حدیث نمبر: 13377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ وَأيُوب ، عَنْ أَبِي قلابَة ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ أَسْوَدُ ، يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، يَحْدُو ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " ، قَالَ : وَفِي حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ : يَعْنِي النِّسَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔
حدیث نمبر: 13378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَ : فَأَوْلَمَ بِشَاةٍ ، أَوْ ذَبَحَ شَاةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زوجہ محترمہ کا ایسا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے موقع پر کیا تھا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمے کے لئے بکری ذبح کروائی تھی۔
حدیث نمبر: 13379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، ذَهَبْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا ! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)
حدیث نمبر: 13380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي ، فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ ، فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ ، فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ ، فَانْتَهَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى الْغِلْمَانِ ، فَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي بَعْدَ السَّاعَةِ الَّتِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهَا ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي : مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ ؟ فَقُلْتُ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، فَقَالَتْ : أَيُّ حَاجَةٍ يَا بُنَيَّ ؟ فَقُلْتُ : يَا أُمَّاهُ ، إِنَّهَا سِرٌّ . فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، " احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ " ، قَالَ ثَابِتٌ : فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ أَوْ تَذْكُرُهَا ؟ قَالَ : إِي وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَذْكُرُهَا ، وَلَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ، لَحَدَّثْتُكَ بِهَا يَا ثَابِتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیلولہ کریں گے، چنانچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے " سلام کیا اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا ؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت ! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔
حدیث نمبر: 13381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ ، كَأنَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤَ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ ، وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةَ مِسْكٍ وَلَا عَنْبَرٍ ، أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ حَسَنٌ : مِسْكَةٍ وَلَا عَنْبَرَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا، پسینہ موتیوں کی طرح تھا، جب وہ چلتے تو پوری قوت سے چلتے تھے، میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔
حدیث نمبر: 13382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ يُونس : قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ، وَقَالَ سُرَيْجٌ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةً ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ فِي الصَّلَاةِ وَفِي الرُّكُوعِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي ، كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور نماز رکوع کے متعلق فرمایا میں تمہیں اپنے آگے سے جس طرح دیکھتا ہوں پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ ؟ قَالَ سُرَيْجٌ : يَعْنِي ذَنْبًا ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَانْزِلْ ، قَالَ : فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کو جھلملاتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو رات کو اپنی بیوی کے قریب نہ گیا ہو ؟ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں ! میں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبر میں تم اترو، چنانچہ وہ قبر میں اترے۔
حدیث نمبر: 13384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، وَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَبِقَدْرِ مَا يَنْحَرُ الرَّجُلُ الْجَزُورَ ، وَيُبَعِّضُهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ . وَكَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ اگر کوئی شخص بنو حارثہ بن حارث کے یہاں جاتا تو وہ غروب آفتاب سے پہلے واپس آسکتا تھا اور اتنا وقت ہوتا تھا کہ اگر کوئی آدمی اونٹ کو ذبح کرلے تو غروب آفتاب تک اس کے حصے بنا لیتا اور نماز جمعہ زوال کے وقت پڑھتے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے تھے تو ظہر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 13385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ ، وَغَيْرُ كَاتِبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ہر ان پڑھ مسلمان پڑھ لے گا۔
حدیث نمبر: 13386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ ، فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا " جس کا نام محمد تھا " بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو ہوسکتا ہے کہ اس پر بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت آجائے۔
حدیث نمبر: 13387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ " ، قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ ، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ : فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الإسلام ، أَشَدَّ مِمَّا فَرِحُوا بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 13388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمْ يَبْلُغْ عَمَلَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ، قَالَ حَسَنٌ : أَعْمَالَهُمْ ، قَالَ : الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ، قَالَ ثَابِتٌ : فَكَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ فَإِنَّا نُحِبُّكَ وَنُحِبُّ رَسُولَكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے تھے کہ اے اللہ ! ہم تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ ، أَوْ إِنْسَانٌ ، أَوْ بَهِيمَةٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی کھیت اگاتا ہے یا کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 13390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 13391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ ، تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَطِيفُ بِهِ ، وَيَنْظُرُ مَا هُوَ ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ ، عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَمْ يَتَمَالَكْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔
حدیث نمبر: 13392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : " يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کو ان کے چہروں کے بل کیسے اٹھایا جائے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذات انہیں پاؤں کے بل چلنے پر قادر ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
حدیث نمبر: 13393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ قَائِلًا مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : " يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَمَا يُرِيدُ الْمَدِينَةَ ؟ قَالَ : بَلَى ، إِنَّهُ لَيَعْمَدُ إِلَيْهَا ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ بِنِقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا يَحْرُسُونَهَا مِنَ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔
حدیث نمبر: 13394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ : ك ف ر مُهَجًّى ، يَقُولُ : كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٌّ وَكَاتِبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ہر ان پڑھ مسلمان پڑھ لے گا۔
حدیث نمبر: 13395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ ، أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حدیث نمبر: 13396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ ، فَيَقُولُ : تَرَاصُّوا وَاعْتَدِلُوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ ، فَمَا أَدْرَكَهُ صَلَّى ، وَمَا سَبَقَهُ أَتَمَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حدیث نمبر: 13398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلْ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ " ، فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْقَبْرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی قبر میں ایسا شخص نہیں اترے گا جو رات کو اپنی بیوی سے بےحجاب ہوا ہو، چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان کی قبر میں نہیں اترے تھے۔
حدیث نمبر: 13399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَيَسْتَمِعُ الْأَذَانَ ، فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ أَمْسَكَ ، وَإِلَّا أَغَارَ ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کرتے تھے اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے، ورنہ حملہ کردیتے، ایک دن اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرت سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے " اشہد ان الا الہ الا اللہ " کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔
حدیث نمبر: 13400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقَةً مِنْ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِهِمَا ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ مِنَ السَّمَاءِ ؟ فَقَالَ : وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْهَا ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ مَنْدِيلًا مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَلَبِسَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، قَالَ : فَمَا أَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ روم کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس میں سونے کا کام ہوا تھا " بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لمبا ہونے کی وجہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ آپ پر آسمان سے اترا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے ؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس بھجوا دیا، انہوں نے اسے پہن لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میں نے تمہیں پہننے کے لئے نہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ پھر میں اس کا کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی نجاشی کے پاس بھیج دو ۔
حدیث نمبر: 13401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَزْمٌ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ ، وَأَنْ يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ ، وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہوجائے، اسے چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کیا کرے۔
حدیث نمبر: 13402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فَذَكَرَ شَيْئًا مِنَ التَّفْسِيرِ ، قَالَ : قَوْلُهُ : يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم مسلسل یہی کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس، بس۔
حدیث نمبر: 13403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي يَوْمِ خَمِيسٍ ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَتَغَدَّى بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ ، ثُمَّ أَتَوْهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَأَكَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، وَأَمْسَكَ بَعْضٌ ، فَقَالَ لَهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : لَعَلَّكُمْ اثْنَانِيُّونَ ، لَعَلَّكُمْ خَمِيسِيُّونَ ! كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ فَلَا يُفْطِرُ ، حَتَّى نَقُولَ : مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ ، ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ ، حَتَّى نَقُولَ : مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ ، وَكَانَ أَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعرات کے دن حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے ہمارے لئے دسترخوان منگوایا اور کھانے کی دعوت دی، کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے ہاتھ روکے رکھا، پھر پیر کے دن حاضری ہوئی تو انہوں نے پھر دستر خوان منگوایا اور حسب سابق کھانے کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے نہ کھایا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا شاید تم لوگ پیر والے اور جمعرات والے ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے تھے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اور بعض اوقات اتنا افطار فرماتے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے کہ اس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند تھا۔
حدیث نمبر: 13404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حدیث نمبر: 13405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِك : أَنَّ قَوْمًا ذَكَرُوا عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَوْضَ ، قَالَ حَسَنٌ : عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَوْضَ ، فَأَنْكَرَهُ ، وَقَالَ : مَا الْحَوْضُ ؟ ! فَبَلَغَ ذَلِكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَقَالَ : لَا جَرَمَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : ذَكَرْتُمْ الْحَوْضَ ؟ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، يَقُولُ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا مَرَّةً ، يَقُول : " إِنَّ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ ، أَوْ : مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَمَكَّةَ ، وَإِنَّ آنِيَتَهُ أَكْثَرُ مِنْ نُجُومِ السَّمَاءِ " ، قَالَ حَسَنٌ : " وَإِنَّ آنِيَتَهُ لَأَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کچھ لوگوں نے حوض کوثر کا تذکرہ کیا، اس نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا کیسا حوض ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا بخدا ! میں اسے قائل کر کے رہوں گا، چنانچہ وہ ابن زیاد کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا تم لوگ حوض کوثر کا تذکرہ کر رہے تھے ؟ ابن زیاد نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا تذکرہ کرے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیشمار مرتبہ فرماتے تھے کہ اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ اور مکہ کے درمیان ہے (یا صنعاء اور مکہ کے درمیان ہے) اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 13406
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْحَوْضُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ بِهِ وَلَأَفْعَلَنَّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 13407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَرَجُلٌ يُحِبُّ رَجُلًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَرَجُلٌ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ، أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا وَنَصْرَانِيًّا " ، قَالَ حَسَنٌ : أَوْ نَصْرَانِيًّا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 13408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا اسْتِعْمَالُهُ ؟ قَالَ : يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْتِي بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا ، وَلَيْسَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي بَيْتِهَا ، فَتَأْتِي فَتَجِدُهُ نَائِمًا ، وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِذَا نَامَ ذَا عَرَقٍ ، فَتَأْخُذُ عَرَقَهُ بِقُطْنَةٍ فِي قَارُورَةٍ ، فَتَجْعَلُهُ فِي سُكِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں، وہ روئی سے اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں اور اپنی خوشبو میں شامل کرلیا۔
حدیث نمبر: 13410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ شَجَرَةً كَانَتْ عَلَى طَرِيقِ النَّاسِ كَانَتْ تُؤْذِيهِمْ ، فَأَتَاهَا رَجُلٌ ، فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک درخت سے راستے میں گذرنے والوں کو اذیت ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 13411
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ ، عَنْ أَبِي ظِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ لَيُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ : يَا حَنَّانُ ، يَا مَنَّانُ ، قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ : اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا ، فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ ، فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُكِبِّينَ يَبْكُونَ ، فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ ، فَيُخْبِرُهُ ، فَيَقُولُ : ائْتِنِي بِهِ ، فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَيَجِيءُ بِهِ ، فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ ، فَيَقُولُ لَهُ : يَا عَبْدِي ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، شَرَّ مَكَانٍ ، وَشَرَّ مَقِيلٍ ، فَيَقُولُ : رُدُّوا عَبْدِي ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تَرُدَّنِي فِيهَا ، فَيَقُولُ : دَعُوا عَبْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک بندہ ایک ہزار سال تک " یا حنان یا منان " کہہ کر اللہ کو پکارتا رہے گا، اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمائیں گے کہ جا کر میرے اس بندے کو لے کر آؤ، جبرائیل چلے جائیں گے، وہاں پہنچ کر وہ اہل جہنم کو ایک دوسرے کے اوپر اوندھا پڑا ہوا پائیں گے اور وہ لوگ رو رہے ہوں گے (حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے پہچان نہ سکیں گے) اور واپس آکر پروردگار کو اس کی خبر دیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ فلاں فلاں جگہ میں ہے، اسے وہاں سے نکال کر میرے پاس لاؤ، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اسے لا کر بارگاہ الٰہی میں پیش کردیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ بندے ! تو نے اپنا ٹھکانہ اور آرام کرنے کی جگہ کیسی پائی ؟ وہ کہے گا پروردگار ! بدترین ٹھکانہ اور بدترین آرام گاہ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو واپس جہنم میں لے جاؤ، وہ عرض کرے گا کہ پروردگار ! جب آپ نے مجھے جہنم سے نکلوایا تھا تو مجھے یہ امید نہیں تھی کہ آپ دوبارہ مجھے اس میں واپس لوٹا دیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 13412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَفَعَهُ ، قَالَ : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ ، وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حدیث نمبر: 13413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَهُ ، جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَة ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔
حدیث نمبر: 13414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 13415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : ارْكَبْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : ارْكَبْهَا وَيْحَكَ ، أَوْ وَيْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 13416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
…