حدیث نمبر: 13337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 فِي أَوَّلِ الْقِرَاءَةِ ، وَلَا فِي آخِرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے اور وہ قرأت کے آغاز یا اختتام پر بسم اللہ کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399.
حدیث نمبر: 13338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، ثُمَّ رَجَعَ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي خِلَافٌ وَفُرْقَةٌ قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ ، وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا سِيمَاهُمْ ؟ قَالَ : " التَّحْلِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم ان کی نمازوں کے آگے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے آگے اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے، وہ لوگ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جس طرح تیر اپنی کمان میں کبھی واپس نہیں آسکتا یہ لوگ بھی دین میں کبھی واپس نہ آئیں گے، یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو انہیں قتل کرے اور وہ اسے قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی دعوت دیتے ہوں گے لیکن ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، جو ان سے قتال کرے گا وہ اللہ کے اتنا قریب ہوجائے گا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی علامت کیا ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی علامت سر منڈوانا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الصَّنِفَةُ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ ، فَجَذَبَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ جَذْبَةً شَدِيدَةً ، حَتَّى أَثَّرَتْ الصَّنِفَةُ فِي صَفْحِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَعْطِنَا مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَبَسَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " مُرُوا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جارہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور صرف مسکرا دیئے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057.
حدیث نمبر: 13340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا عَرَجَ بِي رَبِّي ، مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ ، يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ ، وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مجھے پروردگار عالم نے معراج پر بلایا تو میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھانے والے (غیبت کرنے والے اور لوگوں کی طرف انگلیاں اٹھانے والے لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ تو چال کا نام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عثمان بن جابر ، وانظر ما بعده.
حدیث نمبر: 13342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ تو چال کا نام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الْمُعَلَّى ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام : " مَا لِي لَمْ أَرَ مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ ؟ قَالَ : مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا بات ہے، میں نے میکائیل کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے، میکائیل کبھی نہیں ہنسے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حميد بن عبيد مولی بني المعلی، وابن عياش الحمصي فى روايته فى غير أهل بلده مخلط ، وعمارة بن غزية ليس من أهل بلده.
حدیث نمبر: 13344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَيْهِمْ السِّيجَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال اصفہان کے شہر " یہودیہ " سے خروج کرے گا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، جن پر سبز چادریں ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، م: 2944، وهذا إسناد قابل للتحسين من أجل محمد بن مصعب القرقسائي، فهو ضعيف يعتبر به فى المتابعات والشواهد.
حدیث نمبر: 13345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ ، وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1846، م:1357, ومحمد بن مصعب قد توبع
حدیث نمبر: 13346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بِدِمَشْقَ ، قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِيهِ أَحَدٌ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، هَكَذَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ .
مولانا ظفر اقبال
عروی بن رویم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جب کہ وہ دمشق میں تھے، جب وہاں پہنچے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمائش کی کہ کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو اور اس میں آپ کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان یمنی ہے، اسی طرح لخم اور جذام تک۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : " إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ " ، قَالُوا : سَنَصْبِرُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَأَخْفَاهُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا، انہوں نے عرض کیا کہ ہم صبر کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3147، م: 1059.
حدیث نمبر: 13348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا ، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا ، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا ، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں، ہمارے قبلے کا رخ کرنے لگیں، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کی جان و مال کا احترام واجب ہوگیا، سوائے اس کلمے کے حق کے، ان کے حقوق بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کے فرائض بھی دیگر مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة على بن إسحاق المروزي، خ: 392، وأما متابعة الحسن بن يحيي المروزي فقد قال الحسيني فى ترجمته: فيه نظر.
حدیث نمبر: 13349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَنَا عِنْدَ ثَفِنَاتِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ : " لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرے کا تلبیہ اکٹھا پڑھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے گھٹنے کے قریب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1251، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل محمد بن مصعب القرقسائي، وقد توبع.
حدیث نمبر: 13350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَحَمَلَهَا ، فَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ فِيهِ غَيْرُ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ صَدْرُ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ أُولِي الْأَمْرِ ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ المسلمين ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو " جو میری باتیں سنے اور اٹھا کر آگے پھیلادے " تروتازہ رکھے، کیونکہ بہت سے فقہ اٹھانے والے لوگ فقیہہ نہیں ہوتے اور بہت سے حامل فقہ لوگوں سے دوسرے لوگ زیادہ بڑے فقیہہ ہوتے ہیں، تین چیزیں ایسی ہیں کہ مسلمان کے دل میں ان کے متعلق خیانت نہیں ہونی چاہئے، ایک تو یہ کہ عمل خالص اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے، دوسرا یہ کہ حکمرانوں کے ساتھ خیر خواہی کی جائے اور تیسرا یہ کہ مسلمانوں کی اکثریت کے تابع رہے کیونکہ ان کی دعا سب کو شامل ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : " صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَسْأَلُ عَنْهُ ، وَكَانَ شَاكِيًا ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، سَلَّمْنَا ، قَالَ : أَصَلَّيْتُمْ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : يَا جَارِيَةُ ، هَلُمِّي لِي وَضُوءًا ، مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا " ، قَالَ عِصَامٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ زَيْدٌ : مَا يَذْكُرُ فِي ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ وَلَا عُمَرَ ، قَالَ زَيْدٌ : " وَكَانَ عُمَرُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، وَيُخَفِّفُ الْقُعُودَ وَالْقِيَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے ظہر کی نماز حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ پڑھی، نماز کے بعد ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پوچھنے کے لئے " کہ وہ بیمار ہوگئے تھے " نکلے، ان کے گھر پہنچ کر ہم نے انہیں سلام کیا، انہوں نے پوچھا کہ کیا تم نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے اپنی باندی سے وضو کے لئے پانی منگوایا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والی نماز تمہارے اس امام سے زیادہ کسی کی نہیں دیکھی، دراصل حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ رکوع و سجدہ مکمل کرتے تھے لیکن جلسہ اور قیام مختصر کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عطاف بن خالد.
حدیث نمبر: 13352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيَّ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ " رَأَى فِي أُصْبُعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا خَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ ، فَلَبِسُوهَا ، فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5868، م: 2093.
حدیث نمبر: 13353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي حَوْضِي مِنَ الْأَبَارِيقِ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:2303
حدیث نمبر: 13354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، يَلْتَقِيَانِ ، فَيَصُدُّ هَذَا ، وَيَصُدُّ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے کہ دونوں آمنے سامنے ہوں تو ایک اپنا چہرہ ادھر پھیر لے اور دوسرا ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6065، م: 2559.
حدیث نمبر: 13355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي عِقَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَيْنِ ، يُبْعَثُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ ، وَيُبْعَثُ مِنْهَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُهَدَاءَ وُفُودًا إِلَى اللَّهِ ، وَبِهَا صُفُوفُ الشُّهَدَاءِ ، رُؤُوسُهُمْ مُقَطَّعَةٌ فِي أَيْدِيهِمْ ، تَثِجُّ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا ، يَقُولُونَ : رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ، فَيَقُولُ : صَدَقَ عَبِيدِي ، اغْسِلُوهُمْ بِنَهَرِ الْبَيْضِ ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهُ نُقِيًّا بِيضًا ، فَيَسْرَحُونَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہر عسقلان عروس البلاد میں سے ایک ہے، اس شہر سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے آدمی اٹھیں گے جن کا کوئی حساب کتاب نہ ہوگا اور پچاس ہزار شہداء اٹھائے جائیں گے جو اللہ کے مہمان ہوں گے، یہاں شہداء کی صفیں ہوں گی جن کے کٹے ہوئے سر ان کے ہاتھوں میں ہوں گے اور ان کی رگوں سے تازہ خون بہہ رہا ہوگا اور وہ کہتے ہوں گے کہ پروردگار ! تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی جو وعدہ فرمایا تھا اسے پورا فرما، بیشک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے بندوں نے سچ کہا، انہیں نہر بیضہ میں غسل دلاؤ، چنانچہ وہ اس نہر سے صاف ستھرے اور گورے ہو کر نکلیں گے اور جنت میں جہاں چاہیں گے، سیرو تفریح کرتے پھریں گے۔ فائدہ :۔ محدثین نے اس حدیث کو " موضوع " قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: موضوع، أبو عقال- واسمه هلال بن زيد بن يسار البصري نزيل عسقلان- مجمع على طرح حدیثہ
حدیث نمبر: 13357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّعْوَةُ لَا تُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ، فَادْعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی، لہٰذا اس وقت دعاء کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ مِنْ وَرِقٍ ، فَصُّهُ حَبَشِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انگوٹھی جس کا نگینہ حبشی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2094.
حدیث نمبر: 13359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، قَالَ : فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ذَلِكَ الدُّبَّاءَ ، وَيُعْجِبُهُ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ ، جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُ مِنْهُ شَيْئًا " ، فَقَالَ أَنَسٌ : فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ ، فَقَالَ : مَا أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَطُّ فِي زَمَانِ الدُّبَّاءِ ، إِلَّا وَجَدْنَاهُ فِي طَعَامِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں بھی وہاں چلا گیا، شوربہ آیا تو اس میں کدو تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، البتہ خود نہیں کھایا اور میں اس وقت سے کدو کو پسند کرنے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2041.
حدیث نمبر: 13360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَلِجُ حَائِطَ الْقُدُسِ مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ ، وَلَا الْمَنَّانُ عَطَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا باغاتِ جنت میں عادی شراب خور، والدین کا نافرمان اور احسان جتلانے والا کوئی شخص داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن عبدالله العمي و على بن زيد بن جدعان.
حدیث نمبر: 13361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ أَنْكَحَنِي مِنَ السَّمَاءِ ، وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا ، وَكَانَ الْقَوْمُ جُلُوسًا كَمَا هُمْ فِي الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ ، فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ، ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ كَمَا هُمْ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَعُرِفَ فِي وَجْهِهِ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ دیگر ازواج مطہرات پر فخر کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ اللہ نے آسمان پر میرا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے میں روٹی اور گوشت کھلایا تھا، کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر ہی میں بیٹھے رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے، کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد واپس آئے تو لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے، یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی ناگوار لگی اور چہرہ مبارک پر اس کے آثار ظاہر ہوگئے اور اس موقع پر آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7421، م: 1428.
حدیث نمبر: 13362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ : " مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان کے گھر میں تھا، کہ ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو اور تمہیں وہی ملے گا جو تم نے کمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، مبارك بن فضالة قد توبع، وبرقم: 14012، صرح بسماعه من الحسن، والحسن من أنس.
حدیث نمبر: 13363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ، قَالَ : ابْنُوا لِي مِنْبَرًا " ، أَرَادَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ ، فَبَنَوْا لَهُ عَتَبَتَيْنِ ، فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَةِ إِلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ سَمِعَ الْخَشَبَةَ تَحِنُّ حَنِينَ الْوَالِهِ ، قَالَ : فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ ، فَمَشَى إِلَيْهَا فَاحْتَضَنَهَا ، فَسَكَنَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو لکڑی کے ایک ستون کے ساتھ اپنی پشت مبارک کو سہارا دیتے تھے، لوگوں کی تعداد جب بڑھ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے منبر بنایا، مقصد یہ تھا کہ سب تک آواز پہنچ جائے، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے دو سیڑھیوں کا منبر بنایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ستون سے منبر پر منتقل ہوگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے کانوں سے اس تنے کے رونے کی ایسی آواز سنی جیسے گمشدہ بچہ بلک بلک کر روتا ہے اور وہ مسلسل روتا ہی رہا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور اس کی طرف چل کر گئے، اسے سینے سے لگایا تب جا کر وہ خاموش ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ ، فَرَدَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2582، وهذا إسناد حسن، مبارك بن فضالة- وإن كان مدلسا- قد صرح بالتحديث فيما سيأتي برقم: 13617.
حدیث نمبر: 13365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد.
حدیث نمبر: 13366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا ، وَلَيْسَتْ فِي بَيْتِهَا ، قَالَ : فَأُتِيَتْ يَوْمًا ، فَقِيلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَى فِرَاشِكِ ، قَالَتْ : فَجِئْتُ وَذَاكَ فِي الصَّيْفِ ، فَعَرِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدَمٍ عَلَى الْفِرَاشِ ، فَجَعَلْتُ أُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ ، وَأَعْصِرُهُ فِي قَارُورَةٍ ، فَفَزِعَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا ، قَالَ : أَصَبْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں، چنانچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم ! یہ کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2331.
حدیث نمبر: 13367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ تَغَيَّرَ مِنَ الْقِدَمِ ، وَنَضَحَهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ، فَسَجَدَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک پرانی چٹائی پر " جس کا رنگ بھی پرانا ہونے کی وجہ سے بدل چکا تھا " ہمیں نماز پڑھائی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَالَ فِيهِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوهُ ، لَا تُزْرِمُوهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو ، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد پانی منگوا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6025، م: 284
حدیث نمبر: 13369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ : " فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ قَعَدَ ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے میں تمہیں اس طرح نماز پڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جس طرح کرتے تھے میں تمہیں اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 821، م: 472.
حدیث نمبر: 13370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو ان کے اوپر " خلوق " نامی خوشبو کے اثرات دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ مبارک کرے، پھر ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5155، م: 1427.
حدیث نمبر: 13371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ ؟ " قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ أَنَسٌ : فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإسلام فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ، قَالَ : فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ ، وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3688، م:2639
حدیث نمبر: 13372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ : " خَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : لَمْ يَبْلُغْ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَخْضِبُ ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ ، لَفَعَلْتُ ، وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ، وَكَانَ عُمَرُ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی میں سفید بالوں کو گننا چاہوں تو گن سکتا ہوں، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2341.
حدیث نمبر: 13373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي : أُفٍّ ، قَطُّ ، وَلَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ : لِمَ صَنَعْتَ كَذَا ، وَهَلَّا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2768، م: 2309.
حدیث نمبر: 13374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا مَسِسْتُ بِيَدَيَّ دِيبَاجًا ، وَلَا حَرِيرًا ، أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةً كَانَتْ أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3561، م: 2330.
حدیث نمبر: 13375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ ، فَدَعَاهُ إِلَى الإسلام ، فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ، فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1356.
حدیث نمبر: 13376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : اخْرُجْ فَانْظُرْ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فَنَظَرْتُ ، فَسَمِعْتُ مُنَادِيًا يُنَادِي : " أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَاذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا ، قَالَ : فَجِئْتُ فَأَهْرَقْتُهَا ، قَالَ : فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ ! قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 " إِلَى آخِرِ الْآيَةَ ، قَالَ : وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کے کچھ دوستوں کو پلا رہا تھا، ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی، انہوں نے یہ سن کر مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر دیکھو، میں نے باہر نکل کر دیکھا تو ایک منادی کی یہ آواز سنائی دی کہ لوگو ! شراب حرام ہوگئی، میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بتادیا، وہ کہنے لگے کہ جا کر تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو ، چنانچہ میں نے جا کر اسے بہا دیا، اس موقع پر بعض لوگ کہنے لگے کہ سہیل بن بیضاء مارے گئے کیونکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ پہلے کھاپی چکے۔۔۔۔۔۔ " اس موقع پر صرف کچی اور پکی کجھور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2464، م: 1980.