتھیوں کو جا کر مطلع کردینا، یہ کہہ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ روانہ ہوگئے۔ متعلقہ قبیلے میں پہنچ کر انہوں نے فرمایا کہ کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا سکوں ؟ انہوں نے اجازت دے دی، حضرت حرام رضی اللہ عنہ ان کے سامنے پیغام ذکر کرنے لگے اور دشمنوں نے پیچھے سے ایک آدمی کو اشارہ کردیا جس نے پیچھے سے آکر ان کے ایسا نیزہ گھونپا کہ جسم کے آرپار ہوگیا، حضرت حرام رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے " اللہ اکبر " رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا، گرگئے، پھر انہوں نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا، صرف وہ لنگڑا آدمی بچ گیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا تھا، اسی مناسبت سے یہ وحی نازل ہوئی " جس کی پہلے تلاوت بھی ہوئی تھی، بعد میں منسوخ ہوگئی " کہ ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ہیں، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور اس نے ہمیں راضی کردیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس دن تک قبیلہ رعل، ذکوان، بنولحیان اور عصیہ " جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی " کے خلاف بددعاء فرماتے رہے۔
حدیث نمبر: 14075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " التُّفَالُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهُ دَفْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حدیث نمبر: 14076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : " كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ كَانُوا " يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ بِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 فِي الصَّلَاةِ " ، قَالَ عَفَّانُ : يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، قَالَ هَمَّامٌ : وَرُبَّمَا قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، قَالَ هَمَّامٌ : كِلَاهُمَا قَدْ سَمِعْتُ ، حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم نہ اٹھا لیا جائے، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہوگا۔
حدیث نمبر: 14079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ ، إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ ، قَالَ : فَضَرَبْتُ بِيَدِي ، فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 14080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْوِصَالِ ، قَالَ : قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 14081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ عِنْدَ الزَّوَالِ ، فَاحْتَاجَ أَصْحَابُهُ إِلَى الْوُضُوءِ ، قَالَ : فَجِيءَ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يَسِيرٌ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِيهِ ، فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ " ، قُلْتُ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔
حدیث نمبر: 14082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 14083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَحَدٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا إِلَّا الشَّهِيدَ ، فَإِنَّهُ يَوَدُّ أَنَّهُ يَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا ، فَاسْتُشْهِدَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، لِمَا رَأَى مِنَ الْفَضْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حدیث نمبر: 14084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا قَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ ، فَجِيءَ بِهِ ، فَاعْتَرَفَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا عَلَيْهِمْ مَا قَالُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف " وعلیک " کہا کرو۔
حدیث نمبر: 14085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَعَاهُ خَيَّاطٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا خُبْزُ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٌ سَنِخَةٌ ، قَالَ : فَإِذَا فِيهَا قَرْعٌ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ " ، قَالَ فَجَعَلْتُ أُقَرِّبُهُ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَنَسٌ : لَمْ أَزَلْ يُعْجِبُنِي الْقَرْعُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔
حدیث نمبر: 14086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَقَالَ بَهْزٌ : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ ، فَعَظُمَتْ بُطُونُنَا ، وَانْتَهَشَتْ أَعْضَاؤُنَا ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، قَالَ : فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، حَتَّى صَلُحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَلْوَانُهُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوا الرَّاعِي ، وَسَاقُوا الْإِبِلَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَجِيءَ بِهِمْ " فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ " ، قَالَ قَتَادَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حدیث نمبر: 14087
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا رَأَيْتَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 14088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَ : فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِأَهْلِهَا : لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ بَهْزٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَتْ أُمِّي : يَا أَنَسُ ، لَا يُطْعَمْ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَاتَ يَبْكِي وَبِتُّ مُجْتَنِحًا عَلَيْهِ أُكَالِئُهُ حَتَّى أَصْبَحْتُ ، فَغَدَوْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا مَعَهُ مِيسَمٌ ، فَلَمَّا رَأَى الصَّبِيَّ مَعِي ، قَالَ : لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فَوَضَعَ الْمِيسَمَ مِنْ يَدِهِ ، وَقَعَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا انس ! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آلہ اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور بیٹھ گئے۔
حدیث نمبر: 14089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ ، وَقَالَ : إِذَا ما وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلِتَ الصَّحْفَةَ ، وَقَالَ : إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا کر اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور پیالہ اچھی طرح صاف کرلیا کرو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 14090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ " ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا ، فَعَفَا عَنْهُمْ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ : وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ سورة الفتح آية 24 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اسی اہل مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صحیح سالم پکڑ لیا اور معاف فرما دیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھوالذی کف ایدیھم عنکم ''
حدیث نمبر: 14091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا ، وَنَقَشَ فِيهِ نَقْشًا ، فَقَالَ : " إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا وَنَقَشْتُ فِيهِ نَقْشًا ، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت (محمد رسول اللہ) نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔
حدیث نمبر: 14092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ الْقَرْعَ ، أَوْ قَالَ : الدُّبَّاءَ " ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُهُ ، فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا۔
حدیث نمبر: 14093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيكَ ، وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا۔
حدیث نمبر: 14094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، أَلَا إِنَّهُ الْأَعْوَرُ الْكَذَّابُ ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو ! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
حدیث نمبر: 14095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَهْلُ الْكِتَابِ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْنَا ، كَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حدیث نمبر: 14096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
…