حدیث نمبر: 11980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ ، وَلَا يَقُل اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یقین اور پختگی کے ساتھ دعاء کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر آپ چاہیں تو مجھے یہ عطاء فرما دیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا : أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ أَكْثَرَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ، وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ ، دَعَا بِهَا ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ ، دَعَا بِهَا فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت کے ساتھ کون سی دعا مانگتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعاء مانگا کرتے تھے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطاء فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما، خود خضرت انس رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا مانگا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11982
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَقَالَ مَرَّةً : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ مُعَاذٌ يَؤُمُّ قَوْمَهُ ، فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ ، تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ ، وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ صَلَاتَهُ ، قِيلَ لَهُ إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے حضرت حرام رضی اللہ عنہ جو اپنے باغ کو پانی لگانے جارہے تھے "" نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے چلے گئے، ادھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں کسی نے بتایا کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تھے۔
حدیث نمبر: 11983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ ، قَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! میں خبیث جنات مردوں اور عورتوں سے آپ کی پناء میں آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 11984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ " ، قَالَ أَنَسٌ : وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے قربانی میں پیش کیا کرتے تھے اور میں بھی یہی کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 11985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے، وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔
حدیث نمبر: 11986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : لِزَيْنَبَ تُصَلِّي ، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ ، فَقَالَ : " حُلُّوهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ , فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔
حدیث نمبر: 11987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اٹھے تو لوگ سو چکے تھے۔
حدیث نمبر: 11988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ ، فَلْيَخْدُمْكَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ ، وَالْحَضَرِ ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا ؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پآس لے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ انس سمجھدار لڑکا ہے، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا، چنانچہ میں نے سفر وخضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا ؟ اور اگر کوئی کام نہیں کیا تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے کیوں نہیں کیا ؟۔
حدیث نمبر: 11989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ، فَقَالَ : " إِنَّا قَدْ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا ، فَلَا يَنْقُشُ أَحَدٌ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت (محمد رسول اللہ) نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔
حدیث نمبر: 11990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوجِزُ الصَّلَاةَ وَيُكْمِلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مکمل اور مختصر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہ نماز میں قراءت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " غَزَا خَيْبَرَ ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ " ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ , وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ ، وَإِنَّ رُكْبَتَيَّ لَتَمَسُّ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَيْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ , خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ ، فَقَالُوا : مُحَمَّدٌ ! ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا والْخَميسُ ، قَالَ : فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً , فَجُمِعَ السَّبْيُ , قَالَ : فَجَاءَ دِحْيَةُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " ، قَالَ : فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ ، وَالنَّضِيرِ ؟ ! وَاللَّهِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعُوهُ بِهَا " ، فَجَاءَ بِهَا ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا " ، ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا ، وَتَزَوَّجَهَا ، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، مَا أَصْدَقَهَا ؟ ، قَالَ : نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، وَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ ، فَلْيَجِئْ بِهِ " ، وَبَسَطَ نِطَعًا ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ ، قَالَ : فَحَاسُوا حَيْسًا ، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے، ہم نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی، نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی گلیوں میں چکر لگانے لگے، بعض اوقات میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے چھو جاتا تھا اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے ذرا سا تہبند کھسک جاتا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کی سفیدی نظر آجاتی۔ الغرض ! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، یہ جملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر ہم نے خیبر کو بزور شمشیر فتح کرلیا اور قیدی اکٹھے کئے جانے لگے، اسی اثناء میں حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی ! مجھے قیدیوں میں سے کوئی باندی عطاء فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر ایک باندی لے لو، چنانچہ انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ یہ دیکھ کر ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سردار صفیہ کو دحیہ کے حوالے کردیا، بخدا ! وہ تو صرف آپ کے ہی لائق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ، چنانچہ وہ انہیں لے کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پر ایک نظر ڈالی اور حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے کر ان سے نکاح کیا تھا، حتیٰ کہ راستے میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو دلہن بنا کر تیار کیا اور رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صبح دولہا ہونے کی حالت میں ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے اور ایک دستر خوان بچھا دیا، چنانچہ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور لایا اور کوئی گھی لایا، لوگوں نے اس کا حلوہ بنالیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
حدیث نمبر: 11993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَتْ دِرْعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْهُونَةً ، مَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا حَتَّى مَاتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی، اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ اسے چھڑوا سکتے حتیٰ کہ اسی حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حدیث نمبر: 11994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " کوثر " جنت کی ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 11995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِي : " إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَتَسَاءَلُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ ، حَتَّى يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ النَّاسَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا ہے آپ کی امت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے حتیٰ کہ یہاں تک کہنے لگیں گے کہ یہ تو اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 11996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : أَغْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا ، إِمَّا قَالَ لَهُمْ ، وَإِمَّا قَالُوا لَهُ : لِمَ ضَحِكْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 حَتَّى خَتَمَهَا ، قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ ؟ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : هُوَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ ، يُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي ! ، فَيُقَالُ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے بیٹھے اونگھ کی کیفیت طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، لوگوں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " بسم اللہ " پڑھ کر پوری سورت کوثر پڑھ کر سنائی اور فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا یہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ کر رکھا ہے، اس پر خیر کثیر ہوگی اور قیامت کے دن میرے امتی وہاں آئیں گے اور اس نہر کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ان میں سے ایک بندے کو کھینچ کر نکالا جائے گا تو میں کہوں گا کہ پروردگار ! یہ تو میرا امتی ہے، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے پیچھے کیا کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں۔
حدیث نمبر: 11997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَقَدْ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ ، فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ ، وَلَا بِالسُّجُودِ ، وَلَا بِالْقِيَامِ ، وَلَا بِالْقُعُودِ ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا رَأَيْتَ ؟ ، قَالَ : " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 11998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي يونس ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ ، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 11999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ ، فَقُلْنَا لَهُ : أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي ؟ ، قَالَ : الْعَصْرَ ، قَالَ : قُلْنَا : إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ ! ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ ، أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
علاء ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک انصاری آدمی کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ ہی دیر بعد انہوں نے باندی سے وضو کا پانی منگوایا، ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نماز عصر، ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں (عصر کی نماز اتنی جلدی ؟ ) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا ، فَيَقِيلُ عَلَيْهِ ، فَتَأْخُذُ مِنْ عَرَقِهِ فَتَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا ، وَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ ، فَيُصَلِّي عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ ان کے لئے چٹائی بچھاتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر قیلولہ فرماتے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ لے کر اپنی خوشبو میں شامل کرلیتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 12001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم تھا کہ اذان کے کلمات جفت عدد میں اور اقامت کے کلمات طاق عدد میں کہا کریں۔
حدیث نمبر: 12002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُوقَدَ لَهُ نَارٌ فَيُقْذَفَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12003
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا ، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرَ الشَّهِيدِ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ ، فَيُقْتَلَ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ " أَوْ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت سے نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی عزت نظر آرہی ہوگی۔
حدیث نمبر: 12004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا بُعِثَ نَبِيٌّ إِلَّا أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ , مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو نبی بھی مبعوث ہو کر آئے، انہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ضرور ڈرایا، یاد رکھو ! دجال کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
حدیث نمبر: 12005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي حُجْرَتِهِ " ، فَجَاءَ أُنَاسٌ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ ، فَخَفَّفَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَعَادَ مِرَارًا كُلَّ ذَلِكَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ ! ، قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ ، وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز مختصر کر کے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی دفعہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کردیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 12006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں۔
حدیث نمبر: 12007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ المدينةِ ، لبَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ ، فَسَأَلَ عَنْهُ مَتَى دُفِنَ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُفِنَ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر تعجب ہوا اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حدیث نمبر: 12008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ الْمَاءُ ، فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ ، قُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ ، قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرئیل امین سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 12009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا ، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا ، وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا ، إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ؟ ! ، قَالَ : " وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ، حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا، وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے ؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 12010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ ، وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سُبِقَتْ الْعَضْبَاءُ ؟ ! ، فَقَالَ : " إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی " جس کا نام عضباء تھا " کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی، ایک مرتبہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا، مسلمانوں میں یہ بات بڑی گراں گذری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں کا اندازہ لگالیا، پھر لوگوں نے خود بھی کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عضباء پیچھے رہ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر حق ہے کہ دنیا میں جس چیز کو وہ بلندی دیتا ہے پست بھی کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، وَتَرَاصُّوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 12012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ ، فَقَالَ : " مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ، وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ ، وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حدیث نمبر: 12013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَيَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ ؟ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ ، قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ ، قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ ، لَا صَلَاةٍ ، وَلَا صِيَامٍ ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بَعْدَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ مَا فَرِحُوا بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 12014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ ، فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضَهُنَّ عَنْ بَعْضٍ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : احْثُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ، وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھیں اور ازواج مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے۔
حدیث نمبر: 12015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی تمنا کرنا ضروری ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی میں کوئی خیر ہے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب میرے لئے موت میں بہتری ہے تو مجھے موت عطاء فرما دینا۔
حدیث نمبر: 12016
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو طَلْحَةَ لا يُكْثِرُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفْطِرُ إِلَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مَرَضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں تو کچھ زیادہ نفلی روزے نہ رکھتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد وہ سوائے سفر یا بیماری کے کسی حال میں روزہ نہ چھوڑتے تھے۔
حدیث نمبر: 12017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَانَ مُقِيمًا اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، وَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ " ، قَالَ عَبدُ الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : لَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنَ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مقیم ہوئے تو ماہ رمضان کے عشرہ اخیر کا اعتکاف کرلیتے اور مسافر ہوتے تو اگلے سال بیس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 12018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّهُ الْقَوْمَ ، خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى ، وَتَقُولُ : ابْنِي ابْنِي ، وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ ، قَالَ : فَخَفَّضَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَلَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا میرا بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھالیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموش کروا دیا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔
حدیث نمبر: 12019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ ؟ ، فَقَالَ : قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَحَطَ الْمَطَرُ ، وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ ، وَهَلَكَ الْمَالُ ، قَالَ : " فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " ، فَاسْتَسْقَى ، وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا يُرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَة ، فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ قَرِيبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ ، وَاحْتُبِسَتْ الرُّكْبَانُ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا ، وَلَا عَلَيْنَا ، فَتَكَشَّطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب دعاء سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کی اکتاہٹ پر مسکرا پڑے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! یہ بارش ہمارے اردگرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔
…