حدیث نمبر: 13138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ ، كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشُجَّ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ؟ ! " قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، علقه البخاري بإثر الحديث رقم: 4068، م: 1791.
حدیث نمبر: 13139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ يَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ ، قال : فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے تیر اندازی کر رہے تھے، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیروں کی بوچھاڑ دیکھنے کے لئے پیچھے سر اٹھاتے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہوجاتے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرسکیں اور عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے سینے کے سامنے میرا سینہ پہلے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3811، م: 1811.
حدیث نمبر: 13140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَى إِلَيْهَا لَيْلًا ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَرَقَ لَيْلًا لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا يُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْنَا رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : فَخَرَجَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ إِلَى حُرُوثِهِمْ ، مَعَهُمْ مَكَاتِلُهُمْ وَمَسَاحِيهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُسْلِمِينَ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَ أَنَسٌ وَإِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے، تو رات کو خیبر پہنچے، صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مسلمان اپنی سواری پر، الغرض ! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، لوگ اس وقت اپنے اوزار لے کر کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے لگ جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2945، م:1365
حدیث نمبر: 13141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أخْبَرَهُ ، أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5868، م: 2093.
حدیث نمبر: 13142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيّ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ مَرَقَةٌ فِيهَا دُبَّاءٌ ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُهُ يَأْكُلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو شوربہ تھا اس میں کدو تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کر کے کھا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2041.
حدیث نمبر: 13143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَأَى يعني مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا يَسِيرًا ، وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحْسِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے ؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5894، م: 2341، وانظر: 12635.
حدیث نمبر: 13144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَبِي الْحَلَالِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا أَنْجَشَةُ ، كَذَاكَ سَيْرُكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ ! آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12041.
حدیث نمبر: 13145
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ قَتَادَةُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كفر يُهَجَّاهُ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٍّ أَوْ كَاتِبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا دجال مدینہ منورہ میں داخل ہوسکے گا ؟ نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر للشطر الأول: 12244، وللشطر الثاني: 12004.
حدیث نمبر: 13146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 13 م: 45
حدیث نمبر: 13147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ " فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 إِلَى تَمَامِ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ فلاں ہے، اس پر یہ آیت مکمل نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان ! ایسی چیزوں کے متعلق سوال مت کیا کرو جو اگر تمہارے سامنے ظاہر ہوجائیں تو تمہیں بری لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7295، م: 2359.
حدیث نمبر: 13148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سعيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ ، أَوْ دِيبَاجٍ ، شَكَّ فِيهِ سَعِيدٌ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ ، فَلَبِسَهَا ، فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2616 م:2469
حدیث نمبر: 13149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنْبَأَهُمْ ، أَنّ رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كفر ، أَيْ كَافِرٌ يَقْرَؤُهَا الْمُؤْمِنُ أُمِّيٌّ وَكَاتِبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7131، م: 2933.
حدیث نمبر: 13150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَزَ صَلَاةً ، وَلَا أَتَمَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو نماز مکمل اور مختصر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469.
حدیث نمبر: 13151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَحَتَّى يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْهُ ، وَلَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے سب سے زیادہ محبوب نہ ہوں اور انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12765، و 12814.
حدیث نمبر: 13152
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ حَبِيبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، فَلَمَّا عَلَا جَبَلَ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب جبل بیداء پر چڑھے تو تلبیہ پڑھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً ، فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3637، م: 2802.
حدیث نمبر: 13155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:3251
حدیث نمبر: 13156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ ، إِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ ، قَالَ : فَأَهْوَى الْمَلَكُ بِيَدِهِ ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ مِسْكًا أَذْفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل امین سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4964.
حدیث نمبر: 13157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ ، قَالَ : أَتَاهُ شَيْخٌ أَوْ رَجُلٌ ، قَالَ : مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7153، م: 2639، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن تک نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه، وهذا الحديث من غرائب أبى بكر بن عياش، فالمحفوظ عن أنس من غير ما طريق عنه فى قنوت النبى أنه كان شهر، لكن تابعه فى أن قنوته كان أقل من شهر عبيدة بن حميد فيما يأتي برقم: 13462، وعبيدة لا بأس به، فلعل الوهم ممن فوقهما، والله تعالي أعلم، وانظر: 12064
حدیث نمبر: 13159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَرَخَ بِهِمَا جَمِيعًا ، أَوْ لَبَّى بِهِمَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1251.
حدیث نمبر: 13160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ ، وَلَيْسَ لِي مَالٌ أَتَجَهَّزُ بِهِ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ وَمَرِضَ ، فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ لَكَ : ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ " فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا فُلَانَةُ ، ادْفَعِي إِلَيْهِ مَا جَهَّزْتِنِي بِهِ ، وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا ، فَإِنَّكِ وَاللَّهِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْهُ شَيْئًا ، لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَكِ فِيهِ " ، قَالَ عَفَّانُ : إِنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار نوجوان نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں لیکن اتنے پیسے نہیں کہ اس کے لئے سامانِ سفر مہیا کرسکوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤ کہ انہوں نے تیاری کی تھی لیکن وہ بیمار ہوگئے، ان سے جا کر کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم نے جو سامانِ سفر تیار کیا تھا، وہ مجھے دے دو ، اس انصاری نے جا کر متعلقہ صحابی کو پیغام پہنچا دیا، انہوں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم نے میرے لئے جو سامانِ سفر تیار کیا تھا، وہ سب انہیں دے دو اور کچھ بھی نہ روکنا، کیونکہ اللہ کی قسم ! اگر تم نے اس میں سے کچھ بھی روکا تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1894.
حدیث نمبر: 13161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں ایک کمان رکھنے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه، خ: 2792، م: 1880.
حدیث نمبر: 13162
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ خَيْرُ مَنْزِلٍ ، فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّ ، فَيَقُولُ : مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا ، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ ، وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ شَرُّ مَنْزِلٍ ، فَيَقُولُ لَهُ : أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا ؟ فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ نَعَمْ ، فَيَقُولُ : كَذَبْتَ ، قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا ؟ وہ جواب دے گا پروردگار ! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسیوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہو گا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم ! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا ؟ وہ کہے گا پروردگار ! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چنانچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، سلف الشطر الأول برقم: 12342، والثاني برقم: 12289.
حدیث نمبر: 13163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِثَابِتٍ : أَسَمِعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4522، م: 2690.
حدیث نمبر: 13164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ نَحَرَ الْبُدْنَ ، وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ : وَوَصَفَ هِشَامٌ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ فَحَلَقَ أَحَدَ شِقَّيْهِ ، الْأَيْمَنَ ، وَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ ، وَحَلَقَ الْآخَرَ ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی اور جانور کی قربانی کرچکے تو سینگی لگوائی اور بال کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو وہ عام لوگوں کو دے دیئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1305.
حدیث نمبر: 13165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا ، فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680.
حدیث نمبر: 13166
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، وَعَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، قَالَا : سَمِعْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ بِمِثْلِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة عبد العزيز ابن صهيب، وأما متابعة على بن فريد بن جدعان فضعيف، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَقَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7153، م: 2639.
حدیث نمبر: 13168
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا عَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، وَلَا الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ : أَوَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ مَا صَنَعَ الْحَجَّاجُ فِي الصَّلَاةِ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دور باسعادت پایا ہے، آج اس میں سے کوئی چیز مجھے نظر نہیں آتی، ابو رافع نے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! نماز بھی نہیں ؟ فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حجاج نے نماز میں کیا کچھ کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن سعد البصري، وقد صح الحديث من غير ما طریق عن انس، انظر ما سلف برقم:11977
حدیث نمبر: 13169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ مَشَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ ، وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ فَأَخَذَ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ يَقُولُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ يَقُولُ : ذَلِكَ مِرَارًا : " مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ ، وَلَا صَاعُ حَبٍّ " وَإِنَّ عِنْدَهُ تِسْعَ نِسْوَةٍ حِينَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے۔ اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2069.
حدیث نمبر: 13170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:200
حدیث نمبر: 13171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ ، عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ، ثُمَّ لَيُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7450.
حدیث نمبر: 13172
(حديث مرفوع) حدثنا روح ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا ، وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706.
حدیث نمبر: 13173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا ، قَالَتْ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ثَلَاثًا ، قَالَتْ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے، جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ : قَدْ صَامَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ : قَدْ أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کردیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی نیت کرلی اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1141، م:1158
حدیث نمبر: 13175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ، وَأَسْكِنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آسانیاں پیدا کیا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو، سکون دلایا کرو، نفرت نہ پھیلایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 69، م:1734
حدیث نمبر: 13176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّ ، إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ ، فَلَا تَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا بِإِذْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور بغیر اجازت لئے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں چلا جایا کرتا تھا، ایک دن حسب معمول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹا ! اللہ کی طرف سے نیا حکم آگیا ہے اس لئے اب اجازت لئے بغیر اندر نہ آیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2151
حدیث نمبر: 13177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ، وَلَوْ دُعِيتُ " ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ إِلَيْهِ ، وَقَالَ رَوْحٌ عَلَيْهِ لَأَجَبْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے کہیں سے ہدیہ میں بکری کا ایک کھر آئے تب بھی قبول کرلوں گا اور اگر صرف اسی کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.