حدیث نمبر: 13577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً " ، وَكَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، قَامَ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَوْهَمَ ، وَكَانَ يَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَوْهَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز لمبی کرنا شروع کی تھی اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 821، م: 473
حدیث نمبر: 13578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ ، فَإِذَا هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي وَلَمْ يُشَقَّ شَقًّا ، فَإِذَا حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى تُرْبَتِهِ ، فَإِذَا هُوَ مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ ، وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے کوثر عطاء کی گئی ہے، وہ ایک نہر ہے جو سطح زمین پر بھی بہتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں، جنہیں توڑا نہیں گیا، میں نے ہاتھ لگا کر اس کی مٹی کو دیکھا تو وہ مشک خالص تھی اور اس کی کنکریاں موتی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4964
حدیث نمبر: 13579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680
حدیث نمبر: 13580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعاء مانگا کرتے تھے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4522، م: 2690
حدیث نمبر: 13581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَقَدْ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ : الْعَسَلَ ، وَالْمَاءَ ، وَاللَّبَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک پیالے کے متعلق مروی ہے کہ میں نے اس پیالے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے، شہد بھی، پانی بھی اور دودھ بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2008، وفي البخاري: 5638 لقد سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فى هذا القدح أكثر من كذا و كذا
حدیث نمبر: 13582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْوِصَالِ ، قَالَ : فَقِيلَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَجُلًا رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَكِرَ ، فَأَمَرَ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا ، فَجَلَدَهُ كُلُّ رَجُلٍ جَلْدَتَيْنِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا گیا جس نے نشہ کیا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً بیس آدمیوں کو حکم دیا اور ان میں سے ہر ایک نے اسے دو دو شاخیں یا جوتے مارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، فَإِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَكِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم زوال شمس سے قبل سفر پر روانہ ہوتے تو نماز ظہر کو نماز عصر تک مؤخر کردیتے، پھر اتر کر دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر سفر پر روانہ ہونے سے پہلے زوال کا وقت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز ظہر پڑھتے، پھر سوار ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1112، م: 704
حدیث نمبر: 13585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوَسِّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ ، وَيَنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہوجائے، اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6067، م: 2557، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد
حدیث نمبر: 13586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ قُرَّةَ ، وَعُقَيْلٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ ، الْتَمَسَ مَعَهُ وَادِيًا آخَرَ ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6440، م: 1048، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين ابن سعد
حدیث نمبر: 13587
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا الشَّيْبَ ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ السَّوَادَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالوں کی سفیدی کو بدل دیا کرو، لیکن کالے رنگ کے قریب بھی نہ جانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 13589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ ، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ منافق نماز عصر کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 622
حدیث نمبر: 13590
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُطَوَّلُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ ، فَيَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ ، فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ ، فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا إِبْرَاهِيمُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ ، قَالَ : فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى ، رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا ، فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، فَإِنَّهُ قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ ، وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَيَقُولُ عِيسَى : أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ ، هَلْ كَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، قَالَ : فَإِنَّ مُحَمَّدًا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَيَأْتُونِي ، فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَلِيَقْضِ بَيْنَنَا ، قَالَ : فَأَقُولُ : نَعَمْ ، فَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ ، فَأَسْتَفْتِحُ ، فَيُقَالُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَأَقُولُ : مُحَمَّدٌ ، فَيُفْتَحُ لِي ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي ، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ بَعْدِي ، فَيَقُولُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ مِنْكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، قَالَ : فَأُخْرِجُهُمْ ، ثُمَّ أَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي ، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ بَعْدِي ، فَيُقَالُ لِي : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، قَالَ : فَأُخْرِجُهُمْ ، قَالَ : ثُمَّ أَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، قَالَ : فَأُخْرِجُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم ! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کردیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کردیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سر اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار ! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ چنانچہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو اور جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4476، م: 193
حدیث نمبر: 13591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ حِينَ مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ لَهَا : تَبْكِينَ ؟ فَقَالَتْ : " إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي انْقَطَعَ عَنَّا مِنَ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ رونے لگیں، کسی نے پوچھا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، میں تو اس وحی پر رو رہی ہوں جو منقطع ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2454
حدیث نمبر: 13592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ ، وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُعَادَ فِي الْكُفْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 21، م: 43
حدیث نمبر: 13593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِي ، مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے سرخ ٹیلے کے قریب گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2375
حدیث نمبر: 13594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى أُمَّ حَرَامٍ ، فَأَتَيْنَاهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ ، فَقَالَ : " رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ ، وَهَذَا فِي سِقَائِهِ ، فَإِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : ثُمَّ " قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا ، فَأَقَامَ أُمَّ حَرَامٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا ، وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فِيمَا يَحْسَبُ ثَابِتٌ ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا تَطَوُّعًا عَلَى بِسَاطٍ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً ، خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ ، فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَلَا الْآخِرَةِ ، إِلَّا دَعَا لِي بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ ، وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَأَخْبَرَتْنِي ابْنَتِي أَنِّي قَدْ دَفَنْتُ مِنْ صُلْبِي بِضْعًا وَتِسْعِينَ ، وَمَا أَصْبَحَ فِي الْأَنْصَارِ رَجُلٌ أَكْثَرَ مِنِّي مَالًا ، ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ : يَا ثَابِتُ ، مَا أَمْلِكُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا خَاتَمِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو ، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ چھوڑی جو میرے لئے نہ مانگی ہو اور فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، چنانچہ اس کے بعد انصار میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ مالدار نہ تھا، حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی انگوٹھی کے علاوہ کسی سونا چاندی کے مالک نہ تھے اور خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بڑی بیٹی امینہ نے بتایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے آنے تک میری نسل میں سے ایک سو بیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1982، م: 2480
حدیث نمبر: 13595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّئُونَ ، وَبَقِيَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ ، وَكَانَتْ مَنَازِلُهُمْ بَعِيدَةً ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ فِيهِ مَاءٌ مَا هُوَ بِمَلْآنَ ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ ، وَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ : تَوَضَّئُوا ، حَتَّى تَوَضَّئُوا كُلُّهُمْ ، وَبَقِيَ فِي الْمِخْضَبِ نَحْوُ مَا كَانَ فِيهِ ، وَهُمْ نَحْوُ السَّبْعِينَ إِلَى الْمِائَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 13596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، يَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا ، وَيَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا . فَقَالَ " قُولُوا بِقَوْلِكُمْ ، وَلَا يَسْتَجِرَّكُمْ الشَّيْطَانُ أَوْ : الشَّيَاطِينُ ، قَالَ إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ ، أَنَا مُحَمَّدُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں، بخدا ! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 264
حدیث نمبر: 13598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں مسواک کرنے کا حکم کثرت سے دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 888
حدیث نمبر: 13599
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، قَالَ : ثُمَّ يَهَجَاهُ : ك ف ر ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2923
حدیث نمبر: 13600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ ، وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5463
حدیث نمبر: 13601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا ، ثُمَّ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی، پھر اسے ترک کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی، پھر اسے ترک کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1001، م: 677، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13603
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ ، فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ وَيَسْحَبُهَا ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا ثُبُورَهُ ، وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : يَا ثُبُورَهُمْ ، حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ ، وَيَقُولُ : يَا ثُبُورَاهُ ، وَيَقُولُونَ : يَا ثُبُورَهُمْ ، فَيُقَالُ : لا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا سورة الفرقان آية 14 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن عاصم
حدیث نمبر: 13604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : أَظُنُّهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ أَشَدُّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْ فِئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ہی مشرکین کے کئی لوگوں سے بھاری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، وشكه فيه لايضر، فقد رواه عن أنس بغير شك كما برقم: 12095
حدیث نمبر: 13605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، فَلَمَّا رَأَى شِدَّةَ ذَلِكَ عَلَى المسلمين ، قَالَ : إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، لَا خَيْرَ فِيمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے تو فرمایا ٹخنوں تک کرلو، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کان کی لو سے آگے نہ بڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ ، وَآيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 17، م: 74
حدیث نمبر: 13608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ ، قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَمَعَهُمْ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ قَالُوا : هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ ، فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
حدیث نمبر: 13609
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَأَعْطَى قُرَيْشًا ، إِنَّ هَذَا الْعَجَبُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَنَسًا وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ ، قَالَ : فَقَالَ يَوْمًا : كُلُوا ، " فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا رَقِيقًا ، وَلَا شَاةً سَمِيطًا ، حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5385
حدیث نمبر: 13611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَلْيَنْصَرِفْ ، فَلْيَنَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 213
حدیث نمبر: 13612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3187
حدیث نمبر: 13613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل پکنے سے پہلے، کشمش (انگور) سیاہ ہونے سے پہلے اور گندم کا دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13614
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا قَالَ : أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، وَعَنْ هَذِهِ الْأَنْبِذَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ : " أَلَا إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقُلُوبَ ، وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ ، فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يَبْتَغُونَ أَدَمَهُمْ ، وَيُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ ، وَيَرْفَعُونَ لِغَائِبِهِمْ ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ ، مَنْ شَاءَ أَوْكَى سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں یعنی قبرستان جاتے، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا تھا، پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، اب ان کے بارے میں میری رائے واضح ہوگئی ہے، میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب میرے رائے یہ ہوئی ہے کہ اس سے دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اس لئے قبرستان جایا کرو، لیکن بےہودہ گوئی مت کرنا، اسی طرح میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے مہمانوں کو یہ گوشت تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور غائبین کے لئے محفوظ کر کے رکھتے ہیں، اس لئے تم جب تک چاہو، اسے رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں ان برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، پی سکتے ہو، البتہ کوئی نشہ آور چیز مت پینا، اب جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ کی چیز پر بند کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى بن الحارث
حدیث نمبر: 13616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ ، فَقَالَ : كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : بَلْ حُمَّى تَفُورُ ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دیہاتی کی عیادت کے لئے اس کے پاس تشریف لے گئے " جسے بخار چڑھ گیا تھا " اور فرمایا کہ ان شاء اللہ یہ بخار تمہارے گناہوں کا کفارہ اور باعث طہارت ہوگا، وہ دیہاتی کہنے لگا کہ نہیں، یہ تو جوش مارتا ہوا بخار ہے جو ایک بوڑھے آدمی پر آیا ہے اور اسے قبر دکھا کر ہی چھوڑے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اسے چھوڑا اور کھڑے ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وله شاهد من حديث ابن عباس فى البخاري:3616