حدیث نمبر: 13457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا ، وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ، حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ ، فَيَنْزَوِيَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَتَقُولُ : قَطْ قَطْ ، وَعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ ، وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ ، حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا ، فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دیں گے، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7384، م: 2848، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3251، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَا قَالَ هَذَا ؟ قَالُوا : سَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ قَالَ : رُدُّوهُ عَلَيَّ ، فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قُلْتَ السَّامُ عَلَيْكُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكَ " أَيْ : وَعَلَيْكَ مَا قُلْتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو گذرتے ہوئے سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے سلام کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، اس نے یہ کہا ہے، اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیکم " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی " کتابی " سلام کرے تو صرف " وعلیک " کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا ، وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اکٹھے سحری کی، سحری سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ سحری سے فراغت اور نماز کھڑی ہونے کے درمیان کتنا وقفہ تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ سکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1134، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سُئِلَ سَعِيدٌ عَنِ الْوِصَالِ ، فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا لَا تُوَاصِلُوا ، قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ، إِنَّ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ شَبَابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سَبْعِينَ رَجُلًا ، يُسَمَّونَ : الْقُرَّاءُ ، قَالَ : كَانُوا يَكُونُونَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا أَمْسَوْا انْتَحَوْا نَاحِيَةً مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَيَتَدَارَسُونَ وَيُصَلُّونَ ، يَحْسِبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ ، وَيَحْسِبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ عِنْدَ أَهْلِيهِمْ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، اسْتَعْذَبُوا مِنَ الْمَاءِ ، وَاحْتَطَبُوا مِنَ الْحَطَبِ ، فَجَاءُوا بِهِ ، فَأَسْنَدُوهُ إِلَى حُجْرَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا ، فَأُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتَلَتِهِمْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے ستر جوان تھے جنہیں قراء کہا جاتا تھا، وہ مسجد میں ہوتے تھے، جب شام ہوتی تو مدینہ کے کسی کونے میں چلے جاتے، سبق پڑھتے اور نماز پڑھتے تھے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے یہ سمجھتے کہ وہ گھر میں ہیں، صبح ہونے کے بعد وہ میٹھا پانی لاتے اور لکڑیاں کاٹتے اور انہیں لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس لٹکا دیتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو روانہ فرمایا اور وہ بئر معونہ کے موقع پر شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ دن تک فجر کی نماز میں ان کے قاتلوں پر بددعاء فرماتے رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر الحديثين التاليين، وقوله فى هذا الحديث: «فدعا النبى صلى الله عليه وسلم على قتلتهم خمسة عشر يوما» سلف التعليق عليه عند الحديث رقم: 13158
حدیث نمبر: 13463
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَتْ فِتْيَةٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13464
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ شَبَابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ : الْقُرَّاءَ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَبِيدَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13465
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَرَغَ مِنْهُ ، قَالَ : أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13466
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً ، وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ وَسَطٌ ، وَبَسَطَ عُمَرُ فِي قِرَاءَةِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 473
حدیث نمبر: 13467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ ، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ ، خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا ، فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ ، وَقَالَتْ : ابْنِي ابْنِي ، قَالَ : فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا، میرا بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھا لیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموش کروایا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : " مُرَّ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا بَالُ هَذَا ؟ قَالُوا : نَذَرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَمْشِيَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ ، فَرَكِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1865، م: 1642
حدیث نمبر: 13469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : انْتَهَى إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي غِلْمَانٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيَّ ، فَأَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ ، وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ أَوْ فِي جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ : مَا حَبَسَكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ ، قَالَتْ : وَمَا هِيَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهَا سِرٌّ ، قَالَتْ : " احْفَظْ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ بَعْدُ أَحَدًا قَطُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا اور وہ پیغام پہنچا دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے کر مجھے بھیجا تھا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا ؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی وہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2482
حدیث نمبر: 13470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا ، إِنَّ اللَّهَ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا : يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَسْتَحْمِلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ ، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي ! قَالَ : وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے ؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَنِ الدَّجَّالِ ، فقال : كان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706
حدیث نمبر: 13473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا ، قَالَ : كَانَ " يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا ، وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ، وَلَا نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
حدیث نمبر: 13474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أُوَيْسِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَدِيدِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَ ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ ماہ رمضان آگیا ہے، اس ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: متن الحدیث صحیح لکن من حدیث ابي ھریرہ، انظر: 7780، وأما إسناد حدیث أنس فضعیف، فإن ابن إسحاق مدلس، ولم یذکر ھنا أنہ سمعہ من الزھري
حدیث نمبر: 13475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَوْثَرِ ، فَقَالَ : " هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ ، تُرَابُهُ الْمِسْكُ ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، تَرِدُهُ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا مِثْلُ أَعْنَاقِ الْجُزُرِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ ؟ ! فَقَالَ : آَكِلُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کی مٹی مشک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًَا مِنْ ذَهَبٍ ، أَحَبَّ أَنَّ يَكُونَ لَهُ وَادِيانِ ، وَلَنْ يَمْلَأْ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6439
حدیث نمبر: 13477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَكَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : آنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ آنْتَ الشَّيْخُ الضَّالُّ ؟ قَالَ : فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : هَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ، أَوْ قَالَ : قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا ؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے ؟ کیا تو ہی گمراہ بڈھا ہے ؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3962، م: 1800
حدیث نمبر: 13478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ، قَالَ أَنَسٌ : " أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ ، قَالَ : قَالَ : وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَمَا قَامَ الْقَوْمُ ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، قَالَ : فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ ، حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا ، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت فرمائی تھی اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، لیکن وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، دوبارہ اسی طرح ہوا تو اس مرتبہ واقعی وہ لوگ جا چکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرمادی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5166، م: 1428
حدیث نمبر: 13479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّ اللَّهَ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ ، أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی وفات سے قبل مسلسل وحی نازل فرمائی، تاآنکہ آپ کا وصال ہوگیا اور سب سے زیادہ وحی اس دن نازل ہوئی جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4982، م: 3016
حدیث نمبر: 13480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ أَخَاهُ أَخْبَرَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا الْكَوْثَرُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ ، أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، فِيهِ طُيُورٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آكِلُوهَا أَنْعَمُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى أويس الأصبحي، وقد توبع
حدیث نمبر: 13481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا ، لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَإِنْ سَمِعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَمْسَكَ ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَغَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 13482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعَجُّلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ ، دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ ، ودَارُ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ ، ثُمَّ إِنْ كَانَا لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْهَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز عصر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جلدی پڑھنے والا کوئی نہ تھا، انصار میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کا گھر مسجد نبوی سے سب سے زیادہ دور تھا، ایک تو حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا اور دوسرے حضرت ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گھر قباء میں تھا اور حضرت ابوعبس رضی اللہ عنہ کا گھر بنو حارثہ میں تھا، یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے اور جب اپنی قوم میں واپس پہنچتے تو انہوں نے اب تک نماز عصر نہ پڑھی ہوتی تھی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جلدی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 13483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : انْصَرَفْتُ مِنَ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ ، إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ ، فَمَا قَعَدْنَا مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا ، قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفْنَا ، فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ ، وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ ، فَقَالَتْ : الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ ، قَالَ : قُلْنَا : أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : الْعَصْرُ ، قَالَ : فَقُلْنَا : إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ ! قَالَ : فَقَالَ : إِنَّكُمْ تَرَكْتُمُ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسَيْتُمُوهَا أَوْ قَالَ : نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " وَمَدَّ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَوْثَرِ ، فَذَكَرَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن ابی زیاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور عمر ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ نماز ہشام بن اسماعیل نے لوگوں کو پڑھائی تھی، کہ اس وقت مدینے کے گورنر وہی تھے، نماز پڑھ کر ہم عمرو بن عبداللہ کی مزاج پرسی کے لئے گئے، وہاں ہم بیٹھے نہیں، صرف کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کیا، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا گھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے ساتھ تھا، ابھی ہم وہاں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک باندی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے ابوحمزہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، ہم نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں، کون سی نماز ؟ انہوں نے فرمایا نماز عصر ہم نے عرض کیا کہ ہم تو ظہر کی نماز ابھی پڑھ کر آئے ہیں، انہوں نے فرمایا تم نے نماز کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ تم نے اسے بھلا دیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسے دراز کیا۔ حدیث نمبر (١٣٥٠٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى أويس الأصبحي
حدیث نمبر: 13485
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَوْثَرِ ، مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 13486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا ، لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَإِنْ سَمِعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَمْسَك ، وإِنْ لَمْ يَسْمَعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ ، أَغَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 13487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ : " أَلَا إِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي فِيهِنَّ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ ، وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ، فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ ، وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ ، فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبُوا بِمَا شِئْتُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، فَمَنْ شَاءَ أَوْكَى سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جانے، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا تھا، پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، اب ان کے بارے میں میری رائے واضح ہوگئی ہے، میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ اس سے دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اس لئے قبرستان جایا کرو، لیکن بےہودہ گوئی مت کرنا، اسی طرح میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے مہمانوں کو یہ گوشت تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور غائبین کے لئے محفوظ کر کے رکھتے ہیں، اس لئے تم جب تک چاہو، اسے رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں ان برتنوں میں نیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، پی سکتے ہو، البتہ کوئی نشہ آور چیز مت پینا، اب جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ کی چیز پر بند کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن الحارث، وهو يحيي بن عبدالله بن الحارث
حدیث نمبر: 13488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مسجد نبوی میں چار رکعت کے ساتھ پڑھی اور نماز عصر ذوالحلیفہ میں پہنچ کردو رکعتوں میں پڑھائی، اس وقت ہر طرف امن وامان تھا، حجۃ الوداع میں تو کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى الْقَائِلَةِ ، فَنَقِيلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھتے اور اس کے بعد آرام گاہ میں پہنچ کر قیلولہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 905
حدیث نمبر: 13490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ ، قَالَ : فَجَاءَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ، وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواجِ مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھی اور ازواجِ مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه
حدیث نمبر: 13491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، وَقُرِّبَ الْعَشَاءُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 672، م: 557
حدیث نمبر: 13492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ قَبَاءَ أُكَيْدِرَ حِينَ قُدِمَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَلْمِسُونَهُ بِأَيْدِيهِمْ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا ؟ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ ، أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2616، م: 2469
حدیث نمبر: 13493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْمُؤْمِنِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيَّ ، حَدَّثَنِي أَخْشَنُ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَوْ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَمْلَأَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمْ اللَّهَ ، لَغَفَرَ لَكُمْ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَوْ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا ، لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اخشن سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم اتنے گناہ کرلو کہ تمہارے گناہوں سے زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا بھر جائے، پھر تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو وہ تمہیں پھر بھی معاف کر دے گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے گی، پھر اللہ سے معافی مانگے گی اور اللہ اسے معاف کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أخشن السدوسي لم يرو عنه غير عبد المؤمن بن عبيد الله - وهو ثقة- وصرح فى روايته بسماعه من أنس، وذكره ابن حبان فى « الثقات » ويشهد للشطر الأول حديث أبى ذر فى مسلم: 2687، وللشطر الثاني حديث أبى هريرة عنده أيضاً: 2749
حدیث نمبر: 13494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا ! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151
حدیث نمبر: 13495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ الدَّجَّالُ حِينَ يَنْزِلُ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، فَتَرْجُفُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مدینہ کے ایک جانب پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر کافر اور منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2124، م: 2943
حدیث نمبر: 13496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، أَوْ : أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حوض کوثر پر سونے چاندی کے آبخورے آسمان کے ستارے سے بھی زیادہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2304