حدیث نمبر: 13857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا رَأَيْتُ شَعْرًا أَشْبَهَ بِشَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَعَرِ قَتَادَةَ " ، فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے ساتھ قتادہ کے بالوں سے زیادہ مشابہہ کسی کے بال نہیں دیکھے، اس دن قتادہ رحمہ اللہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 13859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دن دوپہر اور رات کے کھانے میں روٹی اور گوشت جمع نہیں ہوئے، الاّ یہ کہ کبھی مہمان آگئے ہوں۔
حدیث نمبر: 13860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ " يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، فَأَجَابَهُ " ، وَقَدْ قَالَ أَبَانُ أَيْضًا : أَنَّ خَيَّاطًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر دعوت کی تھی۔
حدیث نمبر: 13861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ أَنَسٌ : " مَا أَعْرِفُ فِيكُمْ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْهَدُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْسَ قَوْلَكُمْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : قَدْ صَلَّيْتُ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، أَفَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : عَلَى أَنِّي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَمَانًا مَعَ نَبِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جو چیزیں میں نے دیکھی ہیں، آج ان میں سے ایک چیز بھی نہیں دیکھتا سوائے اس کے تم " لا الہ الا اللہ " کہتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ ! کیا ہم نماز نہیں پڑھتے ؟ فرمایا تم غروب آفتاب کے وقت تو نماز عصر پڑھتے ہو، کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی ؟ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ تمہارے اس زمانے سے بہتر زمانہ کسی عمل کرنے والے کے لئے میں نے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ وہ نبی کا زمانہ ہو۔
حدیث نمبر: 13862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : وَأَبُو طَلْحَةَ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَإِنِّي لَأَرَى قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمْهَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ أَهْلُ الزَّرْعِ إِلَى زُرُوعِهِمْ ، وَأَهْلُ الْمَوَاشِي إِلَى مَوَاشِيهِمْ ، قَالَ : " كَبَّرَ ثُمَّ أَغَارَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 13863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : أَيْ أَخِي ، أَنَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَالًا ، فَانْظُرْ شَطْرَ مَالِي فَخُذْهُ ، وَتَحْتِي امْرَأَتَانِ ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَعْجَبُ إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ ، فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ ، فَذَهَبَ ، فَاشْتَرَى وَبَاعَ وَرَبِحَ ، فَجَاءَ بِشَيْءٍ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ ، ثُمَّ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ، فَجَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْيَمْ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ : مَا أَصْدَقْتَهَا ؟ قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَلَوْ رَفَعْتُ حَجَرًا ، لَرَجَوْتُ أَنْ أُصِيبَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، نیز میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کرلیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتادیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا ؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔
حدیث نمبر: 13864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : فَجَازَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 13865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشْجَعَ النَّاسِ ، وَأَحْسَنَ النَّاسِ ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ " ، قَالَ : فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً ، قَالَ : فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَمْ تُرَاعُوا " ، قَالَ : وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ ، فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ لِلنَّاسِ : " لَمْ تُرَاعُوا " ، قَالَ : وَقَالَ : إِنَّا وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ، أَوْ : إِنَّهُ لَبَحْرٌ ، يَعْنِي الْفَرَسَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بےزین گھوڑے پر سوار ہیں، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حدیث نمبر: 13866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْنِ لَهُ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِهِ نَفْسَهُ ، فَلْيَرْكَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔
حدیث نمبر: 13867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّاسَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَ الْمَالُ ، أَقْحَطْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلَكَ الْمَالُ ، فَاسْتَسْقِ لَنَا ، " فَقَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَاسْتَسْقَى ، وَوَصَفَ حَمَّادٌ : بَسَطَ يَدَيْهِ حِيَالَ صَدْرِهِ وَبَطْنُ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ ، وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ ، فَمَا انْصَرَفَ حَتَّى أَهَمَّتْ الشَّابَّ الْقَوِيَّ نَفْسُهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَمُطِرْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَ الْبُنْيَانُ ، وَانْقَطَعَ الرُّكْبَانُ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِطَهَا عَنَّا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا ، فَانْجَابَتْ حَتَّى كَانَتِ الْمَدِينَةُ كَأَنَّهَا فِي إِكْلِيلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔
حدیث نمبر: 13868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، أُخْبِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِقُدُومِهِ وَهُوَ فِي نَخْلِهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ ، فَإِنْ أَخْبَرْتَنِي بِهَا آمَنْتُ بِكَ ، وَإِنْ لَمْ تَعْلَمْهُنَّ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ عَنِ الشَّبَهِ ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا ، قَالَ : ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ ! قَالَ : " أَمَّا الشَّبَهُ : إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ، ذَهَبَ بِالشَّبَهِ ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ، ذَهَبَتْ بِالشَّبَهِ ، وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ : فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ ، وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ : فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، فَتَحْشُرُهُمْ إِلَى الْمَغْرِبِ " ، فَآمَنَ ، وَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ ، وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي ، فَأَخْبِئْنِي عِنْدَكَ وَابْعَثْ إِلَيْهِمْ ، فَاسْأَلَهُمْ عَنِّي ، فَخَبَّأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوا ، فَقَالَ : أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ ؟ قَالُوا : هُوَ خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا ، وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا ، وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ، تُسْلِمُونَ ؟ " فَقَالُوا : أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ " ، فَخَرَجَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا ، وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا ، فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ : قَدْ أَخْبَرْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے ؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی ؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرائیل نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی '' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، یہ سن کر عبداللہ کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں، اگر انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو وہ آپ کے سامنے مجھ پر طرح طرح کے الزام لگائیں گے، اس لئے آپ ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں بلائیے اور میرے متعلق ان سے پوچھئے کہ تم میں ابن سلام کیسا آدمی ہے ؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سب سے بہتر ہے اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے، ہمارا عالم اور عالم کا بیٹا ہے، ہم میں سب سے بڑا فقیہہ ہے اور سب سے بڑے فقیہہ کا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم بھی اسلام قبول کرلو گے ؟ وہ کہنے لگے اللہ اسے بچا کر رکھے، اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر نکل آئے اور ان کے سامنے کلمہ پڑھا، یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر کا بیٹا ہے اور ہم میں جاہل اور جاہل کا بیٹا ہے، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو آپ کو پہلے ہی بتایا دیا تھا کہ یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں۔
حدیث نمبر: 13869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا ، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ هَكَذَا ، وَصَفَ حَمَّادٌ بِيَدِهِ : أَيْ : تَعَالَ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ ، وَعَائِشَةُ مَعِي يُومِئُ إِيمَاءً ، فَقَالَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَوَصَفَ حَمَّادٌ : أَيْ : لَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا ، أَيْ : لَا ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِ : أَنْ تَعَالَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا ، يَقُولُ ذا كَذَا ، وَذا كَذَا ، ووَصَفَ حَمَّادٌ : ذا ، أَيْ : لَا ، وَيَقُولُ ذَا ، أَيْ : لَا ، فَقَالَ هَكَذَا ، أَيْ : قُومَا ، فَذَهَبَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔
حدیث نمبر: 13870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ كَانَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ ، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا ، فَجَعَلَا يَمْشِيَانِ فِي ضَوْئِهَا ، فَلَمَّا تَفَرَّقَا ، أَضَاءَتْ عَصَا الْآخَرِ " وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : " فَلَمَّا تَفَرَّقَا ، أَضَاءَتْ عَصَا ذَا ، وَعَصَا ذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔
حدیث نمبر: 13871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ حَارِثَةَ ابْنَ الرُّبَيِّعِ جَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَّارًا ، وَكَانَ غُلَامًا ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَوَقَعَ فِي ثُغْرَةِ نَحْرِهِ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ الرُّبَيِّعُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَ حَارِثَةَ مِنِّي ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَسَأَصْبِرُ ، وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ ، وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر میں حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ " جو کہ نوعمر لڑکے تھے " سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔
حدیث نمبر: 13872
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَبُّكُمْ : " إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي ، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوتا جاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ ، أَمْ كَانَ يَقُولُهُ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَقَالَ حَجَّاجٌ : لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ ، لَتَمَنَّى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، مجھے معلوم نہیں کہ آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 13874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ : لِجَارِهِ ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ، وَلَمْ يَشُكَّ حَجَّاجٌ : حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 13875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ ، حَتَّى يُحِبَّ لِلنَّاسِ ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ، وَحَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ ، لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور کسی انسان سے اگر محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے کرے۔
حدیث نمبر: 13876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ اللَّهَ ، رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهَا بِيَدِهِ ، وَاضِعًا قَدَمَهُ يَعْنِي عَلَى صَفْحَتِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 13877
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 13878
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
حدیث نمبر: 13879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں، لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لئے تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو۔
حدیث نمبر: 13880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَجَلَدَهُ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ " ، وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ ، اسْتَشَارَ النَّاسَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِيْنَ ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : ثَمَانُونَ ، وَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ دو ٹہنیوں سے مارا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق مشورہ کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد اسی کوڑے ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔
حدیث نمبر: 13881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَالْحَجَّاجُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ ، أن أصحاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا ، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ : " قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " ، وقَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ : هَلْ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حدیث نمبر: 13882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ ، وَتَبْقَى النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔
حدیث نمبر: 13883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَتَكْثُرِ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم نہ اٹھالیا جائے، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک آدمی ہوگا۔
حدیث نمبر: 13884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ : حِينَ أُنْزِلَتْ : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة البينة آية 1 ، وَقَالَا جَمِيعًا : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة البينة آية 1 " ، قَالَ : وَقَدْ سَمَّانِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَبَكَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ " الم یکن الذین کفروا " والی سورت تمہیں پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
حدیث نمبر: 13885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ أَوْ : رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حدیث نمبر: 13886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ولِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ ، يَعْنِي لِعِلَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : رَخَّصَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرمادی۔
حدیث نمبر: 13887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ فِي الْحَرِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرمادی۔
حدیث نمبر: 13888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حدیث نمبر: 13889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ، فَلَا يَبْزُقَنَّ ، قَالَ : قَالَ حَجَّاجٌ : فَلَا يَبْصُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حدیث نمبر: 13890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ كَانُوا " يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ شَكَّ فِي عُثْمَانَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 13891
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ شَكٍّ فِي عُثْمَانَ
حدیث نمبر: 13892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے " بسم اللہ " پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔
حدیث نمبر: 13893
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ قَتَادَةُ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : " بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَسْتَفْتِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِرَاءَةَ ؟ قَالَ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرأت کا آغاز کس چیز سے فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو اب تک کسی نے نہیں پوچھا۔
حدیث نمبر: 13894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ الدُّبَّاءَ " ، قَالَ : فَأُتِيَ بِطَعَامٍ أَوْ دُعِيَ لَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ ، فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا۔
حدیث نمبر: 13895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ . وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ بَعْدِي ، وَرُبَّمَا قَالَ : مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
…