حدیث نمبر: 13897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي الصَّلَاةِ ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَانْبِسَاطِ الْكَلْبِ " ، هَكَذَا قَالَ يَزِيدُ : " اعْتَدِلُوا فِي الصَّلَاةِ " . حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ " ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13898
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، فَذَكَرَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 723، م: 433
حدیث نمبر: 13900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ " . حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يَقُولُ عَنْ قَتَادَةَ : مَا رَفَعَهُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ : هَذَا أَحَدُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 13901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتِمُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ يَعْنِي مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَازَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5148، م: 1427، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 13903
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَ سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَازَ ذَلِكَ " ، قَالَ : وَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ بِهَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ ، " فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ ، يُقَالُ لَهُ : مَنْدُوبٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
حدیث نمبر: 13906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَبَهْزٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : بَهْزٌ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ " . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 415، م: 552
حدیث نمبر: 13907
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْرٌ وَأَبُو النَّضْرِ قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَهُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزُ : حَدَّثَنَا قَتَادَهُ - عَنْ أَنَسٍ ؛ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ يَقُولُ : كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
حدیث نمبر: 13908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : يَعْنِي أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ، قَالَ شُعْبَةُ : وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يَقُولُ فِي قَصَصِهِ : كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ ، أَمْ قَالَهُ قَتَادَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ . وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً : " ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : ارْكَبْهَا وَيْحَكَ ، فِي الثَّالِثَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1690، م: 1323
حدیث نمبر: 13910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ ، وَوَالِدِهِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 15، م:44
حدیث نمبر: 13912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ : مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَمَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 21، م: 43
حدیث نمبر: 13913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ فَقَالُوا : لَا ، إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، قَالَ حَجَّاجٌ : أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَقَالَ : " إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُجِيزَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے، پھر فرمایا قریش کا زمانہ جاہلیت اور مصیبت قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4334 ، 6762، م: 1059
حدیث نمبر: 13914
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 قَالَ : " الْحُدَيْبِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4172
حدیث نمبر: 13915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَكَانُوا لَا يَجْهَرُونَ بِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے " بسم اللہ " پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 13916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ كِتَابًا ، قَالُوا : إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا ، قَالَ : " فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَقْشُهُ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 2092
حدیث نمبر: 13917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ ، وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ ، وَالْأَمَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
حدیث نمبر: 13918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجُ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4868، م: 2802
حدیث نمبر: 13919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال لینا اچھا لگتا ہے، کسی نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے ؟ تو فرمایا اچھی بات۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ . وحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا فَأْلَ ، قَالَ : قِيلَ : وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے علاوہ کوئی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معزز فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أسانيده صحيحة، خ: 5776، م: 2224
حدیث نمبر: 13921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ " ، وَقَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ، فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کا گوشت آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3795، م: 1805
حدیث نمبر: 13922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وحَدَّثَنِي وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ قَدْ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1495، م: 1074
حدیث نمبر: 13923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1495، م: 1074
حدیث نمبر: 13924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 13925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَافِرَ ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : ك ف ر " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو ! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933
حدیث نمبر: 13926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ ، غَيْرَ الشَّهِيدِ ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
حدیث نمبر: 13927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ " مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 13928
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً ، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً " ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ : أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ " ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، وَزَادَ فِيهِ : " أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ دُودَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 44، م: 193
حدیث نمبر: 13929
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ : أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ ...» فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، وَزَادَ فِيهِ : أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ دُودَةٌ»
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . وَبَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ ، وَقَالَ بَهْزٌ : إِنِّي أَظَلُّ ، أَوْ : أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1961
حدیث نمبر: 13931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " وَيْحَكَ ، أَوْ : وَيْلَكَ ، ارْكَبْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2754، م: 1223
حدیث نمبر: 13932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ ، وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 13933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ قَالُوا : لَا ، إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَقَالَ مَرَّةً : مِنْهُمْ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، عَنْ أَنَسٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3528، 6761، م: 1059
حدیث نمبر: 13934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا ، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : " قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163
حدیث نمبر: 13935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَاَ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
حدیث نمبر: 13936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ قَتَادَةُ : كَانَ أَنَسٌ يَقُولُ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4522، م: 2690