حدیث نمبر: 12620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا هَبَّتْ الرِّيحُ ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1034
حدیث نمبر: 12621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا هَبَّتْ الرِّيحُ ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بسابقه ، والحارث بن عمير وثقه الجمهور، وفي أحاديثه مناكير ضعفه بسببها الأزدي وابن حبان و غيرهما، فلعله تغير حفظه فى الآخر
حدیث نمبر: 12622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى قَطُّ إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ ، أَوْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جارہے ہوں یا سفر سے واپس آرہے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 12623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ ، أَوْضَعَ نَاقَتَهُ ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا ، مِنْ حُبِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو سواری سے کود پڑتے اور اگر سواری پر رہتے تو اس کی رفتار مدینہ کی محبت میں تیز کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بما سلف برقم: 12919، والحارث ابن عمير وثقه الجمهور، وفي أحاديثه مناكير ضعفه بسببها الأزدي وابن حبان وغيرهما، فلعله تغير حفظه فى الآخر
حدیث نمبر: 12624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَاسْمُهُ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ : صَامَ صَامَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ : أَفْطَرَ أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کردیتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی نیت کرلی ہے اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کھول لیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1141، م: 1158
حدیث نمبر: 12625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَبْلُغُ عَمَلَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 12626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا قَالَ : فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّيْنَا عَلَى بِسَاطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ نے بھی ہمارے پیچھے نماز پڑھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا، یوں ہم نے ایک ہی چادر میں نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 660
حدیث نمبر: 12627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو لَبِيدٍ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ ، قَالَ : أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ ، فَقُلْنَا : لَوْ أَتَيْنَا الرِّهَانَ ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ أَتَيْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ هَلْ كُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ : سُبْحَةُ ، فَسَبَقَ النَّاسَ ، فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابولبید رحمہ اللہ نے مازہ بن زیار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے ؟ چنانچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً أَوْ قَالَ : أَثَرَ صُفْرَةٍ ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ قَالَ : " لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا فَغَسَلَ عَنْهُ هَذِهِ الصُّفْرَةَ " ، قَالَ : وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ ، وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ ، وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ ، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ ؟ قَالَ : " حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے ؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد عفان صحيح، خ: 2839، وأما إسناد أبى كامل- وهو مظفر بن مدرك- ففيه انقطاع، فإن حمادا لم يسمع من موسي بن أنس
حدیث نمبر: 12630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " قُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ فِيهَا قَرْعٌ ، قَالَ : وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ الْقَرْعَ بِأُصْبُعِهِ ، أَوْ قَالَ : بِأَصَابِعِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک پیالے میں کدو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے اسے اپنی انگلیوں سے تلاش کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 12052
حدیث نمبر: 12631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّهُ أَبْصَرَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ، فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ ، قَالَ : فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ ، وَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5868، م: 2093
حدیث نمبر: 12632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ جَمِيعًا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12633
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ ، قَالَ عَفَّانُ أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ ، حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّى ، وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کا وقت ہوگیا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور راوی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 642، م: 376
حدیث نمبر: 12634
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ ، وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي صَلَاةَ الظُّهْرِ أَيَّامَ الشِّتَاءِ ، وَمَا نَدْرِي مَا ذَهَبَ مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے ایام میں نماز پڑھاتے تھے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر گیا ہے یا باقی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسى أبى العلاء، وانظر: 12388
حدیث نمبر: 12635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ شَابَ إِلَّا يَسِيرًا ، وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَعْدَهُ خَضَبَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ، قَالَ : وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ : " لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ تَكْرُمَةً لِأَبِي بَكْرٍ ، فَأَسْلَمَ ، وَلِحْيَتُهُ وَرَأْسُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوهُمَا وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی میں تھوڑے سے بال سفید نہ تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن اپنے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر انہیں اتا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اعزاز کا خیال رکھتے ہوئے فرمایا کہ اگر بزرگوں کو گھر میں ہی رہنے دیتے تو ہم خود ان کے پاس چلے جاتے، الغرض ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا، اس وقت ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال "" ثغامہ "" نامی بوٹی کی طرح سفید ہوچکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا رنگ بدل دو ، لیکن کالا رنگ کرنے سے پرہیز کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5894، م: 2341 دون قصة أبى قحافة، ويشهد لقصة أبى قحافة حديث جابر بن عبدالله عند مسلم: 2102
حدیث نمبر: 12636
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ وَهُوَ يَشْكُو عَيْنَيْهِ ، قَالَ : " كَيْفَ أَنْتَ لَوْ كَانَتْ عَيْنُكَ لِمَا بِهَا ؟ " قَالَ : إِذًا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ ، قَالَ : " لَوْ كَانَتْ عَيْنُكَ لِمَا بِهَا ، لَلَقِيتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید بن ارقم کی عیادت کے لئے گیا، ان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا زید ! یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں چلی جائیں جہاں سے لی ہیں تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری بینائی ختم ہوگئی اور تم نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم اللہ سے اس طرح ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي وخيثمة أبى نصر
حدیث نمبر: 12637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي ولين أبى نصر خيثمة البصري
حدیث نمبر: 12638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ شَيْخٍ لَنَا ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ ، وَالْحَبِّ حَتَّى يُفْرَكَ ، وَعَنِ الثِّمَارِ حَتَّى تُطْعِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشہ بننے سے پہلے کھجور اور چھلنے سے پہلے دانے اور پھل پکنے سے پہلے ان کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شيخ سفيان الثوري: هو أبان بن أبى عياش، وأبان مجمع على ضعفه ، لكنه لم ينفرد بهذا الحديث، انظر: 13314
حدیث نمبر: 12639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُكْلٍ ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ اور پیشاب پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 233، م: 1671
حدیث نمبر: 12640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَطِيفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ : فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ خَمْسِينَ ، ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا ، ثُمَّ نُودِيَ " يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ، وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں، کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں اور پھر نداء لگائی گئی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے یہاں بات بدلتی نہیں، آپ کا ان پانچ پر پچاس ہی کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 349، م: 163
حدیث نمبر: 12642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ الصَّلَاةُ تُقَامُ ، فَيُكَلِّمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ فِي حَاجَةٍ تَكُونُ لَهُ ، فَيَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَمَا يَزَالُ قَائِمًا يُكَلِّمُهُ ، فَرُبَّمَا رَأَيْتُ بَعْضَ الْقَوْمِ لَيَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نماز کا وقت ہوجاتا تو ایک آدمی آکر اپنی کسی ضرورت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باتیں کرنے لگتا اور ان کے اور قبلہ کے درمیان کھڑا ہوجاتا اور وہ مسلسل باتیں کرتا رہتا یہاں تک کہ اس کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ دیر کھڑے رہنے کی صورت میں بعض لوگ سو بھی جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 12633
حدیث نمبر: 12643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حدثني أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال شمس کے وقت پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: انظر: 12659
حدیث نمبر: 12644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَالْعَوَالِي : عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَثَلَاثَةٍ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : وَأَرْبَعَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو سورج بلند ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6295، م: 2359
حدیث نمبر: 12645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ثُمَّ صَلُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو پھر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 12646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَاهَدُوا هَذِهِ الصُّفُوفَ ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی کا خیال رکھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 672، م: 557
حدیث نمبر: 12647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا اور فرمایا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کر وائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 725، م: 434
حدیث نمبر: 12648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا ، وكَانَ يُهْدِي رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ مِنَ الْبَادِيَةِ ، فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا ، وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ " وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ ، وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ الرجلُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ أَرْسِلْنِي ، مَنْ هَذَا ؟ فَالْتَفَتَ ، فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ " أَوْ قَالَ " لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَ غَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی "" جس کا نام زاہر تھا "" دیہات سے آتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی نہ کوئی ہدیہ لے کر آتا تھا اور جب واپس جانے لگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بہت کچھ دے کر رخصت فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے کہ زاہر ہمارا دیہات ہے اور ہم اس کا شہر ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت فرماتے تھے گو وہ رنگت کے اعتبار سے قابل صورت نہ تھا۔ ایک دن زاہر اپنے سامان کے پاس کھڑے اسے بیچ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آئے اور انہیں لپٹ کر ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے، وہ کہنے لگے کہ کون ہے، مجھے چھوڑ دو ، انہوں نے ذرا غور کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان گئے اور اپنی پشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اور قریب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آواز لگانے لگے کہ اس غلام کو کون خریدے گا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کھوٹا سکہ پائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم اللہ کے نزدیک کھوٹا سکہ نہیں ہو، بلکہ تمہاری بڑی قیمت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وبنحوه فى البخاري: 3106، 5878
حدیث نمبر: 12649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، لَعِبَتْ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ بِحِرَابِهِمْ ، فَرَحًا بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کی خوشی میں حبشیوں نے نیزے کے کرتب دکھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں جن کے پاس میں نے آکر ٹھکانہ حاصل کرلیا، اس لئے تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ " ، قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ ! انصار، انصار کے بچوں، انصار کی بیویوں کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510
حدیث نمبر: 12651 م
قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺِ مِثْلَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12651 م
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: - الدعاء بالمغفرة فقط - 2007
حدیث نمبر: 12652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ کرتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 805، م: 411
حدیث نمبر: 12653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ أَوْ الرَّكْعَةِ ، فَيَمْكُثُ بَيْنَهُمَا حَتَّى نَقُولَ أَنَسِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان جیسی خفیف اور مکمل رکوع سجدے والی نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 821، م: 473
حدیث نمبر: 12654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَا صَلَّيْتُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً أَخَفَّ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي تَمَامِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان جیسی خفیف اور مکمل رکوع سجدے والی نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 709، م: 469
حدیث نمبر: 12655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا فِي الصُّبْحِ ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، عُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ ، وَرِعْلٍ ، أَوْ لِحْيَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3064، م: 677
حدیث نمبر: 12656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا ، وَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اقْعُدُوا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گرپڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس دوران نماز کا وقت آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ " سمع اللہ لم حمدہ، " کہے تو تم " ربنا ولک الحمد " کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 805، م: 411
حدیث نمبر: 12657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے تک ہمیشہ فجر کی میں ہی قنوت نازلہ پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الضعف أبى جعفر الرازي، وقد خالف رواية الثقات لهذا الحديث عن أنس، انظر: 12064
حدیث نمبر: 12658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ، ولا إسْعادَ في الإسلامِ ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں کوئی مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حیثیت نہیں، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں، زکوٰۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوٰۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي بين سفيان الثوري وبين أنس