حدیث نمبر: 13817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ " رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَحْمَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے درخواست کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے، وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اونٹنی کے بچے کو لے کر کیا کروں گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اونٹنیاں اونٹوں کے علاوہ بھی کسی کو جنتی ہیں ؟
حدیث نمبر: 13818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَسْمَرَ ، وَلَمْ أَشُمَّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبُ رِيحًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گندمی تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔
حدیث نمبر: 13819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، ثُمّ قَالَ : " أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشَاءَ الْآخِرَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا ، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ ، قَالَ أَنَسٌ : وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ ، وَرَفَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کردیا اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سوگئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ بلند کیا۔
حدیث نمبر: 13820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَصَابَنَا مَطَرٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : إِنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بارش ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر اپنے کپڑے جسم کے اوپر والے حصے سے ہٹا دیئے تاکہ بارش کا پانی جسم تک بھی پہنچ جائے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا کہ یہ بارش اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔
حدیث نمبر: 13821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَصْحَابُهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ " فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَأَطَالَ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ " ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالُوا : جِئْنَاكَ الْبَارِحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّيْتَ بِنَا فَخَفَّفْتَ ، ثُمَّ دَخَلْتَ بَيْتَكَ فَأَطَلْتَ ! فَقَالَ : إِنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَكَانَ حَدَّثَنَا هَذَا الْحَدِيثَ ثَابِتٌ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، فَلَقِيتُ ثُمَامَةَ ، فَسَأَلْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 13822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا يَعْنِي ، فَلْيُصَلِّهَا " ، قَالَ : فَلَقِيتُ حَجَّاجًا الْأَحْوَلَ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 13823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَحَمَّادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " إِذَا دَخَلَ عَلَى الْمَرِيضِ ، قَالَ : أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ ، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو اس کے لئے دعاء فرماتے کہ اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما، شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام و نشان بھی باقی نہ چھوڑے۔
حدیث نمبر: 13824
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ " ، قَالَ : فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : قَالَ : وَلَكِنْ الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَالَ : " رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے، اس لئے اب میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہ ہوگا، لوگوں کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ " مبشرات " باقی ہیں، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مبشرات سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب، جو اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہے۔
حدیث نمبر: 13825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا ، وَكَأَنَّ ظُبَةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ ، فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ صَاحِبَ الْكَتِيبَةِ ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقْتَلُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ گویا میں نے اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو بٹھا رکھا ہے اور گویا میری تلوار کا دستہ ٹوٹ گیا ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ میں مشرکین کے علم بردار کو قتل کروں گا (اور میرے اہل بیت میں سے بھی ایک آدمی شہید ہوگا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ کو قتل کیا اور ادھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے)
حدیث نمبر: 13826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " يَا خَالُ ، قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : خَالٌ أَمْ عَمٌّ ؟ قَالَ : بَلْ خَالٌ ، قَالَ : وَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان ! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، ماموں لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !
حدیث نمبر: 13827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ " قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : اكْتُبْ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَقَالَ سُهَيْلٌ : أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، فَقَالَ : اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ، قَالَ : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ ، وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ ، وَاسْمَ أَبِيكَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبْ : مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ ، وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَكْتُبُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش کے جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح نامہ تیار کیا، ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو، اس پر سہیل کہنے لگا کہ ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نہیں جانتے، آپ باسمک اللھم لکھوائیے جو ہم بھی جانتے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے، سہیل کہنے لگا اگر ہم آپ کو اللہ کا پیغمبر مانتے تو آپ کی اتباع کرتے، آپ اپنا اور اپنے والد صاحب کا نام لکھوائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو " محمد بن عبداللہ کی جانب سے " اس صلح نامہ میں مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط بھی ٹھہرائی تھی کہ آپ کا جو آدمی ہمارے پاس آجائے گا، ہم اسے واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن ہم میں سے جو آدمی آپ کے پاس آئے گا، آپ اسے ہمیں لوٹا دیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں ؟ فرمایا ہاں ! ہم میں سے جو ان کے پاس جائے، اللہ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔
حدیث نمبر: 13828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَبْلُغُ عَمَلَهُمْ ، قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 13829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الْخَشْفَةُ ؟ فَقِيلَ : الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملیحان تھیں۔
حدیث نمبر: 13830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ ، وَقَالَ : مَا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي ، حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کی حالت کو تبدیل پایا۔
حدیث نمبر: 13831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ بْنُ خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، فَلَمَّا انْبَعَثَتْ بِهِ سَبَّحَ ، وَكَبَّرَ ، حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلُّوا ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ ، وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا ، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِيْنَةِ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعتوں کے ساتھ ادا کی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت کے ساتھ پڑھی، رات وہیں پر قیام فرمایا اور نماز فجر پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور راستے میں تسبیح وتکبیر پڑھتے رہے، جب مقام بیداء میں پہنچے تو ظہر اور عصر کو اکٹھے ادا کیا، جب ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو احرام کھول لینے کا حکم دیا، آٹھ ذی الحجہ کو انہوں نے دوبارہ حج کا احرام باندھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ کھڑے کھڑے ذبح کئے اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 13832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ لِلْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِي حَاجَةٌ ، فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ ، أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ، ثُمَّ صَلَّى ، وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کا وقت ہوگیا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور راوی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 13833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔
حدیث نمبر: 13834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَلَمَّا قَفَّا دَعَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو فرمایا کہ میرا اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 13835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا ، يَقُولُ : كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ جَالِسًا وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ ، فَقَالَ أَنَسٌ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ ؟ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ : مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا ! فَقَالَ : هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ ، " رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں ان کی ایک صاحبزادی بھی موجود تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کہنے لگی کہ اس عورت میں شرم و حیاء کتنی کم تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ تجھ سے بہتر تھی، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رغبت ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیا۔
حدیث نمبر: 13836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔
حدیث نمبر: 13837
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 13838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَوُوا ، اسْتَوُوا ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي ، كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يَقُولُ فِي قَصَصِهِ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا يُصِيبُهُمْ سَفْعٌ ، قَالَ بَهْزٌ : فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيِّونَ " ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : وَكَانَ قَتَادَةُ ، يَقُولُ : " عُوقِبُوا بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا " ، قَالَ هَمَّامٌ : لَا أَدْرِي فِي الرِّوَايَةِ هُوَ ، أَوْ كَانَ يَقُولُهُ قَتَادَةُ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام رکھ دیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔
حدیث نمبر: 13840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ : أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ ؟ أَفُلَانٌ ؟ حَتَّى سَمَّوْا الْيَهُودِيَّ ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا ، قَالَ : فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ ، فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ " فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک فلاں نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہہ دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔
حدیث نمبر: 13841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ " ، قَالَ بَهْزٌ : إِنَّ " لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعَرًا يَضْرِبُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔
حدیث نمبر: 13842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْ مَعَهُ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَقَبَضَ قَبْضَةً ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ، ذَكَرَهُ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَكَلَ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْرَفُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنی زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر ایک مٹھی بھر کر دوسری زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر جو باقی بچ گئیں وہ بیٹھ کر اس طرح تناول فرمالیں اور اس سے معلوم ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی تمنا تھی۔
حدیث نمبر: 13844
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا " ؟ قَالَ : فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، قَالَ : فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا قُلْتُهَا ، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا ، حَتَّى سَأَلُوا رَبَّهُمْ ، فَقَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس کا کتنا ثواب لکھیں چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کلمات اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہے ہیں۔
حدیث نمبر: 13845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ بَهْزٌ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَتْ نَعْلُهُ لَهَا قِبَالَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔
حدیث نمبر: 13846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حدیث نمبر: 13847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي ، قَالَ : قَالَ لَعُمَرَ ، قَالَ : ثُمَّ سِرْتُ سَاعَةً ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَيْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ لِي ، قَالَ : قَالَ : لِعُمَرَ ، قَالَ : وَإِنَّ فِيهِ لَمِنْ الْحُورِ الْعِينِ يَا أَبَا حَفْصٍ ، وَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا غَيْرَتُكَ " ، قَالَ : فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا عَلَيْكَ ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَغَارَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں گھوم رہا تھا کہ ایک محل پر پہنچ کر رک گیا، میں نے پوچھا جبریل ! یہ محل کس کا ہے ؟ میرا خیال تھا کہ ایسا محل تو میرا ہوسکتا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ یہ عمر کا ہے، تھوڑی دور اور آگے چلا تو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ایک اور محل آیا، میں نے پوچھا جبرائیل یہ کس کا ہے ؟ اس مرتبہ بھی میرا یہی خیال تھا کہ ایسا محل تو میرا ہوسکتا ہے، لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ بھی عمر ہی کا ہے اور اے ابوحفص ! اس میں ایک حورعین بھی تھی، مجھے تمہاری غیرت کے علاوہ اس میں داخل ہونے سے کسی چیز نہیں روکا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں یہ سن کر ڈبڈبا گئیں اور وہ کہنے لگے کہ آپ پر تو میں کسی طرح اپنی غیرت مندی کا اظہار نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 13848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةٌ ، قَالَ : عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ " ، قَالَ بَهْزٌ : قَالَ هَمَّامٌ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَزَادَ مَعَ هَذَا الْكَلَامِ : أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 13849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي ، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " ، قَالَ عَفَّانُ : فَسَأَلْتُ حَمَّادًا ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، وَذَهَبَ فِي جُذَاذِه .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص خواب میں میری زیارت کرے وہ سمجھ لے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شباہت اختیار کر ہی نہیں سکتا اور مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 13850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ : إِنْ يَعِشْ هَذَا ، فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی ؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا " جس کا نام محمد " بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا ہو تو سکتا ہے کہ اس پر بڑھاپا آنے سے پہلے ہی قیامت آجائے۔
حدیث نمبر: 13851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَزْهَرَ اللَّوْنِ ، كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤَ ، وَكَانَ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ ، وَمَا مَسِسْتُ دِيبَاجًا قَطُّ وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا قَطُّ أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رِيحِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا، پسینہ موتیوں کی طرح تھا، جب وہ چلتے تو پوری قوت سے چلتے تھے، میں نے کوئی عنبر یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔
حدیث نمبر: 13852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " سَمِعَ رَجُلًا ، يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی اللہ اکبر، اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان الا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔
حدیث نمبر: 13853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رُقَيَّةَ لَمَّا مَاتَتْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ اللَّيْلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی قبر میں ایسا شخص نہیں اترے گا جو رات کو اپنی بیوی سے بےحجاب ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 13854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ أُنَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَهُ بِاللَّيْلِ ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ ، فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ ، فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَالْفُقَرَاءِ ، فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَعَرَّضُوا لَهُمْ ، فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ ، فَقَالُوا : اللَّهُمَّ أَبْلِغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا ، قَالَ : فَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحِهِ حَتَّى أَنْفَذَهُ ، فَقَالَ : فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَة ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ الَّذِينَ قُتِلُوا ، قَالُوا لِرَبِّهِمْ : بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا ، أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ ، فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ کو بھیج دیا جنہیں قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے، یہ لوگ رات کو قرآن پڑھتے تھے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں رکھتے تھے اور لکڑیاں کاٹ کر بیچتے اور ان سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانا خرید کر لاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیج دیا، لے جانے والوں نے انہیں متفرق کر کے اپنے علاقے میں پہنچنے سے پہلے ہی شہید کردیا، وہ کہنے لگے کہ اے اللہ ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا، اسی اثناء میں ایک آدمی حضرت حرام رضی اللہ عنہ " میرے ماموں " کے پاس پیچھے سے آیا اور ایسا نیزہ مارا کہ آر پار کردیا، وہ کہنے لگے رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے بھائی جو شہید ہوگئے ہیں، انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے اور تو ہم سے راضی ہوگیا۔
حدیث نمبر: 13855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، فَيَبْقَى مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ، ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اس میں جگہ زائد بچ جائے گی، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گا۔
حدیث نمبر: 13856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔
…