حدیث نمبر: 13537
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَلْقَى رَجُلًا ، فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ ، كَيْفَ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : بِخَيْرٍ ، أَحْمَدُ اللَّهَ ، فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ ؟ فَقَالَ : بِخَيْرٍ ، إِنْ شَكَرْتُ ، قَالَ : فَسَكَتَ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي ، فَتَقُولُ : جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي ، فَقَالَ لَهُ : " إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ ، فَتَقُولُ : بِخَيْرٍ ، أَحْمَدُ اللَّهَ ، فَأَقُولُ : جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ ، قُلْتَ : إِنْ شَكَرْتُ ، فَشَكَكْتَ ، فَسَكَتُّ عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے دریافت فرماتے کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ اور وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا کہ الحمدللہ ! خیریت سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواباً فرما دیتے کہ اللہ تمہیں خیریت ہی سے رکھے، ایک دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب معمول اس سے سوال پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ خیریت سے ہوں بشرطیکہ شکر کروں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی ! پہلے تو جب آپ مجھ سے میرا حال دریافت کرتے تھے تو مجھے دعاء دیتے تھے کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، آج آپ خاموش ہوگئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے میں تم سے سوال کرتا تھا تو تم یہ کہتے تھے کہ الحمدللہ ! خیریت سے ہوں، اس لئے میں جواباً کہہ دیتا تھا کہ اللہ تمہیں خیریت سے رکھے، لیکن آج تم نے کہا کہ " اگر میں شکر کروں " تو مجھے شک ہوگیا اس لئے میں خاموش ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن إسماعيل، والصحيح أنه مرسل
حدیث نمبر: 13538
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ ، أَوْ : مِنْ أَعْلَمْ النَّاسِ بِآيَةِ الْحِجَابِ ، تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ ، فَذَبَحَ شَاةً ، فَدَعَا أَصْحَابَهُ ، فَأَكَلُوا وَقَعَدُوا يَتَحَدَّثُونَ ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ وَيَدْخُلُ وَهُمْ قُعُودٌ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَيَرْجِعُ وَهُمْ قُعُودٌ ، وَزَيْنَبُ قَاعِدَةٌ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا ، فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا سورة الأحزاب آية 53 الْآيَاتُ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53 ، قَالَ : " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَابٍ مَكَانَهُ ، فَضُرِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت فرمائی تھی اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں، لیکن وہ بیٹھے رہے بار بار ایسا ہی ہوا، ادھر حضرت زینب رضی اللہ عنہ ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کچھ کہتے ہوئے حجاب محسوس ہوا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے اہل ایمان ! پیغمبر کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک تمہیں کھانے کے لئے بلایا نہ جائے "، نیز اس کے پکنے کا انتظار نہ کیا کرو، البتہ جب تمہیں بلایا جائے تو چلے جاؤ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر پردہ گرا دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4792، م: 1428، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 13539
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ ، قَالَ : وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ ، فَمَنَعَتْهُ ، فَوَثَبَ ، فَدَخَلَ ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَى مَنْكِبِهِ ، وَعَلَى عَاتِقِهِ ، قَالَ : فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُحِبُّهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ بِهِ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ ، فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ ، فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا " ، قَالَ : قَالَ ثَابِتٌ : بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے ! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وهو يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير ، و مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 13540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا ، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " ، قَالَ حَمَّادٌ : وَزَادَ فِيهَا حُمَيْدٌ : لَا يُحْمَلُ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 13541
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ ، فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ ، إِلَّا قَالَ : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام کی حالت میں فوت ہوجائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھروں کے لوگ اس کے حق میں بہتری کی گواہی دے دیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کے متعلق تمہارے علم کو قبول کرلیا اور جو تم نہیں جانتے، اسے معاف کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل ، والحديث بهذه السياقة غير محفوظ، والمحفوظ كما سيأتي برقم: 13572
حدیث نمبر: 13542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ ، وَإِنَّ أَهْلَ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں، قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع فيما سلف برقم: 12279
حدیث نمبر: 13543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنْ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6242، م: 2157
حدیث نمبر: 13544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع
حدیث نمبر: 13545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ يَعْنِي بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
حدیث نمبر: 13546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِ ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا عَلَى بِسَاطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس وقت ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے چٹائی پر تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْ : إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَغَدَّى عِنْدَنَا ، فَافْعَلْ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ فَبَلَّغْتُهُ ، فَقَالَ : وَمَنْ عِنْدِي ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : انْهَضُوا ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَأَنَا مُدْهَشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : مَا صَنَعْتَ يَا أَنَسُ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ ، قَالَ : " هَلْ عِنْدَكِ سَمْنٌ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَدْ كَانَ مِنْهُ عِنْدِي عُكَّةٌ ، وفِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ ، قَالَ : فَأْتِ بِهَا ، قَالَتْ : فَجِئْتُهُ بِهَا ، فَفَتَحَ رِبَاطَهَا ، ثُمَّ قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ فِيهَا الْبَرَكَةَ ، قَالَ : فَقَالَ : اقْلِبِيهَا ، فَقَلَبْتُهَا ، فَعَصَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسَمِّي ، قَالَ : فَأَخَذْتُ نَقْعَ فِدَرٌ ، فَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا ، فَفَضَلَ فِيهَا فَضْلٌ ، فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر کہو کہ اگر آپ ہمارے ساتھ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو آجائیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پیغام دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی ؟ میں نے کہہ دیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اٹھو، ادھر میں جلدی سے گھر پہنچا اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے لوگ ہونے کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے پوچھا انس ! تمہیں کیا ہوا ؟ اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں تشریف لے آئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہارے پاس گھی ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ میرے پاس گھی کا ڈبہ ہے جس میں تھوڑا سا گھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ۔ میں وہ ڈبہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ڈھکن کھولا اور بسم اللہ پڑھ کر یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! اس میں خوب برکت پیدا فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اسے اٹھاؤ، انہوں نے اسے اٹھایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے گھی نچوڑنے لگے اور اس دوران بسم اللہ پڑھتے رہے اور ایک ہنڈیا کے برابر گھی نکل آیا، اس سے اسی سے بھی زائد لوگوں نے کھانا کھالیا لیکن وہ پھر بھی بچ گیا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا اور فرمایا کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے پڑوسیوں کو بھی کھلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاکر خ: 5450، م: 2040
حدیث نمبر: 13548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ مِنْ بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، " فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ . فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ، مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس آ رہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3367، م: 1365
حدیث نمبر: 13549
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ أَخُو ابْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : وَمَا يَذْكُرُونَ إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56 ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ رَبُّكُمْ : " أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى أَنْ يُجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ ، وَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ ، فَهُوَ أَهْلٌ لِأَنْ أَغْفِرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت '' ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ " تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا ہے، میں اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی کو معبود نہ بنایا جائے جو میرے ساتھ کسی کو معبود بنانے سے ڈرتا ہے وہ اس بات کا اہل ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سهيل ابن أبى حزم القطعي
حدیث نمبر: 13550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
حدیث نمبر: 13551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1095
حدیث نمبر: 13552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ ، لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048
حدیث نمبر: 13553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ طَيْرٌ ، أَوْ إِنْسَانٌ ، أَوْ بَهِيْمَةٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
حدیث نمبر: 13554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ دَابَّةٌ ، أَوْ إِنْسَانٌ ، ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے، یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَذَكَرَ رَجُلًا عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : " اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ ، قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ ، وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ ، وَتَقْبَلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ ، قَالَ : فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ الْغَمِّ ، قَالَ : فَعَفَا عَنْهُمْ ، وَقَبِلَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ ، قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق لوگوں سے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر قدرت عطاء فرمائی ہے (اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کی گردنیں اڑا دوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سے اعراض کر کے دوبارہ فرمایا لوگو ! اللہ نے تمہیں ان پر قدرت عطاء فرمائی ہے، کل یہ تمہارے ہی بھائی تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کی گردنیں اڑا دوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سے اعراض کر کے تیسری مرتبہ پھر اپنی بات دہرائی، اس مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں معاف کر کے ان سے فدیہ قبول کرلیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے غم کی کیفیت دور ہوگئی اور انہیں معاف کر کے ان سے فدیہ قبول کرلیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي، ولم يقع لنا عند غير الإمام أحمد من حديث أنس، ويشهد له حديث عمر: 208، وهو عند مسلم: 1763
حدیث نمبر: 13556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
حدیث نمبر: 13557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا مُتَوَشِّحًا بِثَوْبٍ ، قَالَ : أَظُنُّهُ قَالَ : بُرْدًا ، ثُمَّ دَعَا أُسَامَةَ ، فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى نَحْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أُسَامَةُ ، ارْفَعْنِي إِلَيْكَ ، قَالَ يَزِيدُ : وَكَانَ فِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعِي ، عَنْ أَنَسٍ ، فَلَمْ يَقُلْ : عَنْ أَنَسٍ ، وَأَنْكَرَهُ ، وَأَثْبَتَ ثَابِتًا .
مولانا ظفر اقبال
ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں اپنے جسم مبارک پر ایک کپڑا لپیٹ کر بیٹھ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اپنی پشت کو ان کے سینے سے لگایا اور فرمایا اسامہ ! مجھے اٹھاؤ۔ راوی یزید کہتے ہیں کہ میری کتاب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا نام بھی تھا ( کہ یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) لیکن استاذ صاحب نے اسے منکر قرار دیا اور ثابت ہی کے نام سے اسے محفوظ قرار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات رجال الشیخین، فإکان أنس محفوظ فیہ فالإسناد متصل صحیح، و انظر ما قبله
حدیث نمبر: 13558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَخَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ ، وَلْيَقْضِ مَا سُبِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
حدیث نمبر: 13559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ صَاحِبُ الطَّعَامِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ وَلَيْسَ بِجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ ، فَقَالَ : وَمَا الْمَيْسَرَةُ ؟ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ ؟ وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ ، وَلَا رَاغِيَةٌ ، فَرَجَعْتُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآنِي ، قَالَ : " كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ ، أَنَا خَيْرُ مَنْ بَايَعُ ، لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ ، أَوْ : فِي أَمَانَتِهِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بھیج دے جو میسرہ کی طرف ہیں، چنانچہ میں نے اس کے پاس جا کر اس سے یونہی کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کپڑے بجھوا دو جو میسرہ کی طرف ہیں، اس نے کہا کون میسرہ ؟ کب کا میسرہ ؟ بخدا ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بھی بکری یا چرواہا نہیں ہے، میں یہ سن کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا دشمن اللہ نے جھوٹ بولا ہے، میں سب سے بہترین خریدو فروخت کرنے والا ہوں، تم میں سے کوئی شخص کپڑے کی کتریں جمع کر کے ان کا کپڑا بنا کر پہن لے، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ کسی امانت میں سے ایسی چیز پر قبضہ کرلے جس کا اسے حق نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى سلمة صاحب الطعام و جابر بن يزيد، وقال أبو حاتم فى العلل: هذا حديث منكر
حدیث نمبر: 13560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 129
حدیث نمبر: 13561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ ، وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : يَا بَنِي النَّجَّارِ ، ثَامِنُونِي بِهِ ، فَقَالُوا : لَا نَبْتَغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَطَعَ النَّخْلَ ، وَسَوَّى الْحَرْثَ ، وَنَبَشَ قُبُورَ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ ، وَفِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُمْ يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ : اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عواف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر بنو نجار کے سرداروں کو بھلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے اردگرد تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء میں جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار ! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کرلو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کردیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیئے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جارہے تھے کہ اے اللہ ! اصل تو آخرت کی ہے، اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 234، م: 524
حدیث نمبر: 13562
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُحْشَرُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ ، فَيَقُولُونَ : لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ أَبُونَا ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ : أَكْلَهُ مِنَ الشَّجَرَةِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْهَا ، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ ، قَالَ : فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ : سُؤَالَهُ اللَّهَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ : ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ كَذَبَهُنَّ : قَوْلَهُ : إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 ، وَقَوْلَهُ : بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 ، وَأَتَى عَلَى جَبَّارٍ مُتْرَفٍ ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ ، فَقَالَ : أَخْبِرِيهِ أَنِّي أَخُوكِ ، فَإِنِّي مُخْبِرُهُ أَنَّكِ أُخْتِي ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى ، عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ ، وقَالَ : فَيَأْتُونَ مُوسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ : قَتْلَهُ الرَّجُلَ ، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ ، وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ هُنَاكُمْ ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَا تَأَخَّرَ . قَالَ : فَيَأْتُونِي ، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فِي دَارِهِ ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ، ثُمَّ يَقُولُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ مُحَمَّدُ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَ . فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجُهُمْ فَأُدْخِلُهُمْ في الْجَنَّةَ ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي الثَّانِيَةَ ، فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ، ثُمَّ يَقُولُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ مُحَمَّدُ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَ ، قَالَ : فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجُهُمْ ، فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ، قَالَ هَمَّامٌ : وَأَيْضًا سَمِعْتُهُ يَقُولُ : فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ . قَالَ : ثُمَّ أَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي الثَّالِثَةَ ، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا ، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ، ثُمَّ يَقُولُ : ارْفَعْ مُحَمَّدُ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَ . فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِثَنَاءٍ وَتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ، ثُمَّ أَشْفَعُ ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ، فَأُخْرِجُ ، فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ، قَالَ هَمَّامٌ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ ، فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ، فَلَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ " ، أَيْ : وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ، ثُمَّ تَلَا قَتَادَةُ : عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79 ، قَالَ : هُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم ! آپ ابوالبشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کردیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم علیہ السلام جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چنانچہ وہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کردیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی معذرت کرلیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سر اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ رب العزت کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار ! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ یعنی ان کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہے، پھر قتادہ نے آیت مقام محمود کی تلاوت کر کے اسی کو مقام محمود قرار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: « فى داره » فقد تفرد بهذا اللفظ همام بن يحيى عن قتادة ، و ذكر بعض أهل العلم: أن فى حفظ همام شيئا، وقد يقع له أخطاء فى روايته، خ: 7440، م: 193
حدیث نمبر: 13563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4382، م: 2419
حدیث نمبر: 13564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يَضْرِبُ شَعَرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5903، م: 2338
حدیث نمبر: 13565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا : " كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعًا : عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَتَهُ حِينَ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مرتبہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1778، م: 1253
حدیث نمبر: 13566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا ، قَالَ : فَاسْتَسْقَى ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً ، قَالَ : فَأُمْطِرْنَا ، فَمَا جَعَلَتْ تُقْلِعُ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ ، قَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا ، قَالَ : فَدَعَا ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى السَّحَابِ يُسْفِرُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَلَا يُمْطِرُ مِنْ جَوْفِهَا قَطْرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب بارش شروع ہوئی تو رکتی ہوئی نظر نہ آئی، جب اگلا جمعہ ہوا تو اسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکنے کی دعاء کردیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی اور میں نے دیکھا کہ بادل دائیں بائیں چھٹ گئے اور مدینہ کے اندر ایک قطرہ بھی نہیں ٹپک رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1015، م: 897
حدیث نمبر: 13567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
حدیث نمبر: 13568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَتْ نَعْلُهُ لَهَا قِبَالَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5857
حدیث نمبر: 13569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : قَالَ أَبِي : وَقَدْ رَأَيْتُ خَلَفَ بْنَ خَلِيفَةَ ، وَقَدْ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ : يَا أَبَا أَحْمَدَ ، حَدَّثَكَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، قَالَ أَبِي : فَلَمْ أَفْهَمْ كَلَامَهُ ، كَانَ قَدْ كَبِرَ فَتَرَكْتُهُ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ ، وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا ، وَيَقُولُ : تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ ، إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کرنے کا حکم دیتے اور اس سے اعراض کرنے کی شدید ممانعت فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ محبت کرنے والی اور بچوں کی ماں بننے والی عورت سے شادی کیا کرو کہ میں قیامت کے دن دیگر انبیاء (علیہم السلام) پر تمہاری کثرت سے فخر کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ ، فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا اللَّهَ ؟ قَالَ : فَقَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعاء پڑھی ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) " اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي إِمَامُكُمْ ، فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ ، وَلَا بِالسُّجُودِ ، وَلَا بِالْقِيَامِ ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ ، وَمِنْ خَلْفِي ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا رَأَيْتَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 13572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ قَالَ : أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر فرمایا تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2642، م: 949
حدیث نمبر: 13573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أَمْلَى عَلَيْهِ : سَمِيعًا ، يَقُولُ : كَتَبْتُ سَمِيعًا بَصِيرًا ، قَالَ : دَعْهُ ، وَإِذَا أَمْلَى عَلَيْهِ : عَلِيمًا حَكِيمًا ، كَتَبَ : عَلِيمًا حَلِيمًا ، قَالَ حَمَّادٌ : نَحْوَ ذَا ، قَالَ : وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ ، وَكَانَ مَنْ قَرَأَهُمَا قَدْ قَرَأَ قُرْآنًا كَثِيرًا ، فَذَهَبَ فَتَنَصَّرَ ، فَقَالَ : لَقَدْ كُنْتُ أَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ مَا شِئْتُ ، فَيَقُولُ : دَعْهُ ، فَمَاتَ ، فَدُفِنَ ، فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا " ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مَنْبُوذًا فَوْقَ الْأَرْضِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے " سمیعاً " لکھواتے اور وہ اس کی جگہ " سمیعاً بصیراً " لکھ دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اس اس طرح لکھو، لیکن وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے " علیما " لکھواتے تو وہ اس کی جگہ " علیما حکیما " لکھ دیتا، کچھ عرصے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں تم سب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا، جب وہ آدمی مرا تو اسے دفن کیا گیا تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اس جگہ پر گئے تھے جہاں وہ آدمی مرا تھا، انہوں نے اسے باہر پڑا ہوا پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781
حدیث نمبر: 13574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ ، وَعُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ ، وَسُهَيْلَ بْنَ عَمَرٍو فِي الْآخِرِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، وَهُمْ يَذْهَبُونَ بِالْمَغْنَمِ ! فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَتَّى فَاضَتْ ، فَقَالَ : أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ قَالُوا : لَا ، إِلَّا ابْنُ أُخْتِنَا ، قَالَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أَنْتُمْ الشِّعَارُ وَالنَّاسُ الدِّثَارُ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى دِيَارِكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَهُمْ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " ، وَقَالَ حَمَّادٌ : أَعْطَى مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، يُسَمِّي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059
حدیث نمبر: 13575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ ، وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ ، فَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ، قَالَ : فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ ، قَالَ : وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصْلِحُهَا وَتُهَيِّئُهَا ، وَهِيَ صَفِيَّةُ ابْنَةُ حُيَيٍّ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ ، وَالْأَقِطَ ، وَالسَّمْنَ ، قَالَ : فُحِصَتْ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ ، قَالَ : وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ ، فَوُضِعَتْ فِيهَا ، ثُمَّ جِيءَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ ، فَشَبِعَ النَّاسُ ، قَالَ : وَقَالَ النَّاسُ : مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا ، أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ ! فَقَالُوا : إِنْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ ، حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ وَدَفَعْنَا ، قَالَ : فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ ، قَالَ : فَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ ، قَالَ : فَقَامَ فَسَتَرَهَا ، قَالَ : وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ ، فَقُلْنَ : أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِي وَاللَّهِ ، لَقَدْ وَقَعَ ، وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، وَكَانَ يَبْعَثُنِي ، فَأَدْعُو النَّاسَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ ، وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ ، لَمْ يَخْرُجَا ، فَجَعَلَ يَمُرُّ بِنِسَائِهِ ، يُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ : سَلَامٌ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ ، كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ ؟ فَيَقُولُ : بِخَيْرٍ ، فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدْ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ ، أَوْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ ، أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ الْحِجَابَ هَذِهِ الْآيَاتِ : لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53 حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کردیا، وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ جو بہت خوبصورت تھیں، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے کے لئے کھجوریں، پنیر اور گھی جمع کیا، اس کا حلوہ تیار کیا گیا اور دستر خوان بچھا کر اسے دستر خوان پر رکھا گیا، لوگوں نے سیراب ہو کر اسے کھایا، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے ؟ لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گرگئے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی گرگئیں، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں، وہ کہنے لگیں کہ اللہ اس یہودیہ کو دو کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا، میں نے پوچھا اے ابوحمزہ ! کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرگئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم ! گرگئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ولیمے میں بھی موجود تھا اور اس نکاح کے ولیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، باقی تو سب کھاپی کر چلے گئے، لیکن دو آدمی کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی گھر سے باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے میں بھی نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت گذارنے کے لئے باری باری اپنی ازواج مطہرات کے حجروں میں جاتے اور انہیں سلام کرتے، وہ پوچھتیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بیوی کو کیسا پایا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بہت اچھا، پھر جب اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو وہ بیٹھے ہوئے اسی طرح باتیں کر رہے تھے، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور چلے گئے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوگئے، میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1428
حدیث نمبر: 13576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ ، أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ ، فَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 ، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ ، قَالَتِ الْيَهُودُ : مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ ، فَجَاءَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا ، أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا ، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو ایام آتے تو وہ لوگ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے ہوتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ " یہ لوگ آپ سے ایام والی عورت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ ایام بذات خود بیماری ہے، اس لئے ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کی قربت نہ کرو " یہ آیت مکمل پڑھنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحبت کے علاوہ سب کچھ کرسکتے ہو، یہودیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ یہ آدمی تو ہر بات میں ہماری مخالفت کر رہا ہے۔ پھر حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی ایسے ایسے کہہ رہے ہیں، کیا ہم اپنی بیویوں سے قربت بھی نہ کرلیا کریں ؟ (تاکہ یہودیوں کی مکمل مخالفت ہوجائے) یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہوگئے ہیں، وہ دونوں بھی وہاں سے چلے گئے، لیکن کچھ ہی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے دودھ کا ہدیہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور انہیں وہ پلا دیا، اس طرح وہ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 302