حدیث نمبر: 13617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَرَدَّهُ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2582
حدیث نمبر: 13618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : فَالْأَكْلُ ؟ قَالَ : أَشَرُّ وَأَخْبَثُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 13619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ ، فَشَرِبَ فِي رَمَضَانَ ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمالیا اور لوگ دیکھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ أَبَا مُوسَى ، قَالَ : " اسْتَحْمَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلْتَنَا ! قَالَ : وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَحْمِلَنَّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے ؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، وَشُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ : ك ف ر ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ قَارِئٌ وَغَيْرُ قَارِئٍ " ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ہر ان پڑھ مسلمان پڑھ لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933
حدیث نمبر: 13622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ ؟ قَالُوا : كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا : يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا كَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ رُؤْيَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا ، لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ أَهْلُ الْيَمَنِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ جَاءَكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، هُمْ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا " ، قَالَ أَنَسٌ : وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس یمن سے لوگ آئے ہیں جو تم سے بھی زیادہ رقیق القلب ہیں اور یہی وہ پہلے لوگ ہیں جو مصافحہ کا رواج اپنے ساتھ لے کر آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : " أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : الْحِبَرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس پسند تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 8512، م: 2079
حدیث نمبر: 13626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِهِمَا ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَلْتَمِسُونَهَا ، وَيَقُولُونَ : أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِنَ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَمَنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَلَبِسَهَا جَعْفَرٌ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، قَالَ : فَمَا أَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : ابْعَثْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ روم کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس میں سونے کا کام ہوا تھا " بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لمبا ہونے کی وجہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ آپ پر آسمان سے اترا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے ؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس بھجوا دیا، انہوں نے اسے پہن لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میں نے تمہیں پہننے کے لئے نہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ پھر میں اس کا کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی نجاشی کے پاس بھیج دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ومتنه منکر، تفرد بھذا السياقه علي بن زید بن جدعان، وھو ضعيف
حدیث نمبر: 13627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ التَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1981
حدیث نمبر: 13628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَحَدٌ يَسُرُّهُ يَرْجِعُ ، وَقَالَ بَهْزٌ : أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا ، إِلَّا الشَّهِيدُ ، فَإِنَّهُ وَدَّ لَوْ أَنَّهُ رَجَعَ ، قَالَ بَهْزٌ : رَجَعَ إِلَى الدُّنْيَا فَاسْتُشْهِدَ ، لِمَا رَأَى مِنَ الْفَضْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
حدیث نمبر: 13629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ مَا يُحِبُّهُ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
حدیث نمبر: 13630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ ، إِنَّمَا كَانَ شَيْئًا فِي صُدْغَيْهِ ، وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3550، م: 2341
حدیث نمبر: 13631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359
حدیث نمبر: 13632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6159، م: 1323
حدیث نمبر: 13633
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ ، الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ، الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
حدیث نمبر: 13634
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَيَقُولُ : إِنَّهُ أَرْوَى ، وَأَمْرَأُ ، وَأَبْرَأُ " ، قَالَ أَنَسٌ : وَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2028
حدیث نمبر: 13636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، فَقَالَ : " يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، وَإِذَا قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ : عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا ؟ قَالَ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، ثُمَّ سَكَتَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ : وَعُثْمَانَ ؟ قَالَ : وَعُثْمَانَ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن اصم کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیر کا حکم پوچھا تو میں نے انہیں یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ انسان جب رکوع سجدہ کرے، سجدے سے سر اٹھائے اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑا ہو تو تکبیر کہے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس کے حوالے سے یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن،وھذا إسناده ضعيف لجهالة المغیرۃ بن زیاد، وقد توبع
حدیث نمبر: 13638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ ، وَأَنْفُسِكُمْ ، وَأَلْسِنَتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَصْحَابُهُ مُخَالِطُو الْحُزْنِ وَالْكَآبَةِ ، فَقَالَ : نَزَلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا جَمِيعًا ، قَالَ : فَلَمَّا تَلَاهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : هَنِيئًا مَرِيئًا ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ ، فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5 حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4172، م: 1786
حدیث نمبر: 13640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، " شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُمَّلَ ، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2920، م: 2076
حدیث نمبر: 13641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا ، ثُمَّ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی ہے پھر اسے ترک فرما دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَادِيًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، قَالَ : وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، لَا تَكْسِرْ الْقَوَارِيرَ " ، قَالَ قَتَادَةُ : يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " اس کی آواز بہت اچھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انچثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6211، م: 2323
حدیث نمبر: 13643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسٌ ، أَنَّ خَيَّاطًا بِالْمَدِينَةِ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ ، قَالَ : فَإِذَا خُبْزُ شَعِيرٍ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، وَإِذَا فِيهَا قَرْعٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ " ، قَالَ أَنَسٌ : لَمْ يَزَلْ الْقَرْعُ يُعْجِبُنِي مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 13644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَيْمُونَةَ ، يُحَدِّثُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُرْفَعْ إِلَيْهِ قِصَاصٌ قَطُّ ، إِلَّا أَمَرَ بِالْعَفْوِ " ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : كُنْتُ أُحَدِّثُهُ عَنْ أَنَسٍ ، فَقَالُوا لِي : عَنْ أَنَسٍ لَا شَكَّ فِيهِ ؟ فَقُلْتُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 13645
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَزَادَ حُمَيْدٌ : عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلى الصَّلاَةِ ، فَلْيَمْشِ عَلَى نَحْوِ مَا كَانَ يَمْشِي ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَالْإِرْمَامُ : السُّكُوتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ " أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الإسلام مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " ، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ عَلَيْهِ إِهَالَةٌ سَنِخَةٌ ، فَأَكَلُوا مِنْهَا ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسی کو تناول فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4100، م: 1805
حدیث نمبر: 13647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
حدیث نمبر: 13648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ أَجْمَعَ . وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ : فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1743
حدیث نمبر: 13650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ : قَدْ صَامَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ : قَدْ أَفْطَرَ ، وَقَدْ قَالَ مَرَّةً : أَفْطَرَ أَفْطَرَ أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کردیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی نیت کرلی ہے اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
حدیث نمبر: 13651
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَكَانَ يَسْتَمِعُ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ ، وَإِلَّا أَغَارَ ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَسَمِعَ رَجُلًا ، يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کرتے تھے اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے، ایک دن اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان لا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2944، م: 382
حدیث نمبر: 13653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا ، وَكَفَانَا ، وَآوَانَا ، وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ ، وَلَا مُؤْوِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2715
حدیث نمبر: 13654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، ثُمَّ دَعَانِي ، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ ، فَجِئْتُ وَقَدْ أَبْطَأْتُ عَنْ أُمِّي ، فَقَالَتْ : مَا حَبَسَكَ ؟ أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَاجَةٍ ، فَقَالَتْ : أَيْ بُنَيَّ ، وَمَا هِيَ ؟ فَقُلْتُ : إِنَّهَا سِرٌّ ، قَالَتْ : " لَا تُحَدِّثْ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا " ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ ، لَوْ كُنْتُ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا ، لَحَدَّثْتُكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا ؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، بخدا ! اے ثابت ! اگر میں وہ کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2482
حدیث نمبر: 13655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ بِي ، وَأَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي ؟ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَلَا تَقُولُونَ : أَتَيْتَنَا طَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَخَائِفًا فَأَمَّنَّاكَ ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ ؟ فَقَالُوا : بَلْ لِلَّهِ الْمَنُّ عَلَيْنَا وَلِرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہ انصار ! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بےراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ بےیارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ مُدَّ لِي الشَّهْرُ ، لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا : کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104