حدیث نمبر: 12819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ سَنْبَرٌ الْجَحْدَرِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَاسًا أَتَوْا الْمَدِينَةَ ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبِلٍ وَرَاعِيهَا ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، قَالَ : فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ ، وَأَطْرَدُوا الْإِبِلَ ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، وَطَرَحَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1501، م: 1671
حدیث نمبر: 12820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَأَلَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ " قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ لَافٍ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، قَالَ : وَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ " قَالَ أَبُو عَامِرٍ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي الْجَنَّةِ أنا أَوْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " ، قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ الْحَائِطِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا : نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا ! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی "" جب تک میں یہاں کھڑا ہوں "" سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6362، 7089، م: 2359
حدیث نمبر: 12821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 742، م: 425
حدیث نمبر: 12822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ " قَالَ : قِيلَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ " ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَوْ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا لگتا ہے، کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! فال سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5756، م: 2224
حدیث نمبر: 12823
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ أَوْ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مَا فَرِحُوا يَوْمَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد میں نے لوگوں کا اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا اس دن دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12824
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْخَطَّابِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ عَلَى الصِّرَاطِ ، إِذْ جَاءَنِي عِيسَى ، فَقَالَ : هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ قَدْ جَاءَتْكَ يَا مُحَمَّدُ يَسْأَلُونَ أَوْ قَالَ : يَجْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ، وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُفَرِّقَ جَمْعَ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ اللَّهُ لِغَمِّ مَا هُمْ فِيهِ ، فالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ ، فأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزَّكْمَةِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ " قَالَ : قَالَ عِيسَى ، انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ " قَالَ : " فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى ، وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ : اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ ، فَقُلْ لَهُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ " قَالَ : " فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أُخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا ، وَاحِدًا " قَالَ : " فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي ، فَلَا أَقُومُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ ، حَتَّى أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا ، وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمایا کہ قیامت کے دن میں کھڑا اپنی امت کا انتظار کر رہا ہوں گا تاکہ وہ پل صراط کو عبور کرلے، کہ اسی اثناء میں میرے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سارے انبیاء (علیہم السلام) اکٹھے ہو کر آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ اللہ سے دعاء کردیں کہ امتوں کی اس بھیڑ کو جہاں چاہے متفرق کر کے ان کے ٹھکانوں میں پہنچا دے کیونکہ لوگ بہت پریشان ہو رہے ہیں، اس وقت سب لوگ پیسنے کی لگام منہ میں ڈالے ہوں گے۔ مسلمان پر تو وہ زکام کی طرح ہوگا اور کافر پر موت جیسی کیفیت طاری ہوجائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمائیں گے کہ آپ یہاں میرا انتظار کیجئے، میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جا کر عرش کے نیچے کھڑے ہوجائیں گے اور وہ رتبہ آپ کو ملے گا جو کسی منتخب فرشتے اور نبی مرسل کو عطاء نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو یہ پیغام دیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ سر اٹھائیے، سوال تو کیجئے، عطاء ہوگا اور سفارش کیجئے قبول ہوگی، چنانچہ میری امت کے متعلق یہ سفارش قبول ہوگی کہ ہر ننانوے میں سے ایک آدمی جہنم سے نکال لوں، لیکن میں اپنے رب سے مسلسل اصرار کرتا رہوں گا اور اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹوں گا جب تک میری سفارش قبول نہ ہوجائے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سفارش کی قبولیت عطاء فرماتے ہوئے کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کی امت میں جتنے لوگ پیدا کئے ہیں ان میں سے ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیجئے جس نے ایک دن بھی اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دی اور اسی پر فوت ہوگیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وفي متن هذا الحديث غرابة، وقوله: قال: « عيسى انتظر حتى أرجع إليك » الأقرب أن هذا من كلام النبى صلی اللہ علیہ وسلم ، فعيسي منادي بحذف حرف النداء، وصيغة « انتظر » للأمر
حدیث نمبر: 12825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : قَالَ : " أَنَا فَاعِلٌ " , قَالَ : فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ " قَالَ : قُلْتُ : فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ ؟ قَالَ : " فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ ؟ قَالَ : " فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ ، لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ قیامت کے دن میری سفارش فرمائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کر دوں گا، میں نے پوچھا کہ میں قیامت کے دن آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے تو مجھے پل صراط پر تلاش کرنا، میں نے عرض کیا اگر میں آپ کو وہاں نہ پاؤں تو ؟ فرمایا پھر میں میزان عمل کے پاس موجود ہوں گا، میں نے عرض کیا اگر آپ وہاں بھی نہ ملیں تو ؟ فرمایا پھر میں حوض کوثر پر ہوں گا اور قیامت کے دن ان تینوں جگہوں سے آگے پیچھے نہ جاؤں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، ومتنه غريب
حدیث نمبر: 12826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ، قَالَ : " ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2369، قال النووي: قال العلماء: إنما قال صلی اللہ علیہ وسلم هذا تواضعا واحتراما لإبراهيم علیہ السلام ، لخلته وأبوته ، وإلا فنبينا صلی اللہ علیہ وسلم أفضل كما قال صلی اللہ علیہ وسلم : أنا سيد ولد آدم وانظر: 2546
حدیث نمبر: 12827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْمِسْمَعِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا ، فَقَالَ : " قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ يَوْمَيْنِ خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا ، " لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ " ، قَالَ : فَقِيلَ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، وَشَيْنٌ هُوَ ؟ قَالَ : يُقَالُ : كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ ، وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ، وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے ؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2341
حدیث نمبر: 12829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلَلٍ ، " فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ ، فَأَخْرَجَ الرَّجُلُ رَأْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی سیدھی کی تو اس نے اپنا سر نکال دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6889، م: 2157
حدیث نمبر: 12830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ " ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، أَسْنَدَاهُ جَمِيعًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 12831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَّبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ " ، فَأُنْزِلَتْ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، علقه البخاري بإثر الحديث رقم: 4068، م: 1791
حدیث نمبر: 12832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا ، قَالَ : " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
حدیث نمبر: 12833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706
حدیث نمبر: 12834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ ، قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ ، قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے ؟ فرمایا اب قسم کھالیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا ، قَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ " فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ ، فَقَالَ : حَلَفْتَ لَا تَحْمِلُنَا ، قَالَ : " وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكُمْ " فَحَمَلَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرمادیا کہ بخدا ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرمادی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے ؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عفان ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ : اسْتَحْمَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَلَفَ لَا يَحْمِلُنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ حَلَفْتَ لَا تَحْمِلُنَا ؟ قَالَ : " وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرمادیا کہ بخدا ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرمادی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے ؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا خَيْرًا ، وَتَتَابَعَتْ الْأَلْسُنُ لَهَا بِالْخَيْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ثُمَّ مَرَّتْ جَنَازَةٌ أُخْرَى فَقَالُوا لَهَا شَرًّا ، وَتَتَابَعَتْ الْأَلْسُنُ لَهَا بِالشَّرِّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1367، م: 949
حدیث نمبر: 12838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ نَشْكُو إِلَيْهِ الْحَجَّاجَ ، فَقَالَ : " لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ أَوْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ " ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
زبیر بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7068
حدیث نمبر: 12839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ ابْنِ جَبْر بْنِ عَتِيكٍِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُجْزِئُ فِي الْوُضُوءِ رَطْلَانِ مِنْ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کے لئے دو رطل پانی ہی کافی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 12840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ السَّبُعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
حدیث نمبر: 12841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو کیونکہ صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 12843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَكُونُ رَطْلَيْنِ ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن سے وضو فرما لیتے تھے جس میں دو رطل پانی ہوتا اور ایک صاع پانی سے غسل فرما لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
حدیث نمبر: 12844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى حَصِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري، وانظر: 12340
حدیث نمبر: 12845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ، وَكَانُوا لَا يَجْهَرُونَ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات بلند آواز سے " بسم اللہ " نہیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 708
حدیث نمبر: 12847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : " خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سلمة بن وردان
حدیث نمبر: 12848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن الْأَصَمّ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ لَا يَنْقُصُونَ التَّكْبِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4089، م: 677
حدیث نمبر: 12850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، وَهُوَ يُنَاوِلُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ : " أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اینٹیں پکڑاتے جا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 524، وانظر: 12178
حدیث نمبر: 12851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ ، فَرَكِبَهُ ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : " مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَا لَبَحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2857، م: 2307
حدیث نمبر: 12852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ مِغْفَرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
حدیث نمبر: 12853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الْمَخِيسِ الْيَشْكُرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ ، قَالَ : " كَلَّا ، إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے تو اس پر ایک عباء دیکھی تھی جو اس نے فلاں دن مال غنیمت میں سے خیانت کر کے حاصل کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى المخيس، وضعف الحكم بن عطية
حدیث نمبر: 12854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ فِي حِجْرِهِ وَرِثُوا خَمْرًا ، أَنْ يَجْعَلَهَا خَلًّا ؟ فَكَرِهَ ذَلِكَ " ، وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : أَفَلَا يَجْعَلُهَا ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کو وراثت میں شراب ملے تو کیا اس کا سرکہ بنا سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 1983
حدیث نمبر: 12855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّرُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ ، قَالَ : ثُمَّ ضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ ، وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى ، اسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ النَّاسَ ، وَفَشَا ذَلِكَ فِي النَّاسِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ، فَضَرَبَ عُمَرُ ثَمَانِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی سزا میں ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (چالیس کوڑے) مارے ہیں، لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں لوگ مختلف شہروں اور بستیوں کے قریب ہوئے (اور ان میں وہاں کے اثرات آنے لگے) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد کے برابر اس کی سزا مقرر کر دیجئے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 9773، م: 1706
حدیث نمبر: 12856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ ، قُلْتُ : مَا هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ، كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6762، م: 1059
حدیث نمبر: 12858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وابنُ جَعْفَرُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1495، م: 1047