حدیث نمبر: 13697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، قَالَ : وَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَذَا ابْنُ آدَمَ ، وَهَذَا أَجَلُهُ ، وَثَمَّ أَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا : یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ ، فَرُبَّمَا قَالَ : رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ فَإِذَا رَأَى الرُّؤْيَا الرَّجُلُ الَّذِي لَا يَعْرِفُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ ، فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا ، فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا ، فَقِيلَ : اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْذَخِ ، أَوْ الْبَيْدَحِ ، فَغُمِسُوا فِيهِ ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا ، وَأُتُوا بِصَحْفَةٍ ، فَأَكَلُوا مِنْهَا ، فَمَا يَقْلِبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا فَاكِهَةً مَا أَرَادُوا ، وَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ ، فَقَالَ : كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا ، وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا الَّذِينَ عَدَّتِ الْمَرْأَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ ، قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ ، فَقَصَّتْ ، فَقَالَ : هُوَ كَمَا قَالَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کرلیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جارہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دیئے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن الْأَصَمُّ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، فَقَالَ " يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، وَإِذَا قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ : عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا ؟ قَالَ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، ثُمَّ سَكَتَ ، فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ ، وَعُثْمَانَ ؟ قَالَ : وَعُثْمَانَ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن اصم کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیر کا حکم پوچھا تو میں نے انہیں یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ انسان جب رکوع سجدہ کرے، سجدے سے سر اٹھائے اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑا ہو تو تکبیر کہے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس کے حوالے سے یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَذَكَرَهُ " فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَأَشَارَ عَبْدُ الْعَزِيزِ ، فَجَعَلَ ظَهْرَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حدیث استسقاء اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 932، م: 897
حدیث نمبر: 13701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَوَّزَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ تَجَوَّزْتَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ بُكَاءَ صَبِيٍّ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ مَعَنَا تُصَلِّي ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ " ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ تُصَلِّي مَعَنَا ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ ، قَالَ عَفَّانُ : فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھاتے ہوئے نماز ہلکی کردی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نماز کیوں مختصر کردی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، میں سمجھا کہ ہوسکتا ہے اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو، اس لئے میں نے چاہا کہ اس کی ماں کو فارغ کر دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده من جهة حمید و ثابت صحيح، و أما من جهة علي بن زید - وھو ابن جدعان - فضعیف
حدیث نمبر: 13702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَنْ أَنَسٍ ، فِيمَا يَحْسَبُ حُمَيْدٌ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ بِثَوْبِ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حدیث أنس صحیح، وأما حدیث الحسن البصري فمرسل
حدیث نمبر: 13703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حَيْثُ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : إِيَّانَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبِحَارَ ، لَأَخَضْنَاهَا ، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بِرْكِ الْغِمَادِ ، لَفَعَلْنَا ، قَالَ عَفَّانٌ : قَالَ سُلَيْمَانٌ : عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ : الْغُمَادِ ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا ، وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ ، وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ ، فَأَخَذُوهُ ، فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ ، فَيَقُولُ : مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ ؟ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، فَإِذَا قَالَ ذَاكَ ، ضَرَبُوهُ ، فَإِذَا ضَرَبُوهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، أَنَا أُخْبِرُكُمْ ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ ، فَإِذَا تَرَكُوهُ ، فَسَأَلُوهُ ، قَالَ : مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ فِي النَّاسِ ، قَالَ : فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ، ضَرَبُوهُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ، انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ ، وَتَتْرُكُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ ! شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں، لہٰذا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو تیار کر کے روانہ ہوگئے اور بدر میں پڑاؤ کیا، قریش کے کچھ جاسوس آئے تو ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کرلیا اور اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف آگئے ہیں، وہ لوگ جب اسے مارتے تو وہ ابوسفیان کے بارے بتانے لگتا اور جب چھوڑتے تو وہ کہتا کہ مجھے ابوسفیان کا کیا پتہ ؟ البتہ قریش آگئے ہیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جب تم سے سچ بیان کرتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب یہ جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان شاء اللہ کل فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص یہاں، چنانچہ آمنا سامنا ہونے پر مشرکین کو اللہ نے شکست سے دو چار کردیا اور واللہ ایک آدمی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1779
حدیث نمبر: 13704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1095
حدیث نمبر: 13705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فَاسْتُجِيبَ لَهُ ، وَإِنِّي اسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 13706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ ، فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ مِنْ صَدَقَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ أَخْبَرَنَي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ ، فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کی ایک عورت کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی خاتون کو ان کے پیچھے کھڑا کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، وَأَنَسٌ يومئذ حي ، قَالَ أَنَسٌ : لَوْلَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ " ، لَتَمَنَّيْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نضر کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا ہوتا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے تو میں موت کی تمنا ضرور کرتا، اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی حیات تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7233، م: 2680
حدیث نمبر: 13709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : بِمَا مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ؟ فَقُلْتُ : بِالطَّاعُونِ ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے ؟ انہوں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
حدیث نمبر: 13710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ ، فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ ، حَتَّى قَالَ : لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 750
حدیث نمبر: 13711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : " جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت اپنے بچے کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5234، م: 2509
حدیث نمبر: 13712
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ ، قَالَ لِلْمَلَكِ : اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ ، فَإِنْ شَفَاهُ ، غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ ، وَإِنْ قَبَضَهُ ، غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کرچکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلالے تو اس کی مغفرت کردیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغیرہ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِ نَفْسِهِ ، وَيُكَبِّرُ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور اس پر تکبیر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 13714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، يَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتَيْهِمَا ، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ ، وَيُسَمِّي ، وَيُكَبِّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5564، م: 1966
حدیث نمبر: 13715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَسْمَرَ ، وَلَمْ أَشُمَّ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ رِيحًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گندمی تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330
حدیث نمبر: 13716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 201، م: 325
حدیث نمبر: 13717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، نَجِيءُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَّا بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن پیش کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 217، م: 271
حدیث نمبر: 13718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمًا ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ قَالَ : " قَدْ رَأَيْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمْ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " ، يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور منبر پر بیٹھ کر قبلہ کی جانب اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا لوگو ! میں نے آج تمہیں جو نماز پڑھائی ہے اس میں جنت اور جہنم کو اپنے سامنے دیکھا کہ وہ اس دیوار میں میرے سامنے پیش کی گئی ہیں، میں نے آج جیسا بہترین اور سخت ترین دن نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن، خ: 749، م: 2359
حدیث نمبر: 13719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بَعْضُ مَنْ لَا أَتَّهِمُهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ يَمْشِيَانِ بِالْبَقِيعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَسْمَعُهُ ، قَالَ : " أَلَا تَسْمَعُ أَهْلَ هَذِهِ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ ؟ يَعْنِي قُبُورَ الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ایسے صحابہ رضی اللہ عنہ نے " جنہیں میں متہم نہیں سمجھتا " بتایا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ جنت البقیع میں جا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال ! جیسے میں سن رہا ہوں کیا تم بھی کوئی آواز سن رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا ! میں تو کوئی آواز نہیں سن رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں سن رہے کہ اہل جاہلیت کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا ، قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ عنہ، ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن، وھذا إسناد ضعیف لجهالة محمد بن مساحق
حدیث نمبر: 13721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ " . حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح، خ: 3109، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك النخعي، لكنه متابع
حدیث نمبر: 13722
حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ : حَدَّثَنَا شَرِيكَ عَنْ عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح، وھذا إسناد ضعیف كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمِرْبَدِ وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا ، قَالَ شُعْبَةُ : حَسِبْتُهُ قَالَ : فِي آذَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں بکری کے کان داغ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
حدیث نمبر: 13724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
حدیث نمبر: 13725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو ، يَلْعَنُ رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1031، م: 895
حدیث نمبر: 13727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ ، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ ، أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي وَأَنَامُ ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي ، فَلَيْسَ مِنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کچھ لوگوں نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انفرادی عبادت کے متعلق سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5063
حدیث نمبر: 13728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْفَجْرِ ، فَيَقُولُ : الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھ ماہ تک مسلسل جب نماز فجر کے وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب سے گذرتے تھے تو فرماتے تھے اے اہل بیت ! نماز کے لئے بیدار ہوجاؤ، اے اہل بیت ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف علي بن زید
حدیث نمبر: 13729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُقَامُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ : اللَّهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 148
حدیث نمبر: 13730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ " رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَأَتَى قَوْمَهُ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ ، أَسْلِمُوا ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ ، وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَيْهِ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا ، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو ! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقروفاقہ کو کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2312
حدیث نمبر: 13731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ ، فَوَحَشَ بِهَا ، ثُمَّ جَاءَ سَائِلٌ آخَرُ ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ! قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَارِيَةِ : اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کھجوریں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس درہم دلوادو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف عمارۃ بن زاذان الصيدلاني
حدیث نمبر: 13732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى ، فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا ، " فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَجْعَلُهُ خَلًّا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَهْرَاقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بناسکتے ؟ فرمایا نہیں، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح، م: 1983 وھذا إسناد ضعیف لضعف اللیث: وھو ابن أبي سلیم، وانظر ما بعدہ
حدیث نمبر: 13733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ حُسَيْنٌ : عَنِ السُّدِّيِّ ، وَقَالَ أَسْوَدُ : حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى ، فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا ، " فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَصْنَعُهُ خَلًّا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَهْرَاقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بنا سکتے ؟ فرمایا نہیں، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1983 وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، قَالَ عَمْرٌو : قُلْتُ لِأَنَسٍ : أَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : فَأَنْتُمْ ؟ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدُ ، فَقَالَ : مَا لَمْ نُحْدِثْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کے لئے برتن لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا : راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 214
حدیث نمبر: 13735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أَسْوَدُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا ، وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ " ، وَقَالَ عَفَّانُ : إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں جوڑ کر اور قریب قریب ہو کر بنایا کرو، کندھے ملا لیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی بھیڑوں کی طرح شیاطین صفوں کے بیچ میں گھس جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا كَانَ يَخْدُمُهُ يَهُودِيًّا ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَجَعَلَ يُنْظَرُ إِلَى أَبِيهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ ، قَالَ : فَقَالَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ " ، وَقَالَ غَيْرُ أَسْوَدَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح، وھذا إسناد ضعیف لضعف شريك