حدیث نمبر: 12699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو مسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !
حدیث نمبر: 12700
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ مُضَرَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 فَقَالَ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ ، أَوْ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے یا الحمدللہ سے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جس کے متعلق مجھے ابھی کچھ یاد نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف سے جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 12703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَحَذَّرَ النَّاسَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : اقْعُدْ ، فَإِنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَكْرَهُ ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى ، فَأَجْلَسْنَاهُ ، قَالَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَيْحَكَ ، وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " قَالَ الرجلُ : أَعْدَدْتُ لَهَا حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ ، فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو ڈرایا، اسی اثناء میں ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناگواری کے آثار نظر آئے تو ہم نے اس سے کہا کہ بیٹھ جاؤ، تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال پوچھا ہے جو انہیں اچھا نہیں لگا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اے بھئی ! تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ تیاری کی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 12704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ عَمَّةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ ، فَعَرَضُوا عَلَيْهِمْ الْأَرْشَ ، فَأَبَوْا ، وَطَلَبُوا الْعَفْوَ ، فَأَبَوْا ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ ابْنُ النَّضْرِ ، عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ ؟ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنَسُ ، كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ " قَالَ : فَعَفَا الْقَوْمُ ، قَالَ : وقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں کو تاوان کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا، پھر انہوں نے ان سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا، اسی اثناء میں ان کے بھائی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر آگئے اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس ! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، اسی اثناء میں وہ راضٰی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کردیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ ، أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ ؟ فَقَالَ : قَبْلَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ كَذَبُوا ، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم احول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا رکوع سے پہلے، میں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ غلط کہتے ہیں، وہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ماہ تک پڑھی تھی، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قراء صحابہ کو شہید کرنے والے لوگوں کے خلاف بددعاء فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 12706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكْتُبَ لَنَا بِالْبَحْرَيْنِ قَطِيعَةً ، قَالَ : فَقُلْنَا ، لَا ، إِلَّا أَنْ تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " قَالُوا : فَإِنَّا نَصْبِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ ہمیں تقسیم کردیں، لیکن ہم لوگ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کا ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑگا لیکن تم صبر کرنا تاآنکہ مجھ سے آملو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہم صبر کریں گے۔
حدیث نمبر: 12707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْكُوفَةِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ النَّبِيذِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمار بن عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کوفہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 12708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى وُجُوهِهِمْ ؟ قَالَ : " إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کو ان کے چہروں کے بل کیسے اٹھایا جائے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذات انہیں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
حدیث نمبر: 12709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَصَاحَ بَعْضُ النَّاسِ ، فَكَفَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔
حدیث نمبر: 12710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ ، غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ ، إِلَّا يَوَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ كَانَ أُوتِيَ فِي الدُّنْيَا قُوتًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار کی تمنا یہی ہوگی کہ اسے دنیا میں بقدر گذارہ دیا گیا ہوتا۔
حدیث نمبر: 12711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ لِصَاحِبِهَا : " ارْكَبْهَا " فَقَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ ! قَالَ " وَإِنْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہو۔
حدیث نمبر: 12712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ، وَكَفَانَا وَآوَانَا ، فَكَمْ مَنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَلَسْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ ، فَقُلْتُهُنَّ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چنانچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کا پہلے اٹھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حدثنا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقُرْآنَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ؟ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ " قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ ، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " قَالَ : فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مِمَّا فَرِحُوا بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 12716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : وَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوطِْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ ابْتَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا ، فَدَعَا الْقَوْمَ ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ، ثُمَّ خَرَجُوا ، وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ ، لِكَيْ يَخْرُجُوا ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَشَيْنَا مَعَهُ ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، وَظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ بِسِتْرٍ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے وقت ان کی عمر دس سال تھی، وہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، اس لئے پردہ کا حکم جب نازل ہوا اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت فرمائی تھی اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، دیکھا تو واقعی وہ لوگ جاچکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرما دی۔
حدیث نمبر: 12717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ ، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادٍ آخَرُ ، وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 12718
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ ، صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر: 12719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَعَقَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، قَالَ : فَقُلْنَا : هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَجَبْتُكَ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي يَا مُحَمَّدُ ، سَائِلُكَ ، فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ ، فَقَالَ : " سَلْ مَا بَدَا لَكَ " فَقَالَ الرَّجُلُ : نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " قَالَ : فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " قَالَ : فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " قَالَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتُقَسِّمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " قَالَ الرَّجُلُ : آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي ، قَالَ : وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، آکر مسجد میں اونٹ بٹھایا اور ( اتر کر) اونٹنی کو رسی سے باندھا، پھر پوچھنے لگا تم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے ہوئے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے جواب دیا کہ یہ گورے آدمی تکیہ لگائے ہوئے جو بیٹھے ہوئے ہیں یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا اے عبدالمطلب کے بیٹے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سن رہا ہوں (مدعا کہو) اس شخص نے کہا میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور پوچھنے میں ذرا سختی سے کام لوں گا، آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چاہتے ہو دریافت کرو، وہ بولا میں آپ کے اور گز شتہ لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سب لوگوں کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ! ( سب کے لئے اسی نے مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے) وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو شبانہ روز میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو ہر سال ماہ رمضان میں روزے رکھنے کا حکم دیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال داروں سے زکوٰۃ وصول کر کے غرباء میں تقسیم کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ! یہ سن کر وہ شخص بولا آپ جو کچھ ( اللہ کی طرف سے) لائے ہیں میں سب پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کا نمائندہ ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔
حدیث نمبر: 12720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ ، قَالُوا : إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا ، قَالَ : فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "
حدیث نمبر: 12721
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ ، وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔
حدیث نمبر: 12722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قال : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ " أَوْ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " قَالَ شُعْبَةُ : فَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ هَذَا فِي قَصَصِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔
حدیث نمبر: 12723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ شُعْبَةُ خَيْرًا ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ ، وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو صدقہ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے وقت پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں۔
حدیث نمبر: 12724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
یسار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنائی رحمہ اللہ کے ساتھ جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے انہیں سلام کیا اور فرمایا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، جو کھیل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔
حدیث نمبر: 12725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : شُعْبَةُ أَخبَرَنَاهُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ هِشَامٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ : فِي آذَانِهَا " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ بَعْدُ : فِي آذَانِهَا ، وَلَمْ يَشُكَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے کان پر داغ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 12726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 12727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قُلْتُ : حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ شَهِدْتَهُ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ ، لَا تُحَدِّثْنَا بِهِ عَنْ غَيْرِكَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، وَقَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ " مَنْ كَانَ لَهُ أَهْلٌ يُعِيذُ بِالْمَدِينَةِ ، لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، وَيُصِيبَ مِنَ الْوَضُوءِ " وَبَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهْلُونَ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ أَرْوَحَ ، فِي أَسْفَلِهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْقَدَحِ فَمَا وَسِعَتْ كَفَّهُ ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْنُوا فَتَوَضَئُوا " قَالَ : فَتَوَضَّئُوا ، حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا ؟ قَالَ : بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ .
مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔
حدیث نمبر: 12728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا۔
حدیث نمبر: 12729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے لوگ مؤذن ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَمَعَهُمْ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَقَالُوا : هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ ، فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جارہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ بات ٹھیک ہے اور انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، اگر سارے لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔
حدیث نمبر: 12731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا دَعَا رَجُلًا فِي السُّوقِ ، فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّمَا عَنَيْتُ رَجُلًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حدیث نمبر: 12732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا فَأَجَابَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کہا کرتے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! آخرت کی خیر ہی اصل خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔
حدیث نمبر: 12733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سعيد ، وَالْخُفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا ! تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حدیث نمبر: 12734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وأَسْبَاطٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 12735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أخبرنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا " قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 12736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، أقرَنَيْن ، يُذَكِّيهِمَا بِيَدِهِ ، وَيَطَأُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ، ويُسَمِّي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 12737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ ، فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ ، " فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، ففَعَلُوا ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حدیث نمبر: 12738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى نَاسٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِمِ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ ، قَالَ : فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، نَقْشُهُ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَصِيصِهِ أَوْ بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "
…