حدیث نمبر: 13018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 234، م: 524
حدیث نمبر: 13019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُمُّهُ أوَ خَالَتُهُ ، فَصَلَّى بِهِمْ فَجُعِلَ أَنَسٌ عَنْ يَمِينِهِ ، وَأُمُّهُ أوَ خَالَتُهُ خَلْفَهُمَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ أَشَبَّ مِنِّي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کی والدہ اور خالہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو نماز پڑھائی، انس رضی اللہ عنہ کو دائیں جانب اور ان کی والدہ اور خالہ کو ان کے پیچھے کھڑا کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 13020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ أَصَابَهُ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5671، م: 2680
حدیث نمبر: 13021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، وَمَا كُلُّ أَمْرِي كَمَا يُحِبُّ صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ ، مَا قَالَ لِي فِيهَا أُفٍّ ، وَلَا قَالَ لِي : لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ وَأَلَّا فَعَلْتَ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2768 م: 2309
حدیث نمبر: 13022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ فَرَغْتُ مِنْ خِدْمَتِهِ قُلْتُ : يَقِيلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْتُ إِلَى صِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ ، قَالَ : فَجِئْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ ، قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى الصِّبْيَانِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ ، فَذَهَبْتُ فِيهَا ، وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، وَاحْتَبَسْتُ عَنْ أُمِّي عَنِ الْإِتْيَانِ الَّذِي كُنْتُ آتِيهَا فِيهِ ، فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، قَالَتْ : وَمَا هِيَ ؟ قُلْتُ : هُوَ سِرٌّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَاحْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ ، قَالَ ثَابِتٌ : فقَالَ لِي أَنَسٌ : لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَوْ لَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهِ لَحَدَّثْتُكَ بِهِ يَا ثَابِتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیلولہ کریں گے، چنانچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے " سلام کیا اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا ؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت ! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2482، وانظر: 12724
حدیث نمبر: 13023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَيَقُولُونَ : مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا ، قَالَ : فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي فَقَالَ : " أَصْلِحِيهَا " قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ " قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ ، وَفَضْلِ السَّوِيقِ ، وَبِفَضْلِ السَّمْنِ ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا ، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ ، وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ ، قَالَ : فَقَالَ أَنَسٌ : فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا ، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ ، قَالَ وَصَفِيَّةُ : خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا ، قَالَ : فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ ، قَالَ : فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " لَمْ تُضَرَّ " قَالَ : فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا ، وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمنا کے عوض انہیں خرید کر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے تو انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھالیا۔ صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد توشہ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے، چنانچہ لوگ زائد کھجوریں، ستو اور گھی لانے لگے، پھر انہوں نے اس کا حلوہ بنایا اور وہ حلوہ کھایا اور قریب کے حوض سے پانی پیا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر ہم روانہ ہوگئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گرگئے، کسی شخص نے بھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور فرمایا کوئی نقصان نہیں ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوگئے، بچیاں نکل نکل کر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگیں اور ان کے گرنے پر ہنسنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1365
حدیث نمبر: 13024
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً ، مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ ، حِينَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فِي مَقْسَمِهِ ، فَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح کسابقہ، وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ : " اذْهَبْ فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ " قَالَ : فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَاهَا ، قَالَ : وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا ، فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهَا قال هاشم : حينَ عرفتُ أن النبي صلى الله عليه وسلم خَطَبَها فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي ، وَرَكَضْتُ عَلَى عَقِبَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ ، قَالَتْ : مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُؤَامِرَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا ، وَنَزَلَ يَعْنِي الْقُرْآنَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ ، قَالَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُطْعِمْنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ ، فَجَعَلَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ ؟ قَالَ : فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ ، فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ ، قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ . . . وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کی عدت پوری ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ زینب کے پاس جا کر میرا ذکر کرو، وہ چلے گئے جب ان کے پاس پہنچے تو خود کہتے ہیں کہ وہ آٹا گوندھ رہی تھیں، جب میں نے انہیں دیکھا تو میرے دل میں ان کی اتنی عظمت پیدا ہوئی کہ میں ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تذکرہ کیا تھا، چنانچہ میں نے اپنی پشت پھیری اور الٹے پاؤں لوٹ گیا اور ان سے کہہ دیا کہ زینب ! خوشخبری ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے، وہ تمہارا ذکر کر رہے تھے، انہوں نے جواب دیا کہ میں جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کرلوں کچھ نہ کروں گی، یہ کہہ کر وہ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھ گئیں اور اسی دوران قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے اور ان سے اجازت لئے بغیر اندر تشریف لے گئے اور اس نکاح کے ولیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا، باقی تو سب لوگ کھا پی کر چلے گئے، لیکن کچھ لوگ کھانے کے بعد وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی گھر سے باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے میں بھی نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وقت گذارنے کے لئے باری باری اپنی ازواج مطہرات کے حجروں میں جاتے اور انہیں سلام کرتے، وہ پوچھتیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے جانے کی خبر دی یا کسی اور نے بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوگئے، میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ لٹکا لیا اور آیت حجاب نازل ہوگئی اور لوگوں کو اس کے ذریعے نصیحت کی گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5163، م: 1428
حدیث نمبر: 13026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا : لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ ، قَالَ : فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً ، فَأَكَلَ وَشَرِبَ ، قَالَ : ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَوَقَعَ بِهَا ، فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ ، وَأَصَابَ مِنْهَا ، قَالَتْ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ ، وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ ، أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَتْ : فَاحْتَسِبْ ابْنَكَ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا " قَالَ : فَحَمَلَتْ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا ، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ ، وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ ، وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَبِّ ، إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ ، وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ ، وَقَدْ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى ، قَالَ : تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ ، فَانْطَلَقْنَا ، قَالَ : وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي : يَا أَنَسُ ، لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْتُ احْتَمَلْتُهُ وَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيْسَمٌ ، فَلَمَّا رَآنِي ، قَالَ : " لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَضَعَ الْمِيسَمَ ، قَالَ : فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ، قَالَ : وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ ، فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ، ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ " قَال : فَمَسَحَ وَجْهَهُ ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہوچکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کرسکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ سفر سے واپس آنے کے بعد رات کے وقت مدینہ میں داخل نہیں ہوتے تھے، وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو درد کی شدت نے ستایا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ رک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات بڑی محبوب ہے کہ تیرے رسول جب مدینہ سے نکلیں تو میں ان کے ساتھ نکلوں اور جب داخل ہوں تو میں بھی داخل ہوں اور اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں کیسے رک گیا ہوں، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابوطلحہ ! اب مجھے درد کی شدت محسوس نہیں ہو رہی، لہٰذا ہم روانہ ہوگئے اور مدینہ پہنچ کر ان کی تکلیف دوبارہ بڑھ گئی اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس ! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں، ایک کجھور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5470 م: 2144
حدیث نمبر: 13027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ قَطُّ ، مَا وَجَدَ عَلَى أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ أَصْحَابِ سَرِيَّةِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو ، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ أَصَابُوهُمْ فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ ، وَلِحْيَانَ ، وَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے، جنہوں نے انہیں شہید کردیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1300 م:677
حدیث نمبر: 13028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ ، فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ، وَهُوَ يَتَبَسَّمُ ، قَالَ : وَكِدْنَا أَنْ نُفْتَتَنَ فِي صَلَاتِنَا فَرَحًا لِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنْكُصَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ ، ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ ، فَقُبِضَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ ، فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ ، وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى ، فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِي رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ ، يَزْعُمُونَ أَوْ قَالَ : يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارک کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہمیں اتنی خوشی ہوئی، قریب تھا کہ ہم آزمائش میں پڑجاتے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہوا ہے، ان کے پاس ان کے رب نے ویسا ہی پیغام بھیجا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چالیس راتوں تک اپنی قوم سے دور رہے تھے، بخدا ! مجھے امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ جسمانی حیات پائیں گے تاکہ ان منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں جو یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 754 م:419
حدیث نمبر: 13029
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 680 م:419 وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13030
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، حتى إذا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، وَهُمْ صُفُوفٌ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبلہ
حدیث نمبر: 13031
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ ، يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ ، يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رونے لگیں اور کہنے لگیں ہائے ابا جان ! آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہوگئے، ہائے اباجان ! جبرائیل علیہ السلام کو میں آپ کی رخصتی کی خبر دیتی ہوں، ہائے اباجان ! آپ کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4462
حدیث نمبر: 13032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ ، فَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا شِغَارَ ، وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا جَنَبَ ، وَمَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، اس پر عورتوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمانہ جاہلیت میں کچھ عورتوں نے ہمیں پر سہ دیا تھا، کیا ہم انہیں اسلام میں پر سہ دے سکتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں، نیز اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حٰثیت نہیں، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں، زکوٰۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوٰۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وسلف النھی عن النھبۃ برقم:12422
حدیث نمبر: 13033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَلِكَ فِي السَّحَرِ : " يَا أَنَسُ ، إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ ، فَأَطْعِمْنِي شَيْئًا " قَالَ : فَجِئْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلَالٌ ، فَقَالَ " يَا أَنَسُ ، انْظُرْ إِنْسَانًا يَأْكُلُ مَعِي " قَالَ : فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ ، وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ " فَتَسَحَّرَ مَعَهُ ، ثم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے انس ! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلا دو ، میں کچھ کھجوریں اور ایک برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا، اس وقت تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دے چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس ! کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ جو میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکے، چنانچہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کرلے آیا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ستوؤں کا شربت پیا ہے اور میرا ارادہ روزہ رکھنے کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا بھی ارادہ روزہ رکھنے ہی کا ہے، پھر دونوں نے اکٹھے سحری کی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور باہر نکل آئے اور نماز کھڑی ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر :12739
حدیث نمبر: 13034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، لَا وَاللَّهِ مَا سَبَّنِي سَبَّةً قَطُّ ، وَلَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَهُ ؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَّا فَعَلْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ: 2768 م: 2309
حدیث نمبر: 13035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 2 مَرْجِعَنَا مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ " ثُمَّ قَرَأَهَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : هَنِيئًا مَرِيئًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ ، فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا ؟ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ حَتَّى بَلَغَ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4172، م: 1786
حدیث نمبر: 13036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، قال : حَدَّثَنَي مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ ، يَخْرُجُ مِنْهُمْ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، سِيمَاهُمْ الْحَلْقُ وَالتَّسْبِيتُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ " ، التَّسْبِيتُ : يَعْنِي اسْتِئْصَالَ الشَّعْرِ الْقَصِيرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کا شعار منڈوانا اور چھوٹے بالوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہوگا، تم انہیں جب دیکھو تو قتل کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13037
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ ، أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةً حَسَنَةً لَمْ يُطَوِّلْ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھاؤں ؟ پھر انہوں نے عمدہ طریقے سے نماز پڑھائی اور اسے زیادہ لمبا نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر :12654
حدیث نمبر: 13038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَحُلِبَ لَهُ دَاجِنٌ فَشَابُوا لَبَنَهَا بِمَاءِ الدَّارِ ، ثُمَّ نَاوَلُوهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَرِبَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ عِنْدَكَ ، وَخَشِيَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ ، قَالَ : فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ : " الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2352، م: 2029
حدیث نمبر: 13039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " أَثْنُوا عَلَيْهَا " فَقَالُوا : كَانَ مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى ، فَقَالَ : " أَثْنُوا عَلَيْهَا " فَقَالُوا : بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2642، م: 949
حدیث نمبر: 13040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مَرْوَانَ مَوْلَى هِنْدِ ابْنَةِ الْمُهَلَّبِ ، قَالَ رَوْحٌ أَرْسَلَتْنِي هِنْدٌ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَقُلْ روْحٌ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْوِصَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
مروان " جو کہ ہند بنت مہلب کے آزاد کردہ غلام تھے " کہتے ہیں کہ مجھے ہند نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے کسی کام سے بھیجا تو میں نے انہیں اپنے ساتھیوں کو یہ حدیث سناتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال (بغیر افطاری کے مسلسل کئی دن روزہ رکھنے) سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر :12248
حدیث نمبر: 13041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : " مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ ، فَلَهُ سَلَبُهُ " ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اکیس آدمیوں کو قتل کر کے ان کا سامان حاصل کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 13042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مُتَقَلِّدَةً خِنْجَرًا ؟ ! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ " قَالَتْ : أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم ! تم اس کا کیا کرو گی ؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1809
حدیث نمبر: 13043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ سُوَيْدٍ أَبُو مُعَلَّى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ ؟ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر تین پرندے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک پرندہ اپنی ایک خادمہ کو دے دیا، اگلے دن اس نے وہی پرندہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اگلے دن کے لئے کوئی چیز اٹھا رکھنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ ہر دن کا رزق اللہ خود دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف هلال بن سويد أبى المعلى الأحمري وهو والد المعلي بن هلال الكذاب -
حدیث نمبر: 13044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ ، أَيَنْحَنِي لَهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا " قَالَ : فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ ؟ قَالَ " لَا " قَالَ : فَيُصَافِحُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی اپنے دوست سے ملے تو کیا اس سے جھک کر مل سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کیا اس سے چمٹ کر اسے بوسہ دے سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کہ مصافحہ کرسکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر چاہے تو مصافحہ کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حنظلة بن عبدالله السدوسي
حدیث نمبر: 13045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ ، فَأَسْلَمُوا ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَفَعَلُوا فَصَحُّوا ، فَارْتَدُّوا ، وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا أَوْ رِعَاءَهَا وَسَاقُوهَا ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ ، وَأَرْجُلَهُمْ ، وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6802، م: 1671
حدیث نمبر: 13046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْأَعَاجِمِ ، فَقِيلَ : إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِنَقْشٍ ، فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092
حدیث نمبر: 13047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ ، قَالَ : " مَا قَدَّمْتَ لَهَا ؟ " قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3688، م: 2639، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 13048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ ، وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ ، وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مستقیم نہ ہو اور دل اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک زبان مستقیم نہ ہو اور کوئی ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة الباهلي، وقد سلف قصة الجار بإسناد صحيح، برقم: 12561
حدیث نمبر: 13049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ ، فَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ ، وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ ، لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ لوگ ہیں جو توبہ کرنے والے ہوں اور اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن مسعدة الباهلي، وقوله فى آخر الحديث: «ولو أن لابن آدم ... » روي بأسانید اُخری صحیحۃ عن قتادۃ عن أنس، انظر: 12228
حدیث نمبر: 13050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ " قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5045
حدیث نمبر: 13051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَكْحُولًا يُحَدِّثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُ ، وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ حَتَّى يَقْنَأَ شَعَرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 5895، م: 2341
حدیث نمبر: 13052
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ إِمَامُ مَسْجِدِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ ، فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ دین بڑا سنجیدہ اور مضبوط ہے، لہٰذا اس میں نرمی کو شامل رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن حمزة
حدیث نمبر: 13053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
حدیث نمبر: 13054
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ أَشْبَهَهُمْ وَجْهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت امام حسن سب سے بڑھ کر نبی کے مشابہہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3752
حدیث نمبر: 13055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ نبي الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : تَرَى الْمَرْأَةُ مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهَا ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا رَأَتْ مَا يَرَى الرَّجُلُ يَعْنِي الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَيَكُونُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ، فَمِنْ أَيِّهِمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا قَالَ سَعِيدٌ نَحْنُ نَشُكُّ يَكُونُ الشَّبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح "" خواب دیکھے "" جسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا "" خواب دیکھے "" اور اسے انزال ہوجائے تو اسے غسل کرنا چاہئے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پیلا اور پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 310
حدیث نمبر: 13056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِذَا شَهِدُوا ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا ، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا ، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا ، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں، ہمارے قبلے کا رخ کرنے لگیں، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کی جان و مال کا احترام واجب ہوگیا، سوائے اس کلمے کے حق کے، ان کے حقوق بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کے فرائض بھی دیگر مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 392
حدیث نمبر: 13057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں میرے نزدیک صرف عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن