حدیث نمبر: 13497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، قَالَ : وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ ، وَلَا صَاعُ تَمْرٍ " ، وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ . وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ ، أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا ، فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے اور اسے چھڑانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048
حدیث نمبر: 13499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مِنْ لَدُنْ كَذَا إِلَى كَذَا ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، قَالَ : وَقَالَ الْحَسَنُ : إِلَّا لِعَلَفِ بَعِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو اس جگہ سے اس جگہ تک حرم قرار دیا تھا اور فرمایا تھا جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1867، م: 1367
حدیث نمبر: 13500
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
حدیث نمبر: 13501
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَبْتَلِيهِ اللَّهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ لِلْمَلَكِ : اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ ، فَإِنْ شَفَاهُ اللَّهُ ، غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ ، وَإِنْ قَبَضَهُ ، غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے بھی نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کرچکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلالے تو اس کی مغفرت کردیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ ، فَدَعَا رِجَالًا عَلَى الطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون سے نکاح کیا اور لوگوں کو کھانے کی دعوت پر بلا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5170، م: 1428
حدیث نمبر: 13503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَوْ بِلَالًا كَانَ يُقِيمُ ، فَيَدْخُلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسْتَقْبِلُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى تَخْفِقَ عَامَّتُهُمْ رُؤُوسُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات مؤذن اقامت کہتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو سامنے سے ایک آدمی اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے ہوجاتے، حتیٰ کہ اکثر لوگوں کے سر اونگھ سے ہلنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان
حدیث نمبر: 13504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا عَلَا نَشْزًا مِنَ الْأَرْضِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الشَّرَفُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ ، وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ٹیلے پر یا بلند جگہ پر چڑھتے تو یوں کہتے کہ اے اللہ ! ہر بلندی پر تیری بلندی ہے اور ہر تعریف پر تیری تعریف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمارة بن زاذان وزياد النميري
حدیث نمبر: 13505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَطُوفُ عَلَى تِسْعِ نِسْوَةٍ فِي ضَحْوَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مطر الوراق لم يسمع من أنس
حدیث نمبر: 13506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 947، م: 1365
حدیث نمبر: 13507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، فَأَخَذَ مِشْقَصًا أَوْ مَشَاقِصَ ، شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ ، ثُمَّ مَشَى إِلَيْهِ ، فَجَعَلَ يَخْتِلُهُ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، لَيَطْعَنُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی لے کر اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کنگھی اسے دے ماریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6242، م: 2157
حدیث نمبر: 13508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شَعَرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ ، فَأَخَذَ شَعَرَهُ ، وَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَ : فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنے خوشبو میں ڈال کر ہلایا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، یہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر کا واقعہ ہے اور ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی تھیں اور غالباً ٰیہ بھی فرمایا کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا، بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی اور فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:660
حدیث نمبر: 13510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَالْحَسَنِ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَصَلَّى بِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لئے باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر روئی کا کپڑا تھا، جس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال رکھے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حديث أنس صحيح، وأما حديث الحسن البصري فمرسل
حدیث نمبر: 13511
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، خَيْرَ مَنْزِلٍ ، فَيَقُولُ لَهُ : سَلْ وَتَمَنَّهْ ، فَيَقُولُ : مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا ، فَأُقْتَلَ ، لِمَا رَأَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ ، قَالَ : ثُمَّ يُؤْتَى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَقُولُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، شَرَّ مَنْزِلٍ ، فَيَقُولُ : أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : كَذَبْتَ ، قَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَقُلُّ مِنْ ذَلِكَ ، فَلَمْ تَفْعَلْ ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا ؟ وہ جواب دے گا پروردگار ! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسویں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا ؟ وہ کہے گا پروردگار ! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چنانچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، وَعُمَرُ ، وَنَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ ، حَتَّى دَخَلَ دَارَنَا ، فَحُلِبَتْ لَهُ شَاةٌ ، وَشُنَّ عَلَيْهِ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا ، حَسِبْتُهُ قَالَ : فَشَرِبَ ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ ، وَعُمَرُ مُسْتَقْبِلُهُ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبُو بَكْرٍ ! فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ ، فَقَالَ : " الْأَيْمَنُونَ " ، قَالَ : فَقَالَ لَنَا أَنَسٌ : فَهِيَ سُنَّةٌ ، فَهِيَ سُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2571، م: 2029
حدیث نمبر: 13513
حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ خَشَفَةً ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الْخَشَفَةَ ؟ فَقِيلَ : هَذِهِ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ " ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ ، يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 13516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَمَّا صَوَّرَ آدَمَ ، تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَطِيفُ بِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ ، عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2611
حدیث نمبر: 13517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَة ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
حدیث نمبر: 13519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْعَتَهُ ، قَالَ : ثُمَّ سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ ، لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ ، أَزْهَرَ لَيْسَ بِالْآدَمِ ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ ، وَلَا الْأَمْهَقِ ، رَجِلَ الشَّعْرِ ، لَيْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا الْجَعْدِ الْقَطَطِ ، بُعِثَ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ ، أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا ، وَتُوُفِّيَ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً ، لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد نہ بہت زیادہ چھوٹا تھا اور نہ بہت زیادہ لمبا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی روشن تھی، رنگ گندمی تھا اور نہ ہی بالکل سفید، بال ہلکے گھنگھریالے تھے، مکمل سیدھے تھے اور نہ بہت زیادہ گھنگھریالے، چالیس برس کی عمر میں مبعوث ہوئے، دس سال مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا : دس سال مدینہ منورہ میں رہائش پذیر رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3547، م: 2347
حدیث نمبر: 13520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْكَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ثَبَجَ الْبَحْرِ أَوْ : ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ ، هُمْ الْمُلُوكُ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، أَوْ : كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کی ایک جماعت اس سطح سمندر پر سوار ہو کر (جہاد کے لئے جائے گی، وہ لوگ ایسے محسوس ہوں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2788، م: 1912
حدیث نمبر: 13521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا ، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ ، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 970، م: 1285
حدیث نمبر: 13522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " َشَهِدْتُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ ، فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَضْوَأَ مِنْهُ ، وَلَا أَحْسَنَ مِنْهُ ، وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَاتَ ، فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَقْبَحَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ ، أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَتَمَّ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ وَرَاءَهُ ، فَيُخَفِّفُ ، مَخَافَةَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کردیتے تھے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس کی ماں پریشان نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 708، م: 469
حدیث نمبر: 13524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 6369
حدیث نمبر: 13525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ ، " فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا ، قَالَ : هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس آرہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد كسابقه، خ: 3367، م: 1365
حدیث نمبر: 13526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا ، كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً ، أَوْ عَشِيَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1800، م: 1928
حدیث نمبر: 13527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، قَالُوا : وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ ، وَقَالَ : إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي ، وَمِنْ خَلْفِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو۔ کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 13528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ ، فَهَمَّ بِهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ لَهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا ، أَوْ قَالَ : مَعْرُوفًا ، اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " ، فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ ، وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ ، وَقَالَ : أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ ، فَتَرَكَهُ .
مولانا ظفر اقبال
علی بن زید کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کو انصار کے ایک سردار سے کوئی ایسی چیز پہنچی جس کی بناء پر مصعب نے اس سے سمجھنے کا ارادہ کرلیا، اسی اثناء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت پر عمل کرو، ان کی نیکوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگاروں سے درگذر کیا کرو، یہ سن کر مصعب نے اپنے آپ کو تخت پر گرا لیا اور اپنے رخسار کو تکیے سے لگا لیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر اور اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف على بن زيد بن جدعان و مؤمل، لكن مؤملا قد توبع
حدیث نمبر: 13529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا ، وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، " قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ الشَّيْطَانُ ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں، بخدا ! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے سے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 13530
حَدَّثَنَاه الْأَشْيَبُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، وَقَال : " وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ ، وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، مَهْ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ ؟ يَا عَائِشَةُ ، " لَمْ يَدْخُلْ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ یہودی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا " السام علیکم " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیچھے سے یہودیوں کا یہ جملہ سن کر فرمایا اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو ! سام (موت) اور اللہ کی لعنت و غضب تم ہی پر نازل ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکون کی تلقین کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! میں نے انہیں جو جواب دیا ہے، کیا تم نے نہیں سنا ؟ نرمی جس چیز میں بھی شامل ہوجائے، وہ اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل بن إسماعيل، والحديث بنحوه فى الصحيح: 6927 من رواية عائشة، وسيأتي فى المسند برقم: 24090
حدیث نمبر: 13532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، إِذْ " سَمِعَ رَجُلًا ، يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى الْفِطْرَةِ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَرَجَ هَذَا مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرت سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے " اشہد ان الا الہ الا اللہ " کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2944، م: 382، وهذا إسناد ضعيف الضعف مؤمل، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 13533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ ، فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا ، إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 13534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَتَزَوَّجُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا ، لَكِنِّي " أَصُومُ وَأُفْطِرُ ، وَأُصَلِّي وَأَنَامُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي ، فَلَيْسَ مِنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ایک گروہ میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5063، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع
حدیث نمبر: 13535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ جَالِسٌ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : " وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا فِي اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْبَرْتَهُ بِذَلِكَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : قُمْ فَأَخْبِرْهُ ، تَثْبُتْ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا " ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، أَوْ قَالَ : أُحِبُّكَ لِلَّهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی ! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 13536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْتَسْقِي ، فَبَسَطَ يَدَيْهِ ظَاهِرَهُمَا مِمَّا يَلِي السَّمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کے لئے دعاء کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ آسمان کی جانب کر کے ہاتھ پھیلا کر دعاء کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 896، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل، لكنه متابع