حدیث نمبر: 12100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں پانی پیش کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استنجاء فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 217 ، م: 271
حدیث نمبر: 12101
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ ابْنَ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اواز ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابن جدعان، وهو على بن زيد
حدیث نمبر: 12102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ ، فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا ، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ ، قَالَ عَمْرٌو : فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي ، وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ ، فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اہل و عیال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو شفیق نہیں پایا، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ عوالی مدینہ میں دودھ پیتے بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ملنے جایا کرتے تھے، ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس گھر میں داخل ہوتے تو وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ خاتونِ خانہ کا شوہر لوہار تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکڑ کر پیار کرتے اور کچھ دیر بعد واپس آجاتے، جب حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا تھا، جو بچپن میں ہی فوت ہوگیا، اس کے لئے دو دائیاں مقرر کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت رضاعت کی تکمیل کریں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2316
حدیث نمبر: 12103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي ، وَتُصَلِّيَ فِيهِ ، قَالَ : " فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ ، فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ ، فَكُنِسَ وَرُشَّ ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حدیث نمبر: 12104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ " ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ : " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 750
حدیث نمبر: 12105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ ، وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، وانظر قصة الغسل من اناء واحد فى البخاري: 264، والغسل بخمس مكاكي (أمداد) والوضوء بمكوك (بمد) فى البخاري: 201 ومسلم: 325، قال الحافظ فى الفتح 305/1: «....كأن أنسا لم يطلع على أنه استعمل فى الغسل أكثر من ذلك لأنه جعلها النهاية ، وقد روي مسلم من حديث عائشة رضي الله عنها كانت تغسل هي والنبي من إناء واحد هو الفرق.......» ، وانظر فى مسلم : 319، 321
حدیث نمبر: 12106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا ، فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، فَرَجَفَ بِهِمْ الْجَبَلُ ، فَقَالَ : " اسْكُنْ ، عَلَيْكَ نَبِيٌّ ، وَصِدِّيقٌ ، وَشَهِيدَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، ایک دم پہاڑ ہلنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے پہاڑ ! تھم جا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3675
حدیث نمبر: 12107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آمَنَّا بِكَ ، وَبِمَا جِئْتَ بِهِ ، فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : " نَعَمْ ، إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کیونکہ دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناد قوي
حدیث نمبر: 12108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ ! ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ ، قَالَتْ : أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم ! تم اس کا کیا کرو گی ؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1809
حدیث نمبر: 12109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : مَا أَنْكَرْتَ مِنْ حَالِنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : " أَنْكَرْتُ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ " .
مولانا ظفر اقبال
بشیر بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو دور نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ : 724، وهذا اسناد متحمل للتحسين
حدیث نمبر: 12110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 108، م فى المقدمة : 2
حدیث نمبر: 12111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مِسْحَاجٌ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فِي سَفَرٍ ، فَقُلْنَا : زَالَتْ الشَّمْسُ ، أَوْ لَمْ تَزُلْ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ ارْتَحَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو کہتے تھے کہ زوال شمس ہوگیا یا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر پڑھ کر کوچ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح، والحديث محمول على التعجيل بالصلاة، لا على أدائها قبل وقتها، إنه صلى فى أول الوقت بحيث إن بعض الناس لم يظهر لهم زوال الشمس بنظرهم
حدیث نمبر: 12112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ ، ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : مَا لَكَ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي ، فَقَالَ : ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ ، فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي ، حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ ، فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَسْبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غمگین بیٹھے تھے اور خون میں لت پٹ تھے، کچھ اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو ایک معجزہ دکھاؤں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی تو وہ چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوگیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اب اسے واپس جانے کا حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ واپس چلا گیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یہی کافی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناد قوي
حدیث نمبر: 12113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ ، وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں لاچاری، سستی، بزدلی، بڑھاپے، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2823 ، م: 2706
حدیث نمبر: 12114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ، وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدٌ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ عِنْدَنَا " ، أَوْ قَالَ : " مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ زید نے جھنڈا پکڑا لیکن شہید ہوگئے، پھر جعفر نے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے کسی سالاری کے بغیر جھنڈا پکڑا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی اور مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی رہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2798
حدیث نمبر: 12115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ زَاذَوَيْهِ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " نُهِينَا ، أَوْ قَالَ : أُمِرْنَا أَنْ لَا نَزِيدَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَلَى وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اہل کتاب کے سلام کے جواب میں وعلیکم سے زیادہ کچھ نہ کہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حميد بن زادويه الأزرق، وانظر ما سلف برقم: 11948
حدیث نمبر: 12116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً ، وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ ، حَتَّى مَدَّ عُمَرُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 473
حدیث نمبر: 12117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، بَعْدَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! رکوع کے بعد، دوبارہ یہی سوال ہوا کہ نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے ؟ تو فرمایا ہاں ! کچھ عرصے کے لئے رکوع کے بعد پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1001 ، م: 677
حدیث نمبر: 12118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نصف کان تک ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2338
حدیث نمبر: 12119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ ، قَالَ : " فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى أَسْفَرَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ؟ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ ، أَوْ قَالَ : هَذَيْنِ وَقْتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ : " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ، وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ ، قَالَ : وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، قَالَ : فَرَخَّصَ لَهُ ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ ، أَمْ لَا ؟ ، قَالَ : ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا ، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا ، أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا ، هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے ہیں، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا : لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 945 ، م: 1962
حدیث نمبر: 12121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ شَرِبَ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَنَاوَلَهُ الأعرابي ، وَقَالَ : " الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5619 ، م: 2029
حدیث نمبر: 12122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَرُمَ عَلَى النَّارِ ، وَحَرُمَتْ النَّارُ عَلَيْهِ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَحُبُّ اللَّهِ ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيُحْرَقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
نوفل بن مسعود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے، جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس آدمی میں ہوں، وہ جہنم کی آگ پر حرام ہوگا اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اللہ پر ایمان، اللہ سے محبت اور آگ میں گر کر جل جانا کفر کی طرف لوٹ کر جانے سے زیادہ محبوب ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وقد سلف الحديث بإسناد صحيح برقم : 12002 مع خلاف فى لفظه، فانظره
حدیث نمبر: 12123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ ، فَقَالَ : " مَتَى مَاتَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ ؟ " ، قَالُوا : مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12124
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : جَاءَ أَنَسٌ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقُلْنَا لَهُ : مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ " مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
بشیر بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو دور نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 724، وهذا إسناد متحمل للتحسين
حدیث نمبر: 12125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2851 ، م: 1874
حدیث نمبر: 12126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بات سنتے اور مانتے رہو، خواہ تم پر ایک حبشی " جس کا سر کشمش کی طرح ہو " گورنر بنادیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 693
حدیث نمبر: 12127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا لِنَفْسِهِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1865 ، م: 1642
حدیث نمبر: 12128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ حَتَّى نَعَسَ ، أَوْ كَادَ يَنْعَسُ بَعْضُ الْقَوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ لوگ سونے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 643 ، م: 376
حدیث نمبر: 12129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ ، فَقَالَ : " مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1141
حدیث نمبر: 12130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ ، فَنَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : لَمْ أَعْنِكَ ، قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابو القاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131
حدیث نمبر: 12131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : " مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ، فَلَهُ سَلَبُهُ " ، قَالَ : فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَالَ ، فَنَهَوْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ ، وَأَمَرَ أَنْ يُصَبَّ عَلَيْهِ ، أَوْ أُهَرِيقَ عَلَيْهِ الْمَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، لوگوں نے اسے روکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 221 ، م: 284
حدیث نمبر: 12133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَنَفَّسُ فِي إِنَائِهِ ثَلَاثًا " ، وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی تین سانس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحيح ، خ: 5631، م: 2028، قال السندي: قوله: يتنفس فى إنائه، أى فى حال الشرب مع إبانة الإناء من الفم، والذي جاء النهي عنه هو أن يكون الإناء فى الفم، وانظر «فتح الباري» 93/10
حدیث نمبر: 12134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَشْتَرِي هَذَا ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ ، قَالَ : " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ ؟ " فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ ؟ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ ، قَالَ : " هُمَا لَكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ ذِي دَمٍ مُوجِعٍ ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے ؟ وہ ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون خریدے گا ؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں ایک درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دے گا ؟ لوگ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعلان دہرایا، اس پر ایک آدمی کہنے لگا کہ میں دو درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں تمہاری ہوئیں، پھر فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر جو خاک نشین کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر الحنفي، وللقطعة الأخيرة منه وهى قوله: "ان المسألة ....." شواهد تصحح بها.
حدیث نمبر: 12135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُنَا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ لِأَبِي طَلْحَةَ ابْنٌ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ ، قَالَ : فَرَآهُ حَزِينًا ، فَقَالَ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابوعمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6129
حدیث نمبر: 12138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ ؟ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ بَيْعِ ثَمَرَةِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ " ، قِيلَ لِأَنَسٍ : مَا تَزْهُو ؟ ، قَالَ : تَحْمَرُّ .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے تھے کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پھلوں کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1555
حدیث نمبر: 12139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ " ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ أَرْبَعِينَ : فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ ودَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ : مَا تَرَوْنَ ؟ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : اجْعَلْهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ، فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا میں ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (چالیس کوڑے) مارے ہیں، لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں لوگ مختلف شہروں اور بستیوں کے قریب ہوئے (اور ان میں وہاں کے اثرات آنے لگے) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد کے برابر اس کی سزا مقرر کر دیجئے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6773 ، م: 1706