حدیث نمبر: 13777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 13778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ حدیث نمبر (١٢٤٦٣) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 719، م: 434 ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ " ، فَذَكَرَ . يَعْنِي ذَكَرَ حَدِيثَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2792، م: 1880
حدیث نمبر: 13780
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدَمِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا ، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6568، م: 1880
حدیث نمبر: 13781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ، أَوْ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ، قَالَ : " وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ : لَا نَرَاهُ يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا ، وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ : لَا نَرَاهُ يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
حدیث نمبر: 13782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَنِ الدَّجَّالِ ، فقال : كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706
حدیث نمبر: 13783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَعَثَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعِي بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ ، فَلَمْ أَجِدْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ، إِذْ هُوَ عِنْدَ مَوْلًى لَهُ قَدْ صَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا ، أَوْ قَالَ : ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ ، فَدَعَانِي فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ ، فَرَأَيْتُهُ " يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ ، فَجَعَلْتُ أَدَعُهُ قِبَلَهُ ، فَلَمَّا تَغَدَّى وَرَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ ، وَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَقْسِمُ حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ ایک تھیلی میں تر کھجوریں بھر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نہ پایا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے یہاں گئے ہوئے تھے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی کھانے کے لئے بلالیا، دعوت میں صاحب خانہ نے گوشت اور کدو کا ثرید تیار کر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، جب کھانے سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ تھیلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھاتے گئے اور تقسیم کرتے گئے یہاں تک کہ وہ تھیلی خالی ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5420، م: 2041
حدیث نمبر: 13784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ ، فَلَمْ يَجْهَرُوا بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات اونچی آواز میں بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 399
حدیث نمبر: 13785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیگر عورتوں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3770، م: 2446
حدیث نمبر: 13786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ ، وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَي عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ ، أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ ، فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ؟ فَقَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن قیام فرمایا اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت فرمائی، میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی، اس میں کوئی روٹی اور گوشت نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجوریں، پنیر اور گھی لا کر رکھ دیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، مسلمان آپس میں باتیں کرنے لگے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی امہات المومنین میں سے ہوں گی یا باندیوں میں سے ؟ پھر آپس میں خود ہی کہنے لگے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو یہ امہات المومنین میں سے ہوں گی اور اگر پردہ نہ گرایا تو یہ باندیوں میں سے ہوں گی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوچ فرمایا تو پیچھے سے ان کے لئے سواری پر چڑھنے میں مدد کی اور لوگوں اور ان کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5085
حدیث نمبر: 13787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ ، أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ ، فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ ، وَإِلَّا ، فَسَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ لَهَا : " هَبِلْتِ ؟ ! أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ ؟ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، كسابقه، خ: 6567
حدیث نمبر: 13788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَكْفِي أَحَدَكُمْ مُدٌّ فِي الْوُضُوءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے وضو میں ایک مد پانی کافی ہوجانا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثْتُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے لوگ مؤذن ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الواسطة بين الأعمش و أنس
حدیث نمبر: 13790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَضَحِكَ ، فَقَالَتْ : مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، قَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ، فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، قَالَ : فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنَةِ قَرَظَةَ ، حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ ، رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ ، فَوَقَصَتْ بِهَا ، فَسَقَطَتْ ، فَمَاتَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت ملحان کے گھر میں ٹیک لگائی، سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں کو دیکھ کر ہنسی آئی جو اس سبز سمندر پر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے سوار ہو کر نکلیں گے اور وہ ایسے محسوس ہوں گے کہ گویا تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعاء فرما دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعاء فرما دی کہ اے اللہ ! اسے بھی ان میں شامل فرما۔ پھر ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا اور وہ اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپسی پر جب ساحل سمندر پر وہ اپنے جانور پر سوار ہوئیں تو وہ بدک گئی اور وہ اس سے گر کر فوت ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2877، م: 1912، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 13791
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ ، فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فُتِحَتْ لَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ ، مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہے، اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ، وان محمداً عبدہ، و رسولہ، تو جنت کے آٹھوں دروازے اس کے لئے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف زيد العمي
حدیث نمبر: 13793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَبْقَى مِنَ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى ، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں زائد جگہ بچ جائے گی تو اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7384معلقا، م: 2848
حدیث نمبر: 13794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَطَرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُذِنَ لَهُ ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ أَحَدٌ ، فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ ، فَجَعَلَ يَصْعَدُ عَلَى مَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ : أَتُحِبُّهُ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُهُ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ ، فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ ، فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ذَلِكَ التُّرَابَ ، فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا ، قَالَ : فَكُنَّا نَسْمَعُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے ! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وقد قال الإمام أحمد: يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير
حدیث نمبر: 13795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ ، فَوَضَعَ وَاحِدَةً ، ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ ، فَقَالَ : هَذَا ابْنُ آدَمَ ، وَهَذَا أَجَلُهُ ، وَذَاكَ أَمَلُهُ " ، الَّتِي رَمَى بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکریاں لیں اور ان میں سے اسے ایک کو، پھر دوسری کو، پھر تیسری کو، زمین پر رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے اور یہ اس کی امیدیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه ، لكن حديثه حسن فى المتابعة
حدیث نمبر: 13796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، يَقُولُ : تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يَرْغَبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ ، إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تتَبَاهَى بِهَا الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی ساتھی سے ان کی ملاقات ہوئی تو اس سے کہتے کہ آؤ، تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں، ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصے میں آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابن رواحہ کو تو دیکھئے، یہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے موڑ کر تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر اپنی رحمتیں برسائے، وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے فخر کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمارة ابن زاذان وزياد بن عبدالله النميري متكلم فيهما، وقد تفرد بهذا الحديث بهذه السياقة، ولم يتابعهما عليه أحد
حدیث نمبر: 13797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ : لِمَ صَنَعْتَهُ ؟ وَمَا مَسِسْتُ شَيْئًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمَمْتُ طِيبًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، بخدا ! میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا ؟ اور میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، عمارة بن زاذان متكلم فيه، لكن حديثه حسن فى المتابعة
حدیث نمبر: 13798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ صَامِتٍ الزُّرَقِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، يَا مَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعیاش زید بن صامت کے پاس سے گذرتے ہوئے انہیں دورانِ نماز اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ " اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والے اور بڑے جلال اور عزت والے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: احديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند غير المصنف، وعبدالعزيز بن مسلم روي عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى « الثقات »
حدیث نمبر: 13799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ، وَإِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَكِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم زوال شمس سے قبل سفر پر روانہ ہوتے تو نماز ظہر کو نماز عصر تک مؤخر کردیتے، پھر اتر کر دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر سفر پر روانہ ہونے سے پہلے زوال کا وقت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز ظہر پڑھتے، پھر سوار ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1112، م:704
حدیث نمبر: 13800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمُ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنُ الرَّمْيِ ، فَكَانَ إِذَا رَمَى ، أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ایک ہی ڈھال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے، وہ بہترین تیر انداز تھے، جب وہ تیر پھینکتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جھانک کر دیکھتے کہ وہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2902، م: 1811
حدیث نمبر: 13801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
حدیث نمبر: 13802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ " خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِضَّةً ، فَصُّهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5870
حدیث نمبر: 13803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنِّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يُنْعِشُ لِسَانَهُ حَقًّا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ ، إِلَّا أَجْرَى اللَّهُ عَلَيْهِ أَجْرَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ وَفَّاهُ اللَّهُ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی زبان کو سچ پر ثابت قدم رکھے جس پر اس کے بعد بھی عمل کیا جاتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ثواب قیامت تک اس کے لئے جاری فرما دیتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پورا پورا اجر وثواب عطاء فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيعِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ المسلمين يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً ، فَيَشْفَعُونَ لَهُ ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " ، قَالَ سَلَّامٌ : فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کر دے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه - أي إسناد عائشة و إسناد أنس - صحيحان، م: 947
حدیث نمبر: 13805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " شَهِدْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَيُّ شَيْءٍ فِيهِمَا ؟ قَالَ : الْحَيْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ولیموں میں بھی شرکت کی ہے جس میں روٹی تھی اور نہ گوشت، راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ ! پھر کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا حلوہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري
حدیث نمبر: 13806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنًا كَثِيرَةً ، وَقَالَ : لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ " ، وَإِنِّي لَعِنْدَ فَخِذِ نَاقَتِهِ الْيُسْرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ سفر حج میں بہت سے اونٹ لے کر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی بائیں جانب ران کے قریب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ رَهْبَانِيَّةٌ ، وَرَهْبَانِيَّةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی رہبانیت رہی ہے، اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زيد العمي، وقد أعل بالإرسال
حدیث نمبر: 13808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ ، وَفِي الْعَنْفَقَةِ قَلِيلًا ، وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ يَسِيرٌ ، لَا يَكَادُ يُرَى " ، وَقَالَ الْمُثَنَّى : وَالصُّدْغَيْنِ . حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ قَتَادَةَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کے اگلے حصے میں، تھوڑی کے اوپر بالوں میں، سر میں اور کنپٹیوں پر چند بال سفید تھے، جو بہت زیادہ محسوس نہ ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قد سلف الحديث بنحوه برقم: 13078
حدیث نمبر: 13809
حَدَّثَنَا عَتَابٌ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ : أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّم لِحْيَتِهِ، وَفِي الْعَنْفَقَةِ قَلِيلًا، وَفِي الرَّأْسِ نَبْةٌ يَسِيرٌ، لَا يَكَادُ يُرَى. وَقَالَ الْمُثَنَّى: وَالصُّدْغَيْنِ
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کے اگلے حصے میں، تھوڑی کے اوپر بالوں میں، سر میں اور کنپٹیوں پر چند بال سفید تھے، جو بہت زیادہ محسوس نہ ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2341، وانظر لزاما: 12054 وتطبيق النووي بين الأحاديث فى خضاب النبى صلى الله عليه وسلم وعدمه
حدیث نمبر: 13810
حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ ، وَيُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ ، وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " ، قَالَ : وَقَالَ السَّالَحِينِيُّ : يُبَارَكَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، وَقَالَ : وَالِدَيْهِ أَيْضًا ، وقَالَ يُونُسُ : وَالِدَيْهِ ، وَقَالَ : يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہوجائے، اسے چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کیا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2067، م: 2557
حدیث نمبر: 13812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا ! فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعُوا لِي أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا ، مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تلخی ہوگئی تھی، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عوف رضی اللہ عنہ سے کہیں فرما دیا تھا کہ آپ لوگ ہم پر ان ایام کی وجہ سے لمبے ہونا چاہتے ہیں جن میں آپ ہم پر اسلام لانے میں سبقت لے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہ کو میرے لئے چھوڑ دو ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردو تو ان کے اعمال کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الصَّيْقَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً ، وَقَالَ : " لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ، لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً ، وَلَكِنْ سُقْتُ الْهَدْيَ ، وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے، مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں اور فرمایا اگر وہ بات جو بعد میں میرے سامنے آئی، پہلے آجاتی تو میں بھی اسے عمرہ بنا لیتا لیکن میں ہدی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہوں اور حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى أسماء الصيقل
حدیث نمبر: 13814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاءُ تَطِشُّ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو جب اٹھایا جائے گا تو آسمان گویا ان پر آگ برسا رہا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا " ، قَالَ : هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ ؟ قَالَ : افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا ، قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا أَزِيدُ فِيهِنَّ شَيْئًا ، وَلَا أُنْقِصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ بتائیے کہ اللہ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اس نے پوچھا کہ ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی نماز فرض ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اس پر وہ کہنے لگا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا رہا تو جنت میں داخل ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، حَدَّثَ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ " الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ ، فَقَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حالت احرام میں سینگی لگوانے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح