حدیث نمبر: 12739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُورِهِمَا ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ : كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا وَسُحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : كَانَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ رَجُلٌ خَمْسِينَ آيَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اکٹھے سحری کی، سحری سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ سحری سے فراغت اور نماز کھڑی ہونے کے درمیان کتنا وقفہ تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ سکے۔
حدیث نمبر: 12740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا " فَقِيلَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ، إِنَّ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 12741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاصاً اسے بھی قتل کروا دیا۔
حدیث نمبر: 12742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ ، حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ ؟ قَالَ : كُنَّا ثَلَاثَ مِائَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکالا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔
حدیث نمبر: 12743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 12744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا ، يُقَالُ لَهُ : مَنْدُوبٌ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " ، قَالَ حَجَّاجٌ : يَعْنِي الْفَرَسَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حدیث نمبر: 12745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : وَكَانَتْ رُكْبَةُ أَبِي طَلْحَةَ تَكَادُ أَنْ تُصِيبَ رُكْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ بِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، قریب تھا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے مل جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے ہوئے جا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 12746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا ، فَقَالَ أَنَسٌ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے دادا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دار حکم بن ایوب میں داخل ہوا، وہاں کچھ لوگ ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، یہ دیکھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 12747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَرَرْنَا فَأَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، فَسَعَوْا عَلَيْهَا ، فَلَغَبُوا ، فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا ، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ ، فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا ، أَوْ فَخِذِهَا ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبِلَهُ ، قَالَ حَجَّاجٌ : قُلْتُ لِشُعْبَةَ : فَقُلْتُ : أَكَلَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ أَكَلَهُ ، قَالَ لِي بَعْدُ : قَبِلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرالظہران نامی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آیا، بچے اس کی طرف دوڑے لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔
حدیث نمبر: 12748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، قَالَ : فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ لَهَا : " قَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ " فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، أَيْ : لَا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، أَيْ لَا ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے ؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں ! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔
حدیث نمبر: 12749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِلْأَنْصَارِ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ، فَمَوْعِدُكُمْ الْحَوْضُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا۔
حدیث نمبر: 12750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتْ ، انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ ، قَالَ : فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک بچے کو لے کر " جو میری والدہ کے یہاں ہوا تھا " نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں بکری کے کان داغ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 12751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 12752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ : " اسْمَعْ وَأَطِعْ ، وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا بات سنتے اور مانتے رہو، خواہ تم پر ایک حبشی " جس کا سر کشمش کی طرح ہو " گورنر بنادیا جائے۔
حدیث نمبر: 12753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قال : سمعتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لِأَخٍ لِي : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " قَالَ : وَكَانَ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، نَضَحْنَا لَهُ طَرَفَ بِسَاطٍ ، ثُمَّ أَمَّنَا وَصَفَّنَا خَلْفَهُ ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ إِنَّ أَبَا التَّيَّاحِ بَعْدَمَا كَبِرَ قَالَ : ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، وَلَمْ يَقُلْ : صَفَّنَا خَلْفَهُ ، وَلَا أَمَّنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ چڑیا، جو مرگئی تھی اور ہمارے لئے ایک چادر بچھائی گئی جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی۔
حدیث نمبر: 12754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً ، فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور نیزہ اٹھاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجاء فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 12755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّى الْمُؤْمِنُ أَوْ قَالَ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا ، فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ہی ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہو تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حدیث نمبر: 12756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 12757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ " قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔
حدیث نمبر: 12758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ أَوْ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تھے تو میری نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی پر پڑجاتی تھی۔
حدیث نمبر: 12759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ، أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ ، فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ فَمَا أَوْلَمَ ؟ قَالَ : أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے موقع پر جو ولیمہ فرمایا : اس سے زیادہ بہتر ولیمہ اپنی کسی اہلیہ سے شادی کے موقع پر نہیں فرمایا، ثابت بنانی رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ولیمہ فرمایا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روٹی گوشت کھلایا اور اتنا کھلایا کہ لوگوں نے خود ہی چھوڑا۔
حدیث نمبر: 12760
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ يَنْعَتُ لَنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قُلْنَا : قَدْ نَسِيَ مِنْ طُولِ مَا يَقُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔
حدیث نمبر: 12761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَحَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ تَنَحَّى بِهِنَّ ، قَالَ : فَقَالَ : " يَا أَنْجَشَةُ ، وَيْحَكَ ، ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حدیث نمبر: 12762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ ؟ ، فَقَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " فَقَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ ، وَلَا صَوْمٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ : " فأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَتَّابًا مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ يَعْنِي الْيُمْنَى عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔
حدیث نمبر: 12764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ ، وَقَالَ هَاشِمٌ مَوْلَى بَنِي هُرْمُزَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : لَوْلَا أَنْ أَخْشَى أَنْ أُخْطِئَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِأَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَكِنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ هَاشِمٌ : قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر مجھے غلطی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث بیان کرتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 12765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ ، وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ : مَنْ كَانَ يُحِبُّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَمَنْ كَانَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ کہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ : " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " قَالُوا : لَا ، إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، قَالَ حَجَّاجٌ : أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَقَالَ : " إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ ؟ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ وَأَجْبُرَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے، پھر فرمایا قریش کا زمانہ جاہلیت اور مصیبت قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا۔
حدیث نمبر: 12767
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ وَأَجْبُرَهُمْ»
حدیث نمبر: 12768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حدثنا أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ " قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معزز فرما۔
حدیث نمبر: 12769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ : حُبَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَ ف رَ " ، قَالَ حَجَّاجٌ : " كَافِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو ! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
حدیث نمبر: 12771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرَ الشَّهِيدِ ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حدیث نمبر: 12772
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً ، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جو لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا تھا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔
حدیث نمبر: 12773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا : أخبرنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 12774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَأَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً : " ارْكَبْهَا " قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا " قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " فِي الثَّالِثَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 12775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قُلْتُ لِقَتَادَةَ : أَسَمِعْتَ أَنَسًا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " الْبُصَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ " ؟ قَالَ : نَعَمْ " وَكَفَّارَتُهُ دَفْنُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کردینا ہے۔
حدیث نمبر: 12776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا " قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي ، إِنِّي أَظَلُّ أَوْ قَالَ : أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 12777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَخْبَرَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَمَعَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " قَالُوا : لَا ، إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " أَوْ قَالَ : " مِنَ الْقَوْمِ " قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم میں انصار کے علاوہ تو کوئی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 12778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ " قَالَ : " وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ " فَقُلْتُ : مَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا کلمہ اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے، میں نے پوچھا فال سے کیا مراد ہے ؟ تو فرمایا اچھا کلمہ۔
…