حدیث نمبر: 13977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ " غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ : أَسْلِمْ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ، فَأَسْلَمَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1356
حدیث نمبر: 13978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ : أَنّ " غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ ، فَدَعَاهُ إِلَى الإسلام ، فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ، فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ مَاتَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1356
حدیث نمبر: 13979
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي سِرًّا ، لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا راز ہے جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا تاآنکہ ان سے جاملوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه، خ: 108، م فى المقدمة: 2
حدیث نمبر: 13981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ أَنَّهُ " جَمَعَ بَيْنَ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے یوں فرمایا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1251، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، إلا أنه قد توبع فيما سيأتي برقم: 13984
حدیث نمبر: 13982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ابْنَةَ حُيَيٍّ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
حدیث نمبر: 13983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ ، قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ ، حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ إِلَّا قَرِيبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مؤذن جب اذان دے چکتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جلدی سے ستونوں کی طرف لپکتے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے اور وہ مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں ہی پڑھ رہے ہوتے تھے اور اذان اور اقامت کے درمیان بہت تھوڑا وقفہ ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 625، م: 836
حدیث نمبر: 13984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ ، فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ ، ثُمَّ لَبَّى ، قَالَ : لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " ، قَالَ : وَقَالَ سَالِمٌ : وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّهُ " لَيُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں حج اور عمرے کو جمع کرنا چاہتا ہوں اس لئے جس شخص کا یہی ارادہ ہو تو وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے تلبیہ پڑھتے ہوئے کہا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً " سالم کہتے ہیں کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے لگ رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حج اور عمرے دونوں کا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، لَوْ عَاشَ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا " ، قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ ، عَنْ يَمِينِي ، أَوْ عَنْ يَسَارِي ؟ قَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں، ابراہیم رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، اگر وہ زندہ ہوتے تو صدیق و نبی ہوتے، میں نے پوچھا کہ نماز پڑھ کر میں دائیں جانب سے واپس جایا کروں یا بائیں جانب سے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 708 مختصرا بقصة الصلاة، ولقوله: "ولو عاش كان صديقا نبيا" انظر: 12358
حدیث نمبر: 13986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : بَلَغَكَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا حِلْفَ فِي الإسلام ؟ قَالَ : فَغَضِبَ ، ثُمَّ قَالَ : بَلَى ، بَلَى ، قَدْ " حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کیا آپ کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں کوئی مخصوص معاہدہ نہیں ہے، اس پر وہ غصے میں آگئے اور فرمایا کیوں نہیں، کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2294، م: 2529
حدیث نمبر: 13987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَنْ أَنَسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ بِثَوْبِ قُطْنٍ ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حديث أنس صحيح، وأما حديث الحسن فمرسل
حدیث نمبر: 13989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنّ رَجُلًا كَانَ يُتَّهَمُ بِامْرَأَةٍ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا لِيَقْتُلَهُ " ، فَوَجَدَهُ فِي رَكِيَّةٍ يَتَبَرَّدُ فِيهَا ، فَقَالَ لَهُ : نَاوِلْنِي يَدَكَ ، فَنَاوَلَهُ يَدَهُ ، فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَكَرٌ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ ، مَا لَه مِنْ ذَكَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص پر ایک عورت کے ساتھ بدکاری کا الزام لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ جا کر اسے قتل کردیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو وہ ایک کنویں میں اتر کر ٹھنڈک حاصل کر رہا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اپنا ہاتھ مجھے پکڑاؤ، اس نے اپنا ہاتھ پکڑایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو مفلوج الذکر ہے، اس کی تو مردانہ علامت ہی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2771
حدیث نمبر: 13990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي : أَبُو بَكْرٍ ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ : عُمَرُ ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : فِي أَمْرِ اللَّهِ : عُمَرُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً : عُثْمَانُ ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ : مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ : أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، کتاب اللہ کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَيَّ رِجَالٌ ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ رُفِعُوا إِلَيَّ فَاخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ : يَا رَبِّ ، أَصْحَابِي أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا " وہ میرے سامنے پیش ہوں گے " تو انہیں اچک لیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی، ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6582، م: 2304
حدیث نمبر: 13992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے، وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5832، م: 2073
حدیث نمبر: 13993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1059
حدیث نمبر: 13994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680
حدیث نمبر: 13995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ " ، قَالَ أَنَسٌ : وَأَنَا أُضَحِّي بِهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور میں بھی یہی کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5553
حدیث نمبر: 13996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ وَجَبَتْ " ، وَمَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ وَجَبَتْ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْلُكَ الْأَوَّلُ : وَجَبَتْ ، وَقَوْلُكَ الْآخَرُ : وَجَبَتْ . قَالَ : " أَمَّا الْأَوَّلُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقُلْتُ : وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقُلْتُ : وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پہلا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی تعریف کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی اور جب دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت بیان کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ جس کی تعریف کردو، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت بیان کردو، اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُجَوِّزُهَا وَيُكْمِلُهَا " ، يَعْنِي : يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناده صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 13998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ ، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ : مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ : أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا ، أَعْتَقَهَا ، وَتَزَوَّجَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کرلیا، ثابت نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا مہر دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا اور ان سے نکاح کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4201، م: 1365
حدیث نمبر: 13999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ ، قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ ، أَوْ : الْخَبَائِثِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 142، م: 375
حدیث نمبر: 14000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيكَ ، وَكَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
حدیث نمبر: 14001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَكُنَّا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَسَأَلْتُهُ : كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : عَشَرَةَ أَيَّامٍ ، قُلْتُ : فَبِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہتے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا ؟ انہوں نے بتایا دس دن، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کس چیز کا باندھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1081، م: 693، 1251
حدیث نمبر: 14002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا " ، أَوْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 14003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا مِنَّا ، فَحَجَمَهُ ، فَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ صَاعًا أَوْ صَاعَيْنِ ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک لڑکے کو بلایا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع گندم دی اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2281، م: 1577
حدیث نمبر: 14004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ : رِعْلٍ ، وَبَنِي لِحْيَانَ ، وَعُصَيَّةَ ، وَذَكْوَانَ ، فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ- بإثر الحديث: 4090، م: 677
حدیث نمبر: 14005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور ( رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر) بددعاء کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1001، م: 677، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلة السدوسي
حدیث نمبر: 14006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِسْقَاءِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعاء میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے موقع پر کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1031، م: 896
حدیث نمبر: 14007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا ، فَإِنَّ كَفَّارَتَهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
حدیث نمبر: 14008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ ، مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مؤذن جب اذان دے چکتا تو یوں محسوس ہوتا کہ اس نے اقامت کہی ہے، اس لئے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوجاتی تھی (کہ وہ اذان محسوس ہوتی ہی نہیں تھی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 837، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 14009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَمْزَةَ الضَّبِّيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا صَلَّيْتُ يَعْنِي وَرَاءَ رَجُلٍ أَوْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 14010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " الْمَرْأَةُ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ، فَقَالَ : إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فِي مَنَامِهَا ، فَلْتَغْتَسِلْ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَحْيَتْ : أَوَيَكُونُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ ، مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ ؟ ! وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ ، فَمِنْ أَيِّهِمَا سَبَقَ أَوْ : عَلَا يَكُونُ الشَّبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جیسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے " اور اسے انزال ہوجائے تو اسے غسل کرنا چاہئے، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 310
حدیث نمبر: 14011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ حَارِثَةُ ابْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا ، مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ ، قَالَ : فَأَصَابَهُ سَهْمٌ ، فَقَتَلَهُ ، قَالَ : فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنِي حَارِثَةُ ، إِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ ، وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، قَالَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ " جو کہ نوعمر لڑکے تھے " سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6567
حدیث نمبر: 14012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ ، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ " ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَإِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَهْطِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يُقَالُ لَهُ : سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا الْغُلَامُ إِنْ طَالَ بِهِ عُمُرٌ ، لَمْ يَبْلُغْ بِهِ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، قَالَ الْحَسَنُ : وَأَخْبَرَنِي أَنَسٌ : أَنَّ الْغُلَامَ كَانَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَقْرَانِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان کے گھر میں تھا، کہ ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو اور تمہیں وہی ملے گا جو تم نے کمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا قیامت کے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے ؟ چنانچہ اس آدمی کو بلا کر لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کمرے میں نظر دوڑائی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ دوس کا ایک لڑکا نظر آیا جس کا نام سعد بن مالک تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس لڑکے کی عمر طویل ہوئی تو ہوسکتا ہے کہ یہ بڑھاپے کو نہ پہنچ سکے اور قیامت قائم ہوجائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لڑکا میرا ہم عمر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك ابن فضالة، وقد صرح بالتحديث هو والحسن البصري. قوله: غلام من دوس، يقال له: سعد بن مالك، وبرقم 12993: أنه غلام للمغيرة بن شعبة، وبرقم 13386: أنه غلام من الأنصار اسمه محمد، وفي مسلم 2953: أنه من أزد شنوءة، ودوس من أزد شنوءة، واستظهر الحافظ فى الاصابة 91/3 تودد القصة، ويؤيده حديث عائشة عند البخاري: 6511، و مسلم: 2952
حدیث نمبر: 14013
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : يَقُولُ رَبُّكُمْ : " إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي شِبْرًا ، تَلَقَّيْتُهُ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَلَقَّانِي ذِرَاعًا ، تَلَقَّيْتُهُ بَاعًا ، وَإِذَا تَلَقَّانِي يَمْشِي ، تَلَقَّيْتُهُ أُهَرْوِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7536
حدیث نمبر: 14014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " ، وَأَوْمَأَ عَفَّانُ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 14015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ حَارِثَةُ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَتْ أُمُّ حَارِثَةَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ ابْنِي أَصَابَ الْجَنَّةَ ، وَإِلَّا أَجْهَدْتُ عَلَيْهِ الْبُكَاءِ ! قَالَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ فِي جَنَّةٍ ، وَإِنَّ حَارِثَةَ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی، ورنہ پھر میں کثرت سے آہ و بکا کروں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سے جنت الفردوس میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6567
حدیث نمبر: 14016
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَاللَّفْظِ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559