حدیث نمبر: 13737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَجَابِرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْر ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَنَّانِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا " ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف شريك سیئ الحفظ، وجابر شیخ شريك: ھو ابن یزید الجعفي، وأبو نصر خيثمة ضعیفان
حدیث نمبر: 13738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك النخعي، وقد توبع
حدیث نمبر: 13739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا عُرِجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب معراج چوتھے آسمان پر میری ملاقات حضرت ادریس علیہ السلام سے کرائی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وسلفت هذه القطعة ضمن الحديث الطويل برقم: 12505
حدیث نمبر: 13740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، قَالُوا : هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7450
حدیث نمبر: 13741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ ، فَقَالَتْ : " يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ ؟ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ ، صَبَرْتُ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ ، اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ الْبُكَاءَ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا جِنَانٌ فِي جَنَّةٍ ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَالْفِرْدَوْسُ : رَبْوَةُ الْجَنَّةِ ، وَأَوْسَطُهَا ، وَأَفْضَلُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2809
حدیث نمبر: 13742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَرَدِيفُهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا غَيْرُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، إِذْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّ " حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ : أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور ان دونوں کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کے علاوہ کوئی اور چیز حائل نہ تھی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ کچھ وقفے سے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کا نام لے کر پکارا اور انہوں نے دونوں مرتبہ کہا " لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسعدیک " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں، کیا تم یہ جانتے ہو کہ بندے جب یہ کام کرلیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 128، م: 32
حدیث نمبر: 13743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَحَطَ الْمَطَرُ ، وَأَمْحَلَتْ الْأَرْضُ ، وَقَحَطَ النَّاسُ ، فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ ، " فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى كَثِيرَ سَحَابٍ ، فَاسْتَسْقَى ، فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ ، وَاضْطَرَدَتْ طُرُقُهَا أَنْهَارًا ، فَمَا زَالَتْ كَذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ " ، ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، أَوْ غَيْرُهُ ، وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا ، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا ، فَدَعَا رَبَّهُ ، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا ، يُمْطِرُ مَا حَوْلَهَا ، وَلَا يُمْطِرُ فِيهَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب بارش شروع ہوئی تو رکتی ہوئی نظر نہ آئی، جب اگلا جمعہ ہوا تو اسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکنے کی دعاء کردیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی اور میں نے دیکھا کہ بادل دائیں بائیں چھٹ گئے اور مدینہ کے اندر ایک قطرہ بھی نہیں ٹپک رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1015، م: 897
حدیث نمبر: 13744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَعَدْنَا إِلَيْهِ أَنَا وَهُوَ ، قَالَ : وَكَانَ مِنْ فِتْيَانِنَا أَحْدَثُ مِنِّي سِنًّا ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَّ أَنَسًا وَامْرَأَةً ، فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالْمَرْأَةَ خَلْفَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی خاتون کو ان کے پیچھے کھڑا کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ ، خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ " ، قَالَ : وَكَانَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْحَرْبِ ، ثُمَّ يَنْثُرُ كِنَانَتَهُ ، وَيَقُولُ : وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ ، وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جنگ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے تھے اور اپنا ترکش ہلاتے ہوئے کہتے تھے کہ میرا چہرہ آپ کے چہرے کے لئے بچاؤ اور میری ذات آپ کی ذات پر فدا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 13746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ ، فَرَدَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، مبارك ابن فضالة - وإن كان مدلسا- قد صرح بالتحديث فيما سلف برقم: 13617
حدیث نمبر: 13747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ بْنَ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " فَزِعَ النَّاسُ ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا ، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ وَحْدَهُ ، فَرَكِبَ النَّاسُ يَرْكُضُونَ خَلْفَهُ ، فَقَالَ : لَمْ تُرَاعُوا إِنَّهُ لَبَحْرٌ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک سست رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے اور اکیلے ہی اسے ایڑ لگا کر نکل پڑے، لوگ بھی سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا، واللہ اس کے بعد اس سے کوئی گھوڑا آگے نہ بڑھ سکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2969، م: 2307
حدیث نمبر: 13748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا ، فَقَالَ أَنَسٌ : " إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا، اسے ایک طشتری میں رکھا گیا، ابن زیاد اسے چھڑی سے کریدنے لگا اور ان کے حسن و جمال سے متعلق کچھ نازیبا بات کہی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فوراً فرمایا کہ یہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ تھے، اس وقت ان پر وسمہ کا خضاب لگا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3748
حدیث نمبر: 13749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ أَنَسًا كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ ، وَيَزْعُمُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَا يَرُدُّ الطِّيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5929
حدیث نمبر: 13750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ : هَدِيَّةٍ ، فَقَالَ لِلَّذِي مَعَهَا ، أَوْ لِصَاحِبِهَا : ارْكَبْهَا . قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ : هَدِيَّةٌ ، قَالَ : وَإِنْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1323
حدیث نمبر: 13751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحْتَجِمُ ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2280، م: 1577
حدیث نمبر: 13752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا زَمَانٌ يَأْتِي عَلَيْكُمْ ، إِلَّا أَشَرُّ مِنَ الزَّمَانِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ " ، سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7068
حدیث نمبر: 13754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ ، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَطُّ ، إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَلَا اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ، إِلَّا قَالَتْ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَجِرْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنَّ يَهُودِيًّا أَخَذَ أَوْضَاحًا عَلَى جَارِيَةٍ ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَيْهَا فَرَضَّ رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَأَدْرَكُوا الْجَارِيَةَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَأَخَذُوهَا ، وَجَعَلُوا يَتْبَعُونَ بِهَا النَّاسَ ، أَهَذَا هُوَ ؟ أَوْ هَذَا هُوَ ؟ فَأَتَوْا بِهَا عَلَى الرَّجُلِ ، فَأَوْمَتْ إِلَيْهِ بِرَأْسِهَا " فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے ؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6885، م: 1672
حدیث نمبر: 13757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَمْ يَبْلُغْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُهُ ، وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَضَبَ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ ، حَتَّى يَقْنُوَ شَعْرُهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 5895، م: 2341
حدیث نمبر: 13758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ ، أَخَفَّ وَلاَ أَتَمَّ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کردیتے تھے، اس اندیشے سے کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 708، م: 469
حدیث نمبر: 13759
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ ، فَجَلَسَ يُمْلِي خَيْرًا حَتَّى يُمْسِيَ ، كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ ثَمَانِيَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نماز عصر پڑھے، پھر بیٹھ کر اچھی بات املاء کروائے تاآنکہ شام ہوجائے، تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آٹھ غلام آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، المعلي بن زياد لم يلق أنس بن مالك، وبينهما فى هذا الحديث يزيد الرقاشي، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 13761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عن الحسن , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ تَوَشَّحَ بِهِ ، فَصَلَّى بِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13762
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَكَّأُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ قِطْرِيٍّ ، فَصَلَّى بِهِمْ ، أَوْ قَالَ : مُشْتَمِلًا ، فَصَلَّى بِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ ، لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ ، حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام جب نہر کے پانی میں غوطہ لگانے کا ارادہ کرتے تو اس وقت تک کپڑے نہ اتارتے تھے جب تک پانی میں اپنا ستر چھپا نہ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، ويشهد لمعناه حديث أبى هريرة السالف برقم: 9091
حدیث نمبر: 13765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ " يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ إِذَا رَفَعُوا ، وَإِذَا وَضَعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے (تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي أَصْحَابِهِ ، إِذْ مَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ ، فَلَمَّا مَضَى دَعَاهُ ، فَقَالَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : سَامٌ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " ، أَيْ : مَا قُلْتُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، أَوْ : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245 ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَائِطِي لِلَّهِ ، وَلَوْ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ ، فَقَالَ : " اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ ، أَوْ أَقْرَبِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو " اور یہ آیت کہ " کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ پر ہے، وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں اور بخدا ! اگر یہ ممکن ہوتا کہ میں اسے مخفی رکھوں تو کبھی اس کا پتہ بھی نہ لگنے دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4555، م: 998
حدیث نمبر: 13768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً مِنْكُمْ " ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ ، جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ : غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ ، فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حُجَرِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ صَبِيحَةَ بِنَائِهِ ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ ، وَيَدْعُو لَهُنَّ ، وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ ، وَيَدْعُونَ لَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلاَن نَبِيَّ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ عَنْ بَيْتِهِ ، وَثَبَا مُسْرِعَيْنِ ، قَالَ : فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ بِخُرُوجِهِمَا ، أَمْ أُخْبِرَ ، فَرَجَعَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس پہلی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے یہاں رہے، اس کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت ولیمہ دی اور مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواجِ مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں، پھر واپس تشریف لائے، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے واپس پلٹتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر واپس آکر میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکالیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4794، م: 1428
حدیث نمبر: 13770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْرَى الْمَدِينَةُ ، فَقَالَ : يَا بَنِي سَلِمَةَ ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ ! کیا تم مسجد کی طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 655
حدیث نمبر: 13771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا الْغَدَاةَ ، رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ ، وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَرَجَ أَهْلُ خَيْبَرَ بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ إِلَى زُرُوعِهِمْ وَأَرَاضِيهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ رَجَعُوا هِرَابَا ، وَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2945
حدیث نمبر: 13772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ ، فَضَرَبَتْ يَدَ الْخَادِمِ ، فَسَقَطَتْ الْقَصْعَةُ فَانْفَلَقَتْ ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَمَّ الْكَسْرَيْنِ وَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ ، وَيَقُولُ : غَارَتْ أُمُّكُمْ ، غَارَتْ أُمُّكُمْ ، وَيَقُولُ لِلْقَوْمِ : كُلُوا ، وَحَبَسَ الرَّسُولَ حَتَّى جَاءَتْ الْأُخْرَى بِقَصْعَتِهَا ، فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ قَصْعَتُهَا ، وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةُ لِلَّتِي كَسَرَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ ( غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کردیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2481
حدیث نمبر: 13773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنَادِي مِنَ اللَّيْلِ : يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، وَيَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُنَادِي أَقْوَامًا قَدْ جَيَّفُوا ؟ قَالَ : مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا ؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ احکام نماز سیکھ سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ فَقَالُوا : لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ ، فَقُلْتُ : مَنْ ؟ قَالُوا : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے سمجھا کہ وہ میں ہوں اس لئے پوچھا وہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عنہ،۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ يَجْرِي ، حَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ ، فَإِذَا هُوَ مِسْكٌ أَذْفَرُ ، فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4964