حدیث نمبر: 13218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ ، قَبَضَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ ، فَلَمَّا حَلَقَهُ الْحَجَّامُ أَخَذَهُ ، فَجَاءَ بِهِ أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَجَعَلَتْ تَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال لیا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر:12483
حدیث نمبر: 13219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي اللَّيْلَةَ فِي دَارِ رَافِعِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ حَسَنٌ فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ ، فَأُوتِينَا بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ ابْنِ طَابٍ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ لَنَا الرِّفْعَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ گویا میں رافع بن عقبہ کے گھر میں ہوں اور وہاں " ابن طاب " نامی کھجوریں ہمارے سامنے پیش کی گئیں، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ (رافع کے لفظ سے) دنیا میں رفعت (عقبہ کے لفظ سے) آخرت کا بہترین انجام ہمارے لئے ہی ہے اور (طاب کے لفظ سے) ہمارا دین پاکیزہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2270.
حدیث نمبر: 13220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْمُزَنِيَّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ قَالَ : " مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ فِيهِ الْقِصَاصُ ، إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 13221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ رَدَّدَهَا ثَلَاثًا ، وَإِذَا أَتَى قَوْمًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اسے دہراتے تھے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو انہیں تین مرتبہ سلام فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 94، وإسناده حسن.
حدیث نمبر: 13222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ الْحَدانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے شفاعت کے مستحق کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12376
حدیث نمبر: 13223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ أَبُو هَاشِمٍ صَاحِبُ الزَّعْفَرَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ نَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ ، فَقَالَ : " هَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ أَبُوكِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہلا کھانا ہے جو تمہارا باپ تین دن بعد کھا رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، فإن عمارة أبا هاشم لم يسمع من أنس.
حدیث نمبر: 13224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " قَالَ : وَثَمَّ غُلَامٌ ، فَقَالَ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا فَلَنْ يَبْلُغَ الْهَرَمَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام " جو میرا ہم عمر تھا " وہاں سے گذرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس کی زندگی ہوئی تو یہ بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمران القطان، وهو متابع، والحسن البصري قد صرح بالتحديث كما برقم:14012
حدیث نمبر: 13225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ بَصْرِيٌّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ زُنَيْبٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُعَاذًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ ، وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ ، فَمَا تَأْمُرُ فِي أَمْرِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعْ اللَّهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر ہمارے حکمران ایسے لوگ بن جائیں جو آپ کی سنت پر عمل نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کی اطاعت نہیں کرتا اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسین، عمرو بن زینب روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات
حدیث نمبر: 13226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْأَنْصَارَ اشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ السَّوَانِي ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْعُوَ لَهُمْ أَوْ يَحْفِرَ لَهُمْ نَهْرًا ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : " لَا يَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُعْطُوهُ " فَأُخْبِرَتْ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ ، فَلَمَّا سَمِعُوا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں پانی کا معاملہ بہت پیچیدہ ہوگیا، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کردیں گے، یا ان کے لئے دعا کردیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید ! بخدا ! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، عبداللہ ابن ابی یزید المازنی روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات
حدیث نمبر: 13227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى بَعِيرِهِ ، وَقَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ " ، وَحَدَّثَ بِذَلِكَ شَهْرٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے توبہ کرنے پر اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا اونٹ کسی جنگل میں گم ہوجائے اور کچھ عرصے بعد دوبارہ مل جائے۔ یہ حدیث شہر بن حوشب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6309، م: 2747، وهذا إسناد حسن من أجل عمر بن إبراهيم العبدي، وهو متابع، وحديث شهر- وهو ابن حوشب- عن أبي هريرة الذي أشار إليه المؤلف لم يقع لنا من طريقه، وشهر ضعیف، وانظر الحديث برقم:8192
حدیث نمبر: 13228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَمَا يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ ، فَيُكَلِّمُهُ ثُمَّ يَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بات کرلیتے تھے، پھر بڑھ کر مصلیٰ پر چلے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13229
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ مَوْكِبِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام سَاطِعًا فِي سِكَّةِ بَنِي غَنْمٍ ، حِينَ سَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی سواری کی ٹاپ سے اڑنے والا وہ گردو غبار ابھی تک میری نگاہوں کے سامنے ہے جو بنو غنیم کی گلیوں میں بنو قریظہ کی طرف جاتے ہوئے ان کی ایڑ لگانے سے پیدا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:3214
حدیث نمبر: 13230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ : أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ، وَتَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5231، م: 2671
حدیث نمبر: 13231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پانی پیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 13232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ بَاسِطًا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493.
حدیث نمبر: 13233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَالْهَرَمِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ " وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706.
حدیث نمبر: 13234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 13235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى العَوَالِي فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 13236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاسٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ قُعُودًا مِنْ مَرَضٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا ، مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ ، وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ ، وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ ، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ؟ قَالَ " حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے ؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2839
حدیث نمبر: 13238
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ ، عَنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا رَأَيْتُ شَعَرًا أَشَبَهَ بِشَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شعر قَتَادَةَ " ، فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے ساتھ قتادہ کے بالوں سے زیادہ مشابہہ کسی کے بال نہیں دیکھے، اس دن قتادہ رحمہ اللہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ مَعَ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ : يَا جَارِيَةُ ، انْظُرِي هَلْ حَانَتْ ؟ قَالَ : قَالَتْ : نَعَمْ ، قال : فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّمَا انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ الْآنَ مَعَ الْإِمَامِ ! قَالَ : فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خارجہ بن زید رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انہوں نے اپنی باندی سے فرمایا کہ دیکھو ! نماز کا وقت ہوگیا ؟ اس نے کہا جی ہاں ! ہم نے ان سے کہا کہ ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر آرہے ہیں ؟ (اور آپ عصر کی نماز پڑھ رہے ہیں) ؟ لیکن وہ کھڑے ہوگئے اور نماز عصر پڑھ لی، اس کے بعد فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح، خ: 549، م: 623، وهذا إسناد ضعیف، عبدالله والد خارجة معروف النسب مجھول الحال
حدیث نمبر: 13240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَا قَالَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، قَالَ : " رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ " فَرَدُّوهُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا : عَلَيْكَ " أَيْ عَلَيْكَ مَا قُلْتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر: 12427
حدیث نمبر: 13241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ فُلَانٍ ، اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ ، أَجْلِسْ إِلَيْكِ " فَفَعَلَتْ ، فَجَلَسَ إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 11941
حدیث نمبر: 13242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَلَقَ ، بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ ، قَالَ : ثُمَّ حَلَقَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرَ ، فَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کروایا تو بال کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو وہ عام لوگوں کو دے دیئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1305.
حدیث نمبر: 13243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 531، م: 551
حدیث نمبر: 13244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرَ مَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ أَوْ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ ، شَكَّ سَعِيدٌ فَجَعَلُوا يَتَوَضئَُونَ ، وَالْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، قَالَ : قُلْنَا لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : ثَلَاثَ مِائَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2279، وانظر: 16694
حدیث نمبر: 13245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1923، م: 1095
حدیث نمبر: 13246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا أُنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2 مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ مُخَالِطُهُمْ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ ، وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ آيَةٌ ، هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْنَا مَا يُفْعَلُ بِكَ ، فَمَا يُفْعَلُ بِنَا ؟ فَأُنْزِلَتْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5 ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ وَأَصْحَابُهُ مُخَالِطُو الْحُزْنِ وَالْكَآبَةِ ، وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ قَائِلٌ : هَنِيئًا مَرِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4172 م: 1786
حدیث نمبر: 13247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ، وَالَّذِي يَلِيهِ ، فَإِنْ كَانَ نَقْصٌ ، فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْآخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اگلی پھر اس کے بعد والی صفوں کو مکمل کیا کرو اور کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصٍ مِنْ حَرِيرٍ فِي سَفَرٍ ، مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2919، م: 2076
حدیث نمبر: 13249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ أَخِي يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا : وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 نَصَبَ النَّفْسَ ، وَرَفَعَ الْعَيْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی " وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین بالعین " نصب النفس و رفع العین " میں " نفس " کے لفظ کو منصوب اور " عین " کے لفظ کو مرفوع پڑھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعیف لجهالة أبي علي بن يزيد الأيلي
حدیث نمبر: 13250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتي نَظَّارًا ، مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنِي حَارِثَةُ ، إِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ ؟ ! فَقَالَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6567
حدیث نمبر: 13251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَعْيَنَ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا ، فَعَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے ورثاء کے لئے مال چھوڑ جائے، وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو قرض چھوڑ جائے اس کی ادائیگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أعين البصري
حدیث نمبر: 13252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ ، مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:2920، م: 2076
حدیث نمبر: 13253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ، وَلَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2280، م: 1577
حدیث نمبر: 13254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ، ثُمَّ فَرَّقَ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عرصے تک " جب تک اللہ کو منظور ہوا " سر کے بال کنگھی کے بغیر رکھتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث مرسل كما في الموطا، باب «السنة في الشعر» «عن مالك، عن زياد بن سعد، عن ابن شهاب، أنه سمعه يقول: سدل......» وأخطأ فیه حماد بن خالد الخياط، فوصله و أسنده، والصحیح فیه عن ابن عباس كما سلف برقم: 2209، وانظر: خ:5917، م:2336
حدیث نمبر: 13255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَهْلَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَلِحْيَانَ ، وَبَنِي عُصَيَّةَ ، عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَنَزَلَ فِي ذَلِكَ قُرْآنٌ ، فَقَرَأْنَاهُ : 0 بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیس دن تک قبیلہ رعل، ذکوان، بنولحیان اور عصیہ " جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی " کے خلاف بددعاء فرماتے رہے۔ ان لوگوں نے بیئر معونہ پر صحابہ کو شہید کردیا تھا اور اس سلسلے میں قرآن کریم کی ایک آیت بھی نازل ہوئی تھی جو ہم پہلے پڑھتے تھے (پھر تلاوت منسوخ ہوگئی) کہ ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2814، م: 677
حدیث نمبر: 13256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَتْ الْخَادِمُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَهِيَ أَمَةٌ تَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک عام باندی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعیف لضعف علي بن زيد بن جدعان، لکنہ صح بنحو هذا اللفظ، انظر:11941
حدیث نمبر: 13257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ، قال : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حديث ثابت صحيح، خ: 1031، م: 895، وعلي بن زيد بن جدعان ضعيف.