حدیث نمبر: 12060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : أَخبرنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ، قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ : عَلَيْنَا وَأَخَذَ بِيَدِي ، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ ، وَقَعَدَ فِي ظِلِّ حَائِطٍ أَوْ جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَبَلَّغْتُ الرِّسَالَةَ الَّتِي بَعَثَنِي فِيهَا ، فَلَمَّا أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ : مَا حَبَسَكَ ؟ ، قُلْتُ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، قَالَتْ : وَمَا هِيَ ؟ ، قُلْتُ : سِرٌّ ، قَالَتْ : احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ ، قَالَ : فَمَا حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا اور وہ پیغام پہنچا دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے کر مجھے بھیجا تھا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا ؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی وہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2482
حدیث نمبر: 12061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " أَسْلِمْ " ، قَالَ : أَجِدُنِي كَارِهًا ، قَالَ : " أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے اسلام قبول کرنے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پسند نہ بھی ہوتب بھی اسلام قبول کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 415 ، م: 552
حدیث نمبر: 12063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهُ مُنَاجٍ رَبَّهُ ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ " ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : فَلَا يَتْفُلُ أَمَامَهُ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 531 ، م: 551
حدیث نمبر: 12064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ أَتَاهُ رِعْلٌ ، وَذَكْوَانُ ، وَعُصَيَّةُ ، وَبَنُو لِحْيَانَ ، فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا ، فَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ ، فَأَمَدَّهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَوْمَئِذٍ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ أَنَسٌ : كُنَّا نُسَمِّيهِمْ فِي زَمَانِهِمْ الْقُرَّاءَ ، كَانُوا يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ ، وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ ، فَانْطَلَقُوا بِهِمْ ، حَتَّى إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ ، فَقَتَلُوهُمْ ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ ، وَبَنِي لِحْيَانَ " ، قَالَ : قَالَ قَتَادَةُ : وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِ قُرْآنًا ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا ، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ ، أَوْ رُفِعَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ رعل، ذکوان، عصبہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ تعاون کے لئے بھیج دیئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں "" قراء "" کہا کرتے تھے، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے، راستے میں جب وہ "" بیر معونہ "" کے پاس پہنچے انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصبہ اور بنولحیان کے قبائل پر بد دعا کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان صحابہ رضی اللہ عنہ کے یہ جملے کہ "" ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کردیا "" ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔"
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3064 ، م: 677
حدیث نمبر: 12065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَالْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ " ، وَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى ، قَالَ : " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دوران نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 750
حدیث نمبر: 12066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 822 ، م: 493
حدیث نمبر: 12067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ : " إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا ، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ ، فَأَتَجَاوَزُ فِي صَلَاتِي ، مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں، لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو میں اپنی نماز کو مختصر کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے کی وجہ سے کتنی پریشان ہو رہی ہوگی ؟۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 710 ، م: 470
حدیث نمبر: 12068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهُ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ يَعْنِي مَالِكًٍا ، قَالَ : وَلَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کر دو۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے جو حدیث پڑھی تھی، اس میں یہ بھی تھا کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہ تھے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1846 ، م: 1357
حدیث نمبر: 12069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ ؟ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا ، فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے خضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی کوئی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 970 ، م: 1285
حدیث نمبر: 12070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3251 والقائل : «فحدثت به أبي» هو سليم بن حيان، أبوه : حيان بن بسطام الهذلي البصري، وهذا لم يرو عنه سوى ابنه، وذكره ابن حبان فى الثقات، لكن حديث أبى هريرة صحيح من غير هذا الطريق، وقد سلف برقم: 7498، وهو فى البخاري برقم: 4881
حدیث نمبر: 12071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَأَنْ يُنْبَذَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے اور اس میں پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5587 ، م: 1992، وتحريم الانتباذ فى هذه الأوعية منسوخ، انظر: 13487، 13615
حدیث نمبر: 12072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ، فَأَرَادَ النَّاسُ أَنْ يَتَحَرَّكُوا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اثْبُتُوا ، وَأَلْقَى السَّجْفَ ، وَتُوُفِّيَ فِي آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ آخری نظر جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیر کے دن ڈالی، وہ اس طرح تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، لوگوں نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 754 ، م: 419
حدیث نمبر: 12073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6076 ، م: 2559
حدیث نمبر: 12074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى قَاعِدًا ، وَصَلَّيْنَا قُعُودًا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا " ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : " فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا ، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گرپڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اسی دوران نماز کا وقت آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، (جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو) جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 805 ، م: 411
حدیث نمبر: 12075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّاعَةِ ؟ ، فَقَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " ، قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ شَيْءٍ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ شَيْءٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 672 ، م: 557
حدیث نمبر: 12077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ ، وَكُنَّ أُمَّهَاتِي تَحُثُّنِي عَلَى خِدْمَتِهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا ، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ ، وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ ، وَعُمَرُ نَاحِيَةً ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ ، فَنَاوَلَ الْأَعْرَابِيَّ ، وَقَالَ : " الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ " ، وقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنوئیں میں پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایک کونے میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2352 ، م: 2029
حدیث نمبر: 12078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا ولیمہ کھجوروں اور ستو سے کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُهُمَا ، يَقُولَانِ : سَمِعْنَا أَنَسًا ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1089 ، م: 690
حدیث نمبر: 12080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ : أَهْلُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعَمَلُهُ ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ يَرجِع أَهْلُهُ وَمَالُهُ ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اس کے اہل خانہ، مال اور اعمال، دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہ جاتی ہیں، اہل خانہ اور مال واپس آجاتا ہے اور اعمال باقی رہ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6514 ، م: 2960
حدیث نمبر: 12081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ كَانَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ : مَرَّةً : فِي بَيْتِنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِهِمْ ، وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک یتیم بچے کے ساتھ " جو ہمارے گھر میں تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تھے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 727
حدیث نمبر: 12082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا ، أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 221 ، م: 284
حدیث نمبر: 12083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1547 ، م: 690
حدیث نمبر: 12084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَكَانُوا يَفْتَتِحُونَ بِ الْحَمْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قِيلَ : لِسُفْيَانَ يَعْنِي سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ ، يَقُولُ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : لَا ، حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کردیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاکہ آنکہ مجھ سے آملو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3794
حدیث نمبر: 12086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : صَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ قَالُوا : مُحَمَّدٌ ، وَالْخَمِيسُ ، مُحَمَّدٌ ، وَالْخَمِيسُ ، ثُمَّ أَحَالُوا يَسْعَوْنَ إِلَى الْحِصْنِ ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، فَأَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْقَرْيَةِ ، فَاطَّبَخْنَاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ " يَنْهَيَانِكُمْ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ " ، قَالَ سُفْيَانُ : مُحَمَّدٌ ، وَالْخَمِيسُ ، يَقُولُ : وَالْجَيْشُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، وہاں بستی میں ہمیں گدھے ہاتھ لگے، ہم نے انہیں پکا لیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں سے روکتے ہیں، کیونکہ یہ ناپاک اور شیطانی عمل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940
حدیث نمبر: 12087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ ، كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : فِيمَنْ نَزَلَتْ ؟ ، قَالَ : فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، اس لشکر کے لوگوں کا نام ہی " قراء " پڑگیا تھا اور ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے پروردگار سے راضی ہوگئے اور اس نے ہمیں خوش کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3064 ، م: 677
حدیث نمبر: 12088
(حديث موقوف) قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ عَاصِمًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12089
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَاصِمًا ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا " ، قَالَ سُفْيَانُ : كَأَنَّهُ يَقُولُ آخَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2294 ، م: 2529
حدیث نمبر: 12090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، وَكَانَ لَهُ حَادٍ ، يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسٍ مَعَهُمْ ، فَقَالَ : " يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجشہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6209 ، م: 2323
حدیث نمبر: 12091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْبَيْدَاءِ " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام بیداء میں حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک بعمرۃ وحجۃ معاً ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 12092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَابْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : " لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَنَحَرَ هَدْيَهُ ، حَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ " ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : " وَأَعْطَى الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ ، ثُمَّ حَلَقَ الْأَيْسَرَ ، فَأَعْطَاهُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی اور جانور کی قربانی کرچکے تو سینگی لگوائی اور وہاں کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو عام لوگوں کو دے دیئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1305
حدیث نمبر: 12093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَهْدَى أُكَيْدِرُ دُومَةَ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَعْنِي حُلَّةً ، فَأَعْجَبَ النَّاسَ حُسْنُهَا ، فَقَالَ : " لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ ، أَوْ أَحْسَنُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2616، م: 2469, وهذا اسناد ضعيف من أجل ابن جدعان، وهو على بن زيد ابن عبدالله، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12094
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ : قَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ : يَا أَنَسُ ، " مَسِسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَرِنِي أُقَبِّلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن جدعان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ثابت رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے انس ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو ثابت رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے وہ ہاتھ دکھائیے کہ میں اسے بوسہ دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 12095
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ مِنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز میں ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابن جدعان، وهو ضعيف، تابعه ثابت البناني فى الحديث الآتي برقم: 13105
حدیث نمبر: 12096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ قَاسِمٌ الرَّحَّالُ أَنَسًا ، يَقُولُ : دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ خَرِبًا لِبَنِي النَّجَّارِ ، وَكَانَ يَقْضِي فِيهَا حَاجَةً ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَسَأَلْتُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی ویرانے میں تشریف لے گئے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جایا کرتے تھے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے ہمارے پاس آئے اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُطِيفُ بِنِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ ، يَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ ، وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يقولان : سمعنا أنسا ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 1089 ، م: 690
حدیث نمبر: 12099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ ؟ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الْمُزَفَّتَةِ " ، وَقَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا الْمُزَفَّتَةُ ؟ ، قَالَ : الْمُقَيَّرَةُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَالرَّصَاصُ ، وَالْقَارُورَةُ ؟ ، قَالَ : مَا بَأْسٌ بِهِمَا ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا ! ، قَالَ : دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : صَدَقْتَ ، السُّكْرُ حَرَامٌ ، فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا ؟ ، قَالَ : مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ ، وَقَالَ : الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالذُّرَةِ ، فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ .
مولانا ظفر اقبال
مختار بن نوفل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " مزفت " سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا لک لگایا ہوا برتن، میں نے پوچھا کہ شیشی اور بوتل کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ لوگ تو انہیں اچھا نہیں سمجھتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ پھر جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو، کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ نے بجا فرمایا کہ نشہ حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد ایک دو گھونٹ پی لینے کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا نشہ آور چیز خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے اور فرمایا کہ شراب انگور سے بھی بنتی ہے، کھجور، شہد، گندم، جو اور مکئی سے بھی بنتی ہے، ان میں سے جس چیز سے بھی بنے، وہ بہر حال شراب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5587 ، م: 1992