حدیث نمبر: 13657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کر دے اور ان کے دانت توڑ دے، جب کہ وہ انہیں اپنے رب کی طرف بلا رہا ہو ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں "۔
حدیث نمبر: 13658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ " أَنَسَ بْنَ النَّضْرِ تَغَيَّبَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : تَغَيَّبْتُ عَنْ أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَئِنْ رَأَيْتُ قِتَالًا ، لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ ، انْهَزَمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَقْبَلَ أَنَسٌ ، فَرَأَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مُنْهَزِمًا ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَمْروٍ ، أَيْنَ ؟ أَيْنَ ؟ قُمْ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ ، فَحَمَلَ حَتَّى قُتِلَ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا اسْتَطَعْتُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ : فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ ، وَلَقَدْ كَانَتْ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ ضَرْبَةً ، مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ : رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ إِلَى قَوْلِهِ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا، جو غزوہ بدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوسکے تھے اور اس کا انہیں افسوس تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے غزوہ میں شریک نہیں ہوسکا، اگر اب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جانے کا موقع عطاء کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں، چنانچہ وہ غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ میدان کار زار میں انہیں اپنے سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیئے، وہ ان سے کہنے لگے کہ ابوعمرو ! کہاں جا رہے ہو ؟ بخدا ! مجھے تو احد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے، یہ کہہ کر اس بےجگری سے لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے اسی سے زیادہ نشانات پائے گئے، ان کی بہن اور میری پھوپھی حضرت ربیع بنت نضر کہتی ہیں کہ میں بھی اپنے بھائی کو صرف انگلی کے پوروں سے پہچان سکی ہوں اور اسی مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ " کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنی امید پوری کرچکے اور بعض منتظر ہیں " صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ان جیسے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 13659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْعَضْبَاءَ كَانَتْ لَا تُسْبَقُ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ ، فَسَابَقَهَا ، فَسَبَقَهَا الْأَعْرَابِيُّ ، فَكَأَنَّ ذَلِكَ اشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا ، إِلَّا وَضَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی " جس کا نام عضباء تھا " کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا، مسلمانوں میں یہ بات بڑی گراں گذری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں کا اندازہ لگالیا، پھر لوگوں نے خود بھی کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عضباء پیچھے رہ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں جس چیز کو وہ بلندی دیتا ہے پست بھی کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 13660
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ كَانَ بَلَاءً فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : اصْبُغُوهُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ ، فَيَصْبُغُونَهُ فِيهَا صَبْغَةً ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ ، أَوْ شَيْئًا تَكْرَهُهُ ؟ فَيَقُولُ : لَا ، وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَكْرَهُهُ قَطُّ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ النَّاسِ كَانَ فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَقُولُ : اصْبُغُوهُ فِيهَا صَبْغَةً ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا ، وَعِزَّتِكَ مَا رَأَيْتُ خَيْرًا قَطُّ ، وَلَا قُرَّةَ عَيْنٍ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی نعمتوں میں رہا ہوگا، اسے جہنم کا ایک چکر لگوایا جائے گا پھر پوچھا جائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ہے ؟ کیا تجھ پر کبھی نعمتوں کا گذر ہوا ہے ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار ! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں، اس کے بعد اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی مصیبتوں میں رہا ہوگا، اسے جنت کا ایک چکر لگوایا جائے گا اور پھر پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے ؟ کیا کبھی تجھ پر کسی سختی کا گذر ہوا ہے ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار ! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں، مجھ پر کوئی پریشانی نہیں آئی اور میں نے کوئی تکلیف نہیں دیکھی۔
حدیث نمبر: 13661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَصَوَّرَهُ ثُمَّ تَرَكَهُ فِي الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ ، عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔
حدیث نمبر: 13662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قِيلَ لِأَنَسٍ : هَلْ شَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " مَا شَانَهُ اللَّهُ بِالشَّيْبِ ، مَا كَانَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ إِلَّا سَبْعَ عَشْرَةَ ، أَوْ ثَمَانِ عَشْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کے بال مبارک سفید ہوگئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے محفوظ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں صرف سترہ یا اٹھارہ بال سفید تھے۔
حدیث نمبر: 13663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي لِيُحَنِّكَهُ فِي الْمِرْبَدِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ " يَسِمُ شِيَاهًا ، أَحْسَبُهُ قَالَ : فِي آذَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی کو گھٹی دلوانے کے لئے حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے کان پر داغ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 13664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ " . قَالَ عَبْد اللَّهِ : أَظُنُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَحْسَبُ أَنِّي قَدْ أَسْقَطْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حدیث نمبر: 13665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 13666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّهُمْ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، حَتَّى أَجْهَدُوهُ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : " لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ ، فَأَشْفَقَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ لَا أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا ، إِلَّا وَجَدْتُ كُلَّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ يُلَاحَى ، فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : أَبُوكَ حُذَافَةُ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ عُمَرُ ، أَوْ قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ قَطُّ ، صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ " . حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمِثْلِهِ . قَالَ : وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا : نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا ! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش او مطمئن ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 13667
حَدَّثَنَا رَوْحٌ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ. قَالَ : وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ﴾ (المائدة : ۱۰۱)
حدیث نمبر: 13668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ، فَادْعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 13669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُودِ الَّذِي فِي مَقَامِ الْإِمَامِ ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ يَذْكُرُ لَنَا فِيهِ شَيْئًا ، قَالَ : مُصْعَبٌ : فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ ، فَقَالَ : جَلَسَ إِلَيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمًا ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا ؟ وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي لِمَ صُنِعَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَضَعُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ ، ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَيْنَا ، فَيَقُولُ : اسْتَوُوا وَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
مصعب بن ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ پر ایک لکڑی تھی، ہم نے بہت کوشش کی کہ اس کے متعلق کسی سے کچھ معلوم ہوجائے لیکن ہمیں ایک آدمی بھی ایسا نہ ملا جو ہمیں اس کے متعلق کچھ بتاسکتا، اتفاقاً مجھے محمد بن مسلم صاحب مقصورہ نے بتایا کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف فرما تھے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے ؟ میں نے ان سے یہ سوال نہ پوچھا تھا، میں نے عرض کیا بخدا ! مجھے معلوم نہیں کہ یہ کیوں رکھی گئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا داہنا ہاتھ رکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوتے تھے اور فرماتے تھے سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں برابر کرلو۔
حدیث نمبر: 13670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَحْدُو بِالرِّجَالِ ، وَأَنْجَشَةَ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ ، فَحَدَا ، فَأَعْنَقَتْ الْإِبِلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَنْجَشَةُ " رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مردوں کے لئے حدی خوانی کرتے تھے اور انجثہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے لئے، انجثہ کی آواز بہت اچھی تھی، جب انہوں نے حدی شروع کی تو اونٹ تیزی سے دوڑنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حدیث نمبر: 13671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ، وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 13672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَزْذَوَيْهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَامِلٌ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يُسْتَخْلَفَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ بِهِ وَضَحٌ شَدِيدٌ ، قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ يُصَلِّي بِنَا ، فَقَالَ أَنَسٌ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى ، كَانَ يُخَفِّفُ فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکمل اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 13673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ يَعْنِي الْحَبَطِيُّ أَبُو هِشَامٍ ، قَالَ : أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ حَدَّثَنِي ، قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ ، وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ عَادَ مَرِيضًا ، فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الصَّحِيحُ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ ، فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ ؟ قَالَ : تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
مروان بن ابی داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابوحمزہ ! جگہ دور کی ہے لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کی عیادت کو آیا کریں، اس پر انہوں نے اپنا سر اٹھا کر کہا کہ میں نے نبٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ رحمت الہٰیہ کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو اس تندرست آدمی کا حکم ہے جو مریض کی عیادت کرتا ہے، مریض کا کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَقَوْلٍ لَا يُسْمَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي : أُفٍّ قَطُّ ، وَلَا قَالَ : لِمَ صَنَعْتَ كَذَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفروحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا ؟
حدیث نمبر: 13676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً ، مَا فِيهَا خُبْزٌ ، وَلَا لَحْمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ولیمے میں بھی شرکت کی ہے جس میں روٹی تھی اور نہ گوشت۔
حدیث نمبر: 13677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ ، أَرْبَعِينَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 13678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ نَاسٌ النَّارَ ، حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَيُقَالُ : هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔
حدیث نمبر: 13679
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، قَالُوا : هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
حدیث نمبر: 13680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، " كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 13681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، وَيُكَبِّرُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمَا يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ ، وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 13682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ أَوْ : أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ ، مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حدیث نمبر: 13683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، إِمْلَاءً عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ " رِعْلًا وَعُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا ، وَاسْتَمَدُّوا عَلَى قَوْمِهِمْ ، فَأَمَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ ، وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ ، فَقَتَلُوهُمْ ، فَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ : عُصَيَّةَ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ ، وحَدَّثَنَا أَنَسٌ : أَنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا : " بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا " ، ثُمَّ نُسِخَ ، أَوْ رُفِعَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ تعاون کے لئے بھیج دیئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں " قراء " کہا کرتے تھے، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے، راستے میں جب بیر معونہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر دعاء کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ کے یہ جملے کہ " ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کردیا " ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 13684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ ، أَتَاهُ شَيْخٌ ، أَوْ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ ، وَلَكِنِّي أَحَبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 13685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بِمِنًى ، أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ بِيَدِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ نَاوَلَنِي ، فَقَالَ : يَا أَنَسُ ، انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ " ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا خَصَّهَا بِهِ مِنْ ذَلِكَ ، تَنَافَسُوا فِي الشِّقِّ الْآخَرِ ، هَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ وَهَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَحَدَّثْتُهُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ ، فَقَالَ : لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعَرَةٌ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ صَفْرَاءَ ، وَبَيْضَاءَ ، أَصْبَحَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، وَفِي بَطْنِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منیٰ میں سر منڈوانے ک ارادہ کیا تو پہلے سر کا داہنا حصہ آگے کیا اور فارغ ہو کر وہ بال مجھے دے کر فرمایا انس ! یہ ام سلیم کے پاس لے جاؤ، جب لوگوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ اپنے بال حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو بھجوائے ہیں تو دوسرے حصے کے بال حاصل کرنے میں وہ ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگے، کسی کے حصے میں کچھ آگئے اور کسی کے حصے میں کچھ آگئے۔
حدیث نمبر: 13686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي قَطُّ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ قَطُّ : أَسَأْتَ ، وَلَا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔
حدیث نمبر: 13687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا : كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " اعْتَمَرَ أَرْبَعًا : عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ عَنْهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَتَهُ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مرتبہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 13688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاذَا تَرَى ؟ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَالَ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَرْضِي بَيْرُحَاءَ ، وَإِنِّي أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَخٍ بَخٍ ، بَيْرُحَاءُ خَيْرٌ رَابِحٌ ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ حَدَائِقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ " تم نیکی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز نہ خرچ کردو " اور مجھے اپنے سارے مال میں " بیر حاء " سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کی نیکی اور ثواب کی امید رکھتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، پھر انہوں نے وہ باغ لوگوں میں تقسیم کردیا۔
حدیث نمبر: 13689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ : أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا الرِّهَانَ ، فَلَمَّا جَاءَتْ الْخَيْلُ ، قُلْنَا : لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَسَأَلْنَاهُ : أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ فِي الزَّاوِيَةِ ، فَسَأَلْنَاهُ : فَقُلْنَا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أََكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاهِنُ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، لَقَدْ " رَاهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ، يُقَالُ لَهُ : سَبْحَةٌ ، فَسَبَقَ النَّاسَ ، فَانْتَشَى لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابولبید رحمہ اللہ نے مازہ بن زیار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے ؟ چنانچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 13690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى فِي الْمَسْجِدِ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ تُصَلِّي ، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ ، فَإِذَا أَعْيَتْ ، فَلْتَجْلِسْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔
حدیث نمبر: 13691
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 13692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ كأنه يعني النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : أَوْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے تو فرمایا ٹخنوں تک کرلو، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَامَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَ الْمَالُ ، وَجَاعَ الْعِيَالُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا ، " فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ ، فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ قحط سالی ہوئی، جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مال تباہ ہو رہے ہیں اور بچے بھوکے ہیں، اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ ہمیں پانی سے سیراب کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اس وقت پہاڑوں جیسے بادل آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترنے بھی نہیں پائے تھے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک پر بارش کا پانی ٹپکتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 13694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔
حدیث نمبر: 13695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ ، تَحَوَّلَ فَعَمِلَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ ، فَمَاتَ ، فَدَخَلَ النَّارَ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ ، فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَمَاتَ ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 13696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ ؟ قَالَ : إِنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔
…