حدیث نمبر: 12938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرُّوا بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ " وَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ " فَقَالَ عُمَرُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقُلْتَ : " وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ " وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقُلْتَ : " وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ ، وَجَبَتْ " فَقَالَ : " مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا ، وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پہلا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی تعریف کی تب بھی آپ نے تینوں مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی اور جب دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت بیان کی تب بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ جس کی تعریف کردو، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت بیان کردو، اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حدیث نمبر: 12939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مُرَّ على رسول الله صلى الله عليه وسلم بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَى الْقَوْمُ خَيْرًا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ثُمَّ مُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ : " وَجَبَتْ " فَقَالُوا : قُلْتَ لِهَذَا : " وَجَبَتْ " وَلِهَذَا " وَجَبَتْ " ؟ ! قَالَ : " شَهَادَةُ الْقَوْمِ ، وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے دونوں کے لئے " واجب ہوگئی " فرمایا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قوم کی گواہی ہے اور مسلمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔
حدیث نمبر: 12940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " قَالَ : فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : فَظَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ ، وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ ، وَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ ، فَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا ؟ فَقَالَ لَكَ أَنَسٌ : أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا ؟ فَضَحِكَ ثَابِتٌ ، وَقَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی اور اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو فتح کرلیا، ان کے لڑاکا افراد کو قتل اور بچوں کو قیدی بنالیا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ ، حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آگئی، بعد میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 12941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت محمد رسول اللہ نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔
حدیث نمبر: 12942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابن صُهَيب ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّجَالَ عَنِ الْمُزَعْفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 12943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى نَدَعُ الِائْتِمَارَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ قَالَ : " إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتْ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ ، وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ ، وَالْعِلْمُ فِي رُذَالِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑیں گے ؟ فرمایا جب تم میں وہ چیزیں ظاہر ہوجائیں جو بنی اسرائیل میں در آئی تھیں، جب بےحیائی بڑوں میں اور حکومت چھوٹوں میں اور علم کمینوں میں آجائے۔
حدیث نمبر: 12944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي الْمَسِيرِ ، وَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ أَوْ سَائِقٌ قَالَ : فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا أَنْجَشَةُ ، وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حدیث نمبر: 12945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، حَتَّى رَجَعَ ، قَالَ يَحْيَى : فَقُلْتُ : لِأَنَسٍ : كَمْ أَقَامَ ؟ قَالَ : عَشْرًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا ؟ انہوں نے بتایا دس دن۔
حدیث نمبر: 12946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حجا "
حدیث نمبر: 12947
(حديث مرفوع) عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عن يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وصفية رديفته ، قَالَ : فَعَثَرَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصُرِعَتْ صَفِيَّةُ ، قَالَ : فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ : أَشُكُّ قَالَ : ذَاكَ أَمْ لَا أَضُرِرْتَ ؟ قَالَ : " لَا ، عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ " قَالَ : فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ عَلَى وَجْهِهِ الثَّوْبَ ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَصْلَحَ لَهَا رَحْلَهَا ، فَرَكِبْنَا ، ثُمَّ اكْتَنَفْنَاهُ ، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ ، فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ ، أَوْ كُنَّا بِظَهْرِ الْحَرَّةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهُنَّ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سوار تھیں، ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ گرگئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، خاتون کی خبر لو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ) ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔
حدیث نمبر: 12948
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ وَفِيهِ ثَلَاثُ ضِبَابٍ حَدِيدٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ ، فَأُخْرِجَ مِنْ غِلَافٍ أَسْوَدَ ، وَهُوَ دُونَ الرُّبُعِ وَفَوْقَ نِصْفِ الرُّبُعِ ، فَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَجُعِلَ لَنَا فِيهِ مَاءٌ ، فَأُتِينَا بِهِ فَشَرِبْنَا وَصَبَبْنَا عَلَى رُءُوسِنَا وَوُجُوهِنَا ، وَصَلَّيْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حجاج بن حسان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین ٹکڑے اور ایک حلقہ لگا ہوا تھا، انہوں نے وہ برتن ایک کالے غلاف سے نکالا تھا، جو چوتھائی سے کم اور نصف سے کچھ زیادہ تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حکم پر اس میں ہمارے لئے پانی ڈالا گیا، ہم نے وہ پانی نوش کیا اور اپنے سر اور چہروں پر ڈالا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام پڑھا۔
حدیث نمبر: 12949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي ، فَقَالَ : قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَحَطَ الْمَطَرُ ، وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ ، هَلَكَ الْمَالُ ، قَالَ : فَاسْتَسْقَى ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً ، فَقَامَ فَصَلَّى حَتَّى جَعَلَ يَهُمُّ الْقَرِيبُ الدَّارِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ مِنْ شِدَّةِ الْمَطَرِ ، قَالَ : فَمَكَثْنَا سَبْعًا ، فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ ، وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " قَالَ : فَتَكَشَّفَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔
حدیث نمبر: 12950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ ، إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں، تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔
حدیث نمبر: 12951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ قَرَّةٍ أَوْ بَارِدَةٍ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " فَأَجَابُوهُ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ رضی اللہ عنہ نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں۔ "
حدیث نمبر: 12952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَغَيْرَهُمَا ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : أَيُعْطِي غَنَائِمَنَا مَنْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ مِنْ سُيُوفِنَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حدیث نمبر: 12953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ سَمْنًا وَتَمْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِكُمْ ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِكُمْ ، فَإِنِّي صَائِمٌ " ثُمَّ قَامَ ، فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ ، ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِهَا ، ثُمَّ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً ، قَالَ : " وَمَا هِيَ ؟ " قَالَتْ : أَنَسٌ : قَالَ : فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ مِنْ خَيْرِ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا بِهِ ، مِنْ قَوْلِهِ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِمْ " ، قَالَ : فَقَالَ أَنَسٌ : حَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِي عِشْرُونَ وَمِائَةٌ وَنَيِّفٌ ، وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو ، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ تھی جو میرے لئے نہ مانگی ہو اور فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بیٹی نے بتایا ہے کہ میری نسل میں سے ایک سو چوبیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں اور میں مال و دولت میں تمام انصار سے بڑھ کر ہوں۔
حدیث نمبر: 12954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : اسْتَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ اسْتَشَارَ عُمَرَ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ : إِيَّاكُمْ يُرِيدُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ : تَسْتَشِيرُنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا ، إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ ، وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكٍ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ : إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا ! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِدَاءَ صَبِيٍّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَخَفَّفَ ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ ، إِذْ عَلِمَ أَنَّ أُمَّهُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی اواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کردیا ہے، یہ اس پر شفقت کا اظہار تھا۔
حدیث نمبر: 12956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ هل اخْتَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا۔
حدیث نمبر: 12957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ ، وَلَهَا ابْنٌ مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ ، وَكَانَ يُمَازِحُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَرَآهُ حَزِينًا ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا " فَقَالُوا : مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابو عمیر تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابو عمیر ! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حدیث نمبر: 12958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ غُلَامًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَتْ بِهِ مَعَ ابْنِهَا أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَنَّكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے انس کے ساتھ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گھٹی دی۔
حدیث نمبر: 12959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى عُرِفَ ذَاكَ فِي وَجْهِهِ ، فَحَكَّهُ ، وَقَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ الْمَرْءَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلْيَبْزُقْ ، إِذَا بَزَقَ ، عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " وَأَوْمَأَ هَكَذَا ، كَأَنَّهُ فِي ثَوْبِهِ ، قَالَ : وَكُنَّا نَقُولُ لِحُمَيْدٍ : فَيَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَنْ هُوَ ؟ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يَزِيدُنَا عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔
حدیث نمبر: 12960
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ ، وَيَقْضِ مَا سَبَقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حدیث نمبر: 12961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَعْنِكَ ، إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا ، قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو مراد نہیں لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر تو اپنا نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حدیث نمبر: 12962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قُرْيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا صَلَّى ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " ، قَالَ أَنَسٌ : كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کردیا اور نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔
حدیث نمبر: 12963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ أَسْفَرَ بِهِمْ حَتَّى أَسْفَرَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ؟ " قَالَ : " مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔
حدیث نمبر: 12964
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ الْمُنْطَلِقُ مِنَّا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ ، وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 12965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو مسَلَمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : " أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !۔
حدیث نمبر: 12966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيُّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں۔
حدیث نمبر: 12967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12968
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ، يَطَأُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 12969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ عَثَرَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ الْمَرْأَةُ ، فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ عَنْ نَاقَتِهِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَلْ ضَرَّكَ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لَا ، عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ " فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَصَدَ قَصْدَ الْمَرْأَةَ ، فَسَدَلَ الثَّوْبَ عَلَيْهَا ، فَقَامَتْ فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا ، فَرَكِبَا ، وَرَكِبْنَا نَسِيرُ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ قَالَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " قال : فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سوار تھیں، ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پھسل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ گرگئے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، خاتون کی خبر لو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔
حدیث نمبر: 12970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، قَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ ، قَالَ : مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ؟ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ ، وَالْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أُمِّهِ ؟ قَالَ : " أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا " ، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ فَذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، قَالَ : " أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ ، وَأَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ، نَزَعَ الْوَلَدَ ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ، نَزَعَتْ الْوَلَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے ؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی ؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی '' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
حدیث نمبر: 12971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قال : قَالَ أَنَسٌ : " أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ " ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ ، فَقَالَ : إِلَّا الْإِقَامَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم تھا کہ اذان کے کلمات جفت عدد میں اور اقامت کے کلمات طاق عدد میں کہا کریں۔
حدیث نمبر: 12972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ : ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ : " إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ يَعْنِي يُعْجِبُونَ النَّاسَ ، وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّهَا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ، فَقَالُوا : أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ ، فَأَكْفَأْتُهَا ، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ : مَا هِيَ ؟ قَالَ : بُسْرٌ وَرُطَبٌ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ " ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس ! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو ، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔
حدیث نمبر: 12974
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ ب ْبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، أَوْ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ؟ فَقَالَ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے یا الحمدللہ سے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جس کے متعلق مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔
حدیث نمبر: 12975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : سَافَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا ، فَسَأَلْتُهُ هَلْ أَقَامَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، أَقَمْنَا بِمَكَّةَ عَشْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا ؟ انہوں نے بتایا دس دن۔
حدیث نمبر: 12976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ : أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ ، وَلِي امْرَأَتَانِ ، فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ ، فَدَلُّوهُ ، فَانْطَلَقَ ، فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدْ اسْتَفْضَلَهُ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : " مَهْيَمْ ؟ " قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : " مَا أَصْدَقْتَهَا ؟ " قَالَ : نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ حُمَيْدٌ : أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، نیز میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کرلیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتادیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا ؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔
حدیث نمبر: 12977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ ، وَالْإِبِلِ وَالنَّعَمِ ، فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا ، يُكَثِّرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عِبَادَ اللَّهِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ عَفَّانُ وَلَمْ يَضْرِبُوا بِسَيْفٍ وَلَمْ يَطْعَنُوا بِرُمْحٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ : " مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ، فَلَهُ سَلَبُهُ " فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا ، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ ، وَعَلَيْهِ دِرْعٌ ، فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ ، فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا أَخَذْتُهَا ، فَأَرْضِهِ مِنْهَا ، وَأَعْطِنِيهَا ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ ، أَوْ سَكَتَ ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَا وَاللَّهِ ، لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " صَدَقَ عُمَرُ " ، قَالَ : وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ ؟ قَالَتْ : اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ ؟ ! قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ ، انْهَزَمُوا بِكَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ ، وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا ، وَالنبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَشْرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ ، وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ ، فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اے گروہ انصار ! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نتہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کرلیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے ؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کرلیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا ! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی ؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم ! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔
…