حدیث نمبر: 12659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَرَجَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ ، وَذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا " قَالَ أَنَسٌ : فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : " سَلُونِي " ، قَالَ أَنَسٌ : فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " النَّارُ " قَالَ : فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ ، فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ " أَبُوكَ حُذَافَةُ " ، قَالَ : ثُمَّ أَكْثَرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ : " سَلُونِي " قَالَ : فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا : نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا ! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی "" جب تک میں یہاں کھڑا ہوں "" سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 93، 7294، م: 2359
حدیث نمبر: 12660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ اللَّهُ ، اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 148
حدیث نمبر: 12661
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْغُلَامِ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : فَحَزَرْنَا فِي الرُّكُوعِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ ، وَفِي السُّجُودِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے اس نوجوان سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اندازہ لگایا تو وہ رکوع و سجود میں دس دس مرتبہ تسبیح پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وهب بن مانوس، لكن قول أنس فى هذا الحديث: ما رأيت أحدا أشبه….. روي بأسانید یرتقي بها إلي الصحة
حدیث نمبر: 12662
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَقْوَامًا سَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، قَدْ أَصَابَهُمْ سَفْعٌ مِنَ النَّارِ ، عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ، لِيُخْرِجَهُمْ اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7450
حدیث نمبر: 12663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَرَّةً ، فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا ، كَأَنَّهُ مُقْرِفٌ ، فَرَكَضَهُ فِي آثَارِهِمْ ، فَلَمَّا رَجَعَ ، قَالَ : " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بےزین گھوڑے پر اس آواز کے رخ پر چل پڑے اور واپس آکر گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
حدیث نمبر: 12664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6351، م: 2680
حدیث نمبر: 12665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی امامت وہ شخص کر وائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالملك شيخ ابن جريج
حدیث نمبر: 12666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اشْتَكَى ، فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى لِلنَّاسِ ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتْرَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ، حَتَّى نَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ إِلَى الصَّفِّ ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ لِلنَّاسِ ، فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآهُمْ صُفُوفًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَيْهِمْ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ ، وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ آخری نظر جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیر کے دن ڈالی، وہ اس طرح تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صف میں شامل ہونے کے لئے پیچھے ہٹنا چاہا اور وہ یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے آنا چاہتے ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صفوں میں کھڑا دیکھ کر تبسم فرمایا اور انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے اور نماز مکمل کرنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 754، م: 419
حدیث نمبر: 12667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ، ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ ، وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ ، فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا، قتل کر کے اس نے اس بچی کو ایک کنویں میں ڈالا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے اتنے پتھر مارے جائیں کہ یہ مرجائے، چنانچہ ایساہی کیا گیا اور وہ مرگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6885، م: 1682
حدیث نمبر: 12668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ ، وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ ، وَشَكَوْا حُمَّى الْمَدِينَةِ ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ ، وأَمَرَ لهم بِراعٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَانْطَلَقُوا ، فَكَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ ، فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقُوا الذَّوْدَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضَمُونَ حِجَارَتَهَا ، حَتَّى مَاتُوا ، قَالَ قَتَادَةُ : فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1501، م: 1671
حدیث نمبر: 12669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ، أَهْدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، قَالَ أَنَسٌ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاذْهَبْ فَادْعُ مَنْ لَقِيتَ " فدَاعَوْتُ له من لَقِيتُ ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ ، يَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ ، فدَعَا فِيهِ ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَخَرَجُوا ، فَبَقِيَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ ، فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا سورة الأحزاب آية 53 حَتَّى بَلَغَ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ سورة الأحزاب آية 53 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے پتھر کے ایک برتن میں حلوہ بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدیہ کے طور پر بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور راستے میں جو بھی ملے، اسے دعوت دو ، میں نے ایسا ہی کیا اور لوگ آتے، کھاتے اور نکلتے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھ کر دعاء کی اور اللہ کو جو منظور ہوا، وہ کہا، ادھر میں نے ایک آدمی بھی ایسا نہ چھوڑا جو مجھے ملا ہو اور میں نے اسے دعوت نہ دی ہو اور سب لوگ کھا پی کر سیراب ہوئے اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ وہیں پر بیٹھ گئے اور خوب گفتگو کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کچھ کہتے ہوئے حجاب محسوس ہوا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر میں بیٹھا ہوا چھوڑا اور خود ہی باہر چلے گئے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی کہ اے ایمان والو ! پیغمبر کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں کھانے کی اجازت نہ مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5163، م: 1428
حدیث نمبر: 12670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً ، وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2991، م: 1365، وانظر: 12086، والحديث التالي
حدیث نمبر: 12671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، فَوَجَدَهُمْ حِينَ خَرَجُوا إِلَى زُرُوعِهِمْ وَمَعَهُمْ مَسَاحِيهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ وَمَعَهُ الْجَيْشُ ، نَكَصُوا فَرَجَعُوا إِلَى حِصْنِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ : " الله أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2991، م: 1365، وانظر ما قبله، و 11992
حدیث نمبر: 12672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ، مُسَرَّجًا مُلَجَّمًا لِيَرْكَبَهُ ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا ؟ فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ قَطُّ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ ، فَارْفَضَّ عَرَقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زین اور لگام کسا ہوا براق پیش کیا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوجائیں، لیکن وہ ایک دم بدکنے لگا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس سے فرمایا یہ کیا کر رہے ہو ؟ بخدا ! تم پر ان سے زیادہ کوئی معزز شخص سوار نہی ہوا، اس پر وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ ، وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ ، يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ ؟ قَالَ : أَمَّا الْبَاطِنَانِ ، فَفِي الْجَنَّةِ ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے سامنے ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کو پیش کیا گیا، اس کے پھل " ہجر " نامی مقام کے مٹکوں کے برابر اور پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اس کی جڑ میں سے دو ظاہری اور دو باطنی نہریں جاری تھیں، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا چیزیں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ باطنی نہریں جنت میں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12505
حدیث نمبر: 12674
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ منهم أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ کوئی نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3752
حدیث نمبر: 12675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سورت کوثر کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ جنت کی ایک نہر ہے اور فرمایا میری اس پر نظر پڑی تو اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4964
حدیث نمبر: 12676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبَاتٌ ، فَتَمَرَاتٌ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ تَمَرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل کچھ تر کھجوریں تناول فرماتے تھے، وہ نہ ملتیں تو چھوہارے ہی کھالیتے اور اگر وہ بھی نہ ملتے تو چند گھونٹ پانی ہی پی لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30 ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا " ، قَالَ مَعْمَرٌ ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سامنے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيحان، خ: 3251، وحديث أبى هريرة سلف برقم 10065، وھو في البخاري : 4881
حدیث نمبر: 12678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ غَرَزَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهُ " يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ مَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب سے لگ جاتے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2986، بلفظ: "كنت رديف أبى طلحة ، وإنهم ليصرخون بهما جميعا: الحج والعمرة"
حدیث نمبر: 12679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منادی کروا دی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4199، م: 1940
حدیث نمبر: 12680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ لَهُ ، قَالَ : فَأَكَلَ ، ثُمَّ قَالَ : " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ " ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ ، وَالْعَجُوزُ وَرَاءَنَا ، فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوگئے، میں اور ایک یتیم بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 380، م: 658
حدیث نمبر: 12681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِالْأَسْتَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن اخطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1846، م: 1357
حدیث نمبر: 12682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ ، مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر درد کی وجہ سے سینگی لگوائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنَ الْأَمْوَاتِ ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا ، اسْتَبْشَرُوا بِهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ ، قَالُوا : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ قریبی رشتہ داروں اور خاندان والوں کے سامنے بھی رکھے جاتے ہیں، اگر اچھے اعمال ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں، اگر دوسری صورت ہو تو کہتے ہیں کہ اے اللہ ! انہیں اس وقت تک موت نہ دیجئے گا جب تک انہیں ہدایت نہ دے دیں۔ جیسے ہمیں عطاء فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الواسطة بين سفيان و أنس، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
حدیث نمبر: 12684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5587، م: 1992
حدیث نمبر: 12685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال : لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ ؟ " قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : " كَمْ أَصْدَقْتَهَا ؟ " قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " ، قَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَسَمَ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ مِائَةَ أَلْفِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو ان کے اوپر "" خلوق "" نامی خوشبو کے اثرات دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کہا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا ؟ انہوں نے بتایا کہ کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ان کی ہر بیوی کو وراثت کے حصے میں ایک ایک لاکھ درہم ملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5148، م: 1427
حدیث نمبر: 12686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَأَبَانَ ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں کوئی مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة ثابت، وأما أبان بن أبى عياش فمتروك
حدیث نمبر: 12687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5169، م: 1365
حدیث نمبر: 12688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً ، فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ سورة القمر آية 1 - 2 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3637، م: 2802
حدیث نمبر: 12689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ ، وَلَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز میں بےحیائی پائی جاتی ہو وہ اسے عیب دار کردیتی ہے اور جس چیز میں بھی حیاء پائی جاتی ہو، وہ اسے زینت بخش دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا عَدَدْتُ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ ، إِلَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی اور سر میں صرف چودہ بال ہی سفید گنے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12474
حدیث نمبر: 12691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَقَاطَعُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
حدیث نمبر: 12692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2639
حدیث نمبر: 12693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نصف کانوں تک ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2338
حدیث نمبر: 12694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وقَتادةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَظَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا ، فَلَمْ يَجِدُوا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاهُنَا مَاءٌ ؟ " قَالَ : فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ الَّذِي فِيهِ الْمَاءُ ، ثُمَّ قَالَ : " تَوَضَّئُوا بِاسْمِ اللَّهِ " فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ يَعْنِي بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَالْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ ، حَتَّى تَوَضَّئُوا عَنْ آخِرِهِمْ ، قَالَ ثَابِتٌ قُلْتُ لِأَنَسٍ : كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا ؟ قَالَ : نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی تلاش کیا لیکن وہ انہیں مل نہ سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا یہاں تھوڑا پانی ہے ؟ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالا اور فرمایا اللہ کا نام لے کر وضو کرو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان پانی ابل رہا تھا، لوگ اس سے وضو کرنے لگے حتیٰ کہ سب نے وضو کرلیا، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ ستر کے قریب۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَهَكَذَا " وَجَمَعَ كَفَّهُ ، قَالَ : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَهَكَذَا " فَقَالَ عُمَرُ : حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : دَعْنِي يَا عُمَرُ ، مَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ كُلَّنَا ! فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس تعداد میں اضافہ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی ہتھیلی جمع کر کے فرمایا کہ اتنے افراد مزید ہوں گے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر ! بس کیجئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر ! پیچھے ہٹو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب ہی کو جنت میں کلی طور پر داخل فرما دے تو تمہارا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا : يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ أَمْوَالَ هَوَازِنَ ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ كُلَّ رَجُلٍ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ! قَالَ أَنَسٌ : فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، وَلَمْ يَدْعُ أَحَدًا غَيْرَهُمْ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا ، وَأَمَّا نَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ ، فَقَالُوا : كَذَا وَكَذَا ، لِلَّذِي قَالُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا حُدَثَاءَ عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَوْ قَالَ أَسْتَأْلِفُهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ ؟ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ " ، قَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ رَضِينَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " قَالَ أَنَسٌ : فَلَمْ نَصْبِرْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرر ہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے صاحب الرائے حضرات نے تو کچھ بھی نہیں کہا، باقی کچھ نوعمر لوگوں نے ایسی ایسی بات کہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان لوگوں کو مال دیتا ہوں جن کا زمانہ کفر قریب ہی ہے اور اس کے ذریعے میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں، کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے خیموں میں لے جاؤ، بخدا ! جس چیز کو لے کر تم لوٹو گے وہ اس چیز سے بہت بہتر ہے، جو وہ لوگ لے کر واپس جائیں گے، تمام انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میرے بعد بہت زیادہ ترجیحات دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آملو، کیونکہ میں اپنے حوض پر تمہارا انتظار کروں گا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صبر نہیں کرسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3147، م: 1059
حدیث نمبر: 12697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، تَنْطِفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ ، قَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ فِي يَدِهِ الشِّمَالِ ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِثْلَ الْمَرَّةِ الْأُولَى ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا ، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي ، فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ ، فَعَلْتَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَنَسٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلَاثَ ، فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ وَتَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكَبَّرَ ، حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا ، فَلَمَّا مَضَتْ الثَّلَاثُ لَيَالٍ ، وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ ، قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هَجْرٌ ثَمَّ ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ مِرَارٍ ، فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ ، لِأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِيَ بِهِ ، فَلَمْ أَرَكَ تَعْمَلُ كَثِيرَ عَمَلٍ ، فَمَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ ، قَالَ : فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي ، فَقَالَ : مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ ، غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا ، وَلَا أَحْسُدُ أَحَدًا عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الَّتِي بَلَغَتْ بِكَ ، وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تھوڑی دیر کے بعد تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا، دیکھا تو ایک انصاری صحابی چلے آ رہے ہیں جن کی ڈاڑھی سے وضو کے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہیں، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتی اٹھا رکھی ہے، دوسرے دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اعلان کیا اور وہی صحابی آئے، تیسرے دن اعلان کیا تب بھی وہی صحابی رضی اللہ عنہ آئے، تیسرے دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان صحابی کے پیچھے چلے گئے اور ان سے کہنے لگے کہ میں نے اپنے والد صاحب کو قسمیں دے کر اور بہت اصرار کے بعد اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ میں تین دن تک گھر نہیں جاؤں گا، اگر آپ مجھے اپنے یہاں ٹھہرا سکتے ہیں تو آپ جو عمل کریں گے میں بھی وہی عمل کروں گا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ ان تین راتوں میں ان کے ساتھ رہے لیکن کسی رات انہیں قیام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ اتنا ضرور ہوتا تھا کہ جب وہ سو کر بیدار ہوتے اور بستر سے اٹھتے تو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے نماز فجر کے لئے اٹھ جاتے، نیز میں نے انہیں ہمیشہ خیر ہی کی بات کرتے ہوئے دیکھا، جب تین راتیں گذر گئیں اور میں اپنی ساری محنت کو حقیر سمجھنے لگا، تو میں نے ان سے کہا کہ بندہ خدا ! میرے اور والد صاحب کے درمیان کوئی ناراضگی یا قطع تعلقی نہیں ہے (جس کی وجہ سے میں یہاں رہ پڑا ہوں) لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا اور تینوں مرتبہ آپ ہی آئے تو مجھے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں آپ کے پاس کچھ وقت گذار کر آپ کے اعمال دیکھوں اور خود بھی اس کی اقتداء کروں، لیکن میں نے آپ کو اس دوران کوئی بہت زیادہ عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ اس مقام تک کیسے پہنچ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے متعلق اتنی بڑی بات فرمائی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ عمل تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا، پھر جب میں پلٹ کر واپس جانے لگا تو انہوں نے مجھے آواز دے کر بلایا تو کہنے لگے کہ عمل تو وہی ہیں جو آپ نے دیکھے، البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کوئی کینہ نہیں رکھتا اور کسی مسلمان کو ملنے والی نعمتوں اور خیر پر اس سے حسد نہیں کرتا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس درجے تک پہنچایا اور جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ عُمَرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ومَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عمر ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
امام ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر ذات یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی قنوت نازلہ رکوع کے بعد پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محبوب بن الحسن