حدیث نمبر: 14017
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " تَرَاصُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا ، وَحَاذُوا بَيْنَ الْأَعْنَاقِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ ، كَأَنَّهُ الْحَذَفُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں جوڑ کر قریب قریب ہو کر بنایا کرو، کندھے ملا لیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی بھیڑوں کی طرح شیاطین صفوں کے بیچ میں گھس جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً ، يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا ، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ ، قَالَ : وَأَمَّا الْكَافِرُ ، فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا ، حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2808
حدیث نمبر: 14019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ بِبَرَاءَةٌ مَعَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَاهُ ، قَالَ : فَبَعَثَ بِهَا عَلِيًّا ، قَالَ : لَا يُبَلِّغُهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سورت برأت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا، لیکن جب وہ ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلوایا کہ عرب کے دستور کے مطابق یہ پیغام صرف میں یا میرے اہل خانہ کا کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہ پیغام دے کر بھیجا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لنكارة متنه، سماك بن حرب ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 14020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14021
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ الْحَدَّانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَبُّكُمْ : " مَنْ أَذْهَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ ، ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ ، كَانَ ثَوَابُهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرے تو اس کا عوض جنت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 5653
حدیث نمبر: 14022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمِيطِي قِرَامَكِ هَذَا عَنِّي ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جو انہوں نے اپنے گھر کے ایک کونے میں لٹکا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ پردہ یہاں سے ہٹا دو ، کیونکہ اس کی تصاویر مسلسل نماز میں میرے سامنے آتی رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 347
حدیث نمبر: 14023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ ) اے اللہ ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ رَجُلًا ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، حَتَّى يَكُونَ الْآخَرُ قَدْ ذَاقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا ، وَذَاقَتْ مِنْ عُسَيْلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک عورت تھی، جسے اس نے تین طلاقیں دے دیں، اس عورت نے ایک دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس دوسرے آدمی نے اسے خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دے دی، کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ عورت دوسرے شوہر کا شہد نہ چکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار الطاحي العبدي
حدیث نمبر: 14025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُلَقِّنُنَا هُوَ : " فِيمَا اسْتَطَعْتُم " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين لأجل جعفر بن معبد، روى عنه اثنان، وقال أبو حاتم: صالح، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 14026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونة ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، نَجِيءُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَّا بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن پیش کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 217، م: 271
حدیث نمبر: 14027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : سَأَلْتُ أَبِي عَنْهُ ، فَقَالَ : شَيْخٌ ثِقَةٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ، فَرَأَيْتُهُ " قَائِمًا فِي يَدِهِ الْمِيسَمُ ، يَسِمُ الصَّدَقَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری والدہ نے ایک مرتبہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دے کر بھیجا، میں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں داغ لگانے کا آلہ ہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کے جانوروں کو داغ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1502، م: 2119، وهذا إسناد لا بأس به
حدیث نمبر: 14028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمِّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقِصَاصُ الْقِصَاصُ " ، فَقَالَتْ أُمُّ الرُّبَيِّعِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ ؟ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ رُبَيِّعٍ ، كِتَابُ اللَّهِ " ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا ، قَالَ : فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا مِنْهَا الدِّيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا تو ربیع کی والدہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں (میری بیٹی) کا دانت توڑ دیا جائے گا ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کردیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2806، م: 1675
حدیث نمبر: 14029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَأَتَى قَوْمَهُ ، فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ ، أَسْلِمُوا ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا ، لَيُعْطِي عَطَاءَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ ، وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا ، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ أَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو ! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازو سامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2312
حدیث نمبر: 14030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2822
حدیث نمبر: 14031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَقْبَرَةٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ ، فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ يُعَذَّبُ ، فَحَاصَتِ الْبَغْلَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہو رہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا أُبَيًّا ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ " ، فَقَالَ : سَمَّانِي لَكَ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُ سَمَّاكَ لِي " ، فَجَعَلَ يَبْكِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4960، م: 799
حدیث نمبر: 14033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، إِلَّا الشَّهِيدَ ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
حدیث نمبر: 14034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَنَزَلَتْ : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 ، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً ، فَنَادَى : أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ ، أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَة ، قَالَ : فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ میں ابتدا میں) بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر بعد میں یہ آیت نازل ہوگئی کہ " ہم آسمان کی طرف آپ کا باربار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں، عنقریب ہم آپ کا رخ اسی قبلے کی طرف پھیر دیں گے جس کی آپ کو خواہش ہے، چنانچہ اب آپ اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں " اس آیت کے نزول کے بعد ایک آدمی کا بنوسلمہ کے پاس سے گذر ہوا، اس وقت وہ لوگ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اور ابھی ایک ہی رکعت پڑھی تھی کہ اس شخص نے اعلان کردیا کہ قبلہ تبدیل ہو کر خانہ کعبہ مقرر ہوگیا، چنانچہ وہ لوگ نماز کی حالت میں ہی قبلہ کی طرف پھرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 527
حدیث نمبر: 14035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ سُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ ، فِيهَا كُثْبَانُ الْمِسْكِ ، فَإِذَا خَرَجُوا إِلَيْهَا هَبَّتْ الرِّيحُ ، قَالَ حَمَّادٌ : أَحْسِبُهُ قَالَ : شَمَالِيٌّ ، قَالَ : فَتَمْلَأُ وُجُوهَهُمْ وَثِيَابَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ مِسْكًا ، فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا ، قَالَ : فَيَأْتُونَ أَهْلِيهِمْ ، فَيَقُولُونَ : لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا ، وَيَقُولُونَ لَهُنَّ : وَأَنْتُمْ قَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت کے لئے ایک بازار لگایا جائے گا جہاں وہ ہر جمعہ کو آیا کریں گے، اس میں مشک کے ٹیلے ہوں گے، جب وہ اس بازار کی طرف نکلیں گے تو ہوا چلے گی جس سے ان کے چہروں، کپڑوں اور گھروں میں مشک بھر جائے گی اور اس سے ان کا حسن و جمال مزید بڑھ جائے گا، جب وہ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہاں سے جانے کے بعد تو تمہارے حسن و جمال میں مزید اضافہ ہوگیا، وہ لوگ اپنے اہل خانہ سے کہیں گے کہ ہمارے پیچھے تو تمہارا حسن و جمال بھی خوب بڑھ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2833
حدیث نمبر: 14036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ) ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَى رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا ، وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَيْرُحَاءَ لِلَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ " ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ عَفَّانُ عَفَّانُ : وَقَالَ يَزِيدُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : بَرِيحَا ، وقَالَ عَفَّانُ : سَأَلْتُ عَنْهَا غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَزَعَمُوا أَنَّهَا بَيْرُحَاءُ ، وَأَنَّ بَرِيْحًا لَيْسَ بِشَيْءٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سے ہمارا رب ہمارا مال طلب فرما رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا بیر حاء نامی جو باغ ہے، میں وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کردو، چنانچہ انہوں نے اسے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4555، م: 998
حدیث نمبر: 14037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 14038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " يَا بُنَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " اے میرے پیارے بیٹے " کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2151
حدیث نمبر: 14039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيدَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ الْيَوْمَ ذُنُوبًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَبَائِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں بال سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6492، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وقد توبع
حدیث نمبر: 14040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ ، إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ ، يَقُولُ : الصَّلَاةُ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ ، إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھ ماہ تک مسلسل جب نماز فجر کے وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب سے گذرتے تھے تو فرماتے تھے اے اہل بیت ! نماز کے لئے بیدار ہوجاؤ، اے اہل بیت ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 14041
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ أَرْبَعَةٌ مِنَ النَّارِ ، قَالَ أَبُو عِمْرَانَ : أَرْبَعَةٌ ، وقَالَ ثَابِتٌ : رَجُلَانِ ، فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ ، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ ، قَالَ : فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا ، فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے چار آدمیوں کو نکالا جائے گا، انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ دوبارہ انہیں جہنم میں بھیجنے کا حکم دے دے گا، ان میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا کہ پروردگار ! مجھے تو یہ امید ہوگئی تھی کہ اگر تو مجھے جہنم سے نکال رہا ہے تو اس میں دوبارہ واپس نہ لوٹائے گا ؟ اللہ تعالیٰ اسے نجات عطاء فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 192
حدیث نمبر: 14042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ، إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا فُلَانُ ، هَذِهِ فُلَانَةُ زَوْجَتِي ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَظُنَّ بِكَ ؟ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا تاکہ وہ آدمی سمجھ لے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس شخص کے ساتھ بھی ایسا گمان کروں، آپ کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2174
حدیث نمبر: 14043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَقْبَلَهُ ذَاتَ يَوْمٍ صِبْيَانُ الْأَنْصَارِ وَالْإِمَاءُ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ باندیاں اور بچے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں سلام کیا اور) فرمایا اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3785، م: 2508
حدیث نمبر: 14044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَادٍ جَيِّدُ الْحُدَاءِ ، وَكَانَ حَادِيَ الرِّجَالِ ، وَكَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا حَدَا ، أَعْنَقَتْ الْإِبِلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مردوں کے لئے حدی خوانی کرتے تھے اور انجثہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے لئے، انجثہ کی آواز بہت اچھی تھی، جب انہوں نے حدی شروع کی تو اونٹ تیزی سے دوڑنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
حدیث نمبر: 14045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا آكُلُ اللَّحْمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ ، " فَقَامَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا ، لَكِنْ أُصَلِّي وَأَنَامُ ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ایک گروہ نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انفرادی اعمال کے متعلق پوچھا پھر ان میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، ح: 5063
حدیث نمبر: 14046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ " امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي حَاجَةً ، فَقَالَ : يَا أُمَّ فُلَانٍ ، انْظُرِي إِلَى أَيِّ الطَّرِيقِ شِئْتِ ، فَقَامَ مَعَهَا يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2326
حدیث نمبر: 14047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ ، وَحَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ، وَحَتَّى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَتَمُرُّ بِالْنَّعْلِ فَتَنْظُرُ إِلَيْهَا ، فَتَقُولُ : لَقَدْ كَانَ لِهَذِهِ مَرَّةً رَجُلٌ " ، ذَكَرَهُ حَمَّادٌ مَرَّةً هَكَذَا ، وَقَدْ ذَكَرَهُ عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يَشُكُّ فِيهِ ، وَقَدْ قَالَ أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَحْسِبُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے تھے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک ایسا نہ ہوجائے کہ آسمان سے بارش ہو اور زمین سے پیداوار نہ ہو اور پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہو اور ایک عورت اپنے شوہر کے پاس سے گذرے گی اور وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ کبھی اس عورت کا بھی کوئی شوہر ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَقَالَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2419
حدیث نمبر: 14049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ مَعَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَإِذَا مَعَ أُمِّ سُلَيْمٍ خِنْجَرٌ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْكُفَّارِ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ ؟ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْتُلَ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ ، انْهَزَمُوا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یعنی طلقاء انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم ! اللہ نے ہماری کفایت فرمائی اور خوب فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1809
حدیث نمبر: 14050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيَ يُوسُفُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ شَطْرَ الْحُسْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت یوسف علیہ السلام کو نصف حسن دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، كَانُوا " يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ ب : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " ، إِلَّا أَنَّ حُمَيْدًا لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 14052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ ، فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا ، وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں اور وہاں " ابن طاب " نامی کھجوریں ہمارے سامنے پیش کی گئیں، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ (رافع کے لفظ سے) دنیا میں رفعت (عقبہ کے لفظ سے) آخرت کا بہترین انجام ہمارے لئے ہی ہے اور (طاب کے لفظ سے) ہمارا دین پاکیزہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 14053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَوُوا ، اسْتَوُوا ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي ، كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 14054
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : اسْتَوُوا وَتَرَاصُّوا .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 14055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يَخَافُ أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَمَا لِي وَلَا لِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ ، إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبِطُ بِلَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ستایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ستایا گیا اور اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ تین دن اور تین راتیں گذر گئیں اور میرے پاس اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر رکھنے والا جاندار کھا سکے، سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا رَهِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَالَ : " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ؟ " فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَلَمَّا أَرْهَقُوهُ أَيْضًا ، قَالَ : " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنِّي وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ؟ " حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِهِ : " مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکین نے غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات انصاری اور دو قریشی صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں مجھ سے کون دور کرے گا اور وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا ؟ ایک انصاری نے آگے بڑھ کر قتال شروع کیا، حتیٰ کہ وہ شہید ہوگئے اسی طرح ایک ایک کر کے ساتوں انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریشی ساتھیوں سے فرمایا کہ ہم نے اپنے بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة ثابت، م: 1789 ، وأما متابعة على بن زيد- وهو ابن جدعان- فضعيف