حدیث نمبر: 13258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي رَحْلٍ لَهُ : " لَبَّيْكَ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " تَوَاضُعًا فِي رَحْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! میں حاضر ہوں آخرت کی زندگی کے علاوہ کوئی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوی، وانظر: 12732
حدیث نمبر: 13259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ لَا يَقْرَؤُنَ ، يَعْنِي لَا يَجْهَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہ بلند آواز سے بسم اللہ نہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وھذا إسناده قوی، وانظر: 11991
حدیث نمبر: 13260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بُرْدٌ مُتَوَشِّحًا بِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ آخری نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ پڑھی، وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر بیٹھ کر پڑھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وھذا إسناده قوی
حدیث نمبر: 13261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي مَثَلُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ " أَوْ " مَثَلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ " ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ شَكَّ هِشَامٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م:2303، وھذا إسناده قوی
حدیث نمبر: 13262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَرْقُدُ عَنِ الصَّلَاةِ ، أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا ، قَالَ : " لِيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وھذا إسناده حسن، خ: 597، م:684
حدیث نمبر: 13263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ ، وَفِي الْعَنْفَقَةِ ، وَفِي الرَّأْسِ ، وَفِي الصُّدْغَيْنِ ، شَيْئًا لَا يَكَادُ يُرَى ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی کے اگلے حصے میں تھوڑی کے اوپر بالوں میں، سر میں اور کنپٹیوں پر چند بال سفید تھے، جو بہت زیادہ محسوس نہ ہوتے تھے، البتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مہندی کا خضاب کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2341، وانظر: 12994
حدیث نمبر: 13264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَعْبَدٍ ابْنُ أَخِي حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَ : ذَهَبْتُ مَعَ حُمَيْدٍ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَايَعَهُ النَّاسُ ، أَوْ كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَقِّنُنَا ، أَنْ يَقُولَ لَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " قال : عبد الله قَالَ أَبِي : لَيْسَ هُوَ حُمَيْدًٌا الطَّوِيلُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں " حسبِ طاقت " کی قید لگا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قابل للتحسين لأجل جعفر بن معبد، روى عنه اثنان، وقال أبو حاتم: صالح، وذكره ابن حبان في الثقات
حدیث نمبر: 13265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَبَنِي لِحْيَانَ ، وَعُصَيَّةَ ، عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4090 م: 677
حدیث نمبر: 13266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَزْمٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ لِبَعْضِ مَخَارِجِهِ ، وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَانْطَلَقُوا يَسِيرُونَ ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَمْ يَجِدْ الْقَوْمُ مَاءً يَتَوَضَّئُونَ بِهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا نَجِدُ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ ، وَرَأَى فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ كَرَاهِيَةَ ذَلِكَ ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ يَسِيرٍ فَأَخَذَه نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ مَدَّ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَةَ عَلَى الْقَدَحِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا " فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ حَتَّى أَبْلَغُوا فِيمَا يُرِيدُونَ ، قَالَ : سُئِلَ كَمْ بَلَغُوا ؟ قَالَ سَبْعِينَ ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی ہمراہ تھے، نماز کا وقت قریب آگیا، لوگوں نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن پانی نہیں ملا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وضو کے لئے پانی نہیں مل رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے، ایک آدمی گیا اور ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر وضو فرمانے لگے پھر اپنی چار انگلیاں اس پیالے میں ڈال دیں، لوگوں کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم دیا، لوگ اس سے وضو کرتے رہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی تعداد پوچھی تو انہوں نے فرمایا ستر یا اسی کے قریب۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3574 م: 2279
حدیث نمبر: 13267
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : " قَلَّ لَيْلَةٌ تَأْتِي عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَرَى فِيهَا خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم " ، وَأَنَسٌ يَقُولُ ذَلِكَ وَتَدْمَعُ عَيْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بہت کم کوئی رات ایسی گذرتی ہے جس میں مجھے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب نہ ہوتی ہو، یہ کہتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : أَتَتْ الْأَنْصَارُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمَاعَتِهِمْ ، فَقَالُوا : إِلَى مَتَى نَنْزَعُ مِنْ هَذِهِ الْآبَارِ ؟ فَلَوْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا اللَّهَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ عُيُونًا ، فَجَاءُوا بِجَمَاعَتِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ : " مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، لَقَدْ جَاءَ بِكُمْ إِلَيْنَا حَاجَةٌ " قَالُوا : إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فإِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُوتِيتُمُوهُ ، وَلَا أَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ " فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالُوا : الدُّنْيَا تُرِيدُونَ ؟ فَاطْلُبُوا الْآخِرَةَ ، فَقَالُوا : بِجَمَاعَتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَغْفِرَ لَنَا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَوْلَادِنَا مِنْ غَيْرِنَا ، قَالَ : " وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَوَالِينَا ، قَالَ : " وَمَوَالِي الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک کنوؤں سے پانی کھینچ کر لاتے رہیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں کہ وہ اللہ سے ہمارے لئے دعاء کردیں کہ ان پہاڑوں سے چشمے جاری کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا انصار کو خوش آمدید ! بخدا ! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا اور میں اللہ سے تمہارے لئے جس چیز کا سوال کروں گا، اللہ وہ مجھے ضرور عطاء فرمائے گا، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے موقع غنیمت سمجھو اور اپنے گناہوں کی معافی کا مطالبہ کرلو، چنانچہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری دوسری اولاد کیا ہم میں شامل نہیں ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دعاء میں شامل کرلیا، پھر انہوں نے اپنے موالی کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی شامل کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوی، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، وانظر: 12414
حدیث نمبر: 13268M
قَالَ : وَحَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ أُمِّ الْحَكَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُهْبَانَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَنَسًا يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ : " وَكَنَائِنِ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13268M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أم الحكم بنت النعمان، والراوية عنها لا يعرف حالهما
حدیث نمبر: 13269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي ، فَقَالَ : " قُومُوا أُصَلِّي بِكُمْ " فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ ؟ قَالَ : عَلَى يَمِينِهِ ، وَالنِّسْوَةَ خَلْفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے، والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی) راوی نے ثابت سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا ؟ انہوں نے کہا دائیں جانب اور عورتوں کو ان کے پیچھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ يَحْيَى ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ ، كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑی ہوئیں، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ سب مرغ کی کلغی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم يحیى وضعف عبدالله العمري، وسلفت قصة وفاة ابن أبي طلحة دون قصة الصلاة
حدیث نمبر: 13271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا مَعَهُ وَأُمُّ سُلَيْمٍ ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ مِنْ خَلْفِنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، میں اور ام سلیم رضی اللہ عنہ ان کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب اور ام سلیم کو ہمارے پیچھے کھڑا کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 13273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ " ، أُرَاهُ قَالَ : الْأُولَى ، شَكَّ أَبُو قَطَنٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1302، م: 926
حدیث نمبر: 13274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، پھر اسے ترک فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 13275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ، قَالَ : إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَسْقِيهِمْ ، لَأَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَمَرُونِي ، فَكَفَأْتُهَا ، وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا ، حَتَّى كَادَتْ السِّكَكُ أَنْ تُمْتَنَعَ مِنْ رِيحِهَا ، قَالَ : أَنَسٌ : وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا ، أَفَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَبِيعَهُ ، فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الثُّرُوبُ فَبَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن شراب حرام ہوئی میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ آدمی کو پلا رہا تھے، جب اس کی حرمت معلوم ہوئی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ تمہارے برتن میں جتنی جتنی شراب ہے سب انڈیل دو ، بخدا ! دوسرے لوگوں نے بھی اپنے برتنوں کی شراب انڈیل دی، حتیٰ کہ مدینہ کی گلیوں سے شراب کی بدبو آنے لگی اور ان کی اس وقت شراب بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی بارگاِ نبوت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میرے پاس ایک یتیم کا مال تھا، میں نے اس سے شراب خرید لی تھی، کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں اسے بیچ کر اس یتیم کو اس کا مال لوٹا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو وہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو بیچنے کی اجازت نہیں دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5580، م: 1980
حدیث نمبر: 13276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي عَقْلَهُ ضَعْفٌ ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ ، فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ ، فَقُلْ : هَاء وهاء وَلَا خِلَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی " جس کی عقل میں کچھ کمزوری تھی " خریدو فروخت کیا کرتا تھا (اور دھوکہ کھاتا تھا) اس کے اہل خانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص پر خریدو فروخت کی پابندی لگا دیں کیونکہ اس کی عقل کمزور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر اسے خریدو فروخت کرنے سے منع کردیا، وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی ! میں اس کام سے نہیں رک سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم خریدو فروخت کو نہیں چھوڑ سکتے تو پھر معاملہ کرتے وقت یہ کہہ دیا کرو کہ اس معاملے میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح، وھذا إسناد قوی
حدیث نمبر: 13277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنِ الِانْصِرَافِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرف سے واپس جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 708
حدیث نمبر: 13278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا " ، قَالُوا : مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ . وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ إِذَا كَانَ يَؤُمُّهُمْ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَأَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ ، قَالَ : إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي ، وَمِنْ خَلْفِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ اور لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحیح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 13279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ أَبِي ذَرَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الإسلام أَرْبَعِينَ سَنَةً ، إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ : الْجُنُونَ ، وَالْجُذَامَ ، وَالْبَرَصَ ، فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً ، لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ ، فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ ، رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ ، فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً ، أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ ، قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَا تَأَخَّرَ ، وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ ، وَشَفَعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اسلام کی حالت میں چالیس برس کی عمر مل جائے، اللہ اس سے تین قسم کی بیماریاں جنون، کوڑھ، چیچک کو دور فرما دیتے ہیں، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس پر حساب کتاب میں آسانی فرما دیتے ہیں، جب ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطاء فرماتا ہے جو اسے محبوب ہے، جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اور سارے آسمانوں والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول فرما لیتا ہے اور اس کے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے اور جب نوے سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اسے زمین میں " اسیر اللہ " کا نام دیا جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ کے حق میں اس کی سفارش قبول ہوتی ہے۔ فائدہ : محدثین نے اس حدیث کو " موضوع " قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعیف جدا، يوسف بن أبي ذرة، قال ابن معين: «لا شی» ، و قال ابن حبان في «المجروحين» «منكر الحديث جدا...... »
حدیث نمبر: 13280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
حدیث نمبر: 13281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَا بِهَا لِأُمَّتِهِ ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 13282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُوَاصِلُوا ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر:12740
حدیث نمبر: 13283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الله بْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ ، وَقَدْ جَعَلَ لَهُ طَعَامًا ، فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيَّ ، فَاسْتَحْيَيْتُ ، فَقُلْتُ : أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : قُومُوا ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا صَنَعْتُ شَيْئًا لَكَ ، قَالَ : فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي ، عَشَرَةً ، فَقَالَ : كُلُوا ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَخَرَجُوا ، وَقَالَ : أَدْخِلْ عَشَرَةً ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً ، وَيُخْرِجُ عَشَرَةً ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ، ثُمَّ هَيَّأَهَا ، فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا اٹھو، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو صرف آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا اور برکت کی دعاء کر کے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے سب آدمیوں کو وہ کھانا کھلایا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا اور ہم نے بھی اسے کھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، " أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكَ ، أَتَدْرُونَ مَا قَالَ ؟ قَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالُوا : أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ : لَا ، وَلَكِنْ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " وعلیک " پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ یہ کہہ رہا ہے " السام علیک " یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اس کی گردن نہ اڑا دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6926
حدیث نمبر: 13285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، " أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سُمًّا فِي لَحْمٍ ، ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهَا جَعَلَتْ فِيهِ سُمًّا . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهَا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے گوشت میں زہر ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی اس میں سے ایک لقمہ ہی کھایا تھا کہ فرمانے لگے اس عورت نے اس میں زہر ملایا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اسے قتل نہ کردیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں اس زہر کا اثر دیکھ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2617، م: 2190
حدیث نمبر: 13286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ ، أَوْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : قَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ، قَالَ : فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4961، م: 799
حدیث نمبر: 13287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى ، وَالَّتِي تَلِيهَا ، ثُمَّ يَقُولُ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ، فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا ، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، قَالَ : فَيُقَالُ : لَقَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ سورة آل عمران آية 91 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک کافر کو لا کر اس سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کے برابر سونا موجود ہو تو کیا وہ سب اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، یہی مراد ہے اس ارشاد ربانی کا " بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مرگئے جب کہ وہ کافر ہی تھے، ان میں کسی سے زمین بھر کر بھی سونا قبول نہیں کیا جائے گا گو کہ وہ اسے فدئیے میں پیش کر دے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6538، م: 2805
حدیث نمبر: 13289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : وَقَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ صُوِّرَتَا فِي هَذَا الْحَائِطِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " ، أَوْ كَمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا کہ وہ اس دیوار میں میرے سامنے پیش کی گئی ہیں، میں نے آج جیسا بہترین اور سخت ترین دن نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6362، م: 2359
حدیث نمبر: 13290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ سُؤَالًا " أَوْ قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا ، فَاسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " أَوْ كَمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 200
حدیث نمبر: 13291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ جَعَلَ لَهُ ، قَالَ عَفَّانُ : يَجْعَلُ لَهُ مِنْ مَالِهِ النَّخَلَاتِ ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ ، أَوْ بَعْضَهُ ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِيهِنَّ ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ ، فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي ، وَجَعَلَتْ تَقُولُ : كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ ، أَوْ كَمَا قَالَت ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكِ كَذَا وَكَذَا ، وَتَقُولُ : كَلَّا وَاللَّهِ . قَالَ : وَيَقُولُ لَكِ : كَذَا وَكَذَا . قَالَ : حَتَّى أَعْطَاهَا ، فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : عَشْرُ أَمْثَالِهَا ، أَوْ قَالَ : قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهَا " أَوْ كَمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد لوگ اپنے مال میں سے کھجور کے درخت وغیرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتے تھے (اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تقسیم کر دیتے حتیٰ کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر مفتوح ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درخت ان کے مالکان کو واپس لوٹانا شروع کردیئے، یہ دیکھ کر میرے گھر والوں نے مجھے حکم دیا کہ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دوں اور درخواست کروں کہ ان کے اہل خانہ نے دو درخت دیئے تھے، بہرحال ! میری درخواست پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس دے دیئے، اسی اثناء میں حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ بھی آگئیں اور میرے گلے میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یہ درخت ہرگز نہیں دے سکتے جب کہ یہ تو انہوں نے مجھے دیئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آپ اس کے بدلے میں اتنے درخت لے لیں لیکن وہ برابر انکار کرتی رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر درختوں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے، حتیٰ کہ دس گنا زائد درختوں پر وہ راضی ہوگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں عطاء کردیئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3128، 4120، م: 1771
حدیث نمبر: 13292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ : أَنَّ أَنَسًا ، قَالَ : : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا ، وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ ، وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ ، فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِلَيْكَ عَنِّي ، فَواللهِ لَقَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَاللَّهِ لَرِيحُ حِمَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ . قَالَ : فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ، قَالَ : فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ ، قَالَ : فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ . قَالَ : فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ : وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا سورة الحجرات آية 9 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کے پاس جانے کا مشورہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلے گئے، مسلمان بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل روانہ ہوگئے، زمین کچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھ سے دور ہی رہیں، آپ کے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے، اس پر ایک انصاری نے کہا بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے، ادھر عبداللہ بن ابی کی قوم کا ایک آدمی اس کی طرف سے غضب ناک ہوگیا، پھر دونوں کے ساتھیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور شاخوں، ہاتھوں اور جوتوں سے لڑائی کی نوبت آگئی، ہمیں معلوم ہوا کہ یہ آیت انہی کے بارے نازل ہوئی کہ " اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو آپ ان کے درمیان صلح کرا دیں۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2691، م: 1799
حدیث نمبر: 13293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا ، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے راز کی بات فرمائی تھی، میں نے وہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی، حتیٰ کہ میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے بھی مجھ سے وہ بات پوچھی تو میں نے انہیں بھی نہیں بتائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6289، م: 2482
حدیث نمبر: 13294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي ، كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ ، أَوْ مِثْلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ " شَكَّ هِشَامٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2303، وهذا إسناد قوی
حدیث نمبر: 13295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَصِفُ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ أَسْوَدَ ، لَيْسَ بِالْعَظِيمِ وَلَا بِالصَّغِيرِ ، يُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَيُذَابُ ، فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرق النساء نامی مرض کے لئے سیاہ عربی مینڈھے کی چکی کی تشخیص فرماتے تھے جو بہت بڑا بھی نہ ہو اور بہت چھوٹا بھی نہ ہو، اس کے تین حصے کر کے اسے پگھلا لیا جائے اور روزانہ ایک حصہ پی لیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شَاوَرَ النَّاسَ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِيَّانَا تُرِيدُ ؟ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ ، لَأَخَضْنَاهَا ، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ ، فَعَلْنَا ، فَشَأْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى نَزَلَ بَدْرًا ، وَجَاءَتْ رَوَايَا قُرَيْشٍ ، وَفِيهِمْ غُلَامٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ أَسْوَدُ ، فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَمَّا أَبُو سُفْيَانَ ، فَلَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ، وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ ، وَأَبُو جَهْلٍ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ جَاءَتْ ، فَيَضْرِبُونَهُ ، فَإِذَا ضَرَبُوهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ . فَإِذَا تَرَكُوهُ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، فَقَالَ : مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ ، وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، فَانْصَرَفَ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ ، وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، فَوَضَعَهَا ، فَقَالَ : هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، فَالْتَقَوْا ، فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ ، فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ كَفَّيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا ، فَقَالَ : يَا أَبَا جَهْلٍ ، يَا عُتْبَةُ ، يَا شَيْبَةُ ، يَا أُمَيَّةُ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَدْعُوهُمْ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا ؟ فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ جَوَابًا ، فَأَمَرَ بِهِمْ ، فَجُرُّوا بِأَرْجُلِهِمْ ، فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ ! شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں، لہٰذا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو تیار کر کے روانہ ہوگئے اور بدر میں پڑاؤ کیا، قریش کے کچھ جاسوس آئے تو ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کرلیا اور اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف آگئے ہیں، وہ لوگ جب اسے مارتے تو وہ ابوسفیان کے بارے بتانے لگتا اور جب چھوڑتے تو وہ کہتا کہ مجھے ابوسفیان کا کیا پتہ ؟ البتہ قریش آگئے ہیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جب تم سے سچ بیان کرتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب یہ جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان شاء اللہ کل فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص یہاں، چنانچہ آمنا سامنا ہونے پر مشرکین کو اللہ نے شکست سے دوچار کردیا اور واللہ ایک آدمی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔ تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن ربیعہ ! اور اے امیہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، اسے تم نے سچا پایا ؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے اسے سچا پایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو تین دن کے بعد آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں، تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں پاؤں سے گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2874، وانظر ما بعدہ