حدیث نمبر: 12899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي بَيْتِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَقَفَ ، فَأَخَذَ بِعِضَادَةِ الْبَابِ ، فَقَالَ : " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ ، وَلَكُمْ مِثْلُ ذَلِكَ ، مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا ، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا ، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھڑے ہو کر دروازے کے کواڑ پکڑ لئے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب لوگ ان سے رحم کی درخواست کریں تو وہ ان سے رحم کا معاملہ کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں، فیصلہ کریں تو انصاف کریں، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعيف لجھالۃ بکیر الجزري
حدیث نمبر: 12901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَدْعُو بِأُصْبُعَيْنِ ، فَقَالَ : " أَحِّدْ يَا سَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر ہوا، وہ دوانگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعاء کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد ! ایک انگلی رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أنس
حدیث نمبر: 12902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قَامَتْ عَلَى أَحَدِكُمْ الْقِيَامَةُ وَفِي يَدِهِ فَسِيلَةٌ ، فَلْيَغْرِسْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی پر قیامت قائم ہوجائے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تب بھی اسے چاہئے کہ اسے گاڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : قَالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُ ثَابِتًا ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبِطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1031، م: 895
حدیث نمبر: 12904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَشَدُّهَا فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ ، وَأَصْدَقُهَا حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأَقْرَؤُهَا لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيٌّ ، وَأَعْلَمُهَا بِالْفَرَائِضِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، کتاب اللہ کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں، علم وراثت کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقوله صلی اللہ علیہ وسلم فى حق أبى عبيدة: « أمين هذه الأمة » سلف ضمن حديث آخر، برقم: 12261
حدیث نمبر: 12905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " الْحِبَرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس پسند تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5812، م: 2079
حدیث نمبر: 12906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي بَحْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْضِي لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ " ، أَبُو بَحْرٍ اسْمُهُ ثَعْلَبَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے تو مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے جو فیصلہ بھی فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، القاسم بن شريح لم يرو عنه غير سفيان الثوري، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقد توبع
حدیث نمبر: 12907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ، قَالَ : " ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2369، وانظر: 12826
حدیث نمبر: 12908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ، قَالَ : " ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12909/1
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ ، أَوْ غَفَلَ عَنْهَا ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " میری یاد کے لئے نماز قائم کرو،''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12909/1
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
حدیث نمبر: 12909/2
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي ، وَأَنْتَ نَصِيرِي ، وَبِكَ أُقَاتِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے پر روانہ ہوتے تو فرماتے اے اللہ ! تو ہی میرا بازو ہے، تو ہی میرا پروردگار ہے اور تیرے ذریعے ہی میں قتال کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12909/2
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 12910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نُضِحَ لَهُ حَصِيرٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : رَأَيْتُهُ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : لَمْ أَرَهُ إِلَّا ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں، ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 670
حدیث نمبر: 12911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1001، م: 677
حدیث نمبر: 12912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ ، فَأَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي وَعَشِيرَتِي مِنْ نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، فَأَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى ، فَقُومُوا فَصَلُّوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا، میں مدینہ منورہ کے ایک کونے میں واقع اپنے محلے اور گھر میں پہنچتا اور ان سے کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے ہیں، لہٰذا تم بھی اٹھ کر نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 12913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصِيبُ التَّمْرَةَ ، فَيَقُولُ : " لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنَّهَا مِنَ الصَّدَقَةِ ، لَأَكَلْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں ایک کجھور پڑی ہوئی ملتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اگر مجھے یہ اندیشہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو میں اسے کھا لیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2055، م: 1071
حدیث نمبر: 12914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي بَيْتِ أُمِّ حَرامٍ عَلَى بِسَاطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ کے گھر میں بستر پر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 12915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " لِمَنْ هَذَا ؟ " قَالُوا لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ : تُصَلَّي ، فَإِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ : " لِتُصَلِّ مَا طَاقَتْ ، فَإِذَا عَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باند ھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده هنا مرسل، وانظر ما بعده ، وهو موصول
حدیث نمبر: 12916
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله ، وما سلف برقم: 11986
حدیث نمبر: 12917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رجل مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمٌ ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا ، وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا ، وَنَضَحُوهُ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ؟ قَالَ : مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری کم تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بار بار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہیں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چنانچہ اس نے ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 670
حدیث نمبر: 12918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَصْحَابُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، فَأَطَالَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ فَخَفَّفَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، فَأَطَالَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ ، فَجَعَلْتَ تُطِيلُ إِذَا دَخَلْتَ بيتك ، وَتُخَفِّفُ إِذَا خَرَجْتَ ! قَالَ : " مِنْ أَجْلِكُمْ مَا فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذرنے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر کے لئے گھر میں چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1104
حدیث نمبر: 12919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هَمَّامٍ ، وَبَهْزٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ " قَالَ أُبَيٌّ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ سَمَّاكَ لِي " ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : فَجَعَلَ يَبْكِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4960، م: 799
حدیث نمبر: 12920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : مَا كَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12326
حدیث نمبر: 12921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، فِيمَا اسْتَطَعْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن لأجل عتاب مولى بني هرمز
حدیث نمبر: 12922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ ، كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَخَرَجَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَاسْتَقْبَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَهُمْ ، فَاسْتَبْرَأَ الْفَزَعَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ ، مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ ، فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، فَقَالَ : " لَمْ تُرَاعُوا " وَقَالَ لِلْفَرَسِ : " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا " أَوْ " إِنَّهُ لَبَحْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بےزین گھوڑے پر سوار ہیں، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
حدیث نمبر: 12923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ أَبِي عِصَامٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا ، وَيَقُولُ : " هُوَ أَهْنَأُ ، وَأَمْرَأُ ، وَأَبْرَأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیادہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2028
حدیث نمبر: 12924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ أَنَسًا كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی تین سانس لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5231، م: 2028، وأنظر: 12133
حدیث نمبر: 12925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ ، فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نبيُّ الله ، َقَالَ : " فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ جب یمن سے واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اس نیت سے احرام باندھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی نیت کی ہو، میرا بھی وہی احرام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو حلال ہوچکا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1558، م: 1250
حدیث نمبر: 12928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ ، لَا يَقْطَعُهَا " قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وسلف الكلام على طريق أبى هريرة هذا عند الحديث: 12070
حدیث نمبر: 12929
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
علاء ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ ہی دیر بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا کہ عصر کی نماز اتنی جلدی ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 622
حدیث نمبر: 12930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بحوالہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6983، م: 2264، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 12931
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَهُ ، جَاءَهُ رَجُلٌ ، فقَالَ : ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ " ، قَالَ مَالِكٌ : وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن اخطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو، ام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
حدیث نمبر: 12933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ : نَفْسَهَا ، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے کر ان سے نکاح کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4201، م: 365
حدیث نمبر: 12934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1715، م: 690
حدیث نمبر: 12935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ ، لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ ، يَعْنِي قَوْلَهُ : " سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انحشہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6149، م: 2323
حدیث نمبر: 12936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ ، عن أبي قِلابةَ ، قَالَ : أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِيَّايَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ، ثَمَانِيَةً ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ ، فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ ، فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا " قَالُوا : بَلَى ، فَخَرَجُوا ، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَصَحُّوا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ ، وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا ، فَجِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ ، فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ ، ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6899، م: 1671
حدیث نمبر: 12937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الثُّومِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا ، فَلَا يَقْرَبَنَّ أَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ کسی نے لہسن کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا جو شخص اس درخت سے کچھ کھائے، وہ ہمارے قریب نہ آئے، یا ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 856، م: 562