حدیث نمبر: 12978
حَدَّثَنَا عَفَّانُ : حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ (۲) قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ جَمْعًا كَثِيرًا وَ النَّبِيُّ ﷺ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ، وَمَعَهُ الطَّلَقَاءُ، فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4333، م: 1059
حدیث نمبر: 12979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنِي مثنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ ، وَلَهَا ابْنٌ صَغِيرٌ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " قَالَ : نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ أَحْيَانًا ، وَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهَا ، فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ ، فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ ، وَهُوَ حَصِيرٌ يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، ان کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر ؟ یہ ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتے تھے، بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی چھڑک کر نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6129
حدیث نمبر: 12980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ كَانَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ ، أَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا ، فَكَانَا يَمْشِيَانِ بِضَوْئِهَا ، فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا هَذَا وَعَصَا هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، و بنحوه برقم: 465
حدیث نمبر: 12981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قَامَتْ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا ، فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی پر قیامت قائم ہوجائے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تب بھی اگر ممکن ہو تو اسے چاہیے کہ اسے گاڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي دَارَ الْإِمَارَةِ ، فَإِذَا دَجَاجَةٌ مَصْبُورَةٌ تُرْمَى ، فَكُلَّمَا أَصَابَهَا سَهْمٌ صَاحَتْ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے دادا کے ساتھ دارالامارۃ میں داخل ہوا، وہاں ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی تھی، اسے جب تیر لگتا تو وہ چیخ مارتی، انہوں نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5513، م: 1956
حدیث نمبر: 12983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ ، فَظَنَنْتُهُ لِي ، فَإِذَا هُوَ لِعُمَرَ " قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَنِي يَا أَبَا حَفْصٍ أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ مِنْ غَيْرَتِكَ " قَالَ : قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہوجاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس کسی کے سامنے غیرت کا اظہار کروں، آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُهُ : مَهْ ، مَهْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزْرِمُوهُ ، دَعُوهُ " ثُمَّ دَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ " أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ : " قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ ، فَشُنَّهُ عَلَيْهِ " فَأَتَاهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، کہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو ، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد اسے بلا کر فرمایا کہ ان مساجد میں کسی قسم کی گندگی، پیشاب اور پاخانہ کرنا مناسب نہیں ہے، یہ مساجد تو قرآن کریم کی تلاوت، ذکر اللہ اور نماز کے لئے ہوتی ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا جا کر پانی کا ایک ڈول لے کر آؤ اور اس پر بہا دو ، چنانچہ اس آدمی نے پانی کا ایک ڈول لا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 219، م: 285
حدیث نمبر: 12985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاطَّلَعَ فِي الْبَيْتِ وَقَالَ عَفَّانُ فِي بَيْتِهِ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، فَسَدَّدَهُ نَحْوَ عَيْنَيْهِ حَتَّى انْصَرَفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی آکر سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر اس کی طرف سیدھا کیا تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر: 12055
حدیث نمبر: 12986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَطَأُ الْأَرْضَ ، إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ ، فَيَأْتِي الْمَدِينَةَ ، فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا صُفُوفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ ، فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مکہ اور مدینہ کے علاوہ ساری زمین کو اپنے پیروں سے روند ڈالے گا، وہ مدینہ آنے کی بھی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہر دروازے پر فرشتوں کی صفیں پائے گا، پھر وہ " جرف " کے ویرانے میں پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1881، م: 2943
حدیث نمبر: 12987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12594
حدیث نمبر: 12988
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا ؟ " قَالَ : فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، قَالَ : فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّار ، فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قُلْتُهَا ، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا حَتَّى سَأَلُوا رَبَّهُمْ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس کا کتنا ثواب لکھیں چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کلمات اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ " عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : " فَضَرَبْتُ بِيَدِي ، فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ " ، وَقَالَ عَفَّانُ : " الْمُجَوَّفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:4964
حدیث نمبر: 12990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی ہے پھر اسے ترک فرما دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089 ، م: 677
حدیث نمبر: 12991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ ، وَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيحان، خ: 532، 822، م: 493، 551
حدیث نمبر: 12992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : قال : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ الزُّبَيْرَ وَعَبْدَ الَّرحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ ، فَاسْتَأْذَنَا فِي غَزَاةٍ لَهُمَا ، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ ، قَالَ بَهْزٌ : قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی، چنانچہ میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2920، م: 2076
حدیث نمبر: 12993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حدثنا هَمَّامٌ ، قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا ، وَقَالَ بَهْزٌ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " وَيْلَكَ ، وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ ؟ " قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا شَيْئًا ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " قَالَ : قَالَ أَصْحَابُهُ : نَحْنُ كَذَلِكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَأَنْتُمْ كَذَلِكَ " قَالَ : فَفَرِحُوا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا ، قَالَ : فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا ، فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، وَقَالَ عَفَّانُ فَفَرِحْنَا بِهِ يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ہمارا بھی یہی حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تمہارا بھی یہی حکم ہے، چنانچہ میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، اسی دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام " جو میرا ہم عمر تھا " تھا، وہاں سے گذرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس کی زندگی ہوئی تو یہ بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6167، م: 2953
حدیث نمبر: 12994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ ، إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ فِي صُدْغَيْهِ ، وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3550، م: 2341
حدیث نمبر: 12995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا قَالَ : " السَّامُ عَلَيْكُمْ " فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ ، فَجِيءَ بِهِ ، فَاعْتَرَفَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا عَلَيْهِمْ مَا قَالُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ کو سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس نے " السام علیک " کہا ہے، یہودی کو پکڑ کر لایا گیا تو اس نے اس کا اقرار کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو اسے اسی کا جملہ لوٹا دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر: 12427
حدیث نمبر: 12996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حدثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ ، إذا لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " ، قَالَ عَفَّانُ " ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ " فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر: 12228
حدیث نمبر: 12997
حَدَّثَنَا عَفَّانُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ قَتَادَةَ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَقَالَ عَفَّانُ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں جوان رہ جاتی ہیں، مال کی حرص اور لمبی عمر کی امید۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
حدیث نمبر: 12999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ ، امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " مَنْ غَرَسَ هَذَا الْغَرْسَ ؟ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " قَالُوا : مُسْلِمٌ ، قَالَ : " لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبشر نامی انصاری خاتون کے باغ میں تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہ باغ کسی مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے ؟ لوگوں نے بتایا مسلمان نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کوئی پودا اگاتا ہے اور اس سے کسی پرندے، انسان یا درندے کو رزق ملتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2320، م: 1553
حدیث نمبر: 13000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ وَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ وَهُوَ أَعْمَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ ، يُصَلِّي بِهِمْ وَهُوَ أَعْمَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین دو مرتبہ بنایا تھا وہ نابینا تھے اور لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 13001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا : وَاحِدَةً عَلَى كَاهِلِهِ ، وَاثْنَتَيْنِ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مرتبہ اخدعین اور ایک مرتبہ کاہل نامی کندھوں کے درمیان مخصوص جگہوں پر سینگی لگواتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5045
حدیث نمبر: 13003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَوْلٍ لَا يُسْمَعُ ، وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ ، وَالْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے کہ ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ ) اے اللہ ! میں برص، جنون، کوڑھ اور ہر بدترین بیماری سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ ، فَمَا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھالیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12913
حدیث نمبر: 13006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ ؟ أَفُلَانٌ ؟ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ ، فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک فلاں نے کیا ہے، فلاں نے کیا ہے یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہہ دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6885، م: 1672
حدیث نمبر: 13007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ لي مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ مِائَةَ أَلْفٍ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنَا ، فقَالَ لَهُ : " وَهَكَذَا " وَأَشَارَ بِيَدِهِ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، زِدْنَا ، فَقَالَ : " وَهَكَذَا " وَأَشَارَ بِيَدِهِ ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، زِدْنَا ، قَالَ : " وَهَكَذَا " فَقَالَ له عُمَرُ قَطْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ : مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَادِرٌ أَنْ يُدْخِلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ كُلَّهُمْ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر ! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر ! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل أبى هلال الراسبي، وقد توبع، انظر: 12695
حدیث نمبر: 13008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " قَالُوا : يَا نبيَّ الله ، كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ اس وقت تک خیر پر رہتا ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہ لے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جلدی سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا بندہ یوں کہنا شروع کر دے کہ میں اپنے پروردگار سے اتنی دعائیں کیں لیکن اس نے قبول ہی نہیں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، يشهد له حديث أبى هريرة السالف برقم: 10312
حدیث نمبر: 13009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4621، م: 2359، وانظر: 12859
حدیث نمبر: 13010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى : فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 13011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ أَنَسٌ : كُنَّا قد نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ ، قَالَ : وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، الْعَاقِلُ ، فيَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَتَانَا رَسُولُكَ ، وَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ ! قَالَ : " صَدَقَ " قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " قَالَ : فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " قَالَ : فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ ، وَنَصَبَ الْجِبَالَ ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا ! قَالَ " صَدَقَ " قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا ! قَالَ : " صَدَقَ " قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا ! قَالَ عَفَّانُ قَالَ : " صَدَقَ " قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ! قَالَ : " صَدَقَ " قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ عَفَّانُ : ثُمَّ وَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْتَقِصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ صَدَقَ ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (چونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کردی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے یہ خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں، چنانچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ نے فرمایا خداوند نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا، (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا تھا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ( بتائیے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے (یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج فرض ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا آخر کار وہ بدوی پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 12
حدیث نمبر: 13012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، قَالَ : وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ حَتَّى كُنَّا رَهْطًا ، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ تَجَوَّزَ فِي الصَّلَاةِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ ، فَصَلَّى صَلَاةً لَمْ يُصَلِّهَا عِنْدَنَا ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّيْلَةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ " ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ يُوَاصِلُ وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، قَالَ : فَأَخَذَ رِجَالٌ يُوَاصِلُونَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ مُدَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، میں آکر ان کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آکر میرے ساتھ کھڑا ہوگیا، اسی طرح ہوتے ہوتے ایک جماعت بن گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اپنے پیچھے میری موجودگی کا احساس ہوا تو نماز مختصر کر کے اپنے گھر چلے گئے اور وہاں ویسی نماز پڑھی جو ہمارے سامنے نہ پڑھی تھی، صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کو آپ نے ہماری موجودگی کو بھانپ لیا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور اسی وجہ سے میں نے ایسا کیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا : کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ وصال کرتے ہیں، اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، (مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104
حدیث نمبر: 13013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي ، قَالَ : فَقَالَ : " قُومُوا فَلِأُصَلِّي لَكُمْ " فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ قَالَ حَجَّاجٌ ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا صَلَاةً ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا ؟ قَالَ : جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ قَالَ : ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، قَالَ : قَالَتْ أُمِّي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خُوَيْدِمُكَ ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ ، قَالَ : فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ ، قَالَ بَهْزٌ بخير وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا بِهِ لي ، قال : " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی) راوی نے ثابت سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا ؟ انہوں نے کہا دائیں جانب، بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی اور فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1982، م: 660
حدیث نمبر: 13014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ " قَالَ : ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ : أَبُو سَيْفٍ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ ، وَقَدْ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا ، قَالَ : فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَيْفٍ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَأَمْسَكَ ، قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ ، قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَدْمَعُ الْعَيْنُ ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا ، وَاللَّهِ إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میرے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دودھ پلانے کے لئے مدینہ کے ایک لوہار "" جس کا نام ابوسیف تھا "" کی بیوی ام سیف کے حوالے کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بچے سے ملنے کے لئے وہاں جایا کرتے تھے، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا ہوں، وہاں پہنچے تو ابوسیف بھٹی پھونک رہے تھے اور پورا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تیزی سے چلتا ہوا ابوسیف کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ ابوسیف ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، چنانچہ وہ رک گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1303، م: 2315
حدیث نمبر: 13015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ عَمِّي : قَالَ هَاشِمٌ : أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ ، سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ : فَشَقَّ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : فأَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ ! لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، قَالَ : فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا ، قَالَ : فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ : يَا أَبَا عَمْرٍو ، أَيْنَ ؟ قَالَ : وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ ، فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ ، وَطَعْنَةٍ ، وَرَمْيَةٍ ، قَالَ : فَقَالَتْ أُخْتُهُ : عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23 ، قَالَ : فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ .
مولانا ظفر اقبال
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر بچے کو بلایا اور انہیں اپنے سینے سے چمٹا لیا، میں نے دیکھا کہ وہ بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موت وحیات کی کشمکش میں تھا، یہ کیفیت دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور فرمایا آنکھیں روتی ہیں، دل غم سے بوجھل ہوتا ہے لیکن ہم وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، بخدا ! ابراہیم ! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4783، م: 1903 بلفظ «نره هذا الآية نزلت فى أنس ابن النضر... »
حدیث نمبر: 13016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : إِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حُبِسَ الْمَطَرُ ، هَلَكَتْ الْمَوَاشِي ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا ، قَالَ أَنَسٌ فَرَفَعَ يَدَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا أَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ ، فَأُلِّفَ بَيْنَ السَّحَابِ ، قَالَ حَجَّاجٌ : فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ ، فَوَأَلْنَا ، قَالَ حَجَّاجٌ : سَعَيْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ ، فَمُطِرْنَا سَبْعًا ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ ، إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ ، حُبِسَ السِّفَارُ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا ، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " قَالَ : فَتَقَوَّرَ مَا فَوْقَ رَأْسِنَا مِنْهَا ، حَتَّى كَأَنَّا فِي إِكْلِيلٍ ، يُمْطَرُ مَا حَوْلَنَا وَلَا نُمْطَرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کی اکتاہٹ پر مسکرا پڑے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 938، 3582، م: 897
حدیث نمبر: 13017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَنْتُمْ ؟ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَا لَمْ نُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کے لئے پانی کا برتن لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا : راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 13017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 214