حدیث نمبر: 12020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَادِي عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ : يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا ! ، قَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا ؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔
حدیث نمبر: 12021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا ، فَهَدَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِي ، أَلَمْ آتِكُمْ مُتَفَرِّقِينَ ، فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي ، أَلَمْ آتِكُمْ أَعْدَاءً ، فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَفَلَا تَقُولُونَ جِئْتَنَا خَائِفًا , فَآمَنَّاكَ ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ " ، فَقَالُوا : بَلْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمَنُّ بِهِ عَلَيْنَا ، وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہ انصار ! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بےراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ بےیارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔
حدیث نمبر: 12022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَسَكَتَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ : بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا ، إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ ، لَكُنَّا مَعَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا ! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " دَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ ، فَأَتَى حُجَرَ نِسَائِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ ، فَدَعَوْنَ لَهُ ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ ، وَأَنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ ، فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَلَمَّا بَصَرَ بِهِمَا وَلَّى رَاجِعًا ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى عَنْ بَيْتِهِ ، قَامَا مُسْرِعَيْنِ ، فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِهِ ، فرَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، وَأَرْخَى السِّتْرَ َبَيْنَهُ وَبَيْنِي ، وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے یہاں رہے، اس کی صبح کو میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت ولیمہ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر واپس آکر میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حدیث نمبر: 12024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لِيَنْظُرَ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ ، قَالَ : فَتَطَاوَلَ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے تیر اندازی کر رہے تھے، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیروں کی بوچھاڑ دیکھنے کے لئے پیچھے سے سر اٹھاتے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سینہ سپر ہوجاتے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرسکیں اور عرض کیا کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے سینے کے سامنے میرا سینہ پہلے ہے۔
حدیث نمبر: 12025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ ؟ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے ؟ بنو نجار کا گھر، پھر بنو عبدالاشہل کا گھر، پھر بنو حارث بن خزرج کا اور پھر بنی ساعدہ کو اور یوں بھی انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔
حدیث نمبر: 12026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا " ، قَالَ : فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ ، يَقُولُونَ : غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔
حدیث نمبر: 12027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ ، قَالَ : أَظُنُّهَا عَائِشَةَ ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ ، قَالَ : فَضَرَبَتِ الْأُخْرَى بِيَدِ الْخَادِمِ ، فَكَسَرَتْ الْقَصْعَةُ بِنِصْفَيْنِ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " غَارَتْ أُمُّكُمْ " ، قَالَ : وَأَخَذَ الْكَسْرَتَيْنِ ، فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، فَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ ، ثُمَّ قَالَ : " كُلُوا " ، فَأَكَلُوا ، وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا , فَدَفَعَ إِلَى الرَّسُولِ قَصْعَةً أُخْرَى ، وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ مَكَانَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی اہلیہ غالباً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، دوسری اہلیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھجوایا جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خادم کے ہاتھ پر مارا، جس سے اس کے ہاتھ سے پیالہ نیچے گر کر ٹوٹ گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ماں نے اسے برباد کردیا، پھر برتن کے دونوں ٹکڑے لے کر انہیں جوڑا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر کھانا اس میں سمیٹا اور فرمایا اسے کھاؤ اور فارغ ہونے تک اس خادم کو روکے رکھا، اس کے بعد خادم کو دوسرا پیالہ دے دیا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اسی گھر میں چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 12028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : اشْتَكَى ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ ، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَتُوُفِّيَ الْغُلَامُ ، فَهَيَّأَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ الْمَيِّتَ ، وَقَالَتْ لِأَهْلِهَا : لَا يُخْبِرَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَبَا طَلْحَةَ بِوَفَاةِ ابْنِهِ ، فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَ : مَا فَعَلَ الْغُلَامُ ؟ ، قَالَتْ : خَيْرٌ مَا كَانَ ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِمْ عَشَاءَهُمْ ، فَتَعَشَّوْا ، وَخَرَجَ الْقَوْمُ ، وَقَامَتْ الْمَرْأَةُ إِلَى مَا تَقُومُ إِلَيْهِ الْمَرْأَةُ ، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ اللَّيْلِ ، قَالَتْ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى آلِ فُلَانٍ اسْتَعَارُوا عَارِيَةً ، فَتَمَتَّعُوا بِهَا ، فَلَمَّا طُلِبَتْ كَأَنَّهُمْ كَرِهُوا ذَاكَ ، قَالَ : مَا أَنْصَفُوا ، قَالَتْ : فَإِنَّ ابْنَكَ كَانَ عَارِيَةً مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَإِنَّ اللَّهَ قَبَضَهُ ، فَاسْتَرْجَعَ ، وَحَمِدَ اللَّهَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآهُ ، قَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا " ، فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ ، فَوَلَدَتْهُ لَيْلًا ، وَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال : فَحَمَلْتُهُ غُدْوَةً وَمَعِي تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ ، فَوَجَدْتُهُ يَهْنَأُ أَبَاعِرَ لَهُ ، أَوْ يَسِمُهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ اللَّيْلَةَ ، فَكَرِهَتْ أَنْ تُحَنِّكَهُ حَتَّى يُحَنِّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَعَكَ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : تَمَرَاتُ عَجْوَةٍ ، فَأَخَذَ بَعْضَهُنَّ فَمَضَغَهُنَّ ، ثُمَّ جَمَعَ بُزَاقَهُ فَأَوْجَرَهُ إِيَّاهُ ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ ، فَقَالَ : " حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِّهِ ، قَالَ : " هُوَ عَبْدُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مسجد کے لئے نکلے تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوڑھا دیا اور گھر والوں سے کہا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے ساتھ مسجد سے ان کے کچھ دوست بھی آئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا سب نے کھانا کھایا، لوگ چلے گئے تو وہ ان کاموں میں لگ گئیں جو عورتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ جب رات کا آخری پہر ہوا تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہوا تو وہ اس پر ناگواری ظاہر کرنے لگے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ لوگ انصاف نہیں کر رہے، ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تمہارا بیٹا بھی اللہ کی طرف سے عاریت تھا، جسے اللہ نے واپس لے لیا ہے اس پر انہوں نے «انا لله وانا اليه راجعون» کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہو گئیں، جب ان کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی تو وہ رات کا وقت تھا۔ انہوں نے اس وقت بچے کو گھٹی دینا اچھا نہ سمجھا اور یہ چاہا کہ اسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی دیں، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر اپنے ساتھ کچھ عجوہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج رات ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے خود اسے گھٹی دینا مناسب نہ سمجھا اور چاہا کہ اسے آپ گھٹی دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کھجور انصار کی محبوب چیز ہے“، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کا نام رکھ دیجئے، فرمایا : ”اس کا نام عبداللہ ہے۔ “
حدیث نمبر: 12029
حَدَّثَنَا عبدُ الله ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 12030
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ فَأَتَيْتُهُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ ، وَهُوَ فِي الْحَائِطِ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " رُوَيْدَكَ أَفْرُغُ لَكَ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ : إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بِتُّمَا عَرُوسَيْنِ ؟ " ، قَالَ : " فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي عُرْسِكُمَا " ، وَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ : كَيْفَ ذَاكَ الْغُلَامُ ؟ ، قَالَتْ : هُوَ أَهْدَأُ مِمَّا كَانَ .
حدیث نمبر: 12031
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ ، فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا ، وَكَانَ يُحِبُّهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا ؟ ! " ، فَقَالَ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا " .
حدیث نمبر: 12032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , وَيَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، فَقَامَ كُلُّ قَرِيبِ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَبَقِيَ مَنْ كَانَ أَهْلُهُ نَائِيَ الدَّارِ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ , فَصَغُرَ أَنْ يَبْسُطَ أَكُفَّهُ فِيهِ ، قَالَ : فَضَمَّ أَصَابِعَهُ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ بَقِيَّتُهُمْ ، قَالَ حُمَيْدٌ : وَسُئِلَ أَنَسٌ كَمْ كَانُوا ؟ ، قَالَ : ثَمَانِينَ أَوْ زِيَادَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کے لئے اذان ہوئی، مسجد کے قریب جتنے لوگوں کے گھر تھے وہ سب آگئے اور دور والے نہ آسکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی ہتھیلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ اسی یا کچھ زیادہ۔
حدیث نمبر: 12033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ مَنَازِلِهِمْ ، فَيَسْكُنُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَرِهَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ " ، قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقَامُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ ! کیا تم مسجد کے طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر وہ یہیں اقامت پذیر رہے۔
حدیث نمبر: 12034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَسُهَيْلُ بْنُ يُوسُفَ الْمَعْنَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى ، فَانْتَهَى وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ أَوْ انْبَهَرَ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ ؟ " فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ ؟ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا ولَمْ يَقُلْ بَأْسًا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أَسْرَعْتُ الْمَشْيَ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ ، فَقُلْتُ الَّذِي قُلْتُ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ ، وَلْيَقْضِ مَا سُبِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حدیث نمبر: 12035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ بَيْنَ يَدَيَّ خَشْفَةً ، فَإِذَا أَنَا بِالْغُمَيْصَاءِ بِنْتِ مِلْحَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں (جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں )
حدیث نمبر: 12036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ " ، قَالُوا : وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ ؟ ، قَالَ : " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 12038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ أَنْ يُعَذِّبَ هَذَا نَفْسَهُ ، فَأَمَرَهُ فَرَكِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہو گیا۔
حدیث نمبر: 12039
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 12040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً قَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اونٹ ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا اور چلنے سے عاجز تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ اگرچہ یہ قربانی ہی کا ہو۔
حدیث نمبر: 12041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَسُوقُ بِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ ، فَاشْتَدَّ فِي السِّيَاقَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انحشہ تھا " امہات المومنین رضی اللہ عنہ عنہن کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔
حدیث نمبر: 12042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَسْلَمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا " ، قَالَ حُمَيْدٌ : وَقَالَ قَتَادَةُ : عَنْ أَنَسٍ " وَأَبْوَالِهَا " ، فَفَعَلُوا ، فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا أَوْ مُسْلِمًا ، وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حدیث نمبر: 12043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔
حدیث نمبر: 12044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ " ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي ؟ ، قَالَ " أَبُوكَ حُذَافَةُ " ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا ؟ ، قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَرِيحَ ، قَالَ : وَكَانَ يُقَالُ فِيهِ ، قَالَ حُمَيْدٌ : وَأَحْسَبُ هَذَا عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے متعلق تم مجھ سے اس وقت تک سوال نہ کیا کرو جب تک میں تم سے خود بیان نہ کر دوں، اس کے باوجود عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا ؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں۔ بہرحال ! ان کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ناراض ہوگئے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں اور ہم اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ ، وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ ، وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین علاج سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے اور تم اپنے بچوں کے گلے میں انگلیاں ڈال کر انہیں تکلیف نہ دیا کرو۔
حدیث نمبر: 12046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ ، قَالُوا : لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ ، قُلْتُ : لِمَنْ ؟ ، قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " ، قَالَ : فَلَوْلَا مَا عَلِمْتُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عنہ، مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہوجاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ پر غیرت کا اظہار کروں گا ؟
حدیث نمبر: 12047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ كَرَاهِيَةَ الْمَوْتِ ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ ، جَاءَهُ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ أَوْ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ ، جَاءَهُ بِمَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ مِنَ الشَّرِّ ، أَوْ مَا يَلْقَاهُ مِنَ الشَّرِّ ، فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، یہ سن کر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے تو ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد نہیں ہے، بلکہ مومن کے پاس جب اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے بہترین انجام کی خوش خبری لے کر آتا ہے تو اس کے نزدیک اللہ کی ملاقات سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی، پھر اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کے پاس اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے بدترین انجام کی خبر لے کر آتا ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، پھر اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " مَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ خَزًّا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے نرم کوئی ریشم بھی نہیں چھوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ کوئی مہک نہیں سونگھی۔
حدیث نمبر: 12049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! لَا تُطِيقُهُ ، وَلَا تَسْتَطِيعُهُ ، فَهَلَّا قُلْتَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ، قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَشَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسلمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ چوزے کی طرح ہوچکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم کوئی دعا مانگتے تھے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! میں یہ دعاء مانگتا تھا کہ اے اللہ ! تو نے مجھے آخرت میں جو سزا دینی ہے وہ دنیا ہی میں دے دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! تمہارے اندر اس کی ہمت ہے اور نہ طاقت، تم نے یہ دعاء کیوں نہ کی کہ اے اللہ ! مجھے دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس نے اللہ سے یہ دعاء مانگی اور اللہ نے اسے شفا عطاء فرما دی۔
حدیث نمبر: 12050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُسْلِمُ لِشَيْءٍ يُعْطَاهُ مِنَ الدُّنْيَا ، فَلَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَأَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی شخص آکر اسلام قبول کرتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دنیا کا مال و دولت عطاء فرمائیں گے اور شام تک اس کے نزدیک اسلام دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب اور معزز ہوچکا ہوتا۔
حدیث نمبر: 12051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ ، قَالَ : فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ، فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ ، أَسْلِمُوا ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام پر جو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کا بھی سوال کرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے عطاء فرما دیتے، اسی تناظر میں ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو ! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر وفاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔
حدیث نمبر: 12052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ ، صَنَعَ لَهُ طَعَامًا ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ ، فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ ، قَالَ : وَصَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ ، قَالَ : وَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ ، قَالَ : فَلَمَّا طَعِمَ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، قَالَ : وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَأْكُلُ ، وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ ایک تھیلی میں تر کھجوریں بھر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نہ پایا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے یہاں گئے ہوئے تھے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی تھی، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی کھانے کے لئے بلا لیا، دعوت میں صاحب خانہ نے گوشت اور کدو کا ثرید تیار کر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا، جب کھانے سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لائے تو میں نے وہ تھیلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کھاتے گئے اور تقسیم کرتے گئے یہاں تک کہ وہ تھیلی خالی ہوگئی۔
حدیث نمبر: 12053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ ، وَكَانَ صَائِمًا ، فَقَالَ : " أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ ، وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ " ، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً ، قَالَ : وَمَا هِيَ ؟ ، قَالَتْ : خَادِمُكَ أَنَسٌ ، قَالَ : فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ ، وَلَا دُنْيَا ، إِلَّا دَعَا لِي بِهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ " ، قَالَ : فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مَالًا مِنِّي ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا ، وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ ، قَالَ : وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دَفَنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو ، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ چھوڑی جو میرے لئے نہ مانگی ہو اور فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، چنانچہ اس کے بعد انصار میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ مالدار نہ تھا، حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی انگوٹھی کے علاوہ کسی سونا چاندی کے مالک نہ تھے اور خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بڑی بیٹی امینہ نے بتایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے آنے تک میری نسل میں سے ایک سو بیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں۔
حدیث نمبر: 12054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : إِنَّهُ " لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا نَحْوًا مِنْ سَبْعَ عَشْرَةَ ، أَوْ عِشْرِينَ شَعْرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ " ، وَقَالَ : إِنَّهُ لَمْ يُشَنْ بِالشَّيْبِ ، فَقِيلَ لِأَنَسٍ : أَشَيْنٌ هُوَ ؟ ، قَالَ : كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ ، وَلَكِنْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ، وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے ؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔
حدیث نمبر: 12055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔
حدیث نمبر: 12056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ " ، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ ، فَحَمَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لا تَحْمِلَنِي ! ، قَالَ : " فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے ؟ فرمایا اب قسم کھالیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔
حدیث نمبر: 12057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ ؟ ، قَالَ : سَلْ ، قَالَ : مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ وَمِنْ أَيْنَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا ، قَالَ : ذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، قَالَ : أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ ، فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ مِنْهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ، زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ ، وَأَمَّا شَبَهُ الْوَلَدِ أَبَاهُ وَأُمَّهُ ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ إِلَيْهِ الْوَلَدُ ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَيْهَا ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ ، وَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي عِنْدَكَ ، فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ ، فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي أَيُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ ؟ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ ؟ ، قَالُوا : خَيْرُنَا ، وَابْنُ خَيْرِنَا ، وَعَالِمُنَا ، وَابْنُ عَالِمِنَا ، وَأَفْقَهُنَا ، وَابْنُ أَفْقَهِنَا ، قَالَ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ ؟ ، قَالُوا : أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالُوا : شَرُّنَا ، وَابْنُ شَرِّنَا ، وَجَاهِلُنَا ، وَابْنُ جَاهِلِنَا ، فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ : هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْهمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے ؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی ؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی '' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، یہ سن کر عبداللہ کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں، اگر انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو وہ آپ کے سامنے مجھ پر طرح طرح کے الزام لگائیں گے، اس لئے آپ ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں بلائیے اور میرے متعلق ان سے پوچھئے کہ تم میں ابن سلام کیسا آدمی ہے ؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سب سے بہتر ہے اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے، ہمارا عالم اور عالم کا بیٹا ہے، ہم میں سب سے بڑا فقیہہ ہے اور سب سے بڑے فقیہہ کا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم بھی اسلام قبول کرلو گے ؟ وہ کہنے لگے اللہ اسے بچا کر رکھے، اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر نکل آئے اور ان کے سامنے کلمہ پڑھا، یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر کا بیٹا ہے اور ہم میں جاہل اور جاہل کا بیٹا ہے، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسی چیز کا مجھے اندیشہ تھا۔
حدیث نمبر: 12058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى " ، قَالَ : فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ ، قَالَتْ : إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ حنین کے دن مسلمان ابتدائی طور پر شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے پکار کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، انہیں قتل کروا دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام سلیم ! اللہ تعالیٰ کافی ہے، تھوڑی دیر بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ام سلیم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک کدال تھی، انہوں نے پوچھا ام سلیم ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں۔
حدیث نمبر: 12059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ : لَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُسْلِمَ ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي سَائِلُكَ ، فَقَالَ : " سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
…