حدیث نمبر: 12540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ ، وَيَقُولُونَ : مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَقُولُونَ ؟ " قَالُوا : يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ کچھ حبشی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رقص کرتے ہوئے یہ گا رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نیک آدمی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نیک آدمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12541
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، فَيَبْقَى مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا يَعْنِي خَلْقًا حَتَّى يَمْلَأَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو جنت میں کھچ جگہ زائدبچ جائے گی اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کو بھر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7384، معلقا، م: 2848
حدیث نمبر: 12542
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ ، فَإِذَا هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي كَذَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ لَيْسَ مَشْفُوفًا ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى تُرْبَتِهِ ، فَإِذَا مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے کوثر عطاء کی گئی ہے، وہ ایک نہر سے جو سطح زمین پر بھی بہتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں، جنہیں توڑا نہیں گیا، میں نے ہاتھ لگا کر اس کی مٹی کو دیکھا تو وہ مشک خالص تھی اور اس کی کنکریاں موتی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4964
حدیث نمبر: 12543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَعُودُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالُ ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، فَقَالَ : أَوَخَالٌ أَنَا ، أَوْ عَمٌّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، بَلْ خَالٌ " فَقَالَ لَهُ : " قَوْلُ : لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ " ، قال : خَيْرٌ لِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان ! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، ماموں ! لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْوَاتًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ ، فَقَالَ : " لَوْ تَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ ، لَصَلُحَ " فَتَرَكُوهُ ، فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ ، فَخَرَجَ شِيصًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكُمْ ؟ " قَالُوا : تَرَكُوهُ لِمَا قُلْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ ، فَإِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ ، فَإِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ کھجور کی پیوند کاری ہو رہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لوگ پیوند کاری نہ کریں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو، چنانچہ لوگوں نے اس سال پیوند کاری نہیں کی، جس کی وجہ سے اس سال کھجور کی فصل اچھی نہ ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ کے کہنے پر لوگوں نے پیوند کاری نہیں کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو وہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور اگر دین کا معاملہ ہو تو اسے لے کر میرے پاس آیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2363
حدیث نمبر: 12545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2528
حدیث نمبر: 12546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَتْ تُعْجِبُهُ الْفَاغِيَةُ ، وَكَانَ أَعْجَبُ الطَّعَامِ إِلَيْهِ الدُّبَّاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حنا کی کلی بہت پسند تھی اور کھانوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا کدو تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وانظر: 12052
حدیث نمبر: 12547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَكُونُ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَقْرَأُ سُورَةً خَفِيفَةً مِنْ أَجْلِ الْمَرْأَةِ وَبُكَاءِ الصَّبِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز میں ہوتے تھے لیکن کسی بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کی خاطر نماز مختصر کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 710، م: 470
حدیث نمبر: 12548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَجَبَذَهُ جَبْذَةً ، حَتَّى رَأَيْتُ صَفْحَ أَوْ صَفْحَةَ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَعْطِنِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور صرف مسکرا دیئے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057
حدیث نمبر: 12549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أيُّوبَ الْغَافِقِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ، وَإِنْ كَانَ كَافِرًا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مظلوم کی بد دعاء سے بچا کرو، اگرچہ وہ کافر ہی ہو، کیونکہ اس کی دعاء میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عبدالله الأسدي، والصحيح ما ورد عن ابن عباس برقم: 2071: "واتق دعوة المظلوم، فإنها ليس بينها و بين الله عزوجل حجاب"
حدیث نمبر: 12550
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وقد سلف موقوفا ضمن حديث مطول برقم: 12099، وإسناده صحيح، ويشهد له حديث الحسن بن على مرفوعا، سلف برقم: 1723 ، وإسناده صحيح
حدیث نمبر: 12551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا ، وَخَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِتَقْوَاكُمْ ، وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ الشَّيْطَانُ ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں، بخدا ! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وأنظر: 12826
حدیث نمبر: 12552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا ، وَكَفَانَا ، وَآوَانَا ، وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2715
حدیث نمبر: 12553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ ، فَمَرَّ عَلَى حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ ، فَحَامَتْ الْبَغْلَةُ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہورہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَسْقَى ، فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعاء کی تو ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ آسمان کی جانب کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 896
حدیث نمبر: 12555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَلْسِنَتِكُمْ ، وَأَنْفُسِكُمْ ، وَأَمْوَالِكُمْ ، وَأَيْدِيكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان اور ہاتھ کے ذریعے جہاد کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں ایک کمان رکھنے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2792، م: 1880
حدیث نمبر: 12557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ ، فَيَسُرُّهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، إِلَّا الشَّهِيدَ ، فَإِنَّ الشَّهِيدَ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا ، فَيُقْتَلَ ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی جنت میں نکلنا کبھی پسند نہیں کرے گا سوائے شہید کے کہ جس کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ جنت سے نکلے اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہو، کیونکہ اسے اس کی فضیلت نظر آرہی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2817، م: 1877
حدیث نمبر: 12558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت المعمور ساتویں آسمان پر ہے، جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور دوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 162 سلف الحديث ضمن قصة الإسراء الطويلة برقم: 12505
حدیث نمبر: 12559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ، وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2822
حدیث نمبر: 12560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ ، يَضَعُهَا عَلَى حَاجِبَيْهِ ، وَهُوَ يَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ ، وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ خَلْفِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا ثُبُورَاهُ وَهُمْ يُنَادُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ حَتَّى يَقِفَ عَلَى النَّارِ ، فَيَقُولُ : يَا ثُبُورَاهُ ، فَيُنَادُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ " ، فَيُقَالَ : لا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا سورة الفرقان آية 14 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 12561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن وہ ہے جس سے لوگ مامون ہوں، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں، مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں سے ہجرت کرلے اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 12562
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَيُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وھو مرسل، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 12563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ بن موسى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " يَا خَالُ ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " فَقَالَ : أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ ؟ فَقَالَ " لَا بَلْ خَالٌ " قَالَ : فَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان ! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، ماموں ! لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ : 5756، م : 2224
حدیث نمبر: 12565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَأَلْنَاهُ عَنِ الْوُضُوءِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، فَقَالَ : أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِطُهُورٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن عامر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہر نماز کے وقت وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے اور ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 214، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك لكنه متابع
حدیث نمبر: 12566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ ، قَالَ : ذَكَرَ ذَاكَ أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ مُذْ خَلَقَهُ اللَّهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن آدم کو جب سے اللہ نے پیدا کیا ہے، اس نے موت سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں دیکھی، لیکن اس کے بعد یہی موت اس کے لئے انتہائی آسان ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالعزيز بن قيس العبدي والد سكين جهله أبو حاتم وابن خزيمة، ووثقة ابن حبان والعجلي، وقال الحافظ مقبول، يعني عند المتابعة، وهو هنا لم يتابع، وأما ابنه سكين فمختلف فيه
حدیث نمبر: 12567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ : " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم ہمیں کوئی خطبہ ایسا دیا ہے جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، وسلف الكلام على إسناده برقم: 12383
حدیث نمبر: 12568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ ظُرُوفِ النَّبِيذِ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا زُفِّتَ مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : وَقَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ الْمُقَيَّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
مختار بن قلفل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا لک لگا ہوا برتن۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر: 12099
حدیث نمبر: 12569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَكُمْ إِمَامٌ ، فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ ، وَلَا بِالسُّجُودِ ، وَلَا بِالْقِيَامِ ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، مَا رَأَيْتَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع، سجدہ، قیام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں، اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 419، م: 426
حدیث نمبر: 12570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فِي رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِهِمْ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِهِمْ ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَلَسْنَا اللَّيْلَةَ فَخَرَجْتَ إِلَيْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ ! قَالَ : " مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1104
حدیث نمبر: 12571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ شَجَرَةٌ فِي طَرِيقِ النَّاسِ تُؤْذِي النَّاسَ ، فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ا کی درخت سے راستے میں گذر نے والوں کو اذیت ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد، فإن أبا هلال الراسبي يعتبر به على ضعف فيه
حدیث نمبر: 12572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَاصُّوا الصُّفُوفَ ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَقُومُ فِي الْخَلَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کو پر کیا کرو، کیونکہ درمیان کی خالی جگہ میں شیاطین گھس جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عطاء بن السائب كان قد اختلط، ولم ينص أحد فيما نعلم على رواية جعفر عنه قبل الاختلاط هي أم بعده؟ لكنه متابع، انظر: 13735
حدیث نمبر: 12573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ صُفْرَةٌ فَكَرِهَهَا ، فَلَمَّا قَامَ الرَّجُلُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ " لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَدَعَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ " ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ أَنَسٌ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ الرَّجُلاَ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ فِي وَجْهِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک آدمی آیا، اس پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی جب وہ چلا گیا تو کسی صحابی سے دو تین فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح کا چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ الصَّيْدَلَانِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَلَمْ يَأْخُذْهَا ، أَوْ وَحَّشَ بِهَا ، قَالَ : وَأَتَاهُ آخَرُ ، فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ ، قَالَ : فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ : " اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کھجوریں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس ہزار درہم دلوا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمارة الصيدلاني، يعتبر بحديثه فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 12575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفَرْزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَا إِنَّ الْمُزَّاتِ حَرَامٌ " ، وَالْمُزَّاتُ خَلْطُ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! مزات ( یعنی کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر بنائی ہوئی نبیذ) حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة خالد بن الفزر، ويغني عنه حديث أنس 12378، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن ينبذ البسر والتمر جميعا، وإسناده صحيح
حدیث نمبر: 12576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن وہ ہے جس سے لوگ مامون ہوں، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں، مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں سے ہجرت کرلے اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3109، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك النخعي
حدیث نمبر: 12577
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَسْرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَرَآنِي مَرَّةً ، وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مِرَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ طوبی (خوشخبری) ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لائے اور سات مرتبہ طوبی ہے ان لوگوں کے لئے جو مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جسر - وهو ابن فرقد
حدیث نمبر: 12579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا جَسْرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي " قَالَ : فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش ! میں اپنے بھائیوں سے مل پاتا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہوں گے لیکن میری زیارت نہ کرسکے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه