حدیث نمبر: 13058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ جَابِرٍ يَعْنِي اللَّقِيطِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ إِذَا قَامَ الْمُؤَذِّنُ فَأَذَّنَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدٍ بِالْمَدِينَةِ ، قَامَ مَنْ شَاءَ فَصَلَّى حَتَّى تُقَامَ الصَّلَاةُ ، وَمَنْ شَاءَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَعَدَ ، وَذَلِكَ بِعَيْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں جب مؤذن کھڑا ہو کر اذان مغرب دیتا تھا تو اس کے بعد جو چاہتا وہ دو رکعتیں پڑھ لیتا تھا، یہاں تک کہ نماز کھڑی ہوجاتی اور جو چاہتا وہ دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جاتا اور یہ سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں کے سامنے ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 13059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ الرَّجُلُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوْقِعَ سَهْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت تک وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 13060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَضَ لَهُ رَجُلٌ ، فَحَبَسَهُ حَتَّى كَادَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ يَنْعَسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سو چکے تھے۔
حدیث نمبر: 13061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا بُنَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " اے میرے پیارے بیٹے " کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
حدیث نمبر: 13062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا " ، قَالَ : فَقِيلَ لِأَنَسٍ فَالْأَكْلُ ؟ قَالَ : ذَاكَ أَشَدُّ أَوْ أَشَرُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حدیث نمبر: 13063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخبرنا عَاصِمٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ ، حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! یہ حرم ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرم قرار دیا ہے، اس کی گھاس تک نہیں کاٹی جاسکتی، جو شخص ایسا کرتا ہے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
حدیث نمبر: 13064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ سکیں۔
حدیث نمبر: 13065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ ، فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي وَيَنْصَرِفُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْبَارِحَةَ ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ ، فَقَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ ، وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز مختصر کرکے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی مرتبہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی، تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کردیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 13066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا ، فَرُئِيَ فِي وَجْهِهِ شِدَّةُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَإِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا " وَأَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ، ثُمَّ دَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔
حدیث نمبر: 13067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَخَذَتْ بِيَدِهِ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَنَسٌ ابْنِي ، وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ ، أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔
حدیث نمبر: 13068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، وَالْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَ ليُعْجِبُنَا الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، يَجِيءُ فَيَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَنَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِذَلِكَ ، وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : مِنْ كبيرِ عَمَلٍ ، صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 13069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : سُئِلَ هَلْ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَخَّرَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ " ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک موخر کردیا اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔
حدیث نمبر: 13070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ ، لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ ، إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا : کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 13071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ ، فَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ ، وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ ، فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ الْأُخْرَى ، قَالَ لَهُمْ : " ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا مَعَهُ قُعُودًا " ، قَالَ : وَنَزَلَ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا ! قَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف فرما ہوگئے، جس کی سیڑھیاں لکڑی کی تھیں اور ازواج مطہرات سے ایک مہینے کے لئے ایلاء کرلیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنے امام کی اقتداء کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھو، الغرض ! ٢٩ دن گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو ایک مہینے کے لئے ایلاء فرمایا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 13072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ، فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، ثُمَّ خَرَجَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ ، فَيَأْتِي حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ ، وَيَدْعُو لَهُنَّ ، وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ ، وَيَدْعُونَ لَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ إِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ ، وَثَبَا فَزِعَيْنِ فَخَرَجَا ، فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ ، أَوْ مَنْ أَخْبَرَهُ ، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ولیمے میں مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائیں کیں، پھر واپس تشریف لائے، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آگئے۔
حدیث نمبر: 13073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً ، وَأَبُو بَكْرٍ ، حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَمَدَّ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع کردی۔
حدیث نمبر: 13074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ مِسْكًا وَلَا عَنْبَرًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا مَسِسْتُ قَطُّ خَزًّا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے عمدہ مشک و عنبر کی کوئی مہک نہیں سونگھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی ریشم بھی نہیں چھوا۔
حدیث نمبر: 13075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ الْمُهَاجِرُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ ، وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأ ، حَتَّى لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ ، قَالَ : " لَا ، مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ ، وَدَعَوْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں (انصار) ہم نے تھوڑے میں ان جیسا بہترین غمخوار اور زیادہ میں ان جیسا بہترین خرچ کرنے والا کسی قوم کو نہیں پایا، انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور اپنی ہر چیز میں ہمیں شریک کیا، حتیٰ کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سارا اجروثواب تو یہی لوگ لے جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، جب تک تم ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دعاء کرتے رہو گے۔
حدیث نمبر: 13076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 13077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حدثنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ابْنًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ صَغِيرًا كَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ ، وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِ ، ضَاحَكَهُ ، فَرَآهُ حَزِينًا ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَبِي عُمَيْرٍ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَ نُغَيْرُهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر ! غمگین دکھائی دے رہا ہے ؟ گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مرگئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حدیث نمبر: 13078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ " ، قِيلَ : أَوَشَيْنٌ هُوَ ؟ قَالَ : كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ ، إِنَّمَا كَانَتْ شُعَيْرَاتٌ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ ، وأشار حُمَيد إلى مُقَدَّمَ لِحْيتِه .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے ؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے۔
حدیث نمبر: 13079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا ، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ : تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں ؟ فرمایا اسے ظلم کرنے سے روکو، یہی اس کی مدد ہے۔
حدیث نمبر: 13080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَخْلٍ لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ صَوْتًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : قَبْرُ رَجُلٍ دُفِنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حدیث نمبر: 13081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی، اس پر موٹی پھلی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا۔
حدیث نمبر: 13082
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهَ اللَّهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔
حدیث نمبر: 13083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ ، وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفَيْهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ عَنْ وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ؟ ! " فَأَنْزَلَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ سورة آل عمران آية 128 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں۔ "
حدیث نمبر: 13084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، فَقَالَ : نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُعْطِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَنَا نَاسًا تَقْطُرُ سُيُوفُهُمْ مِنْ دِمَائِنَا أَوْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " قَالُوا : لَا ، إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا ؟ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا أَخَذْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حدیث نمبر: 13085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَمَّهُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ : غِبْتُ مِنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ ، لَئِنْ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالًا لِلْمُشْرِكِينَ ، لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَصْحَابَهُ ، وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِيَهُ سَعْدٌ لِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ ، وَقَالَ يَزِيدُ : بِبَغْدَادَ بِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ ، فَقَالَ سَعْدٌ : أَنَا مَعَكَ ، قَالَ سَعْدٌ : فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ ، فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ ، وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ ، قَالَ : فَكُنَّا نَقُولُ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ نَزَلَتْ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے چچا انس بن نضر غزوہ بدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوسکے تھے اور اس کا انہیں افسوس تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے غزوہ میں شریک نہیں ہوسکا، اگر اب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جانے کا موقع عطاء کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں، چنانچہ وہ غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس موقع پر مسلمان منتشر ہوگئے تو وہ کہنے لگے یا اللہ ! میں اپنے ساتھیوں کی اس حرکت پر آپ سے عذر کرتا ہوں اور مشرکین کے اس حملے سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، پھر وہ آگے بڑھے تو انہیں اپنے سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیئے، وہ ان سے کہنے لگے کہ ابوعمرو ! کہاں جا رہے ہو ؟ بخدا ! مجھے تو احد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا میں آپ کے ساتھ ہوں، لیکن بعد میں وہ کہتے تھے کہ جو کام سعد بن معاذ نے کردیا وہ میں نہ کرسکا اور ان کے جسم پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے اسی سے زیادہ نشانات پائے گئے، ہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت حضرت سعبد بن معاذ اور ان جیسے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ "" کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنی امید پوری کر چکے اور بعض منتظر ہیں۔
حدیث نمبر: 13086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ ناسٍ قَالَ : " أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔
حدیث نمبر: 13087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، ومُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا ، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : " قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حدیث نمبر: 13088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 13089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا ، فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، ان شاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔
حدیث نمبر: 13090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَسُوقُ بَدَنَةً ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 13091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِيَعْتَدِلْ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حدیث نمبر: 13092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ ؟ " قَالَ : حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان تو اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 13093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ : " يَا بِلَالُ ، قَدْ بَلَّغْتَ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ " ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ؟ قَالَ : " مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّتُورُ ، قَالَ : فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ ، وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ ، فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو ایک موقع پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، دو مرتبہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا بلال ! تم نے پیغام پہنچا دیا، جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے پلٹ کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں لوگوں کو نماز کون پڑھائے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے جا کر کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کا پردہ ہٹایا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سفید کاغذ ہو اور اس پر چادر ڈال دی گئی ہو، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے اور یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لانا چاہتے ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ کھڑے رہیں اور نماز مکمل کریں، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 13094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " دُورُ بَنِي النَّجَّارِ " قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ ؟ " قالوا : نعم يا رسول الله ، قال : " دُورُ بني عبدِ الأَشهلَ ، أَلاَ أُخبِرُكم الَّذينَ يَلُونَهم ؟ " قَالُوا : نعم يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " دُورُ بَنِي الْحَارِثِ ابْنِ الْخَزْرَجِ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ " قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ صَوْتَهُ ، فَقَالَ : " فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے ؟ بنو نجار کا گھر، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنو عبدالاشہل کا، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنو حارث بن خزرج کا پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنی ساعدہ کا پھر بلند آواز کر کے فرمایا انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔
حدیث نمبر: 13095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔
حدیث نمبر: 13096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ ، أَوْ سَائِقٌ ، قَالَ : فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا أَنْجَشَةُ ، وَيْحَكَ ، ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ " ، قَالَ شُعْبَةُ : هَذَا فِي الْحَدِيثِ مِنْ نَحْوِ قَوْلِهِ : " وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حدیث نمبر: 13097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ رَوْحٌ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، وَقَالَ يَزِيدُ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ دِهْقَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ ، أَوْ يَشْرَبَ بِشِمَالِهِ " ، قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِ : وَيَشْرَبَ بِشِمَالِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔
…