حدیث نمبر: 13297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ " بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ ، فَأَعْرَضَ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبِحَارَ لَأَخَضْنَاهَا ، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ " ، قَالَ عَفَانُ : فَقَالَ سُلَيْمَانُ ، عْنِ ابنِ عَوْن ، عَنْ عَمْرو بْنِ سَعِيد ، قَالَ : الغُمَاد ، فَذَكَرَ عَفَّانُ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ إِلَى قَوْلِهِ : فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خروجِ دجال سے پہلے کچھ سال دھوکے والے ہوں گے، جن میں سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا، امین کو خائن اور خائن کو امین سمجھا جائے گا اور اس میں " رویبضہ " بڑھ چڑھ کر بولے گا، کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاسق آدمی امور عامہ میں دخل اندازی کرنے لگے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1779، وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً ، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيَتَكَلَّمُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " . قِيلَ : وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : " الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھن بہت پسند تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن، وهذا إسناد ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 13299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ سِنِينَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، فإن محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث عند البزار- مسند عوف بن مالك الأشجعي رضي الله عنه- بلفظ: «وحدثنى عبدالله بن دينار عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه». وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 13300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ " ، قَالَ عَبَّادٌ : يَعْنِي : ثُفْلَ الْمَرَقَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، " فَرَأَى قُبَّةً مِنْ لَبِنٍ ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ ؟ فَقُلْتُ : لِفُلَانٍ . فَقَالَ : أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ هَدٌّ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ ، أَوْ فِي بِنَاءِ مَسْجِدٍ ، شَكَّ أَسْوَدُ ، أَوْ ، أَوْ ، أَوْ ، ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ يَرَهَا ، فَقَالَ : مَا فَعَلَتْ الْقُبَّةُ ؟ قُلْتُ : بَلَغَ صَاحِبَهَا مَا قُلْتَ ، فَهَدَمَهَا . قَالَ : فَقَالَ : رَحِمَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے سے گذر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں اینٹوں سے بنا ہوا ایک مکان نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس کا ہے ؟ میں نے عرض کیا فلاں صاحب کا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! مسجد کے علاوہ ہر تعمیر قیامت کے دن انسان پر بوجھ ہوگی، کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ وہاں سے گذر ہوا تو وہاں مکان نظر نہ آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس مکان کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے مالک کو آپ کی بات معلوم ہوئی تو اس نے اسے منہدم کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دعاء دی کہ اللہ اس پر رحم فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث محتمل للتحسین لطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعیف لضعف شریک النخعی
حدیث نمبر: 13302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ يَجْعَلَ ابْنَهُ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ ، قَالَ : فَقَالَ أَنَسٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ ، وُكِلَ إِلَيْهِ ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ ، أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
بلال بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا قاضی مقرر کرنا چاہا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص عہدہ قضا کو طلب کرتا ہے، اسے اس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور جسے زبردستی عہدہ قضا دے دیا جائے، اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف عبدالأعلی الثعلبی، وضعف بلال بن أبی موسی: وھو ابن مرداس
حدیث نمبر: 13303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً ، قَالَ : فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح، خ: 3637، م: 2802، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتا ہوا سنتا تھا کہ اے اللہ ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح، وهذا إسناد جید
حدیث نمبر: 13305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916
حدیث نمبر: 13306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنِ الْكَوْثَرِ ، فَقَالَ : نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَفِيهِ طَيْرٌ كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ تِلْكَ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ ، فَقَالَ : " أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا يَا عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عُمَرَ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ ، لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ " ، قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ طویل قرأت نہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعیف لجهالة محمد بن مساحق و فزارۃ بن عمر
حدیث نمبر: 13308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : سَمِعْتُ ثُمَامَةَ بْنَ أَنَسٍ يَذْكُرُ ، أَنَّ أَنَسًا كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا ، وَكَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَحَدَّثَنَا بَعْدَ ذَلِكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اسے دہراتے تھے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو تین مرتبہ اجازت لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 13309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ ، فَقَالَ : " أَيْ فُلَانُ ، هَلْ تَزَوَّجْتَ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1 ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبْعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبْعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبْعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبْعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة البقرة آية 255 ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبْعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : تَزَوَّجْ ، تَزَوَّجْ ، تَزَوَّجْ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں کہ جس کی وجہ سے میں شادی کرسکوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " قل ھو اللہ احد " نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس سورت زلزال نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس آیت الکرسی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا پھر شادی کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف سلمۃ بن وردان
حدیث نمبر: 13310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ ، قَالَ : فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا ، فَأُتِيَتْ ، فَقِيلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ فِي بَيْتِكِ عَلَى فِرَاشِكِ ، قَالَ : فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ ، قَالَ : فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا ، قَالَ : فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ ، فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا ، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا ، قَالَ : أَصَبْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سو جاتے تھے، وہ وہاں ہوتی تھیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں، چنانچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم ! یہ کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2331
حدیث نمبر: 13311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ ، تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ ، فَقَالَ : أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا ، قَالَهَا ثَلَاثًا ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَأْكُلُ مِنْهَا يَا أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، جو درختوں میں چرتے پھریں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے اور ابوبکر ! مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں کھانے والوں میں سے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سیار بن حاتم
حدیث نمبر: 13312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، أَضَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ ، وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کی حالت کو تبدیل پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سیار بن حاتم، وقد توبع
حدیث نمبر: 13313
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَأَبِي عِمْرَان الْجَوْنِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ يُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ ، فَيَأْمُرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا ، أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا ، فَيَقُولُ : فَلَا تعُودُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم سے چار آدمیوں کو نکالا جائے گا، انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ دوبارہ انہیں جہنم میں بھیجنے کا حکم دے دے گا، ان میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا کہ پروردگار ! مجھے تو یہ امید ہوگئی تھی کہ اگر تو مجھے جہنم سے نکال رہا ہے تو اس میں دوبارہ واپس نہ لوٹائے گا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر تو اس میں دوبارہ واپس نہ جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 192
حدیث نمبر: 13314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَزْهُوَ ، وَعَنِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ ، وَعَنِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل پکنے سے پہلے، کشمش (انگور) سیاہ ہونے سے پہلے اور گندم کا دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12638
حدیث نمبر: 13315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً قَدْ أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا ، أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذی یزن بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا بھیجا جو اس نے ٣٣ اونٹ یا اونٹنیوں کے عوض لیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمارة - وه ابن زاذان- يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناکير، والمحفوظ عن أنس أن الذي بعث بحلۃ هدية إلى النبي صلى الله عليه وسلم ھو أكیدر دومة، انظر: 12093
حدیث نمبر: 13316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الإسلام ، مَا فَرِحُوا بِهَذَا مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَنَسٌ : فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَعْمَلَ كَعَمَلِهِ ، فَإِذَا كُنَّا مَعَهُ ، فَحَسْبُنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کے بعد میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ أَنَسٌ : " مَا شَمِمْتُ شَيْئًا ، عَنْبَرًا قَطُّ ، وَلَا مِسْكًا قَطُّ ، وَلَا شَيْئًا قَطُّ ، أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ ، دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا ، أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ ثَابِتٌ : فَقُلْتُ : قَالَ ثَابِتٌ : فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَلَسْتَ كَأَنَّكَ تَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَأَنَّكَ تَسْمَعُ إِلَى نَغَمَتِهِ ؟ فَقَالَ : بَلَى وَاللَّهِ ، إِنِّي " لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَقُولَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خُوَيْدِمُكَ " قَالَ : " خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلَامٌ ، لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ ، مَا قَالَ لِي فِيهَا : أُفٍّ ، وَمَا قَالَ لِي : لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ أوْ : أَلَّا فَعَلْتَ هَذَا "
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی، (ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا یا ان کی آواز نہیں سنی ؟ آپ کا چھوٹا سا خادم حاضر ہے) میں نے مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال کی خدمت کی ہے، میں اس وقت لڑکا تھا، یہ ممکن نہیں ہے کہ میرا ہر کام دوسرے کی خواہش کے مطابق ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی بھی " اف " تک نہیں کہا اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
حدیث نمبر: 13318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ ، يَقُولُونَ : جَاءَ مُحَمَّدٌ ، فَأَسْعَى ، فَلَا أَرَى شَيْئًا ، ثُمَّ يَقُولُونَ : جَاءَ مُحَمَّدٌ ، فَأَسْعَى ، فَلَا أَرَى شَيْئًا ، قَالَ : حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَكَمَنَا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ بَعَثَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ البادية لِيُؤْذِنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِ مِائَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ، فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ ، يَقُلْنَ : أَيُّهُمْ هُوَ ؟ أَيُّهُمْ هُوَ ؟ قَالَ : فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا شبيهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ ، فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ شبيهًا بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، جب بچے یہ کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو میں اتنا تیز دوڑتا کہ کچھ نہ دیکھتا، دوبارہ بچے یہی جملے کہتے تو میں پھر اتنا تیز دوڑنے لگتا کہ کچھ نہ دیکھتا تھا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق محترم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم اس وقت مدینہ کے کسی علاقے میں تھے، ہم نے ایک دیہاتی آدمی کو انصار کے پاس یہ خبر دے کر بھیجا اور پانچ سو کے قریب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے نکل پڑے، وہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ آپ دونوں حضرات امن وامان کے ساتھ مطاع بن کر داخل ہوجائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آگے آگے چلتے رہے اور سارے اہل مدینہ نکل آئے حتیٰ کہ خواتین بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپس میں پوچھنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں ؟ ہم نے اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے یہ دن بھی دیکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہ دن بھی دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے، ان دونوں دنوں جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3911
حدیث نمبر: 13319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، وَقَتَادَةَ ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، أنهم سمعوا أنس بن مالك ، يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى " . وَكَانَ قَتَادَةُ ، يَقُولُ : كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْحَابَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا ، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163
حدیث نمبر: 13321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَ أَنَسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، أَوْ : مِنْ أَنْفُسِهِمْ " ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6761، م: 1059
حدیث نمبر: 13322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ قَالُوا : ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ، قَالَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6762، م: 1059
حدیث نمبر: 13323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 13324
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ، وَآلَ عِمْرَانَ ، وَكَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى لَحِقَ بِأَهْلِ الْكِتَابِ ، قَالَ : فَرَفَعُوهُ ، وَقَالُوا : هَذَا كَانَ يَكْتُبُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُعْجِبُوا بِهِ ، فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللَّهُ عُنُقَهُ فِيهِمْ ، فَحَفَرُوا لَهُ ، فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ ، فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتْ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ، ثُمَّ عَادُوا فَحَفَرُوا لَهُ ، فَوَارَوْهُ ، فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْهُ عَلَى وَجْهِهَا ، فَتَرَكُوهُ مَنْبُوذًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بنو نجار میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، کچھ عرصے کے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا، مشرکین نے اسے بڑا اچھالا اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی لکھ لکھ کردیا کرتا تھا، کچھ ہی عرصے بعد اللہ نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مرگیا، لوگوں نے اس کے لئے قبر کھودی اور اسے قبر میں اتار دیا لیکن اگلا دن ہوا تو دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے، انہوں نے کئی مرتبہ اسے دفن کیا، ہر مرتبہ زمین نے اسے نکال باہر پھینکا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے یہیں پڑا چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781
حدیث نمبر: 13325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جس کا نام ابوعمیر تھا اس کے پاس ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6129
حدیث نمبر: 13326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : وَصَفَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ " قَامَ يُصَلِّي بِنَا ، فَرَكَعَ ، فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَاسْتَوَى قَاعِدًا حَتَّى رَأَى بَعْضُنَا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ، ثُمَّ اسْتَوَى قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 821، م: 473.
حدیث نمبر: 13327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّ كِتَابَكَ لَا يُقْرَأُ حَتَّى يَكُونَ مَخْتُومًا ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، فَنَقَشَهُ أَوْ نَقَشَ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092.
حدیث نمبر: 13328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُهُ ، وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " . قَالَ هَاشِمٌ : حَتَّى يَقْنَأَ شَعْرُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں اتنے بال سفید نہ تھے جنہیں خضاب لگانے کی ضرورت پڑتی، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنے سر اور ڈاڑھی پر مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 5895، م: 2341.
حدیث نمبر: 13330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ، فَصَنَعَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ ، فَلَبِسُوهَا ، فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5868، م: 2093.
حدیث نمبر: 13331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 13332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 108، م: فى المقدمة: 2.
حدیث نمبر: 13333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا لِعَمَلِ رَجُلٍ ، حَتَّى تَعْلَمُوا بمَا يُخْتَمُ لَهُ بِهِ ، فَقَدْ يَعْمَلُ الرَّجُلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ ، أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ ، عَمَلًا سَيِّئًا ، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى شَرٍّ ، فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ صَالِحٍ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ ، وَقَدْ يَعْمَلُ الْعَبْدُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ ، أَوْ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ عَمَلًا صَالِحًا ، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ مَاتَ عَلَى خَيْرٍ ، فَيَتَحَوَّلُ إِلَى عَمَلٍ سَيِّئٍ ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِهِ " ، قَالَ : وَقَدْ رَفَعَهُ حُمَيْدٌ مَرَّةً ، ثُمَّ كَفَّ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے، اسی طرح کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے ؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقد سلف مرفوعا برقم:12214
حدیث نمبر: 13334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ " ، قَالَ : فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ مِنْهُمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، فَلَمَّا قَرُبُوا مِنَ الْمَدِينَةِ ، جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ ، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ : غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ قَالَ : وَكَانَ هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے اور یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ؟ فَقُلْتُ : بِالطَّاعُونِ ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے ؟ میں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2830، م: 1916.
حدیث نمبر: 13336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَسَأَلَهُ : مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ بِهِ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ، يَقُولُ : " أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ولید بن عبدالملک کے پاس تشریف لے گئے، اس نے ان سے پوچھا کہ آپ نے قیامت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.