حدیث نمبر: 13098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، كسابقه.
حدیث نمبر: 13099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ وَجَعَلَ ذَلِكَ صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365.
حدیث نمبر: 13100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَأَبُو قَطَنٍ ، قَالَا : حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو قَطَنٍ : مُتَعَمِّدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 108، م: فى المقدمة: 2.
حدیث نمبر: 13101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا محمد بن الحسن الواسطي وَهُوَ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ بِمِكْتَلٍ وَاحِدٍ ، وَأَنَا رَسُولُهُ بِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ مُقْعٍ أَكْلًا ذَرِيعًا ، فَعَرَفْتُ فِي أَكْلِهِ الْجُوعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیۃً کجھوریں آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے ایک تھیلی سے تقسیم کرنے لگے، میں اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد تھا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوگئے اور خود اکڑوں بیٹھ کر جلدی جلدی کھجوریں تناول فرمانے لگے جس سے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک کا اندازہ ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2044.
حدیث نمبر: 13102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لِنَعْلَيْهِ قِبَالَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:5857
حدیث نمبر: 13103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399.
حدیث نمبر: 13104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ ، حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ جَلَسَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 821، م: 473، وانظر: 12653.
حدیث نمبر: 13105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ أَشَدُّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْ فِئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ہی مشرکین کے کئی لوگوں سے بھاری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : كَيْفَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كَانَ شَعَرًا رَجِلًا ، لَيْسَ بِالسَّبْطِ وَلَا بِالْجَعْدِ ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بہت زیادہ سیدھے اور وہ کانوں اور کندھوں کے درمیان تک ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5905، م: 2338.
حدیث نمبر: 13107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ ، فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ ، فَرَضَخَ رَأْسَهَا وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا ، فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَكِ ؟ فُلَانٌ ؟ " فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا ، فَقَالَ : " فُلَانٌ ؟ " فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا : لَا ، قَالَ : " فَفُلَانٌ الْيَهُودِيُّ ؟ " فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا : نَعَمْ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے ؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6879، م: 1672.
حدیث نمبر: 13108
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَاعْتَرَفَ الْيَهُودِيُّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رِبْعِيُّ بْنُ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَكَبَّرَ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ خَلَّى عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَصَلَّى حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی اونٹنی پر دوران سفر نوافل پڑھنا چاہتے تو قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہتے، پھر اسے چھوڑ دیتے اور اس کا رخ جس سمت میں بھی ہوتا، نماز پڑھتے رہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِلْغَائِطِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَغُلَامٌ بِإِدَاوَةٍ وَعَنَزَةٍ ، فَاسْتَنْجَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں پانی پیش کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استنجاء فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 217، م: 271.
حدیث نمبر: 13111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، حدثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمِ الأَظْفارِ ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 258، وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة بن موسي الدقيقي، لكنه قد توبع.
حدیث نمبر: 13112
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ ، وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً ، فَيُقَالُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ ؟ فَيَقُولُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ ، مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ ، وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی نعمتوں میں رہا ہوگا، اسے جہنم کا ایک چکر لگوایا جائے گا پھر پوچھا جائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی خیر دیکھی ہے ؟ کیا تجھ پر کبھی نعمتوں کا گذر ہوا ہے ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار ! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں، اس کے بعد اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں بڑی مصیبتوں میں رہا ہوگا، اسے جنت کا ایک چکر لگوایا جائے گا اور پھر پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی پریشانی دیکھی ہے ؟ کیا کبھی تجھ پر کسی سختی کا گذر ہوا ہے ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار ! قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی نہیں، مجھ پر کوئی پریشانی نہیں آئی اور میں نے کوئی تکلیف نہیں دیکھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2807.
حدیث نمبر: 13113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ ، " فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّكَ تُصَلِّي إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ مَا فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب شام سے واپس آئے تو ہماری ان سے ملاقات ہوئی، عین القمر نامی جگہ میں ہمارا آمنا سامنا ہوا، اس وقت وہ اپنی سواری پر قبلہ کی طرف رخ کئے بغیر نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ قبلہ کی طرف رخ کئے بغیر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نوافل میں) اس طرح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی (نوافل میں) ایسا نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1100، م: 702.
حدیث نمبر: 13114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ الْخَيَّاطُ ، قَالَ : شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَلَمَّا رُفِعَ أُتِيَ بِجِنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَوْ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَذِهِ جِنَازَةُ فُلَانَةَ ابْنَةِ فُلَانٍ ، فَصَلِّ عَلَيْهَا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَامَ وَسَطَهَا ، وَفِينَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ ، فَلَمَّا رَأَى اخْتِلَافَ قِيَامِهِ عَلَى الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ ، قَالَ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ حَيْثُ قُمْتَ ؟ وَمِنْ الْمَرْأَةِ حَيْثُ قُمْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا الْعَلَاءُ فَقَالَ : احْفَظُوا .
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرد کا جنازہ لایا گیا وہ اس کی چارپائی کے سرہانے کھڑے ہوئے اور عورت کا جنازہ لایا گیا تو چارپائی کے سامنے اس سے نیچے ہٹ کر کھڑے ہوئے، نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد رحمہ اللہ کہنے لگے کہ اے ابوحمزہ ! جس طرح کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مرد و عورت کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! تو علاء نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اسے محفوظ کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ الْقَرْعُ مِنْ أَحَبِّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَانَ الْقَرْعُ يُعْجِبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَّ يَزِيدُ فَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا قَرْعٌ ، فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ أُصْبُعَيْهِ فِي الْمَرَقِ يَتْبَعُ بِهِمَا الْقَرْعَ ، السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ، فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ضَمَّهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک پیالے میں کدو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے اسے اپنی انگلیوں سے تلاش کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12630.
حدیث نمبر: 13116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَتَّابًا مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ ، يَقُولُ : صَحِبْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي سَفِينَةٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عتاب.
حدیث نمبر: 13117
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْنَا ، قَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگیں اے انس ! کیا تمہارے دلوں نے اس بات کو گوارا کرلیا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی تلے دفن کردو اور خود واپس آجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4462، وانظر: 12434.
حدیث نمبر: 13118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يزيد ، أخبرنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ حَرَامٍ ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، وَأُمَّ حَرَامٍ خَلْفَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ کے گھر میں نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی دائیں جانب اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ عَفَّانُ ، عن هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا ، كَانَ يَقْدَمُ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر نہیں آتے تھے، بلکہ صبح یا دوپہر تشریف لاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1800، م: 1928.
حدیث نمبر: 13120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ أَبُو الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1003، م: 677
حدیث نمبر: 13121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : فُلَانَةُ تُصَلِّي ، فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ : " لِتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ ، فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا کہ یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں خاتون کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12916.
حدیث نمبر: 13122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَتْ : الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ ، وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ ، قَدْ كَفَوْنَا الْمَؤْنَةَ ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأ ، فَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلَّا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ بِهِ ، وَدَعَوْتُمْ اللَّهَ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں (انصار) ہم نے تھوڑے میں ان جیسا بہترین غمخوار اور زیادہ میں ان جیسا بہترین خرچ کرنے والا کسی قوم کو نہیں پایا، انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور اپنی ہر چیز میں ہمیں شریک کیا، حتیٰ کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سارا اجروثواب تو یہی لوگ لے جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، جب تک تم ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دعاء کرتے رہو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ مُهَاجِرًا ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ لِي مَالٌ ، فَنِصْفُهُ لَكَ ، وَلِي امْرَأَتَانِ ، فَانْظُرْ أَحَبَّهُمَا إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجْهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ ، وَمَالِكَ ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ ، قَالَ : فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى رَجَعَ بِشَيْءٍ قَدْ أَصَابَهُ مِنَ السُّوقِ ، قَالَ : وَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا ، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ وَضَرُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْيَمْ ؟ " قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : " مَا سُقْتَ إِلَيْهَا ؟ " قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، نیز میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کرلیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتادیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا ؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1427.
حدیث نمبر: 13124
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَفَرَغَ مِنْهُ ، قَالَ : أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ قِرَاءَتَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قرأت کا آغاز الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399.
حدیث نمبر: 13126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ أَوْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469.
حدیث نمبر: 13127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ ، قَالَ أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " قَالَ : فَأَجَابُوهُ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا أَو َلَا نَفِرُّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ رضی اللہ عنہ نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2961، م:1805
حدیث نمبر: 13128
رقم الحديث: 12878 (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَسْلَمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا ، فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا " قَالَ حُمَيْدٌ : وَقَالَ قَتَادَةُ : عَنْ أَنَسٍ " وَأَبْوَالِهَا " فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا أَوْ مُسْلِمًا ، وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُخِذُوا ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5685، م: 1671.
حدیث نمبر: 13129
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَذَكَرَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ حُمَيْدٌ : حَدَّثَ قَتَادَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " وَأَبْوَالِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 13130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً ، وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ ، حَتَّى بَسَطَ عُمَرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازی قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 473.
حدیث نمبر: 13131
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ وَأَحَدُنَا يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ بُكَاءَ صَبِيٍّ ، فَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا خَفَّفَ مِنْ أَجْلِ الصَّبِيِّ أَنَّ أُمَّهُ كَانَتْ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کردیا ہے، یہ اس بچے پر شفقت کا اظہار تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12877.
حدیث نمبر: 13133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہتے تھے اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706.
حدیث نمبر: 13134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَعَرَضَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثَهُ ، فَحَبَسَهُ بَعْدَمَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو بعض لوگ سو چکے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 643، م:376
حدیث نمبر: 13135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ فِي الصَّلَاةِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ، لِيَحْفَظُوا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَكَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ ، فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضُهُنَّ عَلَى بَعْضٍ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : احث يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ، وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواجِ مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھی اور ازواج مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ ، قَالَ : فَتَلَقَّاهُ الْأَنْصَارُ وَنِسَاؤُهُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ ، فَإِذَا هُوَ بِوُجُوهِ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ " وَقَالَ : " إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ مَا عَلَيْكُمْ ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں، تم انصار کے نیکوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا ہے اور ان کا حق باقی رہ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510.