حدیث نمبر: 13937
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا " ، قَالَ : وَكَانَ أَنَسٌ يَكْرَهُهُ .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا، راوی کے بقول حضرت انس رضی اللہ عنہ اسے ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثَوْبٍ حَرِيرٍ ، فَجَعَلُوا يَمَسُّونَهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا ؟ " لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا " ، أَوَ : أَلْيَنُ مِنْ هَذَا ، أَوْ قَالَ : مِنْدِيلُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2469
حدیث نمبر: 13939
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان " جو وہ میرے ساتھ کرتا ہے " کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6762، م: 1059
حدیث نمبر: 13941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ " يَنَامُونَ ، ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ سو جاتے تھے، پھر اٹھ کر تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 376
حدیث نمبر: 13942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ . وحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ ، قَالَ يَحْيَى : كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ أَبُو زَيْدٍ ؟ قَالَ : أَحَدُ عُمُومَتِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں چار صحابہ رضی اللہ عنہ نے پورا قرآن یاد کرلیا تھا اور وہ چاروں انصار سے تعلق رکھتے تھے، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ عنہ۔ میں نے ابو زید کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ میرے ایک چچا تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3810، م: 2465
حدیث نمبر: 13943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُهِيَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ، قَالَ : قُلْتُ : فَالْأَكْلُ ؟ قَالَ : ذَاكَ أَشَدُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 13944
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حجر اسود جنتی پتھر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو نُوحٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أَبُو نُوحٍ : وسَمِعَهُ مِنْهُ . وَحَدَّثَنَا هَاشِمٍ ، وَالْحَجَّاجِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 13946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَذْهَبُ الرِّجَالُ ، وَتَبْقَى النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بھی ہے کہ مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 81، م: 2671
حدیث نمبر: 13947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَدِينَةِ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا ، فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ ، وَلَا الطَّاعُونُ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7134
حدیث نمبر: 13948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ . وحَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، وَشُعْبَةَ ، جميعًا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبُزَاقُ ، وَقَالَ يَزِيدُ ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ فِي حَدِيثِهِمَا : النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أسانيده صحيحة، خ: 415، م: 552
حدیث نمبر: 13949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ ، قُلْتُ : وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال لینا اچھا لگتا ہے، میں نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے ؟ تو فرمایا اچھی بات۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
حدیث نمبر: 13950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، وَقَتَادَةَ ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، أنهم سمعوا أنسا ، يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى " ، فَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ : كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَبَنِي فُلَانٍ ، وَعُصَيَّةَ ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " ، قَالَ مَرْوَانُ يَعْنِي : فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : قَنَتَ عُمَرُ ؟ قَالَ : عُمَرُ ، لَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4090، م: 677
حدیث نمبر: 13953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ، فَلَا يَتْفِلَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَتْفِلْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
حدیث نمبر: 13954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُلَاطِفُنَا كَثِيرًا ، حَتَّى إِنَّهُ قَالَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بہت ملاطفت فرماتے تھے، حتیٰ کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے اے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6129
حدیث نمبر: 13955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ " ، أَوْ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " ، قَالَ شُعْبَةُ : كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ هَذَا فِي قَصَصِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3795، م: 1805
حدیث نمبر: 13956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَبَحَ وَسَمَّى وَكَبَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کرتے ہوئے اللہ کا نام لے کر تکبیر کہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 13957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ : أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات " بسم اللہ " سے اپنی قرأت کا آغاز نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 399، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالله السلمي، وقد توبع
حدیث نمبر: 13958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4868، م: 2802، وهذا اسناد ضعيف كسابقة
حدیث نمبر: 13959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَحَتَّى يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي كُفْرٍ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْهُ ، وَلَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے سب سے زیادہ محبوب نہ ہوں اور انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو مكرر: 13151
حدیث نمبر: 13960
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ حَبِيبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو مكرر: 13151
حدیث نمبر: 13961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، سمعوا أنس بن مالك ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے، یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح متواتر، خ: 108، م فى المقدمة: 2
حدیث نمبر: 13962
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " تَزَوَّجَ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ " ، قَالَ : فَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1427
حدیث نمبر: 13963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
حدیث نمبر: 13964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ ، يَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَإِنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، إِلَّا الشَّهِيدَ ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ ، فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2795، م: 1877، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 13966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَنَسًا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2041، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 13967
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا " ، وَكَانَ أَنَسٌ يَكْرَهُهُ .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا، راوی کے بقول حضرت انس رضی اللہ عنہ اسے ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 13968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُلْقِي فِي النَّارِ ، وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ أَوْ رِجْلَهُ عَلَيْهَا ، وَتَقُولُ : قَطْ ، قَطْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہی کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس، بس۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4848، م: 2848
حدیث نمبر: 13969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُنَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُعْجَبًا ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن شعبة
حدیث نمبر: 13970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح متواتر، خ: 108، م فى المقدمة: 2
حدیث نمبر: 13971
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مُطِرْنَا بَرَدًا ، وَأَبُو طَلْحَةَ صَائِمٌ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ ، قِيلَ لَهُ : أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (مدینہ منورہ) میں اولوں کی بارش ہوئی، اس دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، وہ اولے اٹھا اٹھا کر کھانے لگے، کسی نے ان سے کہا کہ آپ روزہ رکھ کر یہ کھا رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ برکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ ، وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5558، م: 1966، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه قد
حدیث نمبر: 13973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الله ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي سُجُودِكُمْ ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي ، أَوْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي ، إِذَا رَكَعْتُمْ ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے اور رکوع و سجود مکمل کیا کرو، بخدا ! جب تم رکوع و سجود کرتے ہو تو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 822، م: 493، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 13974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ عُمُومَةً لَهُ " شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا ، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے کسی چچا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عید کا چاند دیکھنے کی شہادت دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اگلے دن نماز عید کے لئے نکلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الحديث غلط فيه سعيد بن عامر الضبعي البصري، وإنما رواه شعبة عن أبى بشر - وهو بيان بن بشر - عن أبى عمير بن أنس، عن عمومة من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم: أنه جاء ركب إلى النبى ﷺ فشهدوا......
حدیث نمبر: 13975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ ، فَجَعَلُوهَا صُفُوفًا يُكْثِرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عز وجل ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عِبَادَ اللَّهِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ ، وَلَمْ يَضْرِبْ بِسَيْفٍ ، وَلَمْ يَطْعَنْ بِرُمْحٍ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ : " مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ : فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا ، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ ، وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ ، وَأُجْهِضْتُ عَنْهُ ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ ، فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا أَخَذْتُهَا ، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ ، أَوْ سَكَتَ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا ، قَالَ : فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ ، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : مَا هَذَا مَعَكِ ؟ قَالَتْ : أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ ؟ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ ، انْهَزَمُوا بِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اے گروہ انصار ! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے تنہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کرلیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے ؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کرلیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا ! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی ؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم ! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ ، وَغَطَفَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ آلَافٍ ، قَالَ : وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ ، قَالَ : فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ ، وَالذُّرِّيَّةِ ، فَجُعِلُوا خَلْفَ ظُهُورِهِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى النَّاسُ ، قَالَ : وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ ، قَالَ : فَنَزَلَ ، وَقَالَ : " إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : وَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ ، لَمْ يُخْلَطْ بَيْنَهُمَا كَلَامٌ ، وَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ ، فَقَالَ : " أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، امْشِ ، نَحْنُ مَعَكَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ : " أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ مَعَكَ ، ثُمَّ نَزَلَ بِالْأَرْضِ وَالْتَقَوْا ، فَهَزَمُوا وَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ ، فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّلَقَاءَ ، وَقَسَمَ فِيهَا ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : نُدْعَى عِنْدَ الْكُرْهِ ، وَتُقْسَمُ الْغَنِيمَةُ لِغَيْرِنَا ! فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَمَعَهُمْ وَقَعَدَ فِي قُبَّةٍ ، فَقَالَ : " أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَسَكَتُوا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ ، تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَضِينَا ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : قَالَ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ : فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : وَأَنْتَ تُشَاهِدُ ذَاكَ ؟ قَالَ : فَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْ ذَاكَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بہت بڑی جمعیت لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ لوگ تھے، ان میں طلقاء بھی شامل تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے جانوروں اور بچوں کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفید خچر سے اتر کر مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور رسول ( یہاں) ہوں، پھر دائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار ! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خوش ہوں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار ! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خوش ہوں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، اس کے بعد اللہ نے (مسلمانوں کو فتح اور) کافروں کو شکست سے دوچار کردیا اور مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال غنیمت طلقاء کے درمیان تقسیم کردیا، اس پر کچھ انصاری کہنے لگے کہ حملے کے وقت ہمیں بلایا جاتا ہے اور مال غنیمت دوسروں کو دیا جاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انصار کو ایک خیمے میں جمع کیا اور فرمایا اے گروہ انصار ! تمہارے حوالے سے یہ کیا بات مجھے معلوم ہوئی ہے ؟ وہ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی بات فرمائی، وہ پھر خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار ! اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا، پھر فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں پیغمبر اللہ کو سمیٹ کرلے جاؤ ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں، ہشام بن زید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ اس موقع پر موجود تھے ؟ انہوں نے فرمایا میں کہاں غائب ہوسکتا ہوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059