حدیث نمبر: 12580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ أَبُو وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا ذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا ، فَآثَرْتُكَ بِهَا ، فَقَالَ : قَدْ قَبِلْتُهَا ، فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ ، قَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی بیٹی کے حسن و جمال کی تعریف کر کے کہنے لگی کہ وہ میں نے آپ کی نذر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے قبول ہے، تعریف کرتے کرتے اس کے منہ یہ یہ نکل گیا کہ کبھی اس کے سر میں درد ہوا اور نہ کبھی وہ بیمار ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے تمہاری بیٹی کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 12581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قال : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ ابْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أبي حمزة الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ " إِنَّ فِيكُمْ خَيْرًا مِنْكُمْ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فِيكُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ ، وَالْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ يَقْرَءُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ ، يَتَثَقَّفُونَهُ كَمَا يَتَثَقَّفُ الْقَدَحُ ، يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تمہارے درمیان ایک ذات (خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے بہتر موجود ہے کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور سرخ وسفید عربی و عجمی سب تمہارے درمیان موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں وہ اپنا اجر فوری وصول کرلیں گے آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں۔
حدیث نمبر: 12582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا أَقْوَامٌ ، هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ " ، قَالَ : فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ ، فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ ، جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ يَقُولُونَ : غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ فَلَمَّا أَنْ قَدِمُوا تَصَافَحُوا ، فَكَانُوا هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے، وہاں پہنچ کر انہوں نے مصافحہ کیا اور سب سے پہلے مصافحہ کی بنیاد ڈالنے والے یہی لوگ تھے۔
حدیث نمبر: 12583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنِ نُبَيْطِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً ، لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ ، كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھ لے کہ اس سے کوئی نماز چھوٹ نہ جائے، اس کے لئے جہنم سے براءت، عذاب سے نجات اور نفاق سے برأت لکھ دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 12584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ، فَادْعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی لہٰذا اس وقت دعاء کیا کرو۔
حدیث نمبر: 12585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا ، إِلَّا قَالَتْ : الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَلَا اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ مُسْتَجِيرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، إِلَّا قَالَتْ النَّارُ : اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔
حدیث نمبر: 12586
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ : " يَا زَيْدُ ، لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ ، كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ ؟ " قَالَ : إِذًا أَصْبِرَ وَأَحْتَسِبَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ ، ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ ، لَتَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لَكَ ذَنْبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زید بن ارقم کی عیادت کے لئے گیا، ان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا زید ! یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں چلی جائیں وہاں جہاں سے لی ہیں تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری بینائی ختم ہوگئی اور تم نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم اللہ سے اس طرح ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 12587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ ، قَالَ جَعْفَرٌ : أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز میں ہوتے تھے لیکن کسی بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کی خاطر نماز مختصر کردیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ الْمُقْرِئُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُعَظِّمَ اللَّهُ رِزْقَهُ ، وَأَنْ يَمُدَّ فِي أَجَلِهِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے رزق میں اضافہ کر دے اور اس کی عمر بڑھا دے تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 12589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ ، وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ ، فَفَعَلَ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، فَأَبَى عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دو چیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کرلیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کرلیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 12590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فِي اللَّهِ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتَهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَأَخْبِرْهُ " ، فَقَالَ : تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : " فَأَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ " ، وَقَالَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ : فَلَقِيَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی ! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔
حدیث نمبر: 12591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، ويونسُ بن محمدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ سَعَّرْتَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ ، الْبَاسِطُ الرَّازِقُ الْمُسَعِّرُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہو کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 12592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ، فَمَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، هَذِهِ امْرَأَتِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو اس کا نام لے کر پکارا کہ اے فلاں ! یہ میری بیوی ہے، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس شخص کے ساتھ بھی ایسا گمان کروں، آپ کے ساتھ نہیں کرسکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔
حدیث نمبر: 12593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ ، اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقَامَ عَلَيْهِنَّ ، كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْأَرْبَعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس شخص کی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں، وہ ان کا ذمہ دار بنا اور ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا رہا، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 12594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ ، وَلِأَزْوَاجِ الْأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أَخَذُوا شِعْبًا ، وَأَخَذَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ ! انصار، انصار کے بچوں، انصار کی بیویوں اور انصار کی اولاد کی مغفرت فرما، انصار میرا گروہ اور میرا پردہ ہیں، اگر لوگ راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حدیث نمبر: 12595
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَخَذْتُ بَصَرَ عَبْدِي ، فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ ، فَعِوَضُهُ عِنْدِي الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اس کا عوض جنت میں عطاء کروں گا۔
حدیث نمبر: 12596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ الْعَمِّيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيْثُ خَلَقَ الدَّاءَ ، خَلَقَ الدَّوَاءَ ، فَتَدَاوَوْا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نے جب بیماری کو پیدا کیا تو اس کا علاج بھی پیدا کیا اس لئے علاج کیا کرو۔
حدیث نمبر: 12597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیگر عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر۔
حدیث نمبر: 12598
حدثنا خَلفُ بن الوليدِ ، قال : حدثنا أبو جعفرٍ ، عن الرَّبيعِ ، عن أنسِ بن مالكٍ قال : " نَهَى رسولُ الله صلى الله عليه وسلم عن النُّهْبَى ، وقال : " مَن انْتَهَبَ فليسَ مِنَّا "
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12599
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنِ حُميدٍ الطَّويل ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا ، وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور کشمش یا کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے (نبیذ بنانے سے) منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 12600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ ، كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، فَإِذَا انْطَمَسَتْ النُّجُومُ ، أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین میں علماء کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان میں ستارے کہ جن کے ذریعے بر و بحر کی تاریکیوں میں راستہ کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، اگر ستارے بےنور ہوجائیں تو راستے پر چلنے والے بھٹک جائیں۔
حدیث نمبر: 12601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : " كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 12602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام کو جہاد کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 12603
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الدُّنْيَا ، لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحَ الْمِسْكِ ، وَلَطُيِّبَ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 12604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو جن کی تمہاری نظروں میں پر سے بھی کم حیثیت ہوتی ہے، لیکن ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مہلک چیزوں میں شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، وهشامُ بن سعيدٍ ، قال : أخبرنا أبو عَوانةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَتَبْعَثُ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ؟ ! قَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ به إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا ، وَتَسْتنَْفِعَ بِثَمَنِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔
حدیث نمبر: 12606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ ذُكِرَ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا " أَوْ كَمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔
حدیث نمبر: 12607
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، أَنَّ أَنَسًا قَالَ : " قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا ، وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ ، وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ ، فَلَمَّا انْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ ، قَالَ : فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ، قَالَ : فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ ، قَالَ : وَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ ، فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا سورة الحجرات آية 9 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کے پاس جانے کا مشورہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلے گئے، مسلمان بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل روانہ ہوگئے، زمین کچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھ سے دور ہی رہیں، آپ کے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے، اس پر ایک انصاری نے کہا کہ بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے، ادھر عبداللہ بن ابی کی قوم کا ایک آدمی اس کی طرف سے غضب ناک ہوگیا، پھر دونوں کے ساتھیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور شاخوں، ہاتھوں اور جوتوں سے لڑائی کی نوبت آگئی، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی کہ " اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو آپ ان کے درمیان صلح کرا دیں۔ "
حدیث نمبر: 12608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : حَدَّثَنَا السُّمَيْطُ السَّدُوسِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : فَتَحْنَا مَكَّةَ ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا ، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رُئيَتْ أَوْ رَأَيْتَ فَصُفَّ الْخَيْلُ ، ثُمَّ صُفَّتْ الْمُقَاتِلَةُ ، ثُمَّ صُفَّتْ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ، ثُمَّ صُفَّتْ الْغَنَمُ ، ثُمَّ صُفَّتْ النَّعَمُ ، قَالَ : وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ خُيُولُنَا تَلُوذُ خَلْفَ ظُهُورِنَا ، قَالَ : فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ انْكَشَفَتْ خُيُولُنَا ، وَفَرَّتْ الْأَعْرَابُ وَمَنْ تَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، يَا لَلْمُهَاجِرِينَ " ثُمَّ قَالَ : " يَا لَلْأَنْصَارِ ، يَا لَلْأَنْصَارِ " ، قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ ، قَالَ : قُلْنَا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : وَايْمُ اللَّهِ ، مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمْ اللَّهُ ، قَالَ : فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ، قال : ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ ، فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ ، وَيُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ ، قَالَ : فَتَحَدَّثَتِ الْأَنْصَارُ بَيْنَهَا أَمَّا مَنْ قَاتَلَهُ فَيُعْطِيهِ ، وَأَمَّا مَنْ لَمْ يُقَاتِلْهُ فَلَا يُعْطِيهِ ! قَالَ : فَرُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَرَاةِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ أَوْ الْأَنْصَارُ " قَالَ : فَدَخَلْنَا الْقُبَّةَ حَتَّى مَلَأْنَا الْقُبَّةَ ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَوْ كَمَا قَالَ مَا حَدِيثٌ أَتَانِي ؟ " قَالُوا : مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَا حَدِيثٌ أَتَانِي ؟ " قَالُوا : مَا أَتَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَدْخُلُوا بُيُوتَكُمْ ؟ " قَالُوا : رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَخَذَ النَّاسُ شِعْبًا ، وَأَخَذَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " قَالُوا : رَضينا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ " فَارْضَوْا " أَوْ كَمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے مکہ فتح کرلیا پھر ہم نے حنین کا جہاد کیا، مشرکین اچھی صف بندی کر کے آئے جو میں نے دیکھیں، پہلے گھڑ سواروں نے صف باندھی پھر پیدل لڑنے والوں نے اس کے پیچھے عورتوں نے صف بندی کی پھر بکریوں کی صف باندھی گئی۔ پھر اونٹوں کی صف بندی کی گئی اور ہم بہت لوگ تھے اور ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ چکی تھی اور ایک جانب کے سواروں پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سالار تھے۔ پس ہمارے سوار ہماری پشتوں کے پیچھے پناہ گزیں ہونا شروع ہوئے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے ننگے ہوئے اور دیہاتی بھاگے اور وہ لوگ جن کو ہم جانتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اے مہاجرین ! اے مہاجرین ! پھر فرمایا اے انصار، اے انصار ! حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث میرے چچاؤں کی ہے۔ ہم نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پس اللہ کی قسم ہم پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی۔ پھر ہم نے وہ مال قبضہ میں لے لیا پھر ہم طائف کی طرف چلے تو ہم نے اس کا چالیس روز محاصرہ کیا پھر ہم مکہ کی طرف لوٹے اور اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کو سو سو اونٹ دینے شروع کردیئے، یہ دیکھ کر انصار آپس میں باتیں کرنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی لوگوں کو عطاء فرما رہے ہیں جنہوں نے آپ سے قتال کیا تھا اور جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قتال نہیں کیا انہیں کچھ نہیں دے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا : اے انصار کی جماعت مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو کیا بات معلوم ہوئی ہے ؟ دو مرتبہ یہی بات ہوئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جماعت انصار کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے ہوئے اپنے گھروں کو جاؤ، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم خوش ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش رہو۔
حدیث نمبر: 12609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا ، وَلَا فَحَّاشًا ، وَلَا لَعَّانًا ، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ : " مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بےہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
حدیث نمبر: 12610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : لَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَوْ صَلَّاهَا أَحَدُكُمْ الْيَوْمَ ، لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ شَرِيكٌ وَمُسْلِمُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ : أَفَلَا تَذْكُرُ ذَاكَ لِأَمِيرِنَا ؟ وَالْأَمِيرُ يَوْمَئِذٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيرِ ، فَقَالَ : قَدْ فَعَلْتُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز اس طرح پڑھی ہے کہ اگر آج تم میں سے کوئی شخص اس طرح پڑھنے لگے تو تم اسے مطعون کرو گے، یہ سن کر شریک اور مسلم بن ابی نمران سے کہنے لگے کہ آپ یہ بات ہمارے گورنر کو کیوں نہیں بتاتے ؟ اس وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مدینہ کے گورنر تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں یہ بھی کرچکا ہوں۔
حدیث نمبر: 12611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قال : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ ، جَلَسَ وَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ دَعَا فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ ، بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " ، قَالَ عَفَّانُ " دَعَا بِاسْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) " اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں "۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 12612
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْمِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ عَلَيْهِ " عَلَيْكُمْ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " فَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ ، كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبَهَا ، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُوهَا ، حَتَّى يَرْفَعُوهَا إِلَى ذِي الْعِزَّةِ ، فَقَالَ : اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دوسرے لوگوں کو سلام کیا، سب نے اسے جواب دیا، جب وہ بیٹھ گیا تو کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ان یحمد وینبغی لہ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا ؟ اس نے ان کلمات کو دوہرا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں نے دس فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے لکھتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ ان کلمات کا ثواب کتنا لکھیں ؟ چنانچہ انہوں نے اللہ سے پوچھا تو اللہ نے فرمایا کہ انہیں اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہا ہے۔
حدیث نمبر: 12613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ ، وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا ، وَيَقُولُ : " تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ ، إِنِّي مُكَاثِرٌ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کرنے کا حکم دیتے اور اس سے اعراض کرنے کی شدید ممانعت فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ محبت کرنے والی اور بچوں کی ماں بننے والی عورت سے شادی کیا کرو کہ میں قیامت کے دن دیگر انبیاء (علیہم السلام) پر تمہاری کثرت سے فخر کروں گا۔
حدیث نمبر: 12614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتُصْعِبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِي عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ اسْتُصْعِبَ عَلَيْنَا ، وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ ، وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا ، فَقَامُوا فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَته ، فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : يَا رسولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ ، وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ ، فَقَالَ " لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ " فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَقْبَلَ نَحْوَهُ ، حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ ، حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا نبيَّ اللَّهِ ، هَذِهِ بَهِيمَةٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَكَ ، وَنَحْنُ نَعْقِلُ ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ ! فَقَالَ : " لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ ، وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ تَلَحَسَْهُ ، مَا أَدَّتْ حَقَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کا ایک گھرانا تھا جس کے پاس پانی لادنے والا ایک اونٹ تھا، ایک دن وہ اونٹ سخت بدک گیا اور کسی کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیا، وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ ہمارا ایک اونٹ تھا جس پر ہم پانی بھر کر لایا کرتے تھے، آج وہ اس قدر بد کا ہوا ہے کہ ہمیں اپنے اوپر سوار ہی نہیں ہونے دیتا۔ اور کھیت اور باغات خشک پڑے ہوئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اٹھو اور چل پڑے، وہاں پہنچ کر باغ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ اونٹ ایک کونے میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چل پڑے، یہ دیکھ کر انصار کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو وحشی کتے کی طرح ہوا ہوا ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں یہ آپ پر حملہ نہ کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جب اونٹ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گہر پڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی پیشانی سے پکڑا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ فرمانبردار ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کام پر لگا دیا، یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ناسمجھ جاندار آپ کو سجدہ کرسکتے ہیں تو ہم تو پھر عقلمند ہیں، ہم آپ کو سجدہ کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان کے لئے دوسرے انسان کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کہ اس کا حق اس پر زیادہ ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر مرد کے پاؤں سے لے کر سر کی مانگ تک سارا جسم پھوڑا بن جائے اور خون پیپ بہنے لگے اور بیوی آکر اسے چاٹنے لگے تب بھی اس کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں چالیس انصاری حضرات کے ساتھ شام میں عبدالملک کے پاس لے جایا گیا، تاکہ وہ ہمارا وظیفہ مقرر کر دے، واپسی پر جب ہم فج الناقہ میں پہنچے تو اس نے ہمیں عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر کر اپنے خیمے میں چلا گیا، لوگ کھڑے ہو کر مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا اللہ ان چہروں کو بدنما کرے، بخدا ! انہوں نے سنت پر عمل کیا اور نہ رخصت قبول کی، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کچھ لوگ دین میں خوب تعمق کریں گے اور دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : انْطُلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، لِيَفْرِضَ لَنَا ، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الظُّهرَ رَكْعَتينِ ، ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ ، وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ، قَالَ : فَقَالَ : قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ ، فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتْ السُّنَّةَ ، وَلَا قَبِلَتْ الرُّخْصَةَ ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَقْوَامًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ ، يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ ہمارے لئے منتخب کرو جو میری خدمت کیا کرے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر روانہ ہوئے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم بن گیا، خواہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہیں بھی منزل کرتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتے ہوئے سنتا تھا کہ اے اللہ ! میری پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں مستقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم رہا، ایک موقع پر جب ہم خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتخب فرمایا تھا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کسی چادر یا عباء سے پردہ کرتے پھر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیتے، جب ہم مقام صہیاء میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلوہ بنایا اور دستر خوان پر چن دیا، پھر مجھے بھیجا اور میں بہت سے لوگوں کو بلا لایا، ان سب نے وہ حلوہ کھایا، جو دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اے اللہ ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔
حدیث نمبر: 12616
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے۔
حدیث نمبر: 12617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ ، صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ آخری نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ پڑھی وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی تھی۔
حدیث نمبر: 12618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يَغْزُ بِنَا لَيْلًا حَتَّى يُصْبِحَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو سواری سے کود پڑتے اور اگر سواری پر رہتے تو اس کی رفتار مدینہ کی محبت میں تیز کردیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَأَبْصَرَ جُدْرَانَ الْمَدِينَةِ ، أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ ، فَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا ، مِنْ حُبِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر خوف کے آثار واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے تھے۔
…