حدیث نمبر: 12779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ، لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2 ، قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَنِيئًا مَرِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا لَنَا ؟ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ سورة الفتح آية 5 ، قَالَ شُعْبَةُ : كَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي قَصَصِهِ عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ ، إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ، لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2 ، ثُمَّ يَقُولُ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَنِيئًا لَكَ . . . هَذَا الْحَدِيثُ : قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ كُلُّهُ عَنْ أَنَسٍ ، فَأَتَيْتُ الْكُوفَةَ ، فَحَدَّثْتُ عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَلَقِيتُ قَتَادَةَ بِوَاسِطٍ ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ أَوَّلُهُ عَنْ أَنَسٍ ، وَآخِرُهُ عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُمْ بِالْكُوفَةِ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " مسلمانوں نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: لھذا الحدیث إسنادان: الأول: قتادۃ عن عکرمۃ مرسلاً، والإسناد الثانی: قتادۃ عن أنس، و إسناده صحيح، خ: 4172، م: 1786
حدیث نمبر: 12780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، إِنْ كَانَتْ الْوَلِيدَةُ مِنْ وَلَائِدِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَجِيءُ ، فَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک عام باندی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا کرتی تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وقد صح الحديث بغير هذا اللفظ برقم: 11941
حدیث نمبر: 12781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، أَوْ قَالَ : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245 ، جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بْنُ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَائِطِي الَّذِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، وَلَوْ اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ قَرَابَتِكَ " أَوْ قَالَ : " فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو اور یہ آیت کہ " کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے " تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ پر ہے، وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں اور بخدا ! اگر یہ ممکن ہوتا کہ میں اسے مخفی رکھوں تو کبھی اس کا پتہ نہ لگنے دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4555 ، م: 998
حدیث نمبر: 12782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ الْحَبَطِيَّ أَبَا هِشَامٍ ، قَالَ : أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ حَدَّثَنِي ، قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ ، وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا ، فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ " قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا لِلصَّحِيحِ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ ، فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ ؟ قَالَ : " تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
مروان بن ابی داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابوحمزہ ! جگہ دور کی ہے لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کی عیادت کو آیا کریں، اس پر انہوں نے اپنا سر اٹھا کر کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ رحمت الہٰیہ کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو اس تندرست کا آدمی کا حکم ہے جو مریض کی عیادت کرتا ہے، مریض کا کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة هارون بن أبي داود الحبطي
حدیث نمبر: 12783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يَكْرَهَ الْعَبْدُ أَنْ يَرْجِعَ عَنِ الْإِسْلَامِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ، وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدُ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 16، م: 43
حدیث نمبر: 12784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ ، فَانْطَلَقَتْ بِي أُمّي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا ابْنِي اسْتَخْدِمْهُ ، فَخَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ وَأَتَانِي ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ أَوْ قَالَ مَعَ الصِّبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، ثمَّ دَعَانِي ، فَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ : " لَا تُخْبِرْ أَحَدًا " ، فاحْتَبَسْتُ عَلَى أُمِّي ، فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، قَالَتْ : وَمَا هِيَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُ قَالَ : " لَا تُخْبِرَنَّ بِهَا أَحَدًا " قَالَتْ : أَيْ بُنَيَّ ، فَاكْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میری عمر نو سال تھی، ام سلیم رضی اللہ عنہ مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے آپ اسے اپنی خدمت کے لئے قبول فرمالیجئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نو سال تک کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا، نہ ہی یہ فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا جب میں واپس آگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کسی کو نہ بتانا، ادھر مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہوگئی چنانچہ جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا ؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کو بتانے سے منع کیا ہے، انہوں نے کہا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2482، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل- وهو ابن إسماعيل - سيئ الحفظ، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَيْبَةَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ ، فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5696، م: 1577، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل
حدیث نمبر: 12786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " سَلُونِي " فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ " لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ يَا بُنَيَّ لَقَدْ قُمْتَ بِأُمِّكَ مَقَامًا عَظِيمًا ، قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أُبَرِّئَ صَدْرِي مِمَّا كَانَ يُقَالُ ، وَقَدْ كَانَ يُقَالُ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے معلق تم مجھ سے سوال کرسکتے ہو، ایک آدمی نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا ؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہت تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12044
حدیث نمبر: 12787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ ، فَكَانَ إِذَا جِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا قَرْعٌ ، جُعِلَتْ الْقَرْعُ مِمَّا يَلِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، جب بھی کدو کا سالن آتا تو میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2041، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12728
حدیث نمبر: 12788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا ، فَجَاءَه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ وَإِنَّهُ يُعَرِّضُونَ بِالنِّفَاقِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِهَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنا لوں، چنانچہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اس پر حرام کردی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12384
حدیث نمبر: 12789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ وَفْدًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا ، فَقَالُوا : ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا ، فَقَالَ : " أَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ " فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، فَقَالَ : " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَهَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی کو بھیج دیں جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ اس امت کے امین کو بھیجوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2419، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع
حدیث نمبر: 12790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ ، فَقَالَ : أَيْ قَوْمِي ، أَسْلِمُوا ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ ، أَوْ قَالَ : الْفَقْرَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو ! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2312، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع
حدیث نمبر: 12791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَحَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ حَسَنٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ أَصْوَاتَ قَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ ، فَحَاصَتْ الْبَغْلَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہو رہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَضَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ ، وَيُنَاوِلُهُ نَعْلَيْهِ ، فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَا فُلَانُ ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ ، فَسَكَتَ أَبُوهُ ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ الْغُلَامُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ بِي مِنَ النَّارِ " ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بن زيد ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھتا تھا اور جوتے پکڑاتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، وہ خاموش رہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دوبارہ دہرائی اور اس نے دوبارہ اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1356 ، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع
حدیث نمبر: 12793
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (۱) : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ، مِثْلَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1356، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ إِلَى مَنَازِلِهِمْ يَتَوَضَّئُونَ ، وَبَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ ، فَأُتِيَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَوَضَعَ أَصَابِعَ يَدِهِ الْيُمْنَى فِي الْمِخْضَبِ ، فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ ، وَيَقُولُ : " تَوَضَّئُوا ، حَيَّ عَلَى الْوُضُوءِ " حَتَّى تَوَضَّئُوا جَمِيعًا ، وَبَقِيَ فِيهِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا اور وہ ستر اسی کے درمیان تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ ، فَقَالَ لِي : " أَمَعَكَ تَمْرٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ ، فَلَاكَهُنَّ فِي حَنَكِهِ فَفَغَر الصَّبِيُّ فَاهُ ، فَأَوْجَرَهُ الصبيَّ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبَتْ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ " وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کا بیٹا عبداللہ پیدا ہوا تو میں اس بچے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھجور ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2144
حدیث نمبر: 12796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا ، رَقَّتْ قُلُوبُنَا ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ ، عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ ، وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا ، لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں، آپ ہم سے احادیث بیان فرماتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور جب ہم آپ کی مجلس سے نکل جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیشہ تمہاری یہ کیفیت رہنے لگے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ " يَعْنِي الْأَنْصَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں اور بچے ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے تین مرتبہ فرمایا اللہ کی قسم ! تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3785، م: 2508
حدیث نمبر: 12798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ قَالَ : فسَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ ، فَقِيلَ : هُمَا رَجُلَانِ عَطَسَا ، فَشَمَّتَّ أَوْ قَالَ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ ! فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ " قَالَ سُلَيْمَانُ : أُرَاهُ نَحْوًا مِنْ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو اس کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو کیوں نہ دیا ؟ فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا اور دوسرے نے نہیں کہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6221، م: 2991
حدیث نمبر: 12799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأَتى عليهنَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ ، فَقَالَ لَهُ : " يَا أَنْجَشَةُ ، رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجثہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
حدیث نمبر: 12800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، حدثنا به هَكَذَا مَرَّتَيْنِ ، وحدَّثَنا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 108، م: في المقدمة: 2
حدیث نمبر: 12801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " وَلَمْ يَشُكَّ حَجَّاجٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
حدیث نمبر: 12802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ مُسِنِّهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لئے تم انصار کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3801، م: 2510
حدیث نمبر: 12803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : فَلا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَوْ كَانَ يَقُولُهُ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ ، لَتَمَنَّى أَوْ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآں کی آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر لزاما: 12228
حدیث نمبر: 12804
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ، فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ, فَذَكَرَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حدثني شعبةُ ، قال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ ، قَالَ : وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ دو ٹہنیوں سے مارا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق مشورہ کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد اسی کوڑے ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6773، م: 1706
حدیث نمبر: 12806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَتَبْقَى النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ " ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يَذْهَبُ الرِّجَالُ ، وَتَبْقَى النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 81، م: 2671
حدیث نمبر: 12807
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «يَذْهَبُ الرِّجَالُ وَتَبْقَى النِّسَاءُ». [انظر : ١٣٩٤٦]
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2868
حدیث نمبر: 12809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ ، فَلَا يَبْزُقَنَّ قَالَ حَجَّاجٌ يَبْصُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ وَتَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اس لئے اس حالت میں تم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں جانب نہ تھوکا کرے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1214، م: 551
حدیث نمبر: 12810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ ، سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ ؟ فَقَالَ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز سے "" بسم اللہ "" پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے قرأت کا آغاز فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسی چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے ایسا سوال نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ الدُّبَّاءَ قَالَ حَجَّاجٌ : الْقَرْعَ قَالَ : فَأُتِيَ بِطَعَامٍ أَوْ دُعِيَ لَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا یا کسی نے دعوت کی تو چونکہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب ہے لہٰذا میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرتا رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2041
حدیث نمبر: 12812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال پیدا برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493
حدیث نمبر: 12813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو، صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 723، م: 433
حدیث نمبر: 12814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کی نگاہوں میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 15، م: 44
حدیث نمبر: 12815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ إِذَا أَكَلَ ، وَقَالَ : " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمْ الصَّحْفَةَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ الْبَرَكَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھا کر اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو وہ اس پر لگنے والی چیز کو ہٹا دے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور پیالہ اچھی طرح صاف کرلیا کرو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2034
حدیث نمبر: 12816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2280، م: 1577
حدیث نمبر: 12817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ ، قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ " اصْبِرُوا ، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ " سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
زبیر بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حجاج بن یوسف کے مظالم کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا صبر کرو، کیونکہ ہر سال یا دن کے بعد آنے والا سال اور دن اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7068
حدیث نمبر: 12818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1089، م: 690