حدیث نمبر: 13178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ سورة الأعراف آية 143 قَالَ : فَأَوْمَأَ بِخِنْصَرِهِ ، قَالَ : فَسَاخَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ربانی " جب اس کے رب نے اپنی تجلی ظاہر فرمائی " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چھنگلیا کے ایک کنارے کے برابر تجلی ظاہر ہوئی۔
حدیث نمبر: 13179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
حدیث نمبر: 13180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَزَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 13181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ ، مَدِيني ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فقَالَ : صَلَّيْتُمْ ؟ يَعْنِي الْعَصْرَ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قُلْنَا : أَخْبِرْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : كَانَ يُصَلِّيهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن وردان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اہل مدینہ کے ایک وفد کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا اور پوچھا کہ یہ بتائیے " اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ عمدہ سلوک کرے " کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز کب پڑھتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ سورج روشن اور صاف ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 13182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حدیث نمبر: 13183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ لَهُ فَصٌّ حَبَشِيٌّ ، وَنَقَشَهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوالی، جس کا نگینہ سیاہ تھا اور اس پر یہ عبارت نقش تھی " محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حدیث نمبر: 13184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيَغْتَسِلُ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 13185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، من عمر رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قنوت نازلہ پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ذات یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پڑھی ہے، رکوع کے بعد۔
حدیث نمبر: 13186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
حدیث نمبر: 13187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، سَمِعَ أَنَسًا ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : إِنَّمَا ذَاكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! قَالَ : قُلْتُ : أَسَمِعْتَهُ مِنْهُ ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔
حدیث نمبر: 13188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثَوْبٍ حَرِيرٍ ، فَجَعَلُوا يَمَسُّونَهُ وَيَنْظُرُونَ ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ أَوْ مِنْدِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنْ هَذَا ، أَوْ " أَلْيَنُ مِنْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر کہیں سے آیا لوگ اسے چھونے اور دیکھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر تعجب کر رہے ہو، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حدیث نمبر: 13189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، وَعَتَّابٍ مَوْلَى ابن هرمز ، ورابع أيضا ، سمعوا أنسا يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، قال عبد الله : قال أَبي : كَذَا قَالَ لَنَا ، أَخْطَأَ فِيهِ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 13190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، سَمِعَ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔
حدیث نمبر: 13191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ : " اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَهْ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔
حدیث نمبر: 13192
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان " جو وہ میرے ساتھ کرتا ہے " کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : " لَا ، إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیکم " کہا، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف وعلیکم کہا کرو۔
حدیث نمبر: 13194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ ، وَأَعْرَابِيٌّ يَسْأَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَعْضِ حُجَرِهِ ، فَجَذَبَهُ جَذْبَةً حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ ، وَحَتَّى تَغَيَّبَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مِنْ تَغْيِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ لَهُ بِشَيْءٍ فَأُعْطِيَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ وہ پھٹ گئی اور اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف یہی تبدیلی ہوئی کہ اسے کچھ دینے کا حکم دیا جو اسے دے دیا گیا۔
حدیث نمبر: 13195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا خَالَهُ ، أَخَو أُمِّ سُلَيْمٍ ، فِي سَبْعِينَ رَجُلًا ، فَقُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ ، وَكَانَ رَئِيسُ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ ، وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ ، أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ ، أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ ، أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ ، قَالَ : فَطُعِنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ، فَقَالَ : غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ، ائْتُونِي بِفَرَسِي ، فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ ، فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ ، وَرَجُلٌ أَعْرَجُ ، فَقَالَ لَهُمْ : كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ ، فَإِنْ آمَنُونِي وَإِلَّا كُنْتُمْ قَرِيبًا ، فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ ، فَقَالَ : أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ ، وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ خَلْفِهِ ، فَطَعَنَهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ ثُمَّ قَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ ، كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ ، قَالَ أَنَسٌ فَأُنْزِلَ عَلَيْنَا وَكَانَ مِمَّا يُقْرَأُ فَنُسِخَ " أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا " ، قَالَ : فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَبَنِي لِحْيَانَ ، وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو "" جو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے "" ان ستر صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تھا جو بیئر معونہ کے موقع پر شہید کردیئے گئے تھے، اس وقت مشرکین کا سردار عامر بن طفیل تھا، وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا اور کہا تھا کہ میرے متعلق تین میں سے کوئی ایک بات قبول کرلیجئے، یا تو شہری لوگ آپ کے اور دیہاتی لوگ میرے ہوجائیں، یا میں آپ کے بعد خلیفہ نامزد کیا جاؤں، ورنہ پھر میں آپ کے ساتھ بنو غطفان کے ایک ہزار سرخ و زرد گھوڑوں اور ایک ہزار سرخ و زرد اونٹوں کو لے کر جنگ کروں گا، اسے کسی قبیلے کی عورت کے گھر میں بعد ازاں کسی نے نیزے سے زخمی کردیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں قبیلے کی عورت کے گھر میں ایسا پھوڑا ملا جیسے اونٹ میں ہوتا ہے، میرا گھوڑا لے کر آؤ، گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کی پشت سے اترنا نصیب نہ ہوا، راستے ہی میں مرگیا۔ حضرت حرام رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لے کر چلے، ان میں سے ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسرا لنگڑا تھا، انہوں نے ان دونوں سے فرمایا کہ تم میرے قریب ہی رہنا تاآنکہ میں واپس آجاؤں، اگر تم مجھے حالت امن میں پاؤ تو بہت بہتر، ورنہ اگر وہ مجھے قتل کردیں تو تم میرے قریب تو ہوگے، باقی ساتھیوں کو جا کر مطلع کردینا، یہ کہہ کر حضرت حرام رضی اللہ عنہ روانہ ہوگئے۔ متعلقہ قبیلے میں پہنچ کر انہوں نے فرمایا کہ کیا مجھے اس بات کی اجازت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا سکوں ؟ انہوں نے اجازت دے دی، حضرت حرام رضی اللہ عنہ ان کے سامنے پیغام ذکر کرنے لگے اور دشمنوں نے پیچھے سے ایک آدمی کو اشارہ کردیا جس نے پیچھے سے آکر ان کے ایسا نیزہ گھونپا کہ جسم کے آر پار ہوگیا، حضرت حرام رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے "" اللہ اکبر "" رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا، گرگئے، پھر انہوں نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا، صرف وہ لنگڑا آدمی بچ گیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا تھا، اسی مناسبت سے یہ وحی نازل ہوئی "" جس کی پہلے تلاوت بھی ہوئی تھی، بعد میں منسوخ ہوگئی "" کہ ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ہیں، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور اس نے ہمیں راضی کردیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس دن تک قبیلہ رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ "" جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی "" کے خلاف بددعاء فرماتے رہے۔
حدیث نمبر: 13196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 13197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں، اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔
حدیث نمبر: 13198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " قَالُوا : وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي ، فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 13199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَا خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ : " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حدیث نمبر: 13200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ حَارِثَةُ أَصَابَ خَيْرًا وَإِلَّا أَكْثَرْتُ الْبُكَاءَ ! قَالَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّهُ لَفِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی، ورنہ پھر میں کثرت سے آہ وبکا کروں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سے جنت الفردوس میں ہے۔
حدیث نمبر: 13201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، فَأَجَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک یہودی نے جو کی روٹی اور پرانے روغن کی دعوت دی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالی۔
حدیث نمبر: 13202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ ، وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 13203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی۔
حدیث نمبر: 13204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ، فأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ ، فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ ، فَلَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو تین دن تک باہر نہیں آئے، ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کا پردہ ہٹایا، ہم نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ تاباں کھلتا ہوا صفحہ تھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارے سے فرمایا کہ آگے بڑھ کر نماز مکمل کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا لیا، پھر وصال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے نہ آسکے۔
حدیث نمبر: 13205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ ، وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ ، قَالَ : فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ ، فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ ؟ فَيَقُولُ : هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي إِلَى السَّبِيلِ ، فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَهْدِيهِ الطَّرِيقَ ، وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ ، فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا ، قَالَ : فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ " فَصَرَعَتْهُ فَرَسُهُ ، ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مُرْنِي بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : " قِفْ مَكَانَكَ ، لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا " ، قَالَ : فَكَانَ أَوَّلُ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ آخِرُ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ ، قَالَ : فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا ، وَقَالُوا : ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ ، قَالَ : فَرَكِبَ رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا حَوْلَهُمَا بِالسِّلَاحِ ، قَالَ : فَقِيلَ : بِالْمَدِينَةِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ ، فَاسْتَشْرَفُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، وَيَقُولُونَ : جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ ، قال : فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى جَاءَ إِلَى جَانِبِ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ ، قال : فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهَا ، إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ مِنْهُ ، فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ فِيهَا ، فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ ، فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ ؟ " قَالَ : فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذِهِ دَارِي ، وَهَذَا بَابِي ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا " ، قَالَ : فَذَهَبَ فَهَيَّأَ لَهُمَا مَقِيلًا ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَدْ هَيَّأْتُ لَكُمَا مَقِيلًا ، فَقُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ فَقِيلَا ، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا ، وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ ، وَلَقَدْ عَلِمَتْ الْيَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ ، وَابْنُ سَيِّدِهِمْ ، وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ ، فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ، وَيْلَكُمْ ، اتَّقُوا اللَّهَ ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا ، وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ ، أَسْلِمُوا " ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُهُ ، ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بوڑھے اور جانے پہچانے تھے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوان اور غیر معروف تھے، اس لئے راستے میں اگر کوئی آدمی ملتا اور یہ پوچھتا کہ ابوبکر ! آپ کے آگے یہ کون صاحب ہیں ؟ تو وہ جواب دیتے کہ یہ مجھے راستہ دکھا رہے ہیں، سمجھنے والا یہ سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں راستہ دکھا رہے ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس سے خیر کا راستہ مراد لے رہے تھے۔ ایک مرتبہ راستہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک شہسوار ان کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! یہ سوار تو ہم تک پہنچ چکا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ ! اسے گرا دے، اسی لمحے اس کے گھوڑے نے اسے اپنی پشت سے گرا دیا اور ہنہناتا ہوا کھڑا ہوگیا، وہ شہسوار کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی ! مجھے کوئی حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ پر ہی جا کر رکو اور کسی کو ہمارے پاس پہنچنے نہ دو ، دن کے ابتدائی حصے میں وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوششیں کر رہا تھا، اس طرح دن کے آخری حصے میں وہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہتھیار بن گیا۔ اس طرح سفر کرتے کرتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھریلے علاقے کی جانب پہنچ کر پڑاؤ کیا اور انصار کو بلا بھیجا، وہ لوگ آئے اور دونوں حضرات کو سلام کیا اور کہنے لگے کہ امن و اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر تشریف لے آئیے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور انصار نے ان دونوں کے گرد مسلح سپاہیوں سے حفاظتی حصار کرلیا، ادھر مدینہ منورہ میں اعلان ہوگیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، چنانچہ لوگ جھانک جھانک کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور اللہ کے نبی آگئے، کے نعرے لگانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس پہنچ کر اتر گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل خانہ سے باتیں کر ہی رہے تھے کہ عبداللہ بن سلام کو یہ خبر سننے کو ملی، اس وقت وہ اپنے کھجور کے باغ میں اپنے اہل خانہ کے لئے کھجوریں کاٹ رہے تھے، انہوں نے جلدی جلدی کھجوریں کاٹیں اور اپنے ساتھ ہی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور واپس گھر چلے گئے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ ہمارے رشتہ داروں میں سب سے زیادہ قریب کس کا گھر ہے ؟ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ میرا مکان ہے اور یہ میرا دروازہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جا کر ہمارے لئے آرام کرنے کا انتظام کرو، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے جا کر انتظام کیا اور واپس آکر کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی ! آرام کا انتظام ہوگیا ہے، آپ دونوں چل کر " اللہ کی برکت پر " آرام کیجئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کی خدمت میں عبداللہ بن سلام بھی حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور حق لے کر آئے ہیں، یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ابن سردار اور عالم بن عالم ہوں، آپ انہیں بلا کر ان سے پوچھئے، چنانچہ وہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے گروہ یہود ! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، اس لئے تم اسلام قبول کرلو، انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔
حدیث نمبر: 13206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كافرٌ يُهَجَّاهَا يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ك ف ر " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔
حدیث نمبر: 13207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عِصَام ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا ، وَيَقُولُ : " إِنَّهُ أَرْوَأُ ، وَأَبْرَأُ ، وَأَمْرَأُ " ، قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔
حدیث نمبر: 13208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المدينة نَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُم : بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ ، قَالَ : فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ ، حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ ، فَجَاءُوا فَقَالَ : " يَا بَنِي النَّجَّارِ ، ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا " ، فَقَالُوا : لا وَاللَّهِ ، لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ ، قَالَ : وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ ، كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ ، وَكَانَ فِيهِ خِرَبٌ ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ ، وَبِالخِرَب فَسُوِّيَتْ ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ ، قَالَ : فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً ، قَالَ : وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَلِكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إنَّه لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عوف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر نبو نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے ارد گرد تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار ! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کرلو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کردیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیئے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے کہ اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی ہے، اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔
حدیث نمبر: 13209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا ، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ ، قَالَ : أَحْسِبُهُ قَالَ : فَطِيمًا فَقَالَ : وَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ : " أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " قَالَ : نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ، قَالَ : فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا ، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ، ثُمَّ يُنْضَحُ بِالْمَاءِ ، ثُمَّ يَقُومُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا ، قَالَ : وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے، میرا ایک بھائی تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، غالباً یہ بھی فرمایا کہ اس کا دودھ چھڑا دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے فرماتے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر، یہ ایک پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتا تھا، بعض اوقات ہمارے گھر ہی میں نماز کا وقت ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نیچے بستر کو صاف کرتے اور اس پر پانی چھڑک دینے کا حکم دیتے اور نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے، ہم لوگ پیچھے کھڑے ہوجاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا دیتے، یاد رہے کہ ہمارا بستر کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 13210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ وُلِدَ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ ، وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ ، فَقَالَ : " مَعَكَ تَمْرٌ ؟ " فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ ، ثُمَّ أَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ الصَّبِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ " وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 13211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَالْقَاسِمِ جميعا ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا : عَلَيْكُمْ " وَقَالَ الْآخَرُ : " وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف علیکم کہا کرو۔
حدیث نمبر: 13212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، وَهُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا مِنْكُمْ " وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس یمن سے لوگ آئے ہیں جو تم سے بھی زیادہ رقیق القلب ہیں اور یہی وہ پہلے لوگ ہیں جو مصافحہ کا رواج اپنے ساتھ لے کر آئے۔
حدیث نمبر: 13213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ ، فصَلَّى لَهُمْ فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْنَاكَ فَفَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ! ! فَقَالَ : " مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذرنے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آج رات حاضر ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ایسا ہی کیا تھا۔
حدیث نمبر: 13214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، الْمَعْنَى ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِبَرَاءَةٌ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، قَالَ عَفَّانُ : " لَا يُبَلِّغُهَا إِلَّا أَنَا ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي " فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَلِيٍّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سورت برأت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا، لیکن جب وہ ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلوایا کہ عرب کے دستور کے مطابق یہ پیغام صرف میں یا میرے اہل خانہ کو کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہ پیغام دے کر بھیجا۔
حدیث نمبر: 13215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ لَهَا : مَا يُبْكِيكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي رُفِعَ عَنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ رونے لگیں، کسی نے پوچھا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، میں تو اس وحی پر رو رہی ہوں جو منقطع ہوگئی۔
حدیث نمبر: 13216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَكَّهَا بِيَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حدیث نمبر: 13217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَهْلُ الْيَمَنِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا كِتَابَ رَبِّنَا وَالسُّنَّةَ ، قَالَ : فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ ، وَقَالَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔
…