حدیث نمبر: 13417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنَ الْعَجْزِ وَالْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2823، م:2706
حدیث نمبر: 13418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْبَصْرِيُّ الْقَصِيرُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ ، أَوْ ضَيَّعْتُهُ ، فَلَامَنِي ، فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ : دَعُوهُ ، فَلَوْ قُدِّرَ أَوْ قَالَ : لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران اگر مجھے کسی کا حکم دیا اور مجھے اس میں تاخیر ہوگئی یا وہ کام نہ کرسکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی ملامت نہ کی، اگر اہل خانہ میں سے کوئی شخص ملامت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اسے چھوڑ دو ، اگر تقدیر میں یہ کام لکھا ہوتا تو ضرور ہوجاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع، عمران القصير لم يسمع من أنس وإنما رآه رؤية.
حدیث نمبر: 13419
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي الْقَصَّابَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي الصَّلَاةِ كَالْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص نماز میں کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 822، م: 493، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِي ، مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ ، يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان.
حدیث نمبر: 13422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا ، فَحَلَبْنَا لَهُ دَاجِنًا لَنَا ، وَشُبْنَا لَبَنَهَا مِنْ مَاءِ الدَّارِ ، وَعَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، وَمِنْ وَرَاءِ الرَّجُلِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ عَنْ فِيهِ ، أَوْ هَمَّ بِنَزْعِهِ ، قَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ ، فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ الْأَعْرَابِيَّ ، ثُمَّ قَالَ : الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2352، م: 2029.
حدیث نمبر: 13423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي السَّلُولِيَّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقِيلُ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ عَرَقًا ، فَاتَّخَذَتْ لَهُ نِطَعًا ، فَكَانَ يَقِيلُ عَلَيْهِ ، وَخَطَّتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ خَطًّا فَكَانَتْ تُنَشِّفُ الْعَرَقَ ، فَتَأْخُذُهُ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ فَقَالَتْ : عَرَقُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَجْعَلُهُ فِي طِيبِي ، فَدَعَا لَهَا بِدُعَاءٍ حَسَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں قیلولہ کے لئے تشریف لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ بہت آتا تھا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑے کا ایک بستر بنوا رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر قیلولہ فرماتے تھے، بعد میں وہ اس پسینے کو نچوڑ لیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ام سلیم ! یہ کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کے اس پسینے کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعاء دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6281، م: 2331، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عمارة بن زاذان.
حدیث نمبر: 13424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرْسَلَ أُمَّ سُلَيْمٍ تَنْظُرُ إِلَى جَارِيَةٍ ، فَقَالَ : شُمِّي عَوَارِضَهَا ، وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو ایک باندی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا اس کے جسم کی خوشبو کو سونگھ کر دیکھنا اور اس کی ایڑی کے پٹھے پر غور کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن ، وإسناده كسابقه.
حدیث نمبر: 13425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَبُو نَصْرٍ الْعِجْلِيُّ الْخَفَّافُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَنْبَأَهُمْ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ ، إِذْ عُرِضَ لِي نَهَرٌ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ ، قَالَ : فَضَرَبْتُ بِيَدَيَّ فِيهِ ، فَإِذَا طِينُهُ الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ ، وَإِذَا رَضْرَاضُهُ اللُّؤْلُؤُ " ، وقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ مِنْ كِتَابِهِ : قَرَأْتُ : " قَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي : أَتَدْرِي مَا هَذَا ؟ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى أَرْضِهِ ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ الْمِسْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے ساتھی فرشتے نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کیا چیز ہے ؟ یہ کوثر ہے جو آپ کو آپ کے رب نے عطاء فرمائی ہے، پھر اس نے اپنا ہاتھ اس کی زمین پر مارا اور اس کی مٹی میں سے مشک نکال کر دکھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4946، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ فِطْرٍ قَطُّ ، حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ " ، قَالَ : وَكَانَ أَنَسٌ يَأْكُلُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ثَلَاثًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ خَمْسًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کی طرف اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک ایک ایک کرکے چند کھجوریں نہ کھالیتے، حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی نکلنے سے پہلے تین یا پانچ یا زیادہ ہونے کی صورت میں طاق عدد میں کھجوریں کھالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَتَى أَبُو طَلْحَةَ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَصُنِعَ طَعَامًا ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا أَنَسُ ، انْطَلِقْ ، ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَادْعُهُ ، وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ يَدْعُوكَ إِلَى طَعَامِهِ ، فَقَامَ ، وَقَالَ لِلنَّاسِ : قُومُوا ، فَقَامُوا ، فَجِئْتُ أَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَضَحْتَنَا ، قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ، فَلَمَّا انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ ، قَالَ لَهُمْ : اقْعُدُوا ، وَدَخَلَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ ، فَلَمَّا جَلَسَ أُتِيَ بِالطَّعَامِ ، تَنَاوَلَ فَأَكَلَ ، وَأَكَلَ مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : قُومُوا وَلْيَدْخُلْ عَشَرَةٌ مَكَانَكُمْ ، حَتَّى دَخَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَأَكَلُوا . قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كَانُوا ؟ قَالَ : كَانُوا نَيِّفًا وَثَمَانِينَ ، قَالَ : وَأَفْضَلَ لِأَهْلِ الْبَيْتِ مَا أَشْبَعَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دو مد جو لے کر آئے اور کھانا تیار کرنے کے لئے کہا، پھر مجھ سے کہا انس ! جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ اور تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی ؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو نے ہمیں رسوا کردیا، میں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد نہیں کرسکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہمراہ تھے، پھر دس دس کر کے سب لوگوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے کچھ اوپر اور اہل خانہ کے لئے بھی اتنا بچ گیا تھا کہ جس سے وہ سیراب ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، قَالَ : فَأَقَامَهُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی آگیا، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو بعض لوگ سو چکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَافَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، فَدَعَا بِمَاءٍ عَلَى يَدِهِ ، ثُمَّ بَعَثَهَا ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً شَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
حدیث نمبر: 13430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ ، فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا ، فَأَخَذْتُهَا ، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِهَا ، فَذُبِحَتْ ثُمَّ شُوِّيَتْ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ عَجُزَهَا ، فَقَالَ : ائْتِ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ بِعَجُزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ ، قَالَ : فَقَبِلَهُ مِنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آگیا، بچے اس کی طرف دوڑے، لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي.
حدیث نمبر: 13431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَدْعُو " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1001، م: 677، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و حنظلة السدوسي.
حدیث نمبر: 13432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، أبو نصر خيثمة البصري لين الحديث، وجابر الجعفي و عبدالله بن واقد الحراني ضعيفان.
حدیث نمبر: 13433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوائِيِّ ، وَشُعْبَةَ جميعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 415، م: 552.
حدیث نمبر: 13434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْيَضِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي وَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَجِدُهُمْ جُلُوسًا ، فَأَقُولُ لَهُمْ : قُومُوا فَصَلُّوا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا، میں مدینہ منورہ کے ایک کونے میں واقع اپنے محلے اور گھر میں پہنچتا اور ان سے کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے ہیں، لہٰذا تم بھی اٹھ کر نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں ایک مرتبہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2069.
حدیث نمبر: 13436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَة ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357.
حدیث نمبر: 13437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْعَاءِ وَالتَّوَرُّكِ فِي الصَّلَاةِ " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اکڑوں بیٹھنے سے اور کو لہوں پر بیٹھ کر دونوں پاؤں ایک طرف نکال لینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد امام احمد رحمہ اللہ نے یہ حدیث ترک کردی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون النهي عن التورك، والنهي عن التورك غريب منكر، وقد ثبت هذا عند البخاري برقم: 828، والإقعاء نوعان: أحدهما كإقعاء الكلب وهو ممنوع، انظر حديث عائشة فى مسلم: 498، والنوع الثاني: الإقعاء على القدمين وهو سنة، انظر حديث ابن عباس فى مسلم: 536.
حدیث نمبر: 13438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمْ يُبْعَثْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا حَذَّرَ قَوْمَهُ مِنَ الدَّجَّالِ الْكَذَّابِ ، فَاحْذَرُوهُ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ ، أَلَا وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو ! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7131، م: 2933، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ ، فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه.
حدیث نمبر: 13440
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، وَقَالَ قَتَادَةُ : كَانَ يُقَالُ : " أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ ، فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ ، كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں چار صحابہ رضی اللہ عنہ نے پورا قرآن یاد کرلیا تھا اور وہ چاروں انصار سے تعلق رکھتے تھے، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ عنہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5003، م: 2465.
حدیث نمبر: 13442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَجَعَلَ يَبْكِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3809، م: 799، وهذا إسناد قوي كسابقه.
حدیث نمبر: 13443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَاسًا أَهْلَ ضَرْعٍ ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ ، اسْتَوْخَمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ ، قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ ، وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا وَهُمْ كَذَلِكَ ، قَالَ قَتَادَةُ : وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ فِيهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1501، م: 1671، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَهُوَ قَاعِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ إِمَامٍ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَتَمَّ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ ، فَيُخَفِّفُ ، مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَتَنَ أُمُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کردیتے تھے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس کی ماں پریشان نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 708، م: 469.
حدیث نمبر: 13446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ يَعْنِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَمَّا الْمُؤْمِنُ ، فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ ، فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو دفن کر کے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ تک سنتا ہے، پھر دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتے ہیں کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا جانتے ہو ؟ اگر وہ مؤمن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، چنانچہ وہ ان دونوں جگہوں کو دیکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1338، م: 2870، وهذا إسناد قوي من أجل عبدالوهاب الخفاف، وقد توبع.
حدیث نمبر: 13447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ صَوْتًا ، فَفَزِعَ ، فَقَالَ : مَنْ أَصْحَابُ هَذِهِ الْقُبُورِ ؟ قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، نَاسٌ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " ، قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا ، فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، أَتَاهُ مَلَكٌ ، فَسَأَلَهُ : مَا كُنْتَ تَعْبُدُ ؟ فَإِنِ اللَّهُ هَدَاهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَمَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ غَيْرَهَا ، قَالَ : فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى بَيْتٍ كَانَ لَهُ فِي النَّارِ ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا بَيْتُكَ كَانَ فِي النَّارِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَصَمَكَ وَرَحِمَكَ ، فَأَبْدَلَكَ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : دَعُونِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأُبَشِّرَ أَهْلِي ، فَيُقَالُ لَهُ : اسْكُنْ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، أَتَاهُ مَلَكٌ ، فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَيَقُولُ : كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ . فَيَضْرِبُهُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ بَيْنَ أُذُنَيْهِ ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً فَيَسْمَعُهَا الْخَلْقُ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو دفن کر کے اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ تک سنتا ہے، پھر دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتے ہیں کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا جانتے ہو ؟ اگر وہ مؤمن ہو تو کہہ دیتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے، یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس کی قبر ستر گز کشادہ کردی جاتی ہے اور اس پر شادابی انڈیل دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ کافر یا منافق ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا جانتے ہو ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا ضرور تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر وہ فرشتہ اپنے گرز سے اس پر اتنی زور کی ضرب لگاتا ہے جس کی آواز جن و انس کے علاوہ اللہ کی ساری مخلوق سنتی ہے، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی قبر اتنی تنگ کردی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 706، م: 469.
حدیث نمبر: 13449
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح كسابقه، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 415، م: 552، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ، وَلَكِنْ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 531، م: 551، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 13452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سُئِلَ سَعِيدٌ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فِي تَاسِعَةٍ ، وَسَابِعَةٍ ، وَخَامِسَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی نو، سات اور پانچ کو تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد قوي
حدیث نمبر: 13453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، وَاللَّهِ لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي خ: 742، م: 425
حدیث نمبر: 13454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قال قَتَادَةَ : وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ وَجَنَازَةُ سَعْدٍ مَوْضُوعَةٌ : " اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اس پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 2467، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ حَرِيرٍ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَرِيرِ ، فَلَبِسَهَا ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ ، أَحْسَنُ مِنْ هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2616، م: 2469
حدیث نمبر: 13456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : ارْكَبْهَا وَيْحَكَ ، أَوْ : وَيْلَكَ ارْكَبْهَا " . شَكَّ هِشَامٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1690، م: 1323