حدیث نمبر: 12859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4621، م: 2359، وانظر: 11997
حدیث نمبر: 12860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَجِئْتُ وَهُوَ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا، جب میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکڑوں بیٹھ کر کھجوریں تناول فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2044
حدیث نمبر: 12861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَقَدْ جَعَلَهُ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَقَرْعٍ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَرْعَ مِنَ الصَّحْفَةِ ، قَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ يُعْجِبُنِي الْقَرْعُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إستاده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 12862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الْبَهِيمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5513 م: 1956
حدیث نمبر: 12863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا " ، قَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ : رَخَّصَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5839، م: 2076
حدیث نمبر: 12864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ الْمَعْنَى ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ كِتَابًا إِلَى الرُّومِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا لَمْ يُقْرَأْ كِتَابُكَ ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7162، م: 2092
حدیث نمبر: 12865
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ ، وَجَدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ ، وَحَدَّثَنَا بِبَعْضِهِ فِي مَكَانٍ آخَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ ، قَالَ : فَوَلَدَتْ لَهُ بُنَيًّا ، قَالَ : فَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا ، قَالَ : فَمَرِضَ الصَّبِيُّ مَرَضًا شَدِيدًا ، فَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ ، وَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ ، وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ ، فيَجِيءُ يَقِيلُ وَيَأْكُلُ ، فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ ، فَلَمْ يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ ، قَالَ : فَرَاحَ عَشِيَّةً ، وَمَاتَ الصَّبِيُّ ، قَالَ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ ، قَالَ فَسَجَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا وَتَرَكَتْهُ ، قَالَ فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، كَيْفَ بَاتَ بُنَيَّ اللَّيْلَةَ ؟ قَالَتْ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، مَا كَانَ ابْنُكَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَتْهُ بِالطَّعَامِ ، فَأَكَلَ وَطَابَتْ نَفْسُهُ ، قَالَ : فَقَامَ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ ، قَالَتْ : وَقُمْتُ أَنَا فَمَسِسْتُ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَعَهُ الْفِرَاشَ ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ رِيحَ الطِّيبِ ، كَانَ مِنْهُ مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَهَيَّأُ كَمَا كَانَ يَتَهَيَّأُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : فَقَالَتْ لَهُ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اسْتَوْدَعَكَ وَدِيعَةً فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا ، ثُمَّ طَلَبَهَا فَأَخَذَهَا مِنْكَ ، تَجْزَعُ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَتْ : فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ أَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَيْهِ جَزَعًا شَدِيدًا ، وَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا فِي الطَّعَامِ وَالطِّيبِ ، وَمَا كَانَ مِنْهُ إِلَيْهَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيهِ ، فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا ! " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا " ، قَالَ : فَحَمَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَتَلِدُ غُلَامًا ، قَالَ : فَحِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : احْمِلْهُ فِي خِرْقَةٍ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاحْمِلْ مَعَكَ تَمْرَ عَجْوَةٍ ، قَالَ : فَحَمَلْتُهُ فِي خِرْقَةٍ ، قَالَ : وَلَمْ يُحَنَّكْ ، وَلَمْ يَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَيْئًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، مَا وَلَدَتْ ؟ " قُلْتُ غُلَامًا ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ " فَقَالَ : " هَاتِهِ إِلَيَّ " فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ ، فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ " مَعَكَ تَمْرُ عَجْوَةٍ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً ، وَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ ، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُهَا حَتَّى اخْتَلَطَتْ بِرِيقِهِ ، ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِيَّ ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ الصَّبِيُّ حَلَاوَةَ التَّمْرِ ، جَعَلَ يَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَةِ التَّمْرِ وَرِيقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ فَتَحَ أَمْعَاءَ ذَلِكَ الصَّبِيِّ عَلَى رِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ " ، فَسُمِّيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : فَخَرَجَ مِنْهُ رَجُلٌ كَثِيرٌ ، قَالَ : وَاسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بِفَارِسَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہ سے " جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں " شادی کرلی، ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس سے بڑی محبت تھی، ایک دن وہ بچہ انتہائی شدید بیمار ہوگیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو وضو کر کے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کرتے، نصف النہار کے قریب تک وہیں رہتے، پھر گھر آکر قیلولہ کرتے، کھانا کھاتے اور ظہر کی نماز کے بعد تیار ہو کر چلے جاتے، پھر عشاء کے وقت ہی واپس آتے، ایک دن وہ دوپہر کو گئے، تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوڑھا دیا، جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا، انہوں نے کھانا کھایا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے بستر پر سر رکھ کر لیٹ گئے، وہ کہتی ہیں کہ میں کھڑی ہوگئی اور خوشبو لگا کر آئی اور ان کے ساتھ بستر پر لیٹ گئی، جب انہیں خوشبو کی مہک پہنچی تو انہیں وہی خواہش پید اہوئی جو ہر مرد کو اپنی بیوی سے ہوتی ہے، صبح ہوئی تو وہ حسب معمول تیاری کرنے لگے، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ ! اگر کوئی آدمی آپ کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائے آپ اس سے فائدہ اٹھائیں پھر وہ آپ سے اس کا مطالبہ کرے اور وہ چیز آپ سے لے لے تو کیا اس پر آپ جزع فزع کریں گے، انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا پھر آپ کا بیٹا فوت ہوگیا ہے، اس پر وہ سخت ناراض ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانے کا، خوشبو لگانے کا اور خلوت کا سارا واقعہ بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ بچہ تمہارے پہلو میں پڑا رہا اور تم دونوں نے ایک دوسرے سے خلوت کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا ہی ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہاری رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اسی رات امید سے ہوگئیں اور ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، صبح ہوئی تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ اور اپنے ساتھ کچھ عمدہ کھجوریں بھی لے جانا، انہوں نے خود اسے گھٹی دی اور نہ ہی کچھ چکھایا، میں نے اسے اٹھا کر ایک کپڑے میں لپیٹا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لڑکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہہ کر فرمایا اسے میرے پاس لاؤ، میں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گھٹی دینے کے لئے پوچھا کہ تمہارے پاس عجوہ کھجوریں ہیں ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! اور کجھوریں نکال لیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں رکھی اور اسے چباتے رہے، جب وہ لعاب دہن میں مل گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اس سے گھٹی دی، اسے کھجور کا مزہ آنے لگا اور چوسنے لگا، گویا اس کی انتڑیوں میں سب سے پہلی جو چیز گئی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو کجھور سے بڑی محبت ہے، پھر اس کا نام عبداللہ بن ابی طلحہ رکھا، اس کی نسل خوب چلی اور وہ ایران میں شہید ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، أَوْ مَهْرَهَا " ، قَالَ يَحْيَى : أَوْ أَصْدَقَهَا عِتْقَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5169، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها
حدیث نمبر: 12867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ وَقَالَ يَحْيَى : مَرَّةً مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعاء میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے موقع پر کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ بلند فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1031، م: 896، وقال النووي فى شرح مسلم: ويتأول حديث أنس على أنه لم يرفع الرفع البليغ بحيث يرى بياض إبطيه إلا في الاستسقاء ۔۔۔ وانظر فتح الباري: 143/11، 142
حدیث نمبر: 12868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " أَسْلِمْ " قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي كَارِهًا ، قَالَ : " وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے اسلام قبول کرنے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پسند نہ بھی ہوتب بھی اسلام قبول کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12869
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ ، وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ أَنْ يَأْخُذَ فِيهِمْ ، فَأَتَى آتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ؟ فَمَا قَالُوا حَتَّى نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ ، فقالوا : يا أنس ، أكفئ ما بقي في إنائك ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا عَادُوا فِيهَا ، وَمَا هِيَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ ، وَهِيَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ عنہ، ابی کعب رضی اللہ عنہ عنہ، سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور دیگر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کو حرمت خمر کا حکم نازل ہونے سے پہلے پلایا کرتا تھا اور اتنی پلاتا تھا کہ اس کا اثر ان پر نظر آتا تھا، ایک دن ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی، انہوں نے یہ سن کر یہ نہیں کہا کہ ٹھہرو، پہلے تحقیق کرتے ہیں، بلکہ کہنے لگے انس ! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو ، بخدا ! اس کے بعد وہ کبھی اس کے قریب نہیں گئے اور وہ بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5582، م: 1980
حدیث نمبر: 12870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حج ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 12871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ، قُلْتُ : فَالْأَكْلُ ؟ قَالَ : ذَاكَ أَشَدُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 12872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ أَفْئِدَةً " ، فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى ، فَجَعَلُوا لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِبَدْرٍ وَهُوَ يُنَادِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " قَالُوا : كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا ؟ ! قَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یہ آواز لگاتے ہوئے سنا اے ابوجہل بن ہشام ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے سچا پایا ؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ النبي صلى الله عليه وسلم : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا ، وَلَا سِرْتُمْ مَسِيرًا ، إِلَّا شَرَكُوكُمْ فِيهِ " ، قَالُوا : وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ؟ ! قَالَ : " حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے ؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2839 ، 2838، م: 4423
حدیث نمبر: 12875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ بَعْدَ مَا أَسْفَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْ دِيَارِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرَى الْمَسْجِدُ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ؟ " فَأَقَامُوا ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : أَخْطَأَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِنَّمَا هُوَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ يَحْيَى الْمَسْجِدَ ، وَضَرَبَ عَلَيْهِ أَبِي هَاهُنَا ، وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ فِي كِتَابِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بنو سلمہ نے ایک مرتبہ یہ ارادہ کیا کہ اپنی پرانی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر مسجد کے قریب آکر سکونت پذیر ہوجائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کا خالی ہونا اچھا نہ لگا، اس لئے فرمایا اے بنو سلمہ ! کیا تم مسجد کے طرف اٹھنے والے قدموں کا ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 655، وأما رواية: أن يعری المسجد فهي خلاف الرواية المشهورة، مع عدم ظهور معناها ، ولكن إن صحت تحمل على: أن المراد مسجدهم، لا مسجد النبى صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر: 12877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ بُكَاءَ صَبِيٍّ فِي الصَّلَاةِ ، فَخَفَّفَ ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ خَفَّفَ مِنْ أَجْلِ أُمِّهِ الصلاة رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کردیا ہے، یہ اس بچے پر شفقت کا اظہار تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر 12067
حدیث نمبر: 12878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَوْجَزَ " ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، نَحْوَهُ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو نماز مکمل اور مختصر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 706، م:469
حدیث نمبر: 12879
حَدَّثَنَا يَحْيَى : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ مِثْلَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَخَّرَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا ، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک موخر کردیا اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 572، م: 640
حدیث نمبر: 12881
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نجي لرجل حتى نعس أو كاد ينعس بعض القوم " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سوچکے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 643، م: 376
حدیث نمبر: 12882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَ : " مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1141
حدیث نمبر: 12883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، قَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ ، وَقَالَ : " أَمْثَلُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے سینگی لگوانے کی اجرت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع جَو دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔ اور فرمایا بہترین علاج سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5696 م: 1577
حدیث نمبر: 12884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 12885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ كتابًا لِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : لَا إِلَّا أَنْ تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا ، فَدَعَاهُمْ ، فَأَبَوْا ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کردیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاآنکہ مجھ سے آملو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3794
حدیث نمبر: 12886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ : " إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ ، حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمْ النَّاسُ ، وَتُعْجِبَهُمْ نُفُوسُهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ، كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12888
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخِ تَمْرٍ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالُوا : أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ ، فَأَكْفَأْتُهَا ، قُلْتُ : مَا كَانَ شَرَابُهُمْ ؟ قَالَ : الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ وقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ ، وَأَنَسٌ يَسْمَعُ ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ ، وقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَنَا : قَالَ أَنَسٌ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس ! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو ، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5583، م: 1980
حدیث نمبر: 12889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1865، م: 1642
حدیث نمبر: 12890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ ، وَكَفَّارَتُهُ هُوَ أَنْ يُوَارِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 415، م: 552
حدیث نمبر: 12891
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " كَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ أَوْ بَدَنَةٍ فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا هَدِيَّةٌ أَوْ بَدَنَةٌ ! قَالَ : " وَإِنْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1323
حدیث نمبر: 12893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَبَحَ ، فَسَمَّى وَكَبَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کرتے ہوئے اللہ کا نام لے کر تکبیر کہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 12894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ " ، قَالَ : وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ ، قَالَ : وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ، قَالَ : وَسَمَّى وَكَبَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقَتَلَهَا ، فَرَضَخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاصاً اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2413، م: 1672
حدیث نمبر: 12896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَبِيبٍ القَيْسي ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَلْعَبُ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا صِبْيَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
یسار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنائی رحمہ اللہ کے ساتھ جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے انہیں سلام کیا اور فرمایا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، جو کھیل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12337
حدیث نمبر: 12897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، وَكَانَ دَبَّاغًا ، وَكَانَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ ، عِنْدَهُ أَرْبَعَةُ أَحَادِيثَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ نَاسٌ الْجَحِيمَ حَتَّى إِذَا كَانُوا حُمَمًا أُخْرِجُوا ، فَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7450
حدیث نمبر: 12898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے یوں فرمایا " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1251، وهذا إسناد ضعيف، أبن أبى ليلى- وهو محمد بن عبدالرحمن - سيئ الحفظ، لكنه قد توبع فيما سيأتي برقم: 13349